2009/12/27

I love you

بڑا عجیب زمانہ آ گیا ہے۔ زندگی خاصی تیز رفتار ہو گئی ہے۔
ایک طرف نوجوان نسل مغربی تہذیب ، مغربی رسم و رواج سے متاثر ہو رہی ہے تو دوسری طرف جب متنازعہ کارٹون شائع ہوتے ہیں تو ہنگامہ مچ جاتا ہے ، جگہ جگہ مظاہرے کئے جاتے ہیں۔ نوجوان اسلام کی طرف لوٹنا بھی چاہتے ہیں اور وہ آزادی بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے لالچ کا لالی پاپ مغربی تہذیب دکھا رہی ہے۔

I love you
نہایت عام سا محاورہ بن چکا ہے۔ مگر کیا یہ "محبت" ہے؟؟
نہیں۔ یہ تو نوعمری ، نوجوانی کا محض ایک جذباتی لگاؤ ہے۔ جو انسانی نفسیات کے مطابق عمر کے ایک مخصوص عرصہ میں دل و دماغ پر چھا جاتا ہے۔
ایسے ہی مواقع پر نوجوان نوعمر نسل کو ناصحانہ ہمدردی کی ضرورت لاحق ہوتی ہے۔ مگر یہ بات وہ کسی سے نہیں کہتے۔ اپنے والدین سے بھی نہیں!
ہم میں سے کتنے ہیں جو یہ بات خود سمجھتے ہوں اور آگے بڑھ کر اپنی نسل کو ٹوٹنے بکھرنے سے بچاتے ہوں ۔۔۔۔۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو ایسا سوچتے ہیں ؟؟!!

ہمارے دوست رفی صاحب کہتے ہیں :
ہمارے ہاں قرآن و سنت میں کسی بھی معاشرتی پہلو بشمول جنسی امور پر بات کرنے سے ہچکچاہٹ نہیں کی گئی تو پھر کیا وجہ ہے کہ والدین و اساتذہ نئی نسل کو اس کے بارے میں بتانے سے نہ صرف گریز کرتے ہیں بلکہ شروع سے ہی ان کے ذہنوں میں بھر دیا جاتا ہے کہ یہ ایک ناپاک فعل ہے جس پر بات کرنا انتہائی معیوب ہے نتیجتاً معصوم بچے اور بچیاں حیوانیت کا شکار ہو کر بھی اپنے اوپر ہونے والے ظلم و زیادتی کی فریاد اپنے گھروالوں تک نہیں کر پاتے۔

جنس (سیکس) انسانی زندگی کی ایک ناگزیر اور اہم حقیقت ہے، اسے ہوّا سمجھنا ایک فاش غلطی ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں آج تک اسے وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جو اس کا حق تھا ، وہ اہمیت نہ مل سکی جو اسے ملنی چاہئے تھی۔

درحقیقت جنس کا راز ، زندگی اور افزائش نسل کا راز ہے جسے صحت مند طریقے سے سمجھنے اور معلومات حاصل کرنے میں ہماری فلاح و بہبود مضمر ہے۔
نیٹ کی تیز رفتار زندگی کے باوجود آج بھی صحت مند اور مفید جنسی معلومات کے دروازے بند ہیں, خصوصاً ہماری زبان اردو میں۔ جو کچھ انگلیوں کی ٹپ پر گوگلنگ سے سامنے آتا ہے وہ مہذب و مفید معلومات نہیں بلکہ بیشتر اوقات فحاشی کی ترغیب پر مشتمل مواد ہوتا ہے۔ دوسری طرف ۔۔۔۔ والدین خاموش ، اسکول اور کالج کے اساتذہ چپ ، مذہبی پیشوائیان منہ بند کئے ہوئے ۔۔۔۔
لے دے کے کوئی ہمت بھی کرتا ہے تو وہ بھی صرف بےتکلف دوستوں کی محفل میں سرگوشی کی حد تک۔ اور یہ کون "دوست" ہیں؟ وہ خود بھی اس گھٹے ہوئے ماحول کے تربیت یافتہ ہیں جو "جنس" کا واضح ، صحت مند اور اَپ ڈیٹیڈ تصور نہیں رکھتے بلکہ صدیوں سے چلے آ رہے غلط تصورات ، نظریات اور توہمات کو "جنسی علم" سمجھتے رہے ہیں۔

