2008/12/27

انفرادیت : بہترین رویے کے ذریعے

آپ اپنے موجودہ ماحول میں سب سے منفرد رہنا چاہتے ہیں
اور
لوگوں میں اپنی شخصیت کا مثبت اثر ڈالنا چاہتے ہیں
تو پھر اس کے لیے آپ کو اپنا رویہ بہتر بنانا ہوگا ‫!

یہ نہیں کہا جا رہا ہے کہ آپ کا موجودہ رویہ خراب ہے بلکہ اس بات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ ‫:
بہتر چیز میں بھی بہتری ممکن ہے ‫!
تو پھر کیوں نہ ہم اپنے اندازِ گفتگو اور دوسری تمام عادات جو کہ رویے کے زمرے میں آتی ہیں ، انہیں بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

سب سے پہلے اپنی شخصیت کا بغور جائزہ لیں۔
کہیں آپ ان لوگوں میں سے تو نہیں ہیں جو گلاس کو آدھا بھرا ہوا سمجھ کر صبر و شکر کرنے کے بجائے آدھا خالی جان کر افسوس کرتے ہیں؟

اپنے انتہائی جذبات کو پوشیدہ رکھنا سیکھیں۔
اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہیں تو پھر سمجھ لیں کہ آپ کی شخصیت اور آپ کا رویہ آپ کے مقابل پر بہتر اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

بلحاظ شخصیت عمر کے دو حصے ہوتے ہیں ‫:
ایک جوانی اور دوسرا بڑھاپا۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بڑھاپے میں لوگوں کا معیار ، اخلاق اپنی بلندیوں پر ہوتا ہے۔
اس کی واضح وجہ یہ ہے کہ اِس عمر میں آپ دوسروں سے گفتگو کرنے ، بہتر رویہ اختیار کرنے اور اچھی سوچ رکھنے کے فوائد جان چکے ہوتے ہیں۔
لہذا ثابت ہوا کہ بہتر رویہ اختیار کرنے کی زیادہ ضرورت یا پھر دوسرے الفاظ میں اپنا اخلاقی معیار بلند کرنے کی ضرورت ، عمر رسیدہ افراد کے مقابلے میں نوجوانوں کو زیادہ ہے۔

2008/11/10

اسلام میں ہنسی مذاق اور لطیفہ گوئی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نورانی اور پاکیزہ زندگی کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) مرنجان مرنج طبیعت کے حامل تھے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طبیعت میں بذلہ سنجی ، نرم خوئی اور کشادہ روئی بدرجہ اَتم موجود تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طبیعت میں شدت و سختی اور ترش روئی بالکل نہیں تھی۔
جیسا کہ خود قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ‫:
اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) تند خو اور سخت مزاج ہوتے تو یہ لوگ آپ کے قریب نہیں آتے۔
( سورة آل عمران : 3 ، آیت : 159 )

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمہ وقت تبلیغی و دعوتی مشن میں مصروف رہنے کے باوجود کھیل کود ، تیر اندازی ، گھوڑ دور اور پیراکی کے علاوہ ازواج مطہرات اور صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم) سے ہنسی مذاق اور تفریحی باتیں کرتے تاہم اس میں اعتدال و توازن رکھتے۔

صحابہ کرام بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی کرتے ہوئے ہنسی مذاق اور ایک دوسرے سے تفریح کرتے اور دل بہلاتے تھے۔
حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ اصحابِ رسول نہایت خوش مزاج، خوش اخلاق، کشادہ دل اور نرم خو تھے اور ایک دوسرے سے ہنسی مذاق اور دل دلگی بھی کرتے تھے۔ زمانۂ جاہلیت کے واقعات بھی سناتے اور شعر و شاعری سے بھی دلچسپی رکھتے تھے۔

حضرت ابن سیرین (رحمة اللہ) فرماتے ہیں ‫:
اصحابِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نہایت خوش طبیعت اور اعلیٰ اخلاق کے حامل تھے۔ جب حلقہ یاراں ہوتا تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ عام انسانوں کی طرح گھل مل جاتے ، نہایت حسین انداز میں تفریح کرتے ، ہنسی مذاق اور دل لگی کی باتیں کرتے جبکہ بعض صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) اپنی بذلہ سنجی سے مجلس کو زعفران زار بنا دیتے۔
لیکن تفریحات اور ہنسی مذاق کے دوران کسی کی دلآزاری نہیں کی جاتی تھی اور نہ ہی خلافِ حق کوئی بات ہوتی۔
صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) تو علامہ اقبال کے اس شعر کے سچے مصداق تھے ‫:
حلقہ یاراں ہو تو ریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہے تو فولاد ہے مومن

دین داروں کے بعض طبقے ہنسی مذاق اور تفریح کو دین کے منافی تصور کرتے ہیں اور اس پر شدید نکیر کرتے ہیں۔ یہ لوگ مختلف آیاتِ کریمہ اور احادیثِ مبارکہ سے استدلال کرتے ہیں۔ لیکن اگر بغور ان آیاتِ کریمہ اور احادیثِ مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ ان میں مطلق ہنسی اور تفریح سے ممانعت نہیں کی گئی ہے بلکہ غرور و تکبر اور استہزاء و تمسخر کے ساتھ کئے جانے والے ہنسی مذاق سے منع کیا گیا ہے۔

ایک حدیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے زیادہ ہنسنے سے منع فرماتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دل مردہ ہو جاتا ہے۔
اس قولِ مبارک سے واضح ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہنسی میں مبالغے سے منع فرمایا ہے ، مطلق ہنسی سے منع نہیں فرمایا ‫!!

