2006/08/23

قانون

اگر قانون ۔۔۔
کسی ایسی ہستی کا بنایا ہوا ہے جو حقیقی مقتدر اعلیٰ ہے
اگرقانون ۔۔۔
صحیح علم اور بے خطا حکمت پر مبنی ہے
اور اگر قانون ۔۔۔
میں سب کے لیے عدل اور ارتقاء کی ضمانت ہے، تو ۔۔۔
تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کی پیروی اور اس کے احترام کا جذبہ لوگوں کے دلوں میں پیدا نہ ہو۔
جیسا کہ ۔۔۔
اللہ کے قانون کے سلسلے میں ، ہر اُس شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے جو اللہ کو تسلیم کرتا ہے۔
اور اگر قانون ۔۔۔
ان صفات سے تہی دامن ہوگا ، جیسا کہ ہر انسانی قانون ہوتا ہے ۔۔۔
تو اُس قانون کے احترام کا جذبہ پیدا کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی اور ۔۔۔
عوام اور حکمراں گروہ ، دونوں قانون شکنی کا ارتکاب کرتے رہیں گے۔۔۔ جیسا کہ آج پوری دنیا میں ہو رہا ہے ۔
اللہ اور اُس کے قانون کو تسلیم کئے بغیر انسانی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

2 comments:

  1. بات یہ ہے کہ انسانی قانون بھی اپنا احترام تب ہی کھوتا ہے جب یا تو وہ ٹھیک نہ ہو !!!! یا اس کو بنانے والے اس پر عمل پیرا نہ ہوں!!!! یا چند افراد کی ذاتی خواہش و ضرورت کی بناء اس میں ترمیم کر لی جائے!!!! یوں دراصل وہ قانون ایک کھلونا بن جاتا ہے!!!!
    دوسری طرف اگر کوئی خدا کے قانون کو کھلونا بنانا چاہے تو وہ کبھی نا کبھی رسوا ضرور ہوتا ہے !!! کب ؟؟؟ اس کا فیصلہ وقت کرتا ہے!

    ReplyDelete
  2. آپ نے صحيح لکھا ہے اور شعيب صفدر صاحب بھی صحيح کہتے ہيں ۔ پرانی بات ہے جب ميں آپ کی طرح جوان تھا آئين کی بحث چل پڑی اور مجھ سے رائے پوچھی گئی تو اللہ تعالٓی نے ميرے منہ سے يہ کہلوا ديا ۔ آئين صرف وہ اچھا جس سے عام آدمی کا بھلا ہو اور جس پر سب کيلئے يکساں عمل کيا جائے

    ReplyDelete