2007/05/21

چور ۔۔۔ چور ۔۔۔ چور ‫!

ایک شخص حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا ‫:
‫’میرے پڑوس میں کوئی چور ہے جو آئے دن میری بطخیں چرا لیتا ہے‘۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اسی وقت اعلان کروایا کہ سب لوگ عبادت کے لیے میدان میں جمع ہو جائیں۔
سب لوگ حاضر ہوئے تو آپ نے خطبہ دیا اور آخر میں فرمایا ‫:
‫‫’۔۔۔ تم لوگوں میں ایک ایسا شخص بھی ہے جو اپنے پڑوسی کی بطخیں چوری کرتا ہے اور ایسی حالت میں عبادت کرنے آتا ہے کہ اس کے سر پر بطخ کا پَر ہوتا ہے‘۔
یہ سن کر اسی وقت ایک شخص نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس شخص کو گرفتار کر لیا جائے ، یہی چور ہے ‫!

پسِ تحریر ‫:
ایک ملک کے اسمبلی اجلاس میں اسپیکر نے تقریر کے اختتام پر فرمایا کہ ۔۔۔
‫‫’کیا بات ہے کہ ہمارے کچھ معزز ممبران ایسی جگہ سے اٹھ کر یہاں چلے آتے ہیں کہ ان کے شرٹ کے کالر پر نسوانی بال پڑے نظر آتے ہیں‘۔
یہ سنتے ہی تقریباً تمام ’معزز ممبران‘ کے ہاتھ فوری طور پر اپنے شرٹ کے کالر کی جانب اٹھ گئے ‫!!

3 comments:

  1. چور کی داڑھی میں تنکا ایک ضرب المثل ہے

    ReplyDelete
  2. بالکل یہ حقیقت ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے۔

    ReplyDelete