2007/02/06

اسلام زندہ ہوتا ہے کربلا کے بعد ۔۔۔؟

islam-zinda-hota-hai-karabla-ke-baad
قرآن کریم میں اللہ ربّ العزت نے امتِ مسلمہ کو یونہی ’خیر امۃ ‘ کا لقب نہیں دیا ہے بلکہ ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد کر دی ہے کہ ہم بھلائی کی باتوں کی تلقین اور برائی سے روکنے کا فرض نبھاتے رہیں ۔

بےشک ۔۔۔ علامہ اقبال کا امتِ مسلمہ پر بہت احسان ہے کہ انہوں نے اپنے کلام سے لڑکھڑاتی امت میں ایک نئی روح پھونکی ۔
اور بلاشبہ ۔۔۔ مولانا محمد علی جوہر بھی توحید کے نمایاں علمبردار تھے اور انہوں نے بھی امتِ مسلمہ کو قرآن و سنت کی طرف لوٹانے کی بھرپور کوششیں کیں ۔
ان دونوں سے بھی بڑھ کر دین میں ائمہ اربعہ کا جو مقام ہے اس سے سب واقف ہیں ۔ اس کے باوجود ان ائمہ کا کہنا ہے کہ سوائے نبی (ص) کے ، کوئی بھی معصوم نہیں ۔۔۔ خطا سب ہی سے ممکن ہے ۔۔۔ لہذا ان کے اقوال کے خلاف صحیح حدیث اگر سامنے آ جائے تو چاروں ائمہ نے تاکید کی ہے کہ صحیح حدیث لے لی جائے اور ان کا قول چھوڑ دیا جائے ۔

بعینہ یہی بات ۔۔۔ مولانا محمد علی جوہر اور علامہ محمد اقبال رحمہم اللہ علیہم کے ساتھ کیوں نہیں کی جا سکتی ؟؟
دونوں نے تو کبھی یہ نہیں فرمایا کہ ان کی زبان یا قلم سے جو بھی نکلے وہ سوائے حق کے کچھ نہیں ہوتا ۔ ۔(اگر ایسا فرماتے بھی تو ہم کو حق ہے کہ ان کی ایسی بات کو فوراََ ردّ کر دیں کہ معصوم سوائے نبی کے کوئی نہیں ہوتا اور یہی ہر مسلمان کا عقیدہ ہے )۔

علامہ اقبال کی شاعری سے ایک مثال یوں لیجئے ۔۔۔
ترانہءہندی ، آپ کی ایک معرکتہ الآرا نظم ہے ۔ اگر آج پاکستان کے کسی اسکول میں کوئی استاد یہ نظم بچوں کو پڑھا دے تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ۔۔۔ وہ آپ اور ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں ۔ معتدل سے معتدل مزاج پاکستانی بھی اُس استاد کے جذبہء حب الوطنی پر شک کیے بنا نہیں رہے گا ۔ حالانکہ اقبال کی یہ نظم ایک شہرہءآفاق نظم ہے اور اس کا اعتراف ہر اپنا اور ہر غیرا کرتا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ : کیا وطن کی محبت ہی سب کچھ ہے کہ اس کے خلاف کچھ سن لیں تو ہماری جبینیں شکن آلود ہو جائیں ؟؟
کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین (بشمول حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم جیسے کبار صحابہ ۔۔۔ جنہوں نے کربلا کی جنگ میں حصہ بھی نہ لیا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو روکنے کی کوشش بھی کی )۔ کی غیرت و حمیت کے خلاف ہم کو کچھ اشعار پڑھنے کو ملیں تو ہم یونہی خاموش رہیں ؟؟