(ام ندیٰ کے مضمون سے مفید اقتباسات)

2008/10/17

مشتاق احمد یوسفی اور "ب و س ہ‫"

بشارت کے ایک افسانے کا کلائمکس کچھ اس طرح تھا ‫:

انجم آرا کی حسن آفرینیوں ، سحر انگیزیوں اور حشر سامانیوں سے مشام جان معطر تھا۔ وہ لغزیدہ لغزیدہ قدموں سے آگے بڑھی اور فرطِ حیا سے اپنی اطلسی بانہوں کو اپنی ہی دزویدہ دزویدہ آنکھوں پر رکھا۔ سلیم نے انجم آرا کے دستِ حنائی کو اپنے آہنی ہاتھ میں لے کر پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اس کی ہیرا تراش کلائی اور ساقِ بلوریں کو دیکھا اور گلنار سے لبوں پر ۔۔۔۔ چار نقطے ثبت کر دیے۔

بشارت گن کر اتنے ہی نقطے لگاتے جن کی اجازت اُس وقت کے حالات ، حیا یا ہیروئین نے دی ہو۔
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ اس زمانے میں انجمن ترقی اردو کے رسالے میں ایک مضمون چھپا تھا۔ اس میں جہاں جہاں لفظ "بوسہ" آیا ، وہاں مولوی عبدالحق نے ، بربنائے تہذیب اس کے ہجے یعنی "ب و س ہ" چھاپ کر اُلٹا اس کی لذت و طوالت میں اضافہ فرما دیا۔
یہاں ہمیں اُن کا یا اپنے حبیبِ لبیب کی طرزِ نگارش کا مذاق اُڑانا مقصود نہیں۔ ہر زمانے کا اپنا اسلوب اور آہنگ ہوتا ہے۔ لفظ کبھی انگرکھا ، کبھی عبا و عمامہ ، کبھی ڈنر جیکٹ یا فُولس کیپ ، کبھی پیر میں پائل یا بیڑی پہنے نظر آتے ہیں۔ اور کبھی کوئی مداری اپنی قاموسی ڈگڈگی بجاتا ہے تو لفظوں کے سدھے سدھائے بندر ناچنے لگتے ہیں۔

مولانا ابوالکلام آزاد اپنا سنِ پیدائش اس طرح بتاتے ہیں ‫:
یہ غریب الدیارِ عہد ، ناآشنائے عصر ، بیگانۂ خویش ، نمک پروردۂ ریش ، خرابۂ حسرت کہ موسوم بہ احمد ، مدعو بابی الکلام 1888ء مطابق ذو الحجہ 1305ھ میں ہستیِ عدم سے اس عدمِ ہستی میں وارد ہوا اور تہمتِ حیات سے متہم۔

اب لوگ اس طرح نہیں لکھتے۔ اس طرح پیدا بھی نہیں ہوتے۔ اتنی خجالت ، طوالت و اذیت تو آج کل سیزیرین پیدائش میں بھی نہیں ہوتی۔

اسی طرح نوطرز مرصع کا ایک جملہ ملاحظہ فرمائیے ‫:
جب ماہتابِ عمر میرے کا بدرجہ چہاردہ سالگی کے پہنچا ، روزِ روشنِ ابتہاج اس تیرہ بخت کا تاریک تر شبِ یلدہ سے ہوا ، یعنی پیمانۂ عمر و زندگانی مادر و پدرِ بزرگوار حظوظِ نفسانی سے لبریز ہو کے اسی سال دستِ قضا سے دہلا۔
کہنا صرف یہ چاہتے ہیں کہ : جب میں چودہ برس کا ہوا تو ماں باپ فوت ہو گئے۔ لیکن پیرایہ ایسا گنجلک اختیار کیا کہ والدین کے ساتھ مطلب بھی فوت ہو گیا۔
مرزا عبدالودود بیگ نے ایسے ‫pompous style کے لیے سبکِ ہندی کی طرز پر ایک نئی اصطلاح وضع کی ہے: طرز اسطوخودّوس

اقتباس : آبِ گم
‫- مشتاق احمد یوسفی

2008/08/31

رمضان مبارک

السلام علیکم
رمضان کریم کی نیک ساعتیں آپ تمام کو مبارک ہوں۔

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُواْ الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ اللّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُون
رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی واضح اور حق کو باطل سے جدا کرنے والی دلیلیں ہیں ، پھر تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے تو اسے چاہئے کہ اس کے روزے رکھے اور جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 185 )

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‫:
اذا دخل شهر رمضان فتحت ابواب السماء، وغلقت ابواب جهنم، وسلسلت الشياطين
جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔
صحيح بخاری ، كتاب الصوم ، باب : هل يقال رمضان او شهر رمضان ومن راى كله واسعا ، حدیث : 1933

2008/08/28

سچ پر قائم رہنا چاہئے ، مگر ۔۔۔

سچ بولنے کا مطلب لوگوں کا دل دکھانا نہیں ہوتا۔
سچ پر قائم رہتے ہوئے بھی کسی کی دلآزاری اور تضحیک سے بچا جا سکتا ہے۔
جب کوئی ہمیں " صبح بخیر " کہتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم موسمیاتی رپورٹ لے کر اُسے پکڑ کر بیٹھ جائیں کہ ۔۔۔۔
آج درجۂ حرارت اتنا ہے ، یا بارش پڑنے والی ہے اس لیے دن بخیر کیسے گزر سکتا ہے؟
یہ سچائی کے بارے میں احمقانہ رویہ ہے ‫!