اور بڑے مزے کی بات تو یہ ہے کہ جب نونہالانِ قوم پڑھ کر جوان ہوتے ہیں تو ان سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ اسکول اور کالج کے امتحانات کی طرح ازدواجی زندگی میں بھی کامیابی کا ثبوت دیں گے۔

اگر انسانوں کو اپنے جبلی تقاضوں اور فطری خواہشات کی تکمیل کے لیے علم و فن کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا زندگی کے دیگر تقاضوں کی طرح جنس بھی ایک تقاضا نہیں ہے؟ کیا اس تقاضے کی موثر تکمیل کے لیے علم کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں کہ ہم اس معاملے میں علم کی ضرورت کو نظرانداز کر دیں کہ افزائش نسل میں تو جانور بھی مصروف ہیں اور وہ اس کا کوئی علم حاصل نہیں کیا کرتے!

اولاد کے جوان ہوتے وقت جنسی تبدیلیوں/تقاضوں کو مذہب و تہذیب کے دائرے میں رہ کر انہیں سمجھانا اور اس علم کے سہارے انہیں اپنے جسمانی و ذہنی تحفظ کا خیال دلانا ، والدین اور سرپرستوں کا یقینی فرض بنتا ہے۔

ہمارے سماج نے جنسی مسائل سے متعلق نئی نسل میں صحیح شعور پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ، جس پر نوجوان نسل کی شخصیت کی تعمیر کا انحصار ہے۔ جنسی جبلت کو اتنی اہمیت بھی نہیں دی گئی جس کی عقلِ سلیم متقاضی ہے بلکہ اسے غیرفطری میلان سمجھ کر دبایا گیا یا پھر موسمی چیز سمجھ کر سرپرستوں / والدین نے نوجوانوں کو اس "موسمی چیز" کے چکھنے سے باز رکھا۔
نتیجہ ؟
ظاہر ہے کہ ان کوتاہیوں/نادانیوں کے سبب سلگتے شباب بھڑک اٹھے اور دہکتی جوانیاں اپنی ہی آگ میں جل کر ڈھیر ہو گئیں اور خاکستر میں بسی کچھ چنگاریاں نفسی امراض کے چنگل میں دم توڑ رہی ہیں۔

2009/12/26

ہجرت کا سبق - ' امید '

ہجرت کے تمام واقعات کا سب سے بڑا سبق "امید" ہے۔
امت ، جو مایوسیوں کے اندھیروں میں ٹھوکریں کھا رہی ہے اس کے لیے ہجرت کا واقعہ "امید کی نئی کرن" دکھاتا ہے۔

چشم فلک نے وہ وقت دیکھا ہے جب اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنی محبوب سرزمین چھوڑنی پڑی۔ نعیم صدیقی اپنی معروف تصنیف "محسنِ انسانیت" میں واقعہ کی عکاسی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
آج مکہ کے پیکر سے اس کی روح نکل گئی تھی۔ آج اس چمن کے پھولوں سے خوشبو اڑی جا رہی تھی، آج یہ چشمہ سوکھ رہا تھا، آج اس کے اندر سے بااصول اور صاحبِ کردار ہستیوں کا آخری قافلہ روانہ ہو رہا تھا۔ دعوتِ حق کا پودا مکہ کی سرزمین سے اُگا لیکن اس کے پھلوں سے دامن بھرنا مکہ والوں کے نصیب میں نہ تھا ، پھر مدینہ والوں کے حصے میں آئے۔ آج دنیا کا سب سے بڑا محسن و خیرخواہ (صلی اللہ علیہ وسلم) بغیر کسی قصور کے بےگھر ہو رہا ہے۔ کلیجہ کٹا ہوگا، آنکھیں ڈبڈبائی ہوں گی، جذبات امڈے ہوں گے مگر خدا کی رضا اور زندگی کا مشن چونکہ اس قربانی کا بھی طالب ہوا، اس لیے انسانِ کامل نے یہ قربانی بھی دے دی۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مکہ کے پہاڑوں ، گلیوں اور وادیوں پر آخری نگاہ ڈالی ، یہی وہ گلیاں، یہی وہ پہاڑ اور وادیاں ہیں جہاں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بچپن گزرا، جہاں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) جوان ہوئے۔ الوداعی نگاہ ڈالتے ہوئے مکہ سے خطاب فرمایا :
خدا کی قسم ! تو اللہ کی سب سے بہتر زمین ہے اور اللہ کی نگاہ میں سب سے بڑھ کر محبوب ہے۔ اگر یہاں سے مجھے نہ نکالا جاتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔
(ترمذی ، مسند احمد)

