2006/12/07

شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوری کی وفات

شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوری کی وفات

عالمِ اسلام کی ایک عظیم رہنما شخصیت ۔۔۔ مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری گزشتہ جمعہ یکم ڈسمبر 2006ء کو ہندوستان میں اپنے آبائی شہر مبارکپور (اتر پردیش) میں بعد نمازِ جمعہ انتقال فرما گئے ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوری ، ہندوستان کی ان معروف دینی شخصیتوں میں سے ایک تھے جنہوں نے قرآن و سنت کی اشاعت و تبلیغ میں اپنی زندگی کا بیشتر وقت گزار دیا ۔ آپ مرکزی جمعیت اہل حدیث ، ھند کے سابق امیر رہ چکے ہیں ۔

مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری کی شہرہٴ آفاق تصنیف الرحیق المختوم ، سیرتِ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم پر مستند ترین دستاویز مانی جاتی ہے ۔ یہ کتاب عربی ، اُردو اور انگریزی کے علاوہ دنیا کی دیگر 13 زبانوں میں شائع ہو چکی ہے ۔ انگریزی زبان میں اس کا ترجمہ سعودی عرب کے معروف و مقبول پبلشنگ ادارے دارالسلام نے
The Sealed Nectar
کے عنوان سے کیا ہے ۔

رابطہ عالم اسلامی ، مکہ المکرمہ نے 1396ھ (1976ء) میں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عالمی سطح کے ایک مقابلے کا انعقاد کیا تھا۔ جملہ 171 مقالے اس ضمن میں متعلقہ ادارے کو وصول ہوئے جن میں 84 مقالے عربی زبان میں تھے ، 64 اُردو میں اور 21 انگریزی میں تھے ۔ پہلا انعام جو کہ 50 ہزار ریال پر مشتمل تھا ، شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوری کی عربی تصنیف الرحیق المختوم کو عنایت کیا گیا ۔ محترم شیخ نے بعد میں اپنی اس تصنیف کو اُردو زبان میں خود ہی منتقل کیا تھا ۔

شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوری ، ہندوستان کے ضلع اعظم گڑھ کے ایک گاؤں حسین آباد میں 1360ھ (1942ء) میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے مبارکپور کے مدرسہ عربیہ دار التعلیم اور احیاء العلوم اور اعظم گڑھ کے مدرسہ فیض عام سے مولوی ، عالم اور فاضل کے علاوہ دیگر امتحانات میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی ۔ اس کے بعد 28 سال تک آپ نے ہندوستان کے مختلف اسکول ، مدارس اور جامعات میں درس و تدریس کی خدمات انجام دیں ۔ بعد ازاں جب آپ کو مدینہ منورہ کی جامعہ اسلامیہ کے ایک عہدے کی پیش کش ہوئی تو آپ برسہا برس تک جامعہ اسلامیہ کے شعبہ سیرت میں ایک محقق کے طور پر کام کرتے رہے ۔

عربی اور اردو میں آپ کی بےشمار تصانیف منظر عام پر آ چکی ہیں ۔ جن میں سے چند یہ ہیں ؛
اُردو ؛
تاریخِ آل سعود ، انکارِ حدیث حق یا باطل ، اسلام اور عدمِ تشدد ، اہل تصوف کی کارستانیاں ، تاریخِ مکہ ، تاریخِ مدینہ ، قادیانیت اپنے آئینے میں ، صحفِ یہود و نصاریٰ میں محمد (ص) کے متعلق بشارتیں ، تذکرہ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب ۔۔۔ وغیرہ ۔
عربی ؛
اتحاف الکرام تعلیق بلوغ المرام ، ترجمہ و توضیح کتاب الاربعین للنووی ، ترجمہ الکلم الطیب لابن تیمیہ ، المصابیح فی مسالۃ التراویح للسیوطی ، بہجۃ النظر فی مصطلح اہل الاثر ، الفرقۃ الناجیہ و الفرق الاسلامیۃ الاخری ۔۔۔ وغیرہ ۔
اس کے علاوہ ۔۔۔
مجلہ محدث (ماہنامہ ، بنارس) کےادارتی فرائض آپ نے قریب پانچ سال تک انجام دیے ۔
تفسیر ابن کثیر کی تلخیص اور اردو ترجمہٴ قرآن احسن البیان کی نظرثانی کا مبارک کام بھی شیخ محترم کے نمایاں کاز میں سے ہیں ۔

شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوری ، عالمِ اسلام میں ایک محدث ، مورخ اور سیرت نگار کے طور پر عزت و احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے تھے ۔ ان کی وفات اسلامی دنیا کے لیے ناقابل تلافی نقصان کے برابر قرار دی گئ ہے ۔
فرمانِ نبوی ہے ؛
اللہ تعالیٰ (دین کا) علم بندوں سے چھین کر نہیں اٹھائے گا بلکہ عالموں کو اٹھا کر علم کو اُٹھا لے گا ۔۔۔۔
۔(صحیح بخاری ، کتاب العلم ، باب كيف يقبض العلم ، حدیث نمبر 100 )۔

شیخ صفی الرحمٰن مبارکپوری کو بروز ہفتہ 2۔ڈسمبر 2006ء بعد نمازِ ظہر ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا ۔ نمازِ جنازہ مفتی یاصر صفی الرحمٰن نے پڑھائی ۔ نمازِ جنازہ میں ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد شریک ہوئے ۔ سٹی کمشنر کے علاوہ سرکاری افسران بھی موجود تھے ۔ سانحہٴ ارتحال پر داعیانِ دین ، علماء و طلباء کی جانب سے رنج و ملال کے اظہار اور خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ناظم اعلیٰ شیخ حافظ عبدالکریم ، عبدالمالک مجاہد ڈائرکٹر دارالسلام ریاض ،جامعہ ام القریٰ کے ڈین دکتور سلمان عسیری ، مرکزِ دعوۃ کے ڈائرکٹر کیپٹن حمود السلفی ، کنگ سعود یونیورسٹی کے عبدالصبور ندوی ، معروف سعودی تاجر سعد الغامدی نے شیخ محترم کی دینی خدمات کو یوں خراج عقیدت پیش کیا کہ ؛
اہلِ حق کی عظیم نمائیندگی پر تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کرے گی ۔ عقیدے کی پختگی میں ان کی تقریروں کی تاثیر کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ الرحیق المختوم ، سیرتِ طیبہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے طلباء کے لیے نادر تحفہ ہے جس سے امت کے فرزند فیضیاب ہوتے رہیں گے ، انشاءاللہ ۔

2006/09/03

اقوالِ بیش قیمت

قائد اعظم محمد علی جناح (رح)۔
اسلام ایک ضابطہٴ حیات ہے ، جو ہر مسلمان کی زندگی کو مرتب و منظم کرتا ہے اور اس کے طرزِعمل کو درست رکھتا ہے ۔ حتیٰ کہ سیاسیات اور معاشیات میں بھی اور اس جیسے دوسرے شعبوں میں بھی ... اسلام ہی رہنمائی کرتا ہے ۔ یہ ضابطہٴ حیات عزت و احترام ، دیانت ، حسن عمل اور عدل و انصاف کے بلند ترین اصولوں پر مبنی ہے ۔

علامہ اقبال (رح)۔
دین کی حقیقت یہ ہے کہ انسان جھوٹ اور حرام خوری سے پرہیز کرے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے۔
قومیں فکر سے محروم رہ کر تباہ ہو جاتی ہیں۔
تم کامیابی اور ناکامی کی پرواہ نہ کرو ، اپنی تخلیق کے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی جدوجہد کرتے جاؤ۔

مولانا مودودی (رح)۔
قرآن و سنت کی دعوت کو لے کر اُٹھو اور پوری دنیا پر چھا جاؤ۔
اسلام ڈاکٹر کا نشتر ہے ، ڈاکو کا خنجر نہیں ۔
اسلام مقدار کے لحاظ سے نہیں ، ذرائع کے لحاظ سے دولت کی حد کا تعین کرتا ہے۔ آپ حلال ذرائع سے جتنی چاہے دولت کما لیں لیکن حرام ذرائع سے ایک پیسہ بھی کمانے کی اجازت نہیں۔