2008/08/23

فنکار اور کرب

کرشن چندر
کرب چاہے کسی قسم کا ہو ، زندگی سے نکل جائے تو فن مر جاتا ہے۔

2008/08/17

چاند گرہن اور صلوٰۃ الکسوف

مورخہ 16۔اگست-2008ء بروز ہفتہ ، رات دس ساڑھے دس بجے کے قریب سعودی عرب کے شہر ریاض میں مکمل چاند گرہن کا مشاہدہ کیا گیا اور شہر کی تمام مساجد میں اذانیں ہوئیں اور صلوٰۃ الکسوف ادا کی گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ اِس وقت رات ساڑھے گیارہ بجے بھی ، چاند کے تین چوتھائی حصے کو گرہن لگا ہوا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‫:
هذه الآيات التي يرسل الله لا تكون لموت أحد ولا لحياته، ولكن يخوف الله به عباده، فإذا رأيتم شيئا من ذلك فافزعوا إلى ذكره ودعائه واستغفاره
چاند اور سورج کا گرہن آثارِ قدرت ہیں۔ کسی کے مرنے ، جینے (یا کسی اور وجہ) سے نمودار نہیں ہوتے۔ بلکہ اللہ (اپنے) بندوں کو عبرت دلانے کے لیے ظاہر فرماتا ہے۔ اگر تم ایسے آثار دیکھو تو جلد از جلد دعا ، استغفار اور یادِ الٰہی کی طرف رجوع کرو۔
صحيح البخاري ، كتاب الكسوف ، باب الذكر في الكسوف ، حديث:1067

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‫:
الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته، ولكنهما آيتان من آيات الله، فإذا رأيتموهما فصلوا
سورج اور چاند میں گرہن کسی کی موت کی وجہ سے نہیں لگتا البتہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں ، اس لیے جب تم گرہن دیکھو تو نماز پڑھو۔
صحيح البخاري ، كتاب الكسوف ، باب لا تنكسف الشمس لموت أحد ولا لحياته ، حديث:1065

2008/08/14

قومیت کی بنیاد ۔۔۔ 'وطن' نہیں بلکہ : "اسلام‫"

اللہ اور اس کے رسول نے جاہلیت کی اُن تمام محدود مادّی ، حسی اور وہمی بنیادوں کو ، جن پر دنیا کی مختلف قومیتوں کی عمارتیں قائم کی گئی تھیں ، ڈھا دیا۔
رنگ ، نسل ، وطن ، زبان ، معیشت اور سیاست کی غیر عقلی تفریقوں کو ، جن کی بنا پر انسان نے اپنی جہالت و نادانی کی وجہ سے انسانیت کو تقسیم کر رکھا تھا ، مٹا دیا اور انسانیت کے مادے میں تمام انسانوں کو برابر اور ایک دوسرے کا ہم مرتبہ قرار دے دیا۔
اس تخریب کے ساتھ انسان نے پھر ایک خالص عقلی بنیاد پر ایک نئی قومیت تعمیر کی۔ اس "قومیت" کی بنا بھی امتیاز پر تھی ، مگر مادّی اور غرضی امتیاز پر نہیں بلکہ روحانی اور جوہری امتیاز پر۔ اس نے انسان کے سامنے ایک فطری صداقت پیش کی جس کا نام "اسلام" پے ‫!
اسلام نے اللہ کی بندگی و اطاعت ، نفس کی پاکیزگی و طہارت ، عمل کی نیکی اور پرہیزگاری کی طرف سارے نوعِ بشر کو دعوت دی۔
پھر کہہ دیا کہ ۔۔۔
جو اس دعوت کو قبول کرے وہ ایک قوم سے ہے
اور جو اس کو ردّ کرے وہ دوسری قوم سے ہے۔

ایک قوم ایمان اور اسلام کی ہے اور اس کے سب افراد ایک امت ہیں۔
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 143 )


اور ایک قوم کفر اور گمراہی کی ہے اور اس کے متبعین اپنے اختلافات کے باوجود ایک گروہ ہیں
وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 264 )


ان دونوں قوموں کے درمیان بنائے امتیاز نسل اور نسب نہیں ، اعتقاد اور عمل ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک باپ کے دو بیٹے اسلام اور کفر کی تفریق میں جدا جدا ہو جائیں اور دو بالکل اجنبی آدمی اسلام میں متحد ہونے کی وجہ سے ایک قومیت میں مشترک ہوں۔

وطن کا اختلاف بھی ان دونوں قوموں کے درمیان وجۂ امتیاز نہیں ہے۔ یہاں امتیاز "حق" اور "باطل" کی بنیاد پر ہے ۔۔۔ اور
‫"‬حق" اور "باطل" کا کوئی مخصوص وطن نہیں ہوتا ‫!
ممکن ہے ایک شہر ، ایک محلہ ، ایک گھر کے دو آدمیوں کی قومیتں اسلام اور کفر کے اختلاف کی وجہ سے مختلف ہو جائیں اور ایک پاکستانی رشتۂ اسلام میں مشترک ہونے کی وجہ سے ایک ہندوستانی کا قومی بھائی بن جائے۔

رنگ کا اختلاف بھی یہاں قومی تفریق کا سبب نہیں ہے۔ یہاں اعتبار چہرے کے رنگ کا نہیں ، اللہ کے رنگ کا ہے اور وہی بہترین رنگ ہے ‫:
صِبْغَةَ اللّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ صِبْغَةً
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 138 )

ہو سکتا ہے کہ "اسلام" کے اعتبار سے ایک سفید برطانوی اور ایک سیاہ افریقی کی ایک قوم ہو اور کفر کے اعتبار سے دو گوروں کی دو الگ قومیتیں ہوں۔

زبان کا امتیاز بھی "اسلام" اور "کفر" میں وجۂ اختلاف نہیں ہے۔ یہاں منہ کی زبان نہیں محض دل کی زبان کا اعتبار ہے جو ساری دنیا میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اس کے اعتبار سے عربی اور برصغیری کی ایک زبان ہو سکتی ہے اور دو عربوں کی زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں۔