مولانا محمد علی جوہر کا جو ایک معروف شعر ہے ۔۔۔ اس کے متعلق ڈاکٹر محمد یوسف نگرامی کا ایک اقتباس پہلے پڑھ لیں ؛
===
اردو ادب کی ابتداء اور ترقی میں بھی شیعہ اہل قلم کا بڑا ہاتھ تھا ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہماری علمی اور ادبی زندگی میں شیعہ حضرات کا حصہ ان کے تناسبِ تعداد سے کہیں زیادہ ہے ۔ غالب سے لے کر پروفیسر احتشام حسین تک ممتاز شعراء و ادباء اکثر و بیشتر شیعہ ہی ملیں گے ۔ رافضیوں کی ہماری ادبی و شعری زندگی پر حکمرانی نے اُردو شاعری میں کربلائی ادب کو جنم دیا جس کے ، آج کے علمبردار جانثار اختر اور افتخار عارف جیسے دین سے بےبہرہ لوگ ہیں ۔ رافضیت کی ہمارے شعر و ادب پر یلغار اتنی سخت تھی کہ مولانا محمد علی جوہر جیسے مردِ مومن بھی رافضیت کے رنگ میں یہ شعر کہہ گئے ۔
قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
۔(بحوالہ : الشیعہ فی المیزان ۔ اُردو ترجمہ : ڈاکٹر محمد یوسف نگرامی ، صفحہ نمبر 30 تا 38 ۔ مطبوعہ : دہلی 1989 )۔
===

ماضی میں بھی اس قسم کی شاعری پر اعتراض ہوا ہے اور آج بھی بہت سے علماءِ حق ایسے ہیں جو ایسی شاعری کو رافضیت کی علمبردار قرار دیتے ہیں ۔ اگر ہماری نظروں سے ایسی تنقید نہ گزرے یا تنقید کرنے والے بہت ہی کم ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ اکثر عوام کی قبولیت ہی حق بجانب ہے ۔
بش یا ٹونی ۔۔۔ جب ہمارے ملک کا دورہ کریں تو ۔۔۔ تقریباََ ہر اُردو اخبار ۔۔۔ ان کی تعریف میں رطب اللسان ہو جاتا ہے ۔ قریب قریب ہر اخبار کی پیشانی پر وہ اقوال جگمگانے لگتے ہیں جو ان ہستیوں کی مبالغہ آمیز تعریف پر مبنی ہوتے ہیں ۔
بتائیے ۔۔۔ کیا ان اخبارات کی ایسی مفاد پرستانہ پالیسی پر آپ اور ہم سب مل کر آمنا و صدقنا کا نعرہ لگائیں ؟؟
دین کو صحیح طور پر سمجھانے اور تاریخِ اسلام کو اجاگر کرنے کا ٹھیکہ کیا ان اخبارات نے لے رکھا ہے ؟؟

شاعر و ادیب ، اخبارات و عام آدمی ۔۔۔ سانحہ ء کربلا کو چاہے کتنی ہی دفعہ چلا چلا کر حق و باطل کا معرکہ قرار دے لیں ۔۔۔ لیکن یہ جھوٹ ہمارے اذہان کو کبھی بھی قبول نہیں ہو سکتا ۔
حق و باطل کا معرکہ ہو اور بیشمار صحابہ کرام چپ چاپ الگ بیٹھے رہیں ۔۔۔؟
حق و باطل کا معرکہ ہو اور حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) اپنے تمام اہلِ خانہ کو ساتھ لے چلیں ۔۔۔ ؟
حق و باطل کا معرکہ ہو اور حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) جنگ کے شروع ہونے سے قبل ہی اپنے موقف سے رجوع فرما لیں اور واپس لوٹنے اور یزید کی بعیت کا ارادہ کر لیں ۔۔۔؟

کوفیت کے پروپگنڈے کے زیراثر پھیلائی گئی دیومالائی داستانیں ۔۔۔ بچپن میں سننا بچوں کو اچھا لگتا ہوگا ۔۔۔ لیکن ہمیں نہیں !!۔

9 comments:

  1. باذوق جی ، مضمون ادھورا لگا ہے ، ابھی تشنگی باقی ہے ، امید ہے آپ اسے پورا کرنے کی کوشش کریں گے ، اور مزید وضاحت سے اس ٹاپک پر لکھیں گے ۔۔۔

