2007/11/21

مسکراہٹ

اپنے موجودہ ماحول میں اگر آپ سب سے منفرد رہنا چاہتے ہیں ۔۔۔ اور ، لوگوں میں اپنی شخصیت کا مثبت اثر ڈالنا چاہتے ہیں ۔۔۔ تو پھر اس کے لیے آپ کو اپنا رویہ بہتر بنانا ہوگا۔
جی نہیں ۔۔۔ آپ سے یہ نہیں کہا جا رہا ہے کہ آپ کا موجودہ رویہ خراب ہے ۔ بلکہ مطلب صرف اتنا ہے کہ بہتر چیز میں بھی مزید بہتری ممکن ہے۔
مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مختلف مزاج کے حامل ہوتے ہیں۔
ایک دوا ایسی بھی ہے جس کو ماہرین ِ نفسیات ، تمام قسم کے افراد کے لیے یکساں طور پر تشخیص کرتے ہیں۔
اور اس دوا کا نام ہے : ہنسی یا مسکراہٹ ۔
کہتے ہیں کہ مسکراہٹ انسان کے چہرے کی قدر و قیمت میں اضافہ کر دیتی ہے۔
ماحول میں لطافت پیدا کرنے کے لیے کبھی کبھی ہم کو اپنی حس ِ مزاح کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور تھوڑی ہی دیر میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ماحول میں اچانک ایک خوبصورت سی تبدیلی آئی ہے اور خشک و بے لطف ماحول یکدم سے زعفران زار بن گیا ہے۔
مسکراہٹ کی اشد ضرورت اُس وقت سب سے زیادہ ہوتی ہے جب ہمارا موڈ بے حد خراب ہوتا ہے۔
ایک مشہور نفسیات داں کا قول ہے ‫:
اگر آپ ہنستے ہیں تو آپ کے ساتھ دنیا ہنستی ہے اور اگر آپ روتے ہیں تو آپ اکیلے روتے ہیں ۔

اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ دونوں میں سے کس چیز کا انتخاب کرتے ہیں ؟

2007/11/01

کتابوں کی اقسام

میرا جی نے کہا ہے کہ ‫:
کتابیں کئی طرح کی ہوتی ہیں ۔
کتابوں کی ایک قسم وہ ہوتی ہے : جسے ہم لکھتے ہیں اور دوسرے پڑھتے ہیں ، یہ ہماری بیٹیاں ہوتی ہیں ۔
کتابوں کی ایک قسم وہ ہے : جسے دوسرے لکھتے ہیں اور ہم پڑھتے ہیں ، یہ ہماری بیویاں ہیں ۔
کتابوں کی تیسری قسم وہ ہے : جسے ہم گھروں میں اونچی جگہوں پر ، طاق میں ، جزدانوں میں لپیٹ اور سجا کر الگ تھلگ رکھ دیتے ہیں اور کبھی خیال آ جائے تو ان پر پڑی گرد کو جھاڑ پونچھ لیتے ہیں ، یہ ہماری والدین اور بزرگ ہوتی ہیں ۔

2007/10/30

مطالعۂ کتب

کتب بینی ۔۔۔ ایک نہایت مفید مشغلہ ہے ۔
یہ علم میں اضافے اور پریشانیوں سے چھٹکارے کے لیے نہایت موثر نسخہ ہے ۔ صدیوں پہلے کے ایک عرب مصنف ’الجاحظ‘ نے ایک پریشان حال شخص کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا ‫:
کتاب ایک ایسا دوست ہے جو آپ کی خوشامندانہ تعریف نہیں کرتا اور نہ آپ کو برائی کے راستے پر ڈالتا ہے ۔ یہ دوست آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا ہونے نہیں دیتا ۔ یہ ایک ایسا پڑوسی ہے جو آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ یہ ایک ایسا واقف کار ہے جو جھوٹ اور منافقت سے آپ سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کرے گا ۔

جب آپ پڑھتے ہوئے کتاب کے ورق پر ورق الٹتے جائیں گے تو آپ کی ذہانت بڑھتی رہے گی اور کئی مفید باتیں آپ کے ذہن میں اپنے لیے جگہ بناتی رہیں گی ۔ سوانحِ حیات پر لکھی ہوئی کتابوں سے آپ کو عام لوگوں کی پسند کی باتیں بھی معلوم ہوتی رہیں گی اور بادشاہوں کے طور طریقوں کا بھی پتا چلتا رہے گا۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بعض اوقات آپ ایک ماہ کی کتب بینی سے اتنا کچھ سیکھ جاتے ہیں کہ وہ لوگوں کی زبانی صدی بھر میں سنی ہوئی باتوں سے بڑھ کر ہوتا ہے ۔