معاشی اور سیاسی نظاموں کا اختلاف بھی اسلام اور کفر کے اختلاف میں بےاصل ہے۔ یہاں جھگڑا دولتِ زر کا نہیں دولتِ ایمان کا ہے۔ انسانی سلطنت کا نہیں اللہ کی بادشاہت کا ہے۔
جو لوگ حکومتِ الٰہی کے وفادار ہیں ، اور جو اللہ کے ہاتھ اپنی جانیں فروخت کر چکے ہیں وہ سب ایک قوم ہیں خواہ ہندوستان میں ہوں یا پاکستان میں۔
اور جو اللہ کی حکومت سے باغی ہیں اور شیطان سے جان و مال کا سودا کر چکے ہیں وہ ایک دوسری قوم ہیں۔ ہم کو اس سے کوئی بحث نہیں کہ وہ کس سلطنت کی رعایا ہیں اور کس معاشی نظام سے تعلق رکھتے ہیں؟

اس طرح اسلام نے قومیت کا جو دائرہ کھینچا ہے ، وہ کوئی حسّی اور مادّی دائرہ نہیں بلکہ ایک خالص عقلی دائرہ ہے۔ ایک گھر کے دو آدمی اس دائرے سے جدا ہو سکتے ہیں اور مشرق و مغرب کا بُعد رکھنے والے دو آدمی اس میں داخل ہو سکتے ہیں۔
اس دائرہ کا محیط ایک کلمہ ہے ‫:
لا اله الا الله محمد الرسول الله

اسی کلمہ پر دوستی بھی ہے اور اسی پر دشمنی بھی۔
اسی کا اقرار جمع کرتا ہے اور اسی کا انکار جدا کر دیتا ہے۔
جن کو اس نے جدا کر دیا ہے ان کو نہ خون کا رشتہ جمع کر سکتا ہے ، نہ خاک کا ۔ نہ زبان کا ، نہ وطن کا ، نہ رنگ کا ، نہ روٹی کا ، نہ حکومت کا۔
اور جن کو اس نے جمع کر دیا ہے انہیں کوئی چیز جدا نہیں کر سکتی۔ کسی دریا ، کسی پہاڑ ، کسی سمندر ، کسی زبان ، کسی نسل ، کسی رنگ اور کسی زر و زمین کے قضیہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اسلام کے دائرے میں امتیازی خطوط کھینچ کر مسلمان اور مسلمان کے درمیان فرق کرے۔

ہر مسلمان خواہ وہ پاکستان کا باشندہ ہو یا بھارت کا واسی ، گورا ہو یا کالا ، ہندی بولتا ہو یا عربی ، سامی ہو یا آرین ، ایک حکومت کی رعیت ہو یا دوسری حکومت کی ۔۔۔
وہ مسلمان قوم کا فرد ہے ‫،
اسلامی سوسائیٹی کا رکن ہے ‫،
اسلامی اسٹیٹ کا شہری ہے ‫،
اسلامی فوج کا سپاہی ہے ‫،
اسلامی قانون کی حفاظت کا مستحق ہے۔

شریعتِ اسلامیہ میں کوئی ایک دفعہ بھی ایسی نہیں ہے جو عبادات ، معاملات ، معاشرت ، معیشت ، سیاست ، غرض زندگی کے کسی شعبہ میں جنسیت یا زبان یا وطنیت کے لحاظ سے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے مقابلہ میں کمتر یا بیشتر حقوق دیتی ہو۔

کمپوزنگ ، ردّ و بدل و اضافہ : باذوق
بشکریہ : مسئلۂ قومیّت - سید ابوالاعلیٰ مودودی

2008/08/13

سماجی ذمہ داری ۔۔۔

معروف دانشور ادیب ڈاکٹر جمیل جالبی نے ایک جگہ لکھا ہے ‫:
سماجی شعور تخلیقی عمل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے جس کی بدولت ادیب میں دیکھنے کی صلاحیت تیز تر ہوتی جاتی ہے۔ اسی لیے جب میں فن سے وفاداری کے الفاظ استعمال کرتا ہوں تو اس سے میرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ادیب انسانی المیوں کی طرف سے آنکھیں بند نہ کر لے ، یہ خود اس کے فن کی بنیاد ہیں۔
فن سے وفاداری کا مطلب یہ بھی ہے کہ یہ بات خود اس کا فن بتائے گا کہ اسے کیا محسوس کرنا ہے اور کیسے محسوس کرنا ہے۔ وہ اس سلسلے میں کسی کسی خارجی قوت یا ادارہ کا پابند نہیں ہے۔
آپ خود سوچئے کہ وہ تمام المیے ، واقعات ، حادثات وغیرہ جو اس دنیا میں اور اس کے اپنے معاشرہ میں ہو رہے ان سے وہ کیسے آنکھیں چرا سکتا ہے؟
ان کو دیکھنا اور اپنے اندر اتارنا اور ان کا اظہار کرنا یہی اس کا فن ہے اور یہی اس کی سماجی ذمہ داری ہے۔


====
اپنی بیاض کا یہ بہت پرانا اقتباس مجھے آج اس لیے یاد آ گیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے المناک اور دلخراش واقعہ کے پس منظر میں ، ابھی ابھی میں نے ایک پروفیسر صاحب کی یہ تحریر اور اپنے ایک دوست کا یہ تاثر پڑھا ہے۔

آئیے سب مل کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں ۔۔۔۔
اے اللہ میری بہن کو محفوظ رکھنا۔ ۔ ۔ کافر درندوں کی قید سے اسے آزادی عطا فرما ۔ ۔ ۔ اس کے بچوں کی حفاظت کرنا ۔ ۔ ۔ اے اللہ میری غفلت پر پردہ ڈال دے اور اس واقعے کو میرے اندر ایمان کی وہ روح پیدا کرنے کا سبب بنا دے جو تجھے مطلوب ہے ۔ ۔ ۔ اے اللہ میری بہن کو اس صورتحال سے دو چار کرنے والوں کو برباد کر دے۔ ۔ ۔
آمین
ثم آمین
یا رب العالمین ‫!!

