2008/04/13

یہ چمچے ہیں ‫!!

چمچے کی ایک اہم خاصیت یہ ہوتی ہے کہ برتن کا پکوان رکابی (پلیٹ) میں منتقل کرتا ہے۔ کبھی حسنِ خوبی سے تو کبھی یوں بچوں کی طرح کہ دسترخوان پر کچھ کھانا سالن اِدھر اُدھر بھی بکھرا دیتا ہے۔

دوسری خصوصیت یہ کہ چمچے کا "دماغ" نہیں ہوتا ‫!!
لہذا آپ کسی چمچے سے توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ برتن کے پکوان کی خصوصیات یا انفرادیت یا دیگر جزیات یعنی ‫yummmmmy قسم کی مطلوبہ تفصیلات سے آپ کو آگاہ کرے۔

تیسری منفرد خصوصیت یہ کہ جو پکوان برتن سے آپ کی پلیٹ میں چمچہ ٹرانسفر کرتا ہے ، اس پکوان کے ذائقے سے چمچہ خود ناآشنا ہوتا ہے۔ لہذا جس "باورچی خانے" کا چمچہ ہو وہ اسی باورچی خانے کی "خاتونِ خانہ" کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔ مثلاً خالی برتن میں آپ چمچہ پھینکیں پھر دیکھیں کہ وہ کس طرح "خاتون خانہ" کی "پکار" کو ‫echo‬ کرتا ہے۔ ویسے بھی ‫echo کرنا چمچے کی مجبوری ہے ، نہ کرے تو پھر وہ سیدھا کچرے کی ٹوکری میں جائے گا‫!!

چمچے ہر زبان میں بات کرتے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ دنیا کے ہر کونے میں چمچوں کی نسل پائی جاتی ہے۔ کچھ چمچے بااختیار ہوتے ہیں تو کچھ بےاختیار۔ بااختیار چمچے کسی ملک پر بھی حکومت کر سکتے ہیں۔ مثلاً ۔۔۔۔ ھمممممم ۔۔۔۔ ابھی ابھی ہم ایمرجنسی سے نکلے ہیں لہذا احتیاط بہتر ہے۔
بعض اوقات چمچے اس زور سے بجتے ہیں کہ ٹوٹ جاتے ہیں۔ بعض یوں دھیمے دھیمے راگ الاپتے ہیں کہ سمجھ میں تو کچھ نہیں آتا لیکن "عربی تیل" کے سربراہان کی مشترکہ میٹنگ کے ایجنڈے اور بالآخر اس میٹنگ کے ناکام فیصلوں کے ذریعے ہم ان معصوم نغموں کی اصل کو دریافت کر سکتے ہیں۔
بےاختیار چمچوں کو بیکار نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ دانا دلیل دیتے ہیں کہ کبھی کبھی چیونٹی بھی ہاتھی کے پاؤں نیچے آ کر اسے کاٹ لیتی ہے۔ اگر سارے بےاختیار چمچے مل کر کورس میں گانے لگ جائیں تو دنیا سمجھتی ہے کہ فلاں فلاں معاملے میں اتحاد یا "اجماع" ہے لہذا "بدعت" کا طعنہ نہیں دینا چاہئے ‫!

انٹرنیٹ ہی نہیں بلکہ نیٹ کی ہر زبان کے فورمز کی دنیا میں بھی چمچے پائے جاتے ہیں۔ کبھی کبھی ان کو فلاں فلاں کا نمائیندہ یا فلاں فلاں کا نامہ نگار بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا اصل کام "کاپی/پیسٹ" ہوتا ہے۔ یہ قوم صرف "کاپی/پیسٹ" کے قابل ہوتی ہے۔ کاپی پیسٹ میں دماغ لڑانا نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا تو پھر "چمچہ" کا لقب ہی کیوں ملے؟

0 تبصرہ جات:

تبصرہ فرمائیں