پڑھنے کے بیشمار فائدے ہیں ۔ لیکن نقصان ذرا بھی نہیں ہوتا ۔ آپ کو کسی استاد کے دروازے پر انتظار کی زحمت بھی نہیں اٹھانا پڑتی جو آپ کی فیس کا منتظر رہتا ہے ۔ اور ایسے شخص سے بھی نہیں سیکھنا پڑتا جو جانتا تو بہت کچھ ہے مگر اس کی عادات و اطوار بڑے ناپسندیدہ ہوتے ہیں ۔ کتاب رات کو بھی آپ کا حکم اسی طرح مانتی ہے جیسے دن کو ، خواہ آپ سفر میں ہوں یا گھر میں بیٹھے ہوں ۔
سفر کے دوران میں ہونے والی اکتاہٹ سے نجات کے لیے کتاب سے بڑھ کر کوئی چیز کارآمد نہیں ہوتی ۔ کتاب ایک ایسے استاد کی مانند ہے کہ آپ کو جب بھی ضرورت پڑے ، آپ اسے اپنے پاس پائیں گے ۔
یہ ایسا ’استاد‘ ہے کہ آپ خواہ اسے کچھ نہ دیں ، یہ آپ کو دیتا رہے گا ۔ اس کے پاس جتنا کچھ ہے ، یہ سب کھول کر آپ کے سامنے رکھ دے گا ۔ اگر آپ اس سے لاپروائی کریں تب بھی یہ آپ کی فرمانبرداری کرتا رہے گا ۔ سب لوگ آپ کی مخالفت پر کمربستہ ہو جائیں تو بھی یہ بدستور آپ کے دوش بدوش کھڑا رہے گا ۔

پڑھنے کے فوائد ‫:

پڑھنے سے غم اور بےچینی دور ہو جاتی ہے ۔
پڑھنے کے دوران میں انسان جھوٹ بولنے اور فریب کرنے سے بچا رہتا ہے ۔
پڑھنے کی عادت کی وجہ سے انسان کتاب میں اتنا منہمک رہتا ہے کہ سستی اور کاہلی سے مغلوب نہیں ہونے پاتا ۔
پڑھنے سے فصاحت و بلاغت کی صفت پیدا ہو جاتی ہے ۔
پڑھنے سے ذہن کھلتا ہے اور خیالات میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے ۔
پڑھنے سے علم میں اضافہ ، یادداشت میں وسعت اور معاملہ فہمی میں تیزی آتی ہے ۔
پڑھنے والا دوسروں کے تجربات سے مستفید ہوتا ہے اور بلند پایہ مصنفین کا ذہنی طور پر ہمسفر بن جاتا ہے ۔
پڑھنے والا اوقات کے ضیاع سے محفوظ رہتا ہے ۔
پڑھنے والے کا زخیرۂ الفاظ ، دوسروں کی بہ نسبت کئی گنا زیادہ ہوتا ہے ۔
پڑھتے رہنے سے لکھنا بھی آ جاتا ہے اور جو لوگ پہلے سے لکھنا جانتے ہیں ان کی تحریر میں مزید شگفتگی پیدا ہو جاتی ہے ۔


اقتباسات ‫:
کتاب : آبِ حیات
مصنف : محمد یحیٰی خان (معروف صحافی‫)

2007/09/02

اِظہارِ رائے کی آزادی یا ۔۔۔ ؟‫!

السلام علیکم ‫!

اپنے اس ادبی بلاگ پر میں نے ذاتی خیالات کی تشہیر نہیں کی ۔ صرف ایک بار یہاں کچھ لکھا تو وہ بھی دوسروں کے کہنے پر ۔ لیکن آج کی یہ پوسٹ ، میں اپنے اُس خیال کے اظہار کی خاطر کر رہا ہوں جس کا بیان کرنا میری نظر میں ضروری ہو گیا ہے ۔

بلاگرز کمیونیٹی میں محترمی و مکرمی افتخار اجمل صاحب کو کون نہیں جانتا ۔ آپ اردو بلاگرز کمیونیٹی کے وہ فعال رکن ہیں جن کی تحریریں اگر ایک طرف اصلاح معاشرہ کا کام انجام دیتی ہیں تو دوسری جانب قارئین کی ذہنی و فکری تربیت کے ساتھ شریعتِ اسلامی کی روشنی میں دینی و دنیاوی امور میں غور و تدبر کی رحجان ساز تحریک کو آگے بڑھا رہی ہیں ۔ جزاک اللہ خیراََ کثیراََ ۔
محبی و محترمی اجمل صاحب ، اردو فورمز پر اپنی تحریریں شئر کرنے یا بحث و مباحثہ کرنے سے عموماََ گریز کرتے ہیں ۔ پھر بھی ہمارے چند ساتھیوں نے بصد اصرار و بصد شوق آپ کو اردو محفل جیسے معروف فورم پر دعوت دی اور جہاں آپ کا انٹرویو بھی لیا گیا ۔
میرے اندازے کے مطابق اجمل صاحب محترم نے غالباََ صرف تین ماہ اردو محفل پر گزارے اور پھر دل گرفتہ ہو کر رخصت ہو گئے ، یہ کہتے ہوئے ‫:
الوداع اے اُردو محفل میں تیرے قابل نہ تھا
( تازہ ترین اطلاع کے مطابق ، محبی اجمل صاحب نے مضامین کا سلسلہ محفل پر جاری رکھا ہے )