2008/07/26

ظالم / مظلوم

انسان دوسروں پر ظلم کرتا ہے اور خود ہی مظلوم بن کر دعا مانگتا ہے۔ دعا قبول نہ ہو تو اللہ کی رحمت سے انکار کرتا ہے۔
بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی غلطیوں کو سمجھتے ہیں اور خود ہی اپنی غلطیوں کی تلافی کرتے ہیں۔

2008/07/07

صحابی کسے کہتے ہیں ؟

حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی مشہور کتاب "الإصابة في تمييز الصحابة" میں "صحابی" کی تعریف یوں کی ہے ‫:
الصحابي من لقي النبي صلى الله عليه وسلم مؤمنا به ، ومات على الإسلام
صحابی اسے کہتے ہیں جس نے حالتِ ایمان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اسلام پر ہی فوت ہوا۔

پھر درج بالا تعریف کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمة اللہ مزید کہتے ہیں ‫:
فيدخل فيمن لقيه من طالت مجالسته له أو قصرت ، ومن روى عنه أو لم يرو ، ومن غزا معه أو لم يغز ، ومن رآه رؤية ولو لم يجالسه ، ومن لم يره لعارض كالعمى . ويخرج بقيد الإيمان من لقيه كافرا ولو أسلم بعد ذلك إذا لم يجتمع به مرة أخرى
اردو ترجمہ : ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
اس تعریف کے مطابق ہر وہ شخص صحابی شمار ہوگا جو ۔۔۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حال میں ملا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی رسالت کو مانتا تھا
پھر وہ اسلام پر ہی قائم رہا یہاں تک کہ اس کی موت آ گئی
خواہ وہ زیادہ عرصہ تک رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبت میں رہا یا کچھ عرصہ کے لیے
خواہ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی احادیث کو روایت کیا ہو یا نہ کیا ہو
خواہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہوا ہو یا نہ ہوا ہو
خواہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو یا (بصارت نہ ہونے کے سبب) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دیدار نہ کر سکا ہو

ہر دو صورت میں وہ "صحابئ رسول" شمار ہوگا۔
اور ایسا شخص "صحابی" متصور نہیں ہوگا جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہو۔

بحوالہ ‫:
الإصابة في تمييز الصحابة : أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي ، ج:1 ، ص:7-8


فضائل اصحاب النبی (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کے ضمن میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ‫:
عن عبد الله بن عمر، قال: من كان مستناً فليسن. ممن قد مات، أولئك أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا خير هذه الأمة، أبرها قلوباً، وأعمقها علماً، وأقلها تكلفاً، قوم أختارهم الله لصحبة نبيه صلى الله عليه وسلم ونقل دينه، فتشبهوا بأخلاقهم وطرائقهم فهم أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا على الهدى المستقيم
اردو ترجمہ : ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
اگر کوئی شخص اقتداء کرنا چاہتا ہو تو وہ اصحابِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت پر چلے جو وفات پا چکے ہیں ، وہ امت کے سب سے بہتر لوگ تھے ، وہ سب سے زیادہ پاکیزہ دل والے ، سب سے زیادہ گہرے علم والے اور سب سے کم تکلف کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبت کے لیے ، اور آنے والی نسلوں تک اپنا دین پہنچانے کے لیے چُن لیا تھا ، اس لیے تم انہی کے طور طریقوں کو اپناؤ ، کیونکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھی تھے ، اور صراط مستقیم پر گامزن تھے۔

بحوالہ ‫:
حلية الأولياء لأبي نعيم ، ج:1 ، ص:162

2008/06/18

دین کی ترویج اور صحابہ (رض) کے اختلافات ؟‫!

ابھی حال میں ہوئے "قادیانی طلباء" کے ایک واقعے کے پس منظر میں ایک معروف اردو فورم پر مذاکرہ درج ذیل موضوع پر شروع ہوا ہے ‫:
مسلمان معاشرے میں اقلیتوں کے حقوق کیا ہیں ؟

عموماً ہمارے ہاں بحث و مباحثہ میں ہوتا یوں ہے کہ موضوع سے ہٹ کر غیر متعلق باتیں دانستہ یا غیردانستہ چھیڑ دی جاتی ہیں۔
جیسا کہ ایک صاحبِ محترم نے یوں عرض فرمایا‫:
میرا سوال ہے کہ ان احکام کا تعین کون کرے گا جو نافذ ہونے پر آپ ایک معاشرہ کو اسلامی معاشرہ قرار دیں گے؟ کیا کوئی ایسا مکمل ضابطہ ہے جس پر اگر کوئی معاشرہ یا حکومت مکمل طور پر عمل پیرا ہو تو آپ اسے اسلامی معاشرہ کہیں گے؟ اور اگر ایسا ہے تو صحابہ کبار کے امور مملکت میں سنگین اختلافات جن میں بعض اوقات خانہ جنگی کی بھی نوبت آئی انہیں آپ کس شمار میں رکھیں گے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ اصحاب کبار اور بالخصوص عشرہ مبشرہ کا فہمِ دین اس قدر ناقص تھا کہ ان میں سے چند کو اسلام اور اسلامی معاشرہ کی شرائط کے متعلق ہی کچھ معلوم نہ تھا؟ اور اگر ایسا تھا تو صحیح حدیث پاک کہ میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں جس کی پیروی کروگے فلاح پاؤ گے کی پیروی کیسے ممکن ہوگی؟