مولانا ابوالکلام آزاد (رح)۔
اصل مرکز ِ حق و یقین ، کتاب و سنت ہے ۔ یہ مرکز اپنی جگہ سے نہیں ہل سکتا، سب کو اس کی خاطر اپنی جگہ سے ہل جانا پڑے گا۔ اس چوکھٹ کو کسی کی خاطر نہیں چھوڑا جا سکتا ، سب کی چوکھٹیں اس کی خاطر چھوڑ دینی پڑیں گی۔
زبان کی پکار ضائع جا سکتی ہے لیکن اعمال کی صدا کبھی بھی جواب لیے بغیر نہیں رہتی۔
دلوں کی تعلیم میں منٹوں اور لمحوں کے اندر انقلاب آجاتا ہے اور اسی کے انقلاب سے دنیا کے انقلاب وابستہ ہیں۔

ٹیپو سلطان (رح)۔
شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔
زندگی کا اصل مزہ اسی میں ہے کہ ہمیشہ تکلیفوں اور مصیبتوں کا مقابلہ کرو اور اس کے ساتھ ساتھ مسکراتے بھی رہو۔
موت صرف ایک بار ملتی ہے اس لیے عزت کی موت ملنے کی دعا کرنی چاہئے۔ اور بہادر ہمیشہ عزت اور وقار کی موت ہی مرتے ہیں۔

2006/08/23

قانون

اگر قانون ۔۔۔
کسی ایسی ہستی کا بنایا ہوا ہے جو حقیقی مقتدر اعلیٰ ہے
اگرقانون ۔۔۔
صحیح علم اور بے خطا حکمت پر مبنی ہے
اور اگر قانون ۔۔۔
میں سب کے لیے عدل اور ارتقاء کی ضمانت ہے، تو ۔۔۔
تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کی پیروی اور اس کے احترام کا جذبہ لوگوں کے دلوں میں پیدا نہ ہو۔
جیسا کہ ۔۔۔
اللہ کے قانون کے سلسلے میں ، ہر اُس شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے جو اللہ کو تسلیم کرتا ہے۔
اور اگر قانون ۔۔۔
ان صفات سے تہی دامن ہوگا ، جیسا کہ ہر انسانی قانون ہوتا ہے ۔۔۔
تو اُس قانون کے احترام کا جذبہ پیدا کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی اور ۔۔۔
عوام اور حکمراں گروہ ، دونوں قانون شکنی کا ارتکاب کرتے رہیں گے۔۔۔ جیسا کہ آج پوری دنیا میں ہو رہا ہے ۔
اللہ اور اُس کے قانون کو تسلیم کئے بغیر انسانی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

2006/07/23

ضمیر کی عدالت

اگر انسان ضمیر کی عدالت کے فیصلے تسلیم کرتا رہتا تو آج دنیا میں کسی اور عدالت کی ضرورت پیش نہ آتی۔
صاحبو ! تم سب ایسی عدالت میں کھڑے ہوئے ہو جہاں کسی گواہ کی ، کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہاں انسان کا دل خود ہی جھوٹ اور سچ کی گواہی دیتا ہے۔
اے لوگو ! تم اپنے دلوں میں جھانک کر دیکھو۔
اگر تم کسی کا حق تسلیم نہیں کر رہے ہو تو تسلیم کر لو۔
اکثر لوگ اپنی ایک غلطی کو درست ثابت کرنے کے لیے دوسری غلطی کرتے ہیں ۔ تم نہ کرو۔
اکثر بزرگ چھوٹوں کے حقوق دینے میں اپنی توہین محسوس کرتے ہیں۔
تم محسوس نہ کرو۔ چھوٹوں کے حقوق ادا کرتے رہنے ہی میں بزرگوں کی عظمت ہے۔
.........................................................
( تحریر : محی الدین نواب )