اللہ تعالیٰ کی رضا اور مشن کی تکمیل کے لیے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ قربانی بھی دینی پڑی مگر رہتی دنیا تک امت کے لیے ہجرت کا راستہ کھلا چھوڑا۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے فرمان کا مفہوم ہے :
ہجرت کا دروازہ اس وقت تک کھلا رہے گا جب تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور توبہ کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہوگا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۔
(ابوداؤد)
گویا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہجرت کو "تزکیہ" کا ہم معنی قرار دیا ہے۔

ایک اور جگہ پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہجرت کے حقیقی مفہوم کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
حقیقی ہجرت کرنے والا وہ ہے جس نے ان امور سے ہجرت کی (یعنی: ترک کیا) جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
(مسند احمد)

ہجرت کے ایک ایک واقعے میں "امید" کا سبق دہرایا جاتا ہے۔ مایوسیوں کے گرداب میں ڈوبتی اس امت کے دلوں میں امید کے جوت جگانے کی ضرورت ہے کہ ۔۔۔ کس طرح گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نور کی کرن پھوٹتی ہے ، شر کے قلب سے خیر کا پہلو نکلتا ہے اور غموں کے بطن سے خوشی پیدا ہوتی ہے؟
تاریخ کا وہ کون سا دَور ہے جس میں امت کو امتحانوں سے گزارا نہ گیا ہو؟
آج ایک مرتبہ پھر امید کا سبق دہرایا جانا ہے !!
زمینی حقائق کا کہنا ہے کہ چاروں طرف موت منڈلا رہی ہے مگر آسمانی حقیقت کہتی ہے کہ جو اللہ پر بھروسہ کرے گا وہی اس کے لیے کافی ہوگا۔
آج امت چہار سو خطرات کی زد میں ہے۔ امت کے افراد میں سے جو دین پر عمل پیرا ہیں ان کا حال اس شخص سے مختلف نہیں جس نے انگارہ مٹھی میں اٹھا رکھا ہو۔

اس امت کو شروع دن سے سمجھایا گیا ہے کہ ۔۔۔۔۔
تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے، بےشک تنگی کے بعد فراخی بھی ہے۔
(الم نشرح : 5-6)
اس امت کے دین میں مایوسی کفر ہے ۔۔۔
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، اللہ کی رحمت سے مایوس کافر ہی ہوا کرتے ہیں۔
(یوسف : 87)

اللہ کی رحمت ایک مرتبہ پھر ہماری طرف متوجہ ہوگی ، یقیناً اللہ کی رحمت ہم سے قریب ہے۔
ہجرت کا بھولا ہوا سبق ہمیں یاد دلا رہا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔
تاریکی کے بعد روشنی ہے ،
اندھیرا چھٹنے والا ہے اور
مومنین صادقین صبح صادق کو دیکھ کر خوش ہوں گے۔

یہی ہجرت کا سبق ہے !!


(ماخوذ از مضمون : نظر حجازی)

2009/12/19

لایعنی باتیں اور ہمارا رویہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ لایعنی (غیر مفید) چیز کو ترک کر دے۔