مزید آگے چل کر یوں گوہر فشانی کی گئی ‫:
آپ نے خلافت راشدہ کے دور کا حوالہ دیا ہے لیکن اس دور میں بھی صحابہ کرام کے مابین شدید اختلافات موجود تھے

سوال یہ ہے کہ مشاجراتِ صحابہ کی آڑ میں صحابہ کرام پر انگلی اٹھانے کی جراءت کس نظریے کی آبیاری ہے آخر؟؟
کبارِ صحابہ کے امور مملکت میں سنگین اختلافات ۔۔۔ جیسے فقروں کا استعمال شانِ صحابیت کو بڑھاتا ہے یا گھٹاتا ہے ؟؟

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ ‫:
فاقبلوا من محسنهم وتجاوزوا عن مسيئهم
ان نیک آدمیوں (انصار صحابہ) کی نیکیوں اور خوبیوں کا اعتراف کرو اور خطا کاروں کی خطاؤں اور لغزشوں سے صرف نظر کرو۔
(متفق علیہ)

اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ‫:
لا تسبوا أصحاب محمد فإن الله قد أمر بالإستغفار لهم وهو يعلم أنهم سيقتتلون
صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کو برا مت کہو ، بےشک اللہ تبارک تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ عنقریب قتل و قتال میں مبتلا ہوں گے ہمیں ان کے بارے میں استغفار کا حکم فرمایا ہے۔
بحوالہ : منهاج السنة النبوية ، ج:1 ، ص:154

امورِ مملکت میں سنگین اختلافات ۔۔۔ کیا آج کے حکمرانوں کی طرح کے اختلافات تھے؟ استغفراللہ۔
کیا اس طرزِ فکر کی تبلیغ سے کہیں یہ مقصود تو نہیں کہ اس طریق سے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ہی مشکوک بنا دی جائے؟؟
کیونکہ ۔۔۔ آخر یہ وہ عظیم ہستیاں ہی تو تھیں جنہوں نے اس بات کی گواہی دی تھی کہ حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے پیغامات کو اس کے بندوں تک پہنچایا اور اپنے سپرد کی گئی امانت کو کماحقہ ادا کیا اور امت کی خیرخواہی کی سرتوڑ کوشش کی اور کفر و شرک کی تاریکی دور کر کے اسلام کے نور کو جگمگا دیا۔ سبحان اللہ والحمدللہ۔

اور جب "امورِ مملکت میں سنگین اختلافات" کے بہانے سے ان شاہدوں اور گواہوں (رضی اللہ عنہم اجمعین) کی دیانتداری ہی چیلنج کر دی جائے تو ان کی گواہی اور شہادت بھی مسترد ہو جائے گی اور یوں شریعتِ اسلامی اور منہجِ نبوت کا خاتمہ ہو جائے گا ، کیونکہ ۔۔۔ قرآن کے ناقل اور راوی اور جامع بھی تو وہی صحابہ ہیں اور سنتِ رسول کے مدوّن بھی وہی ہیں۔
جب (نعوذباللہ) وہ عادل نہ ہوئے تو اس دین کے دامن میں کیا باقی رہ جائے گا؟

صحابہ کرام کے "اجتہاد" کو آپسی اختلافات یا "امورِ مملکت میں سنگین اختلافات" سے تعبیر کرنے والوں کو ہوش کی دوا کرنی چاہئے اور اس حدیث کو یاد کر لینا چاہئے جس میں اجتہاد کی درستگی یا غلطی دونوں صورتوں میں اجر کی نوید سنائی گئی ہے۔

باقی جہاں تک اس روایت "میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں" کا ذکر کیا گیا ہے تو یہ ایک موضوع روایت ہے جس کی تفصیل یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

2008/04/13

یہ چمچے ہیں ‫!!

چمچے کی ایک اہم خاصیت یہ ہوتی ہے کہ برتن کا پکوان رکابی (پلیٹ) میں منتقل کرتا ہے۔ کبھی حسنِ خوبی سے تو کبھی یوں بچوں کی طرح کہ دسترخوان پر کچھ کھانا سالن اِدھر اُدھر بھی بکھرا دیتا ہے۔

دوسری خصوصیت یہ کہ چمچے کا "دماغ" نہیں ہوتا ‫!!
لہذا آپ کسی چمچے سے توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ برتن کے پکوان کی خصوصیات یا انفرادیت یا دیگر جزیات یعنی ‫yummmmmy قسم کی مطلوبہ تفصیلات سے آپ کو آگاہ کرے۔

تیسری منفرد خصوصیت یہ کہ جو پکوان برتن سے آپ کی پلیٹ میں چمچہ ٹرانسفر کرتا ہے ، اس پکوان کے ذائقے سے چمچہ خود ناآشنا ہوتا ہے۔ لہذا جس "باورچی خانے" کا چمچہ ہو وہ اسی باورچی خانے کی "خاتونِ خانہ" کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔ مثلاً خالی برتن میں آپ چمچہ پھینکیں پھر دیکھیں کہ وہ کس طرح "خاتون خانہ" کی "پکار" کو ‫echo‬ کرتا ہے۔ ویسے بھی ‫echo کرنا چمچے کی مجبوری ہے ، نہ کرے تو پھر وہ سیدھا کچرے کی ٹوکری میں جائے گا‫!!

