2006/06/05

نیکی کا ارادہ

انسان کی زندگی میں ایسے کتنے ہی لمحات آتے ہیں جب وہ مقصدِ حیات کے بارے میں کچھ نہ کچھ سوچتا ضرور ہے۔
لیکن ایسا کتنی بار ہوتا ہے جب ہم اپنی مثبت سوچ کو عملی جامہ بھی پہنائیں؟
ہم سرراہ کسی ضرورت مند یا مصیبت زدہ کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ کل اس کے لئے ضرور کچھ کریں گے ، لیکن زندگی کی مصروفیت میں الجھ کر اپنے آپ سے کیا گیا یہ وعدہ ہم بھول جاتے ہیں ۔
کبھی ضعیف الاعتقاد لوگوں کو مزاروں کی مٹی پر خواہ مخواہ چادریں چڑھاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ ان لوگوں کو جا کر سمجھانا چاہئے کہ وہ بھوکے ننگے لوگوں کو جسم ڈھانپنے کے لئے یہ چادریں دے دیں توزیادہ بہتر ہوگا ۔ مگر مصروفیت یا مصلحت کو دیکھ کر ہم یہ نیک کام بھی فراموش کر جاتے ہیں۔
اگر ہر انسان کو اپنی طبعی زندگی کے آخری لمحے کا علم ہو تو اپنے آپ سے کئے وعدوں کو وہ ایک خاص مدت تک ٹال بھی سکتا ہے۔ لیکن سنگین بات یہ ہے کہ انسان اپنی حیات کے آخری لمحے کا تعین نہیں کر سکتا
پھر ۔۔۔ ؟
نیکی کا ایک ایسا ارادہ، ایک ایسا وعدہ ۔۔۔ جس سے ہماری روح مطمئن ہوتی ہو ، ہم کیوں اسے وفا نہیں کر پاتے؟

0 تبصرہ جات:

تبصرہ فرمائیں