کس کی غلطی ہے یا کس کی نہیں ، اس سے باذوق کو کوئی مطلب نہیں ہے اور نہ ہی میں کبھی شخصیت پرستی کے مرض میں اس حد تک مبتلا ہوا کہ کسی کی غیر ضروری طرفداری میں تمام افکار و اشکال کو پسِ پشت ڈال دیا جائے ۔
جو متنازعہ تحریریں ایک صاحبِ محترم آج کل خوب زور و شور سے حُبِّ قرآن کی آڑ میں مجموعہ ہائے احادیث کو مشکوک ثابت کرنے کی کوششوں کے زیرِ اثر پیش فرما رہے ہیں ، اس کی تائید کرتے ہوئے اردو محفل کے محترم منتظمِ اعلٰی فرماتے ہیں کہ : یہ آزادیء اظہارِ رائے ہے اور پھر اِس آزادی کا تقابل اجمل صاحب کی اُس آزادی سے کرتے ہیں جو اُن کو ان کے اپنے بلاگ پر حاصل ہے ۔
حیرت ہوتی ہے جب ایک مقبول و معروف فورم کا ایک باشعور منتظمِ اعلیٰ ایسے بےتکے تقابل کی آڑ لیتا ہے۔ کیا بلاگ کی آزادی اور فورم کی آزادی کے درمیان موجود فرق کو کوئی نہیں جانتا؟ فورم پر مختلف طبقات کے لوگ آتے ہیں ، کیا ہر ایک کے ہاتھ میں کھلا ڈنڈا تھما دیا جائے گا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے محاورے پر عمل کر لیا جائے؟

اگر معاملہ سچ مچ اظہارِ رائے کی آزادی کا ہے تو ذرا رسان سے بتا دیجئے کہ : کیا اردو محفل پر دہرے معیار (‫double standard) کا چلن ہے؟ صرف چند ماہ قبل ایک صاحب نے یہاں خیال ظاہر کرنے کی اپنی آزادی سے استفادہ کرنا چاہا تھا تو محترم منتظم اعلیٰ کو گویا آگ سی لگ گئی اور تنبیہ کی گئی کہ یہ فورم ان کاموں کے لیے نہیں ہے ۔
اگر یہ فورم شیعیت کے خلاف اظہارِ خیال کے لیے نہیں ہے تو کیا انکارِ حدیث کی تائید کرنے کے لیے ہے؟

کیا کسی طبقے کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے کہ وہ خیر القرون سے چلی آ رہی امت مسلمہ کی مشترکہ میراث مجموعہ ہائے احادیث پر یوں دن دھاڑے ڈاکے ڈالے تو اسے صرف ’آزادیء اظہارِ رائے‘ کا خوبصورت استعارہ عطا کر کے اس غلاظت سے نظراندازی اختیار کر لی جائے؟ اور یہ آزادیء اظہارِ رائے بھی آپ کو یہاں کیوں یاد نہیں آتا؟ اور اس طرح کے جملے ‫:
باذوق ، مناظرہ کے فن کا ماہر ہے ، علمی و مذہبی یا تبلیغی گفتگو کرنے کے بجائے محض دوسرے کو زچ کیا جاتا ہے۔
آپ کی کس ذہنیت کی نشاندہی کرتے ہیں ؟

جناب عالی ، جس چیز کو آپ ’آزادیء اظہارِ رائے‘ کا نام دینے پر تلے ہیں وہ آزادی نہیں بلکہ مفسدانہ انتشار ہے جس کا بجا اظہار اجمل صاحب کر چکے ہیں ۔ کس منہ سے آپ ’اتحاد بین المسلمین‘ کا دعویٰ کر سکتے ہیں جبکہ آپ ایسی تحریروں پر تک روک نہیں لگا سکتے جن سے محفل کے پرسکون ماحول میں بدامنی اور لادینی پھیلتی ہے اور ایک دوسرے کے بیچ شکوک و شبہات کے سائے لہراتے ہیں ؟
آج آپ نے انکارِ حدیث کو راہ دی ہے ، تو کیا کل ۔۔۔ شیعیت ، بریلویت ، وہابیت ، دیوبندیت ، بہائیت ، قادیانیت وغیرہ وغیرہ کے لیے بھی ایسی ’آزادیء اظہارِ رائے‘ دینے کے لیے تیار ہیں؟؟

برادرِ محترم منتظمِ اعلٰی اردو محفل ! بصد خلوص ، ہمارا مشورہ یہی ہے کہ : جو چیز جہاں مناسب ہے اس کو وہیں رہنے دیں ، جیسا کہ خود آپ نے بھی یہاں اقبال کیا تھا کہ جس کسی کو جس نظریے یا طبقے کے خلاف جو زہر اگلنا ہے وہ اپنی پسندیدہ بلاگز یا سائیٹس پر یہ کام انجام دے لے مگر اردو محفل ان کاموں کے لیے نہیں ہے ۔

زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھئے برادر ‫!!

2007/06/07

وقتِ رَواں

> میں روئی کے گالوں کی مانند ہوں۔ عقل و حکمت کے چرخے میں کات کر اس کے قیمتی پارچہ جات بنا لیں۔ ورنہ جہالت کی آندھیاں اسے اڑا کر کہیں کا کہیں پھینک دیں گی ۔
> میں ایسی زمین ہوں جس میں محنت کے بغیر کچھ پیدا نہیں ہوتا ۔
> میں ایک خام مصالحہ ہوں ، جس سے آپ جو چاہیں بنا سکتے ہیں ۔
> میں ایک ایسا دریا ہوں، جس کا بہاؤ تیز اور زبردست ہے ۔
> میں ہر انسان کے پاس بھیس بدل کر آتا ہوں اور بیش قیمت تحائف اپنے ساتھ لاتا ہوں۔ اگر میرے تحائف سے فائدہ نہ اٹھایا جائے تو انھیں چپ چاپ واپس لے جاتا ہوں ۔
> میرے گزرنے پر افسوس بے نتیجہ ہے۔ اگر آپ کو مجھ سے محبت ہے تو مجھے برباد مت کریں اور دوڑ کر مستعدی سے پکڑ لیں، پھر دنیا جہاں کی حقیقی خوشیاں آپ کا ساتھ دیں گی ، راہ میں حائل پہاڑ سرک جائیں گے ۔۔۔ اور اسی کا نام کامیاب زندگی ہے ۔

2007/05/21

چور ۔۔۔ چور ۔۔۔ چور ‫!