    ReplyDelete
  2. محترم اظہار الحق صاحب ۔
    اِس بلاگ پر تشریف آوری اور تبصرے کا شکریہ ۔
    میں نے سانحۂ کربلا سے متعلق ایک معروف شعر پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ، جبکہ ۔۔۔
    سانحۂ کربلا یا شہادتِ حسین (رضی اللہ عنہ) ۔۔۔ بہت حساس موضوع ہے ۔۔۔ اس پر تفصیل سے اس بلاگ پر مضامین پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

    ReplyDelete
  3. subhan Allahe wbay hamdehi subhan Allahil aliul Azeem,
    waqaai haq aanay kay liay hay or batil mit janay kay liay hay,
    janab Bazoq Sahab Allah Taala aap ko jazaay khair ata fermaain is mazmoon kay liay,
    main samajhta tha kay yeh sirf mera ya meray ghar walon ka hi khayal hay shia oriented media ka laikin maloom howa kay baray parhay likhay log bhi isi khayal kay hami hain,baqaya mazmoon bhi bas lagta hay jo dil main mojod tha woh Allah nay aap say tahreer kerwa dia,
    Allah hum musalmano ko sirate mustaqeem ki hidayat or us per istiqamat ata fermaain Aameen sum aameen,

    ReplyDelete
  4. aap ka nishandahi kia howa blog bhi perha bas baar baar zuban say subhan Allah hi nikalta raha!

    ReplyDelete
  5. Assalamualaikum...

    Bazauq bhai buhat umdah tahreer hai ... subhanallah ...buhat acchey andaaz main aap ne wazahat ki hai ..warna tu logon ki sonch aisi hogayi hai aaj kal ke kisi mashoor aur naik shakhsiyat main poorey ka poora deen talaash karrahe hain..aur ye Aqeda banaliya hai ke in ahbaab se ghalti ka imkaan hi nahi hai . Allah se dua hai ke wo apne fazal se aap ko nawaze aur aap ke ilm main bepanah izaafa kare... Ameen...

    ReplyDelete
  6. i am so sorry for you .......................................................................................................................................................................................................................................................................................................................

    ReplyDelete
  7. جہالت اور تعصب کی انتہا کے علاوہ کچھ نہیں۔

    ReplyDelete
  8. http://criticalppp.com/archives/688

    ReplyDelete
  9. واقعہ کربلا بلاشک و شبہ ایک ایسا عظیم سانحہ ہے کہ جس نے تاریخِ بشری میں ایک نیا و تابناک باب پیدا کردیا اور اہل دنیا کو زندگی کے عظیم اقدار سے آشنا کرایا، اور ساتھ ہی ساتھ انسانی فضائل کی حفاظت اور ظلم و استبداد کو نیست و نابود کرنے کے لئے لوگوں کے اندر ظلم و ستم سے ٹکرانے کا حوصلہ و جذبہ پیدا کردیا اور اب اس قربانی کا اثر پورے عالم انسانیت پر چھا گیا ہے، اب کوئی جگہ اور دنیا کا کوئی کونہ ایسا نہیں ہے جہاں اس انقلاب کی شعاعیں نہ پہنچی ہوں۔ بقول صابر
    زمین، چاند، ستاروں پہ، آسمانوں پر
    کہاں کہاں نظر آتا ہے کربلا کا اثر
    بکھر ہی جاتا یہ انسانیت کا شیرازہ
    نہ ہوتا دہر میں گر شاہ دوسَرا کا اثر

    آج دنیا کا ہر باشعور انسان کربلا کے بہادروں سے سبق سیکھتا ہے اور شجاعت کے زیور سے اپنے آپ کو آراستہ کرتا ہے اور اپنے وجود کو ڈوبنے سے محفوظ رکھتا ہے، کربلا کے عظیم واقعہ کا احساس آج بھی لاکھوں دلوں کو خون کے آنسو رُلاتا ہے، صدیاں گذرنے کے بعد بھی اس کا اثر آفرین و دلخراش ہے، جس نے بھی اس عظیم واقعہ کو پہچان لیا اس نے سر تسلیم خم کردیا، ہمیں بھی اگر اپنے وجود کو سنورانا ہوگا تو امام حسین (ع) کے نقش پا پر چلنا ہوگا۔