چمچے ہر زبان میں بات کرتے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ دنیا کے ہر کونے میں چمچوں کی نسل پائی جاتی ہے۔ کچھ چمچے بااختیار ہوتے ہیں تو کچھ بےاختیار۔ بااختیار چمچے کسی ملک پر بھی حکومت کر سکتے ہیں۔ مثلاً ۔۔۔۔ ھمممممم ۔۔۔۔ ابھی ابھی ہم ایمرجنسی سے نکلے ہیں لہذا احتیاط بہتر ہے۔
بعض اوقات چمچے اس زور سے بجتے ہیں کہ ٹوٹ جاتے ہیں۔ بعض یوں دھیمے دھیمے راگ الاپتے ہیں کہ سمجھ میں تو کچھ نہیں آتا لیکن "عربی تیل" کے سربراہان کی مشترکہ میٹنگ کے ایجنڈے اور بالآخر اس میٹنگ کے ناکام فیصلوں کے ذریعے ہم ان معصوم نغموں کی اصل کو دریافت کر سکتے ہیں۔
بےاختیار چمچوں کو بیکار نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ دانا دلیل دیتے ہیں کہ کبھی کبھی چیونٹی بھی ہاتھی کے پاؤں نیچے آ کر اسے کاٹ لیتی ہے۔ اگر سارے بےاختیار چمچے مل کر کورس میں گانے لگ جائیں تو دنیا سمجھتی ہے کہ فلاں فلاں معاملے میں اتحاد یا "اجماع" ہے لہذا "بدعت" کا طعنہ نہیں دینا چاہئے ‫!

انٹرنیٹ ہی نہیں بلکہ نیٹ کی ہر زبان کے فورمز کی دنیا میں بھی چمچے پائے جاتے ہیں۔ کبھی کبھی ان کو فلاں فلاں کا نمائیندہ یا فلاں فلاں کا نامہ نگار بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا اصل کام "کاپی/پیسٹ" ہوتا ہے۔ یہ قوم صرف "کاپی/پیسٹ" کے قابل ہوتی ہے۔ کاپی پیسٹ میں دماغ لڑانا نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا تو پھر "چمچہ" کا لقب ہی کیوں ملے؟

2008/03/23

اپنی ذات میں انجمن ۔۔۔؟‫!

مطلق العنانیت یا انفرادیت یا ثنویت کے نتیجے میں بعض محاورے اردو زبان میں ابھر آئے ہیں۔
اور یہ زباں زد خاص و عام چشمہ کے جملے بھی اردو تنظیموں کے حق میں زہرِ قاتل ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے جملوں میں ۔۔۔۔۔
آپ اپنی ذات میں انجمن ہیں
تنظیم کے روحِ رواں آپ ہی ہیں

شامل ہیں۔
ان جملوں کو سنتے سنتے یا خود ہی "رٹتے رٹتے" انسان بس اپنی تنہا ذات کو ہی پوری انجمن سمجھ لیتا ہے اور یہ بات اس کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے کہ ادارے کا روحِ رواں بھی بس وہی ایک ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ انجمن باقی رہتی ہے اور نہ ہی روح کا کوئی وجود متعلقہ ادارہ میں نظر آتا ہے۔

ایسے ادارے کبھی کبھی گشتی یا متحرک بھی نظر آ جاتے ہیں۔ مثلاً ایسی ہی ایک ادبی تنظیم کے صدر نے ، جو بربنائے رکنیتِ اساسی ، تنظیم کی ساری تقریبات کی صدارت کا استحقاق بھی رکھتے تھے ، جب اپنا شہر چھوڑ کر کسی اور مقام پر تشریف لے گئے تو خبر مشہور ہو گئی کہ ‫:
فلاں ادبی ادارہ ان دنوں چھٹی گزارنے گیا ہے ‫!!

(اقتباس : نعیم بازیدپوری)

2008/01/28

اسلام اور مذہبی رواداری

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اسلام نے ضمیر اور اعتقاد کی آزادی کا حق دیا ہے۔ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ کفر و ایمان میں سے جو راہ چاہے اختیار کر لے۔
اور بےشک اسلام نے مذہبی دلآزاری سے منع کیا ہے۔

ان کو برا بھلا نہ کہو جنہیں یہ لوگ اللہ کے ماسوا معبود بنا کر پکارتے ہیں۔
( سورة الانعام : 6 ، آیت : 108 )

لیکن ۔۔۔۔
یہ خیال رکھا جانا چاہئے کہ اسلام میں جہاں مذہبی دلآزاری سے منع کیا گیا ہے وہیں برہان ، دلیل اور معقول طریقے سے مذہب پر تنقید کرنا اور اختلاف کرنا ، آزادیِ اظہار کے حق میں شامل ہے۔
خود مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اہلِ کتاب اور دیگر مذاہب کے حاملین سے اگر گفتگو کی جائے تو تحمل اور رواداری کا مظاہرہ کیا جائے اور احسن انداز اپنایا جائے ‫:
اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو مگر احسن طریقے سے۔
( سورة العنکبوت : 29 ، آیت : 46 )

مگر ۔۔۔۔
اسلام میں "رواداری" کا تصور یہ نہیں ہے کہ مختلف اور متضاد خیالات کو درست قرار دیا جائے۔ اس ضمن میں مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ نے بہت عمدہ فکر پیش کی ہے ، ملاحظہ فرمائیں ‫:

"رواداری" کے معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں کے عقائد یا اعمال ہمارے نزدیک غلط ہیں ، ان کو ہم برداشت کریں ، ان کے جذبات کا لحاظ کر کے ان پر ایسی نکتہ چینی نہ کریں جو ان کو رنج پہنچانے والی ہو ، اور انہیں ان کے اعتقاد سے پھیرنے یا ان کے عمل سے روکنے کے لیے زبردستی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔
اس قسم کے تحمل اور اس طریقے سے لوگوں کو اعتقاد و عمل کی آزادی دینا نہ صرف ایک مستحسن فعل ہے ، بلکہ مختلف الخیال جماعتوں میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
لیکن اگر ہم خود ایک عقیدہ رکھنے کے باوجود محض دوسرے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ان کے مختلف عقائد کی تصدیق کریں ، اور خود ایک دستور العمل کے پیرو ہوتے ہوئے دوسرے مختلف دستوروں کا اتباع کرنے والوں سے کہیں کہ : آپ سب حضرات برحق ہیں ، تو اس منافقانہ اظہارِ رائے کو کسی طرح "رواداری" سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔
مصلحتاً سکوت اختیار کرنے اور عمداً جھوٹ بولنے میں آخر کچھ تو فرق ہونا چاہئے ‫!!