ایک شخص حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا ‫:
‫’میرے پڑوس میں کوئی چور ہے جو آئے دن میری بطخیں چرا لیتا ہے‘۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسی وقت اعلان کروایا کہ سب لوگ عبادت کے لیے میدان میں جمع ہو جائیں۔
سب لوگ حاضر ہوئے تو آپ نے خطبہ دیا اور آخر میں فرمایا ‫:
‫‫’۔۔۔ تم لوگوں میں ایک ایسا شخص بھی ہے جو اپنے پڑوسی کی بطخیں چوری کرتا ہے اور ایسی حالت میں عبادت کرنے آتا ہے کہ اس کے سر پر بطخ کا پَر ہوتا ہے‘۔
یہ سن کر اسی وقت ایک شخص نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس شخص کو گرفتار کر لیا جائے ، یہی چور ہے ‫!

پسِ تحریر ‫:
ایک ملک کے اسمبلی اجلاس میں اسپیکر نے تقریر کے اختتام پر فرمایا کہ ۔۔۔
‫‫’کیا بات ہے کہ ہمارے کچھ معزز ممبران ایسی جگہ سے اٹھ کر یہاں چلے آتے ہیں کہ ان کے شرٹ کے کالر پر نسوانی بال پڑے نظر آتے ہیں‘۔
یہ سنتے ہی تقریباً تمام ’معزز ممبران‘ کے ہاتھ فوری طور پر اپنے شرٹ کے کالر کی جانب اٹھ گئے ‫!!

2007/05/20

مسائل ۔۔۔؟‫!

مطالعے کے دوران کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی ایک ہی موضوع یا باہم ملتے جلتے موضوع پر بظاہر مختلف دو یا دو سے زائد تحریریں سامنے آتی ہیں تو ذہن میں خیالات گڈمڈ سے ہو جاتے ہیں۔
بات یہ نہیں ہوتی کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔۔۔ ؟
بلکہ ۔۔۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ دو مختلف لکھنے والوں کی سوچ بھی مختلف ہوتی ہے ، اور یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ایک کی سوچ صحیح ہو تو دوسرے کی سوچ لازماً غلط ‫!
بہرحال ۔۔۔ ’مسائل‘ کے موضوع پر درج ذیل دو تحریریں ملاحظہ فرمائیں ۔
پہلی تحریر ایک مغربی مفکر کی ہے تو دوسری ایک مشرقی مفکرِ دین کی ‫!

<<<
مسائل ہی زندگی کی علامت ہیں۔
اگر ہمیں ایک بستر پر لٹا دیا جائے اور طویل عرصے
تک نہ اٹھنے کا حکم دیا جائے تو کون ہے جو اس ہدایت پر عمل کرے گا؟
مسائل زندگی
کو یکسانیت سے بچاتے ہیں ، کھوج پر اکساتے ہیں ۔۔۔
اور کھوج علم ہے ، علم وہ
راستہ ہے جو عرش سے وابستہ ہے۔
جو لوگ مسائل سے گھبرا کر خود کو ختم کر لیتے
ہیں وہ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی توہین کرتے ہیں۔


<<<
انسان ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے ۔۔۔
ایک طرف مسائل ہوتے ہیں اور دوسری
طرف مواقع ۔
یہ قدرت کا اٹل اصول ہے اور دنیا میں کوئی دوسرا قانون ہو ہی نہیں
سکتا ‫!
ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ مسائل کو نظرانداز کیا جائے اور مواقع
استعمال کیے جائیں ۔۔۔
کیونکہ مسائل کو نظرانداز کرنے سے ہمیں عمل کے لیے وقت
ملتا ہے اور مسائل سے الجھنے کا مطلب ہے : قیمتی وقت ضائع کرنا ‫!

2007/05/19

ناول ’شمیم‘ سے کچھ اقتباسات

منشی فیاض علی کا معروف و مقبول کلاسیکی ناول
شمیم

نصف صدی سے زائد عرصہ قبل تحریر کردہ اور کئی برس تک اردو کے ادبی افق پر چھائے مشہور ناول سے کچھ یادگار ، عمدہ اور پرفکر اقتباسات ۔۔۔۔۔

<<
انسان کے دماغ میں اچھے اور برے طرح طرح کے خیالات آتے رہتے ہیں، یہ قدرتی بات ہے۔
مگر انسان کی اصل انسانیت یہ ہے کہ وہ اپنے خیالوں کی تطہیر اور تہذیب کرتا رہے۔
اگر انسان اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو جوں کا توں ظاہر کرے گا تو انسانیت کے درجے سے گر جائے گا۔