2006/07/01

زندگی کی کہانی

‫زندگی ۔۔۔
ایک طویل اکتا دینے والی کہانی ہے ۔
اِس کہانی کو صرف وہی شخص کامیابی کے ساتھ پڑھ سکتا ہے جس کی توجہ ہمیشہ کہانی کے اگلے پیراگراف پر لگی رہے۔
زندگی ۔۔۔
ایک تلخ تجربے کا نام ہے ۔
کھوئے ہوئے مواقع کا افسوس
گزرے ہوئے حادثات کی تلخیاں
لوگوں کی طرف سے پیش آنے والے برے سلوک کی یاد
اپنی کمیوں اور تنگیوں کی شکایت ۔۔۔
غرض بے شمار چیزیں ہیں جو آدمی کی سوچ کو منفی رُخ کی طرف لے جاتی ہیں۔
آدمی اگر ان باتوں کا اثر لے تو اس کی زندگی ٹھٹھر کر رہ جائے گی۔
.................................................
اقتباس : مولانا وحید الدین خاں

2006/06/11

پسندیدہ اشعار


اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہہ رہا ہے موجِ دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سورج بھی بسا اوقات کارآمد نہیں ہوتا
اندھیروں سے نکلنے کے لئے بینائی کافی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاند کا کردار اپنایا ہے ہم نے دوستو
داغ اپنے پاس رکھے روشنی بانٹا کئے

2006/06/06

تقویٰ

گو زندگی کے سینکڑوں رنگ اور ہزاروں موڑ ہیں مگر صرف دو راستے ایسے ہیں ، جن میں سے ایک راستہ تقوے کی طرف جاتا ہے اور
دوسرا راستہ ۔۔۔
دوسرا راستہ دنیاوی چکا چوند کا ایسا راستہ ہے جس پر کہکشاں جیسی بھول بھلیاں بنی ہوئی ہیں ، جگمگاتی ہوئی ، مسکراتی ہوئی ، نور لٹاتی ہوئی ، دل کو لبھاتی ہوئی ، قریب بلاتی ہوئی ، جنوں کو تیز تر کرتی ہوئی ۔
جب زیست کا ہر عیش و آرام میسر ہو ۔ دنیا ایک مکمل چاند کی طرح اپنی چاندنی سستے مول لٹاتی نظر آ رہی ہو تو پھر تقوے کا راستہ اختیار کرنا بڑا کٹھن کام ہے ۔ مرد و زن دونوں کے لئے ۔ لیکن نفس جگمگاتی روشنیوں کی طرف دبے پاؤں دوڑتا ہے ۔
نفس کو سرکشی سے باز رکھنا تقویٰ کہلاتا ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور تقوے کا راستہ جنت کا راستہ ہے ۔
.................................................
اقتباس : بشریٰ رحمان

2006/06/05

نیکی کا ارادہ

انسان کی زندگی میں ایسے کتنے ہی لمحات آتے ہیں جب وہ مقصدِ حیات کے بارے میں کچھ نہ کچھ سوچتا ضرور ہے۔
لیکن ایسا کتنی بار ہوتا ہے جب ہم اپنی مثبت سوچ کو عملی جامہ بھی پہنائیں؟
ہم سرراہ کسی ضرورت مند یا مصیبت زدہ کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ کل اس کے لئے ضرور کچھ کریں گے ، لیکن زندگی کی مصروفیت میں الجھ کر اپنے آپ سے کیا گیا یہ وعدہ ہم بھول جاتے ہیں ۔
کبھی ضعیف الاعتقاد لوگوں کو مزاروں کی مٹی پر خواہ مخواہ چادریں چڑھاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ ان لوگوں کو جا کر سمجھانا چاہئے کہ وہ بھوکے ننگے لوگوں کو جسم ڈھانپنے کے لئے یہ چادریں دے دیں توزیادہ بہتر ہوگا ۔ مگر مصروفیت یا مصلحت کو دیکھ کر ہم یہ نیک کام بھی فراموش کر جاتے ہیں۔
اگر ہر انسان کو اپنی طبعی زندگی کے آخری لمحے کا علم ہو تو اپنے آپ سے کئے وعدوں کو وہ ایک خاص مدت تک ٹال بھی سکتا ہے۔ لیکن سنگین بات یہ ہے کہ انسان اپنی حیات کے آخری لمحے کا تعین نہیں کر سکتا
پھر ۔۔۔ ؟
نیکی کا ایک ایسا ارادہ، ایک ایسا وعدہ ۔۔۔ جس سے ہماری روح مطمئن ہوتی ہو ، ہم کیوں اسے وفا نہیں کر پاتے؟