    صرف اور صرف واقعہ کربلا ایسا واقعہ ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس کی افادیت و اہمیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، کتابیں لکھی جارہی ہیں، واقعات بیان کئے جارہے ہیں لیکن اصل ہیئت ابھی تک قائم و دائم ہے، لیل و نہار کی ہزار گردشیں بھی اس حقیقت کو متاثر نہیں کر پا رہیں، عزاداری پر قدغن لگائی جارہی ہیں، مبلغین و ذاکرین کو ہراساں کیا جارہا ہے، جلوسوں پر بم گرائے جاتے ہیں، ماتمی جلسوں پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں اور مظلوم عوام کو ظلم و ستم کے شکنجے کا شکار بنایا جاتا ہے لیکن دشمن کی تمام تر سازشیں ناکام ہوتی جارہی ہیں، اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری و ساری رہے گا، چنانچہ اس سلسلہ میں امام زین العابدین (ع) کا فرمان ہے کہ ذکر مصائب سے ہر سننے والے کو امام حسین (ع) سے ایک قلبی لگاو پیدا ہوتا ہے اور آپ (ع) سے عشق کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور آپ (ع) کے ذکر کو مٹانے کی سازشیں ناکام نظر آتی ہیں۔

    کیوں نہ ہو جو کام خالص اللہ کے لئے ہوا کرتا ہے، اللہ اسے لافانی قرار دیتا ہے، اسی طرح واقعہ کربلا تحریک میں بدل کر آج بھی قائم و دائم، تر و تازہ اور زندہ و جاوید ہے۔ اور اس کا دائرہ وسیع تر ہوتا جارہا ہے، امام حسین (ع) فرماتے ہیں کہ میں عام لوگوں کی مانند نہیں ہوں کہ میرا قیام اور میرا انقلاب اس مقصد سے ہو کہ میں خود کوئی فائدہ حاصل کرسکوں یا مال و دولت جمع کر لوں یا سلطنت کرلوں بلکہ میرا قیام خالص اللہ کے دین کے لئے ہے آج سے دنیا کے لوگوں کو یہ بات جان لینی چاہیئے۔

    امام (ع) دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ میرا خروج نہ تو کسی خود پسندی، نہ تو اکڑ، نہ فساد اور نہ ہی ظلم کے لئے ہے، میں تو صرف اپنے جد کی امت کی اصلاح کےلئے خروج کرتا ہوں، میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں اور اپنے جد محمد رسول اللہ (ص) اور اپنے بابا علی ابن طالب (ع) کی سیرت پر چلنا چاہتا ہوں، اے اللہ میں تیرے مظلوم بندوں کےلئے امن و امان قائم کرنا چاہتا ہوں اور یہ چاہتا ہوں کہ تیرے فرائض و سنن اور احکام پر عمل کیا جائے، اے اللہ جس نے تجھے کھو دیا اسکو کیا ملا؟ اور جس نے تجھ کو پا لیا کون سی چیز ہے جس کو اس نے نہیں حاصل کیا؟ جو بھی تیرے بدلے میں جس پر بھی راضی ہوا، وہ تمام چیزوں سے محروم ہوگیا۔ (دعائے معرفت)

    امام حسین (ع) اور ایک جگہ پر فرماتے ہیں کہ کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ حق پر عمل نہیں ہورہا ہے اور باطل سے دوری اختیار کی جارہی ہے بلکہ باطل کی پشتیبانی کی جارہی ہے، ایسی صورت میں مومن کے لئے لازم ہے کہ رضائے الہیٰ کے لئے قیام کرے اور اس کی جانب رغبت کرے، اس لئے میں موت کو سعادت اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو اذیت، ننگ و عار سمجھتا ہوں۔
    اے کربلا کی خاک تو اس احسان کو نہ بھول

    ReplyDelete