<<
ماں ۔۔۔ اللہ کی رحمت کا سایہ ہے ‫!
ماں عجیب نعمت ہے ‫!!
سورج کی آنچ کے بغیر پھول نہیں کھلتے ، ماں کی شفقت کے بغیر اولاد میں سعادت کے آثار پیدا نہیں ہوتے۔

<<
مذہب ۔۔۔ بظاہر سخت معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس کی تہہ میں ہمہ گیر بھلائیاں چمک رہی ہیں۔
میرے مذہب میں شراب حرام ہے، میں اسے کسی طرح بھی حلال نہیں کر سکتا۔
اسلام آج بھی وہی ہے جو تیرہ سو سال پہلے تھا۔ ہنگامی ضروریات یا وقتی مصلحتیں اس میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتیں ، یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مکمل اور اٹل ہے۔

<<
گھبراؤ نہیں ، زندگی کے چیلنج کا مقابلہ کرو۔
شیر کو گولی لگتی ہے تو وہ ہمت نہیں ہارتا۔ ہاتھ پاؤں توڑ کر نہیں بیٹھتا ، وہ غراتا ہے ، اپنی طاقت سمیٹتا ہے ، گردش میں آتا ہے اور پوری قوت سے جست لگا کر صیاد پر جھپٹ پڑتا ہے۔

<<
زندگی کا چیلنج قبول کرو، امید کے تنکے جمع کرو اور اپنا آشیانہ دوبارہ تعمیر کر لو۔
یاد رکھو ، مایوسی موت ہے ‫!
اور قرآن کریم کا اعلان ہے کہ کافروں کے سوا اللہ کی رحمت سے کوئی مایوس نہیں ہوتا۔

2007/05/18

بحث و مباحثہ

بحث و مباحثہ انسانی فطرت میں داخل ہے ۔
عموماً بحث میں ہارنا کوئی پسند نہیں کرتا۔ کبھی کبھی بحث میں تلخ کلامی کی نوبت بھی آ جاتی ہے۔ اگر بحث خوشگوار ماحول میں ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ لیکن ہم اکثر اپنے حریف کو نیچا دکھانے کے لئے ہی بحث کرتے ہیں کیونکہ ہمارا مقصود دوسرے کو نیچا دکھانا ہو جاتا ہے ۔ ایسے بحث و مباحثہ سے بچنا چاہئیے۔ کبھی کبھی مذاق میں بھی ہم ایک دوسرے کا دل دکھا دیتے ہیں ۔ اس کی شخصیت کے ایسے کمزور پہلوؤں کو پیش کرتے ہیں ، جس سے اسے تکلیف پہنچے۔ کیا یہ مناسب بات ہے؟
خوش طبعی اور مزاح بری بات نہیں ہے اگر اس میں مقابل کے دل دکھانے کا جذبہ نہ ہو۔ دوسروں سے تعلقات رکھنے میں بڑی ہوش مندی کی ضرورت ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے ‫:
اپنے بھائی سے مناظرہ نہ کر اور نہ اس سے مذاق کر اور نہ ہی اس سے وعدہ کر کے خلاف ورزی کر ۔

سوچئے ۔۔۔ کیا یہ سماجی زندگی گزارنے کے لئے رہنما اصول نہیں ہیں؟
ہم ان پر عمل کیوں نہیں کرتے؟؟

2007/03/17

شعر فہمی

٭٭
شعر کو سمجھنے کے لیے چند باتوں کا ایک ساتھ خیال رکھنا ضروری ہے ‫:
‫>> سننے والے کا شعری ذوق بہت تربیت یافتہ ہونا چاہئے۔
‫>> سننے والے کی ذہنی و علمی سطح وہی ہونی چاہئے جو شاعر کی ہے۔
‫>> سننے والا اپنے ذہن میں پہلے سے حدود قائم نہ کرے یا کسی قسم کی شرط نہ لگائے۔
سننے والے کے اندر اگر مندرجہ بالا تین باتوں میں سے کسی ایک کی بھی کمی ہے تو شعر سنتے ہی فوراً اس کی سمجھ میں نہیں آئے گا۔
شعر کا سب کی سمجھ میں آنا ویسے بھی ضروری نہیں۔
شاعری کا فنونِ لطیفہ میں سب سے اونچا مقام ہے ۔
اور ، ہر شخص کو فنونِ لطیفہ سے دلچسپی نہیں ہوتی ‫!!

٭٭
شاعری کی کتاب پہلے صفحے سے آخری صفحے تک پڑھ ڈالیں ، وہ ختم ہو جائے گی۔
لیکن اس کے معنی و مفہوم ختم نہیں ہوتے۔
ان کی شعریت بعد میں بھی دل کی تہہ میں اترتی رہتی ہے۔
ایک معنی خیز شعر کی سرگوشی بھی فرصت کے وقت گدگداتی ہے۔

---
( اختر الایمان کا ایک خیال افروز فلسفہ )

2007/03/10

مجھے ناپسند ہے ۔۔۔

السلام علیکم

ہمارے بہت ہی محترم افتخار اجمل صاحب نے راقم کو یہاں ٹیگ کیا ہے کہ ۔۔۔ میں اپنے کوئی دس ناپسندیدہ عوامل کا اظہار کروں ۔
ہر چند کہ اس قسم کے خیالات کا اپنے اس ادبی بلاگ پر اظہار کو میں مناسب خیال نہیں کرتا ۔۔۔ پھر بھی اجمل صاحب میرے لیے بہت محترم شخصیت ہیں اور میں ان کو انکار کرنے کی جراءت غالباََ نہیں کر سکتا ۔

