2006/06/06

تقویٰ

گو زندگی کے سینکڑوں رنگ اور ہزاروں موڑ ہیں مگر صرف دو راستے ایسے ہیں ، جن میں سے ایک راستہ تقوے کی طرف جاتا ہے اور
دوسرا راستہ ۔۔۔
دوسرا راستہ دنیاوی چکا چوند کا ایسا راستہ ہے جس پر کہکشاں جیسی بھول بھلیاں بنی ہوئی ہیں ، جگمگاتی ہوئی ، مسکراتی ہوئی ، نور لٹاتی ہوئی ، دل کو لبھاتی ہوئی ، قریب بلاتی ہوئی ، جنوں کو تیز تر کرتی ہوئی ۔
جب زیست کا ہر عیش و آرام میسر ہو ۔ دنیا ایک مکمل چاند کی طرح اپنی چاندنی سستے مول لٹاتی نظر آ رہی ہو تو پھر تقوے کا راستہ اختیار کرنا بڑا کٹھن کام ہے ۔ مرد و زن دونوں کے لئے ۔ لیکن نفس جگمگاتی روشنیوں کی طرف دبے پاؤں دوڑتا ہے ۔
نفس کو سرکشی سے باز رکھنا تقویٰ کہلاتا ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور تقوے کا راستہ جنت کا راستہ ہے ۔
.................................................
اقتباس : بشریٰ رحمان

1 comment:

  1. Asslam o Alaikum Baazauq bhai. Bohot achi thereeer hai.

    ReplyDelete