2007/05/19

ناول ’شمیم‘ سے کچھ اقتباسات

منشی فیاض علی کا معروف و مقبول کلاسیکی ناول
شمیم

نصف صدی سے زائد عرصہ قبل تحریر کردہ اور کئی برس تک اردو کے ادبی افق پر چھائے مشہور ناول سے کچھ یادگار ، عمدہ اور پرفکر اقتباسات ۔۔۔۔۔

<<
انسان کے دماغ میں اچھے اور برے طرح طرح کے خیالات آتے رہتے ہیں، یہ قدرتی بات ہے۔
مگر انسان کی اصل انسانیت یہ ہے کہ وہ اپنے خیالوں کی تطہیر اور تہذیب کرتا رہے۔
اگر انسان اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو جوں کا توں ظاہر کرے گا تو انسانیت کے درجے سے گر جائے گا۔

<<
ماں ۔۔۔ اللہ کی رحمت کا سایہ ہے ‫!
ماں عجیب نعمت ہے ‫!!
سورج کی آنچ کے بغیر پھول نہیں کھلتے ، ماں کی شفقت کے بغیر اولاد میں سعادت کے آثار پیدا نہیں ہوتے۔

<<
مذہب ۔۔۔ بظاہر سخت معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس کی تہہ میں ہمہ گیر بھلائیاں چمک رہی ہیں۔
میرے مذہب میں شراب حرام ہے، میں اسے کسی طرح بھی حلال نہیں کر سکتا۔
اسلام آج بھی وہی ہے جو تیرہ سو سال پہلے تھا۔ ہنگامی ضروریات یا وقتی مصلحتیں اس میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتیں ، یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مکمل اور اٹل ہے۔

<<
گھبراؤ نہیں ، زندگی کے چیلنج کا مقابلہ کرو۔
شیر کو گولی لگتی ہے تو وہ ہمت نہیں ہارتا۔ ہاتھ پاؤں توڑ کر نہیں بیٹھتا ، وہ غراتا ہے ، اپنی طاقت سمیٹتا ہے ، گردش میں آتا ہے اور پوری قوت سے جست لگا کر صیاد پر جھپٹ پڑتا ہے۔

<<
زندگی کا چیلنج قبول کرو، امید کے تنکے جمع کرو اور اپنا آشیانہ دوبارہ تعمیر کر لو۔
یاد رکھو ، مایوسی موت ہے ‫!
اور قرآن کریم کا اعلان ہے کہ کافروں کے سوا اللہ کی رحمت سے کوئی مایوس نہیں ہوتا۔

1 comment:

  1. بہت خوب۔کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ ناول پاکستان میں کہاں دستیاب ہوسکتا ہے؟

    ReplyDelete