اس ارشادِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو پڑھنے کے بعد خیال ہوتا ہے کہ یہ کون سی خاص ضرورت کی بات ہے ، نہ اس میں کسی ثواب کا ذکر ہے نہ عذاب کا وعدہ اور نہ ہی کسی کام کا حکم ہے۔
لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں یہی خوبی ہے کہ بڑے بڑے مہلک امراض کا علاج نہایت معمولی باتوں میں کر دیتے ہیں۔
یہ بظاہر معمولی بات ہے لیکن اس کو بجا لانے میں جو منافع ہیں اور ترک میں جو نقصان ہیں ان کو معلوم کر کے اس کی ضرورت و اہمیت واضح ہوگی۔
اس تعلیم سے بڑی غفلت ہے اور عوام و خواص سب کو ہے۔ گناہ سے تو سب کو ندامت ہوتی ہے لیکن "لایعنی امور" کا ارتکاب کر کے کسی کو ندامت نہیں ہوتی۔ چنانچہ غیبت کر کے پچھتاوا ہوتا ہے مگر ہنسی دل لگی کر کے کوئی نہیں پچھتاتا کہ اے اللہ ! میں نے فضول وقت ضائع کیا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
کثرتِ کلام دل کو سخت کر دیتا ہے اور زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ "لایعنی باتوں" سے دل مردہ ہو جاتا ہے اور نور جاتا رہتا ہے۔ نورِ قلب زائل ہونے سے طاعت کا شوق کم ہوتا ہے اور ہمت میں پستی آ جاتی ہے۔ اور جہاں شوق و ہمت میں کمی آئی وہیں گناہ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کیونکہ گناہوں سے بچنے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے : ایک شوق و محبت دوسرے ہمت۔

آخر کچھ تو وجہ ہے کہ ہمارے ہاں عمل میں بہت کوتاہی ہے۔ نمازیں بھی پڑھتے ہیں ، وضو بھی کرتے ہیں لیکن گناہ بھی کثرت سے کرتے ہیں۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ نماز اور وضو سے قلب میں جو نور پیدا ہوتا ہے وہ "لایعنی امور" سے زائل ہو جاتا ہے۔

اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کبھی کبھی "لایعنی امور" بھی ضروری ہو جاتے ہیں۔
مثلاَ : حدیث میں ہے کہ جب نماز پڑھتے پڑھتے نیند آنے لگے تو سو جاؤ۔
مثلاَ : امام غزالی (علیہ الرحمة) نے لکھا ہے کہ جب ذکر سے دل اکتا جائے تو ذاکر پر تھوڑی دیر ہنسنا بولنا واجب ہے۔

مختصر یہ کہ ہر پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے اس حدیث پر عمل کیا جائے تو دل میں ایسا نور اور اطمینان رہے گا کہ اس دولت کے سامنے سلطنت بھی ہیچ معلوم ہو جائے گی کیونکہ اصل راحت اسی کا نام ہے کہ دل کو چین و سکون ہو !!


(مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمة کے مضمون سے مفید اقتباس)

2009/12/11

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن ۔۔۔

25 نومبر 2009ء کو جدہ میں ہونے والی طوفانی بارش نے جہاں جدہ (سعودی عرب) کے شہریوں کو بے شمار غم اور دردناک سانحوں سے دوچار کیا ہے وہیں انسانیت نواز واقعات نے تمام فرزندانِ اسلام خصوصاً پاکستانی کمیونٹی کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
32 سالہ پاکستانی نوجوان فرمان علی خان نے 14 افراد کی جان بچا کر 15 ویں شخص کو بچاتے ہوئے موت کو گلے لگا لیا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون

سعودی عرب کے اخبارات نے فرمان علی خان کی جراتمندانہ شہادت کو بہترین الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ جدہ کے شہری اس کی ہمت، انسانیت نوازی اور ایثار کے جذبے کا تذکرہ بڑے فخر و ناز اور انتہائی ممنونیت سے کر رہے ہیں۔
فرمان علی خان کے بڑے بھائی رحمٰن علی خان نے الحیاۃ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنے بھائی کی موت کا دکھ بےشک ہے لیکن جس انداز سے اس نے جامِ شہادت نوش کیا اس پر ہم سب پہلے تو رب کریم کے حضور سجدہ شکر ادا کرتے ہیں اور پھر بھائی کے کارنامے پر نازاں بھی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کے فرمان علی خان کراٹے کا چیمپیئن تھا۔اس نے جدہ میں آنے والے تاریخی سیلاب سے ٹکر لینے کی کوشش کی اور سیلاب کے جبڑوں سے 14 افراد کو نکالنے میں کامیاب ہوا، تاہم سیلاب نے اسے آخرت کے سفر پر روانہ کر دیا۔
یونیورسٹی گریجوایٹ فرمان علی دیگر رضاکارانہ سرگرمیوں کی توصیفی