سب سے پہلے تو عرض ہے کہ میں کسی چیز یا عمل کو ناپسند کرتا ہوں تو مجھے اس کے لیے لفظ ’نفرت‘ استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ ہوگی ۔۔۔ نفرت ذرا سخت سا لفظ ہے اور اتنی سختی میرے مزاج میں غالباََ شامل نہیں ۔
بہرحال ۔۔۔ ذیل میں حسبِ حکم چند عوامل کا ذکر رہا ہوں ۔۔۔ لیکن یہ دعویٰ مجھے کبھی نہیں رہا کہ درج ذیل چیزوں / اعمال سے مجھے ہمیشہ سے ناپسندیدگی رہی ہے اور تاعمر رہے گی ۔۔۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ آدمی کی سوچ وقت کے ساتھ بدلتی بھی ہے (دین و ایمان کے نظریے کے سوا)۔

‫1۔ چِلا کر بات کرنا
‫2۔ جب میں لکھنے بیٹھوں تو کسی کا قریب آکر اسے پڑھنا ، چاہے وہ میرے ماں باپ ہوں یا شریکِ حیات یا دوست احباب
‫3۔ غیر ضروری کھوج کرید
‫4۔ میری کتابوں کو پڑھنے کے لیے مانگ لے جانا اور ہفتوں مہینوں اس کو واپس نہ کرنا
‫5۔ نمازِ جمعہ میں ، خطبے کے دوران ، مسجد میں دیر سے آنے والے مصلیوں کا گردنیں پھلانگ کر آگے کی صفوں میں بیٹھنے کی کوشش کرنا
‫6۔ ہر قسم کی ’دینی بدعت‘ سے ’سخت نفرت‘ جس کا ثبوت خیرالقرون سے نہ ملے
‫7۔ قرآن و حدیث سے راست اکتساب کے بجائے عامۃ المسلمین کا ، صرف اور صرف اپنے اپنے مذہبی پیشوائیان کی کتب سے دین کو سمجھنے کی کوشش کرنا
‫8۔ خواتین کی وہ مخصوص عادت جس کے تحت ( ان کی بات نہ مانی جائے تو ) وہ بات چیت بند کر دیتی ہیں
‫9۔ دوستوں کا بلا کسی سبب کے لاتعلقی کا کبھی کبھار مظاہرہ

۔۔۔۔
اس وقت تو یہی 9 باتیں ذہن میں آئی ہیں ۔

2007/03/04

بغاوت

مجھے وہ بغاوت پسند ہے جس پر کسی تخریب کے بجائے تعمیر کا اطلاق ہوتا ہے اور ۔۔۔
جو عملی طور پر عام خوش حالی پھیلا سکے۔
اس سلسلے میں '' کمیونزم '' کے گمراہ کن پروپگنڈے سے مجھے شدید نفرت ہے ‫!
ناممکن العمل اصولوں کی تبلیغ محض مفاد پرستی ہے۔ ایک ایسا فریب ہے جسے روٹی اور کپڑے کے تصور سے خوبصورت بنا دیا گیا ہے۔
ہمارا دین اسلام ۔۔۔ جو کہ دنیا کا عظیم نظامِ عمل ہے ، اس میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جن کی صحیح تبلیغ سے معاشرے میں نیا پن پیدا ہو سکتا ہے۔
تورگنیف ، ٹالسٹائے اور کارل مارکس ۔۔۔ وغیرہ کی تصانیف پڑھنے کے بجائے اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں۔ پھر آپ کو ایسی ذہنی تشفی محسوس ہوگی جیسے زندگی روحانی خوشیوں کی گھنی چھاؤں میں آگئی ہو۔
لیکن ۔۔۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض مفاد پرست مولویوں کے ایک طبقے نے ترقی کی راہوں میں جو سنگلاخ چٹانیں پیدا کر رکھی ہیں ، کیا انہیں عبور کیا جا سکتا ہے ؟
یقیناََ ‫!!
کیوں کہ اس طبقہ کا فرد بھی پہلے انسان ہے اور پھر مذہبی قائد۔ چنانچہ ہر ایسے انسان کو اپنے راستے سے ہٹا دیں جس کی غلط قیادت سے دین و دنیا کے حسن پر ناجائز اقتدار کا گرہن لگ رہا ہو۔
لیکن ۔۔۔۔
پہلے بے معنی عقیدے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کہ جن میں زندگی کی صبحیں کھو جاتی ہیں۔ اور ایسی تقریروں اور تحریروں سے گریز کیا جائے ۔۔۔ کہ جیسے ۔۔۔
جیسے ستاروں کی روشنیوں سے مفلسوں کی جھونپڑیاں منور کی جائیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ محض لفاظی ہے ، ناممکن العمل بات ہے۔
ایسی لفاظی کے بجائے ۔۔۔
سرمایہ داروں کو تلقین کرو کہ وہ مزدور کی محنت کا صحیح معاوضہ ادا کریں۔
مزاروں کی پرستش کرنے والے ضعیف الاعتقاد لوگوں کو سمجھاؤ کہ مزاروں کی خوبصورت مٹی پر خواہ مخواہ چادریں نہ چڑھائیں بلکہ وہ چادریں بھوکے ننگے لوگوں کو جسم ڈھانپنے کے لئے دے دیں۔
عالیشان ہوٹلوں میں ڈنر کھانے والے رئیسوں کو سمجھانا چاہئے کہ اگر وہ مفلس بھائیوں کی مدد کرنے سے مجبور ہیں تو اپنا بچا ہوا ڈنر کوڑے کرکٹ کے انبار میں پھینکنے کے بجائے بھوکے لوگوں کے حوالے کردیں جو صرف ایک نوالے کے لیے ترستے ہیں ۔

