2006/07/23

ضمیر کی عدالت

اگر انسان ضمیر کی عدالت کے فیصلے تسلیم کرتا رہتا تو آج دنیا میں کسی اور عدالت کی ضرورت پیش نہ آتی۔
صاحبو ! تم سب ایسی عدالت میں کھڑے ہوئے ہو جہاں کسی گواہ کی ، کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہاں انسان کا دل خود ہی جھوٹ اور سچ کی گواہی دیتا ہے۔
اے لوگو ! تم اپنے دلوں میں جھانک کر دیکھو۔
اگر تم کسی کا حق تسلیم نہیں کر رہے ہو تو تسلیم کر لو۔
اکثر لوگ اپنی ایک غلطی کو درست ثابت کرنے کے لیے دوسری غلطی کرتے ہیں ۔ تم نہ کرو۔
اکثر بزرگ چھوٹوں کے حقوق دینے میں اپنی توہین محسوس کرتے ہیں۔
تم محسوس نہ کرو۔ چھوٹوں کے حقوق ادا کرتے رہنے ہی میں بزرگوں کی عظمت ہے۔
.........................................................
( تحریر : محی الدین نواب )

2 comments:

  1. This comment has been removed by a blog administrator.

    ReplyDelete