بحوالہ : تفہیمات ، جلد اول ، صفحہ : 114-115

2008/01/19

مروجہ معاشرتی مسائل

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ایک معاشرتی مسئلہ یہ ہے کہ ہم دو مختلف باتوں کو ایک ساتھ جوڑ رہے ہوتے ہیں ۔
کسی کا گناہ کرنا ہم کو یہ حق نہیں دیتا کہ ہم اس سے یوں پوچھیں کہ : اس نے داڑھی رکھ کر کیوں گناہ کیا؟
فرض کیجئے کہ ہمارا چھوٹا بھائی حساب کے امتحان میں فیل ہو جاتا ہے مگر تاریخ کے امتحان میں پاس ہو جاتا ہے۔ کیا ہم اس سے ایسا پوچھ سکتے ہیں کہ : تاریخ کے امتحان میں کامیاب ہو کر وہ حساب کے امتحان میں کیوں کر ناکام ہوا ؟
نہیں ناں ۔ سوال تو ہم صرف اتنا کریں گے کہ حساب کے امتحان میں وہ کیوں ناکام ہوا ؟
جو بات غلط ہے بس وہی بات غلط ہے ، اور اُس ہی غلط بات کی نشاندہی کی جانی چاہئے ۔ کسی اچھی بات کو اس سے جوڑ کر طعنہ دینا مناسب نہیں۔
کس نے داڑھی کا سہارا لیا ہوا ہے اور کس نے نہیں ؟
یہ ہمارا ، اُن کا یا دوسروں کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ تو صرف اُس شخص کی دلی نیت کا اور اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے ، جو ہم نہیں جانتے۔

سورہ البقرہ کی آیت 208 کے مفہوم کے مطابق ، اللہ کا حکم ہے کہ : مسلمان اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں ، ایسا نہ کریں کہ بعض احکام کو لے لیں اور بعض کو چھوڑ دیں بلکہ مکمل اسلام کو اختیار کریں۔
اگر ہم مکمل اسلام اختیار نہیں کر سکتے تو ہم کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ کسی اسلامی حکم کو یہ کہہ کر کہ اس پر ثواب ہے ، اس پر گناہ نہیں ۔۔۔ ایزی لے لیں۔
یاد رکھا جانا چاہئے کہ خود رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا حکم ، اللہ کا حکم ہوتا ہے ، رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) خود اپنی مرضی سے کوئی حکم جاری نہیں کرتے۔
رسول اپنی مرضی سے نہیں بولتے بلکہ وہ اللہ کی طرف سے وحی ہے جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے۔
( سورة النجم : 53 ، آیت : 3-4 )

اور جو کچھ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) حکم دیں ، اس پر عمل آوری ہر مسلمان کا فرض ہے ۔
جو کچھ تمھیں رسول دیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں اس سے رک جاؤ
( سورة الحشر : 59 ، آیت : 7 )

ہم یا کوئی اور ۔۔۔ کسی اسلامی حکم پر بوجہ عمل نہ کر پاتے ہیں تو اس معاملے میں خاموش ہی رہنا چاہئے یہ دعا کرتے ہوئے کہ اللہ ہمیں اس پر عمل کی توفیق جلد سے جلد نصیب فرمائے۔
لیکن کسی مسلمان کا یہ رویہ قابلِ اعتراض ہے کہ ثواب گناہ کے درجے متعین کرتے ہوئے دانستہ یا نادانستہ طور پر ایک تو عام مسلمان کو اسلامی احکام سے برگشتہ کرے اور جو لوگ عمل کرتے ہوں اُن کو دوسروں کی نظروں میں کمتر دکھائے۔

ویسے یہ ہمارے معاشرے میں ایک غلط رویہ سا پھیل گیا ہے کہ کسی کو دین کی کوئی بات بتائیں اور عمل کرنے کو کہیں تو فوراََ پلٹ کر جواب دیا جاتا ہے کہ جاؤ پہلے نماز پابندی سے ادا کرو یا زکوٰۃ کی پابندی کرو یا حقوق العباد پورے کرو وغیرہ وغیرہ ۔
ارے بھائی ، جہاں دین میں نماز روزہ زکوٰۃ ہے وہیں داڑھی بھی ہے اور ٹخنوں سے اونچا لباس بھی ۔ دین چار پانچ مخصوص عبادتوں کا نام نہیں۔ دین تو مکمل اور بالکل وہی ہے جس کی وضاحت قرآن اور احادیث میں درج ہے۔
ہر بات کو قرآن اور حدیث سے پرکھ کر دیکھئے ، اگر حق ہے تو قبول کیجئے اور اقرار کیجئے کہ حق بات ہے ۔ اور اگر آپ کا عمل اس بات پر نہیں ہے تو پلٹ کر اعتراض مت کیجئے کہ جاؤ آپ پہلے یہ کرو اور وہ کرو۔