( ایک نامعلوم اردو ناول سے اقتباس )

2007/02/19

در بدری یا محنتِ غیرضروری ۔۔۔ ؟

معروف دانشور شیخ ایاز نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ‫:
اُن کے دادا روز منہ اندھیرے پیدل چلتے ہوئے دو میل دور کے ایک کنویں پر جا کر نہاتے تھے ۔ چاہے کتنی ہی شدید سردی ہو وہ نہانے ضرور جاتے تھے ۔
ایک بار وہ جاڑے میں نہا کر لوٹے تو انھیں اپنی قمیص پر ایک چیونٹی نظر آئی ۔ انھوں نے چیونٹی کو پکڑ کر احتیاط سے ایک شیشی میں رکھا اور دوبارہ کنویں پر جانے کا قصد کیا ۔ اُن کی زوجہ محترمہ نے دوبارہ جانے کی وجہ حیرت سے دریافت کی تو جواب ملا ‫:
یہ چیونٹی میرے کپڑوں پر اُسی کنویں کے قریب سے چڑھی ہے ، اس کا گھروندہ اس کنویں کے آس پاس ہوگا ، لہذا میں اسے اس کے گھر پہنچانے جا رہا ہوں ۔۔۔
دادا سنجیدگی برقرار رکھتے ہوئے بولے ‫:
کسی کو اس کے گھر سے بے گھر کرنے جیسا بڑا گناہ دنیا میں کوئی بھی نہیں ‫!

حکایت میں ایک سبق تو ہے کہ عالمِ انسانیت اس طرف توجہ دے ۔۔۔ افغانستان ، فلسطین ، بوسنیا ، کشمیر ، چیچنیا وغیرہ کے مسلمان آج اغیار کی بدولت در بدر بھٹک رہے ہیں ۔

لیکن ۔۔۔ حکایت کا دوسرا رُخ عملی اور عقلی طور پر موجودہ دور میں قابلِ قبول نہیں ہے ۔ انسان اس بات کا مکلف نہیں ہے کہ وہ ایک معمولی سے کیڑے کی خاطر اپنے قیمتی وقت اور محنت کا زیاں کرے ۔
آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں ؟؟

2007/02/06

اسلام زندہ ہوتا ہے کربلا کے بعد ۔۔۔؟

islam-zinda-hota-hai-karabla-ke-baad
قرآن کریم میں اللہ ربّ العزت نے امتِ مسلمہ کو یونہی ’خیر امۃ ‘ کا لقب نہیں دیا ہے بلکہ ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد کر دی ہے کہ ہم بھلائی کی باتوں کی تلقین اور برائی سے روکنے کا فرض نبھاتے رہیں ۔

بےشک ۔۔۔ علامہ اقبال کا امتِ مسلمہ پر بہت احسان ہے کہ انہوں نے اپنے کلام سے لڑکھڑاتی امت میں ایک نئی روح پھونکی ۔
اور بلاشبہ ۔۔۔ مولانا محمد علی جوہر بھی توحید کے نمایاں علمبردار تھے اور انہوں نے بھی امتِ مسلمہ کو قرآن و سنت کی طرف لوٹانے کی بھرپور کوششیں کیں ۔
ان دونوں سے بھی بڑھ کر دین میں ائمہ اربعہ کا جو مقام ہے اس سے سب واقف ہیں ۔ اس کے باوجود ان ائمہ کا کہنا ہے کہ سوائے نبی (ص) کے ، کوئی بھی معصوم نہیں ۔۔۔ خطا سب ہی سے ممکن ہے ۔۔۔ لہذا ان کے اقوال کے خلاف صحیح حدیث اگر سامنے آ جائے تو چاروں ائمہ نے تاکید کی ہے کہ صحیح حدیث لے لی جائے اور ان کا قول چھوڑ دیا جائے ۔

بعینہ یہی بات ۔۔۔ مولانا محمد علی جوہر اور علامہ محمد اقبال رحمہم اللہ علیہم کے ساتھ کیوں نہیں کی جا سکتی ؟؟
دونوں نے تو کبھی یہ نہیں فرمایا کہ ان کی زبان یا قلم سے جو بھی نکلے وہ سوائے حق کے کچھ نہیں ہوتا ۔ ۔(اگر ایسا فرماتے بھی تو ہم کو حق ہے کہ ان کی ایسی بات کو فوراََ ردّ کر دیں کہ معصوم سوائے نبی کے کوئی نہیں ہوتا اور یہی ہر مسلمان کا عقیدہ ہے )۔

علامہ اقبال کی شاعری سے ایک مثال یوں لیجئے ۔۔۔
ترانہءہندی ، آپ کی ایک معرکتہ الآرا نظم ہے ۔ اگر آج پاکستان کے کسی اسکول میں کوئی استاد یہ نظم بچوں کو پڑھا دے تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ۔۔۔ وہ آپ اور ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں ۔ معتدل سے معتدل مزاج پاکستانی بھی اُس استاد کے جذبہء حب الوطنی پر شک کیے بنا نہیں رہے گا ۔ حالانکہ اقبال کی یہ نظم ایک شہرہءآفاق نظم ہے اور اس کا اعتراف ہر اپنا اور ہر غیرا کرتا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ : کیا وطن کی محبت ہی سب کچھ ہے کہ اس کے خلاف کچھ سن لیں تو ہماری جبینیں شکن آلود ہو جائیں ؟؟
کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین (بشمول حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم جیسے کبار صحابہ ۔۔۔ جنہوں نے کربلا کی جنگ میں حصہ بھی نہ لیا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو روکنے کی کوشش بھی کی )۔ کی غیرت و حمیت کے خلاف ہم کو کچھ اشعار پڑھنے کو ملیں تو ہم یونہی خاموش رہیں ؟؟

مولانا محمد علی جوہر کا جو ایک معروف شعر ہے ۔۔۔ اس کے متعلق ڈاکٹر محمد یوسف نگرامی کا ایک اقتباس پہلے پڑھ لیں ؛
===
اردو ادب کی ابتداء اور ترقی میں بھی شیعہ اہل قلم کا بڑا ہاتھ تھا ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہماری علمی اور ادبی زندگی میں شیعہ حضرات کا حصہ ان کے تناسبِ تعداد سے کہیں زیادہ ہے ۔ غالب سے لے کر پروفیسر احتشام حسین تک ممتاز شعراء و ادباء اکثر و بیشتر شیعہ ہی ملیں گے ۔ رافضیوں کی ہماری ادبی و شعری زندگی پر حکمرانی نے اُردو شاعری میں کربلائی ادب کو جنم دیا جس کے ، آج کے علمبردار جانثار اختر اور افتخار عارف جیسے دین سے بےبہرہ لوگ ہیں ۔ رافضیت کی ہمارے شعر و ادب پر یلغار اتنی سخت تھی کہ مولانا محمد علی جوہر جیسے مردِ مومن بھی رافضیت کے رنگ میں یہ شعر کہہ گئے ۔
قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
۔(بحوالہ : الشیعہ فی المیزان ۔ اُردو ترجمہ : ڈاکٹر محمد یوسف نگرامی ، صفحہ نمبر 30 تا 38 ۔ مطبوعہ : دہلی 1989 )۔
===

ماضی میں بھی اس قسم کی شاعری پر اعتراض ہوا ہے اور آج بھی بہت سے علماءِ حق ایسے ہیں جو ایسی شاعری کو رافضیت کی علمبردار قرار دیتے ہیں ۔ اگر ہماری نظروں سے ایسی تنقید نہ گزرے یا تنقید کرنے والے بہت ہی کم ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ اکثر عوام کی قبولیت ہی حق بجانب ہے ۔
بش یا ٹونی ۔۔۔ جب ہمارے ملک کا دورہ کریں تو ۔۔۔ تقریباََ ہر اُردو اخبار ۔۔۔ ان کی تعریف میں رطب اللسان ہو جاتا ہے ۔ قریب قریب ہر اخبار کی پیشانی پر وہ اقوال جگمگانے لگتے ہیں جو ان ہستیوں کی مبالغہ آمیز تعریف پر مبنی ہوتے ہیں ۔
بتائیے ۔۔۔ کیا ان اخبارات کی ایسی مفاد پرستانہ پالیسی پر آپ اور ہم سب مل کر آمنا و صدقنا کا نعرہ لگائیں ؟؟
دین کو صحیح طور پر سمجھانے اور تاریخِ اسلام کو اجاگر کرنے کا ٹھیکہ کیا ان اخبارات نے لے رکھا ہے ؟؟

شاعر و ادیب ، اخبارات و عام آدمی ۔۔۔ سانحہ ء کربلا کو چاہے کتنی ہی دفعہ چلا چلا کر حق و باطل کا معرکہ قرار دے لیں ۔۔۔ لیکن یہ جھوٹ ہمارے اذہان کو کبھی بھی قبول نہیں ہو سکتا ۔
حق و باطل کا معرکہ ہو اور بیشمار صحابہ کرام چپ چاپ الگ بیٹھے رہیں ۔۔۔؟
حق و باطل کا معرکہ ہو اور حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) اپنے تمام اہلِ خانہ کو ساتھ لے چلیں ۔۔۔ ؟
حق و باطل کا معرکہ ہو اور حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) جنگ کے شروع ہونے سے قبل ہی اپنے موقف سے رجوع فرما لیں اور واپس لوٹنے اور یزید کی بعیت کا ارادہ کر لیں ۔۔۔؟

کوفیت کے پروپگنڈے کے زیراثر پھیلائی گئی دیومالائی داستانیں ۔۔۔ بچپن میں سننا بچوں کو اچھا لگتا ہوگا ۔۔۔ لیکن ہمیں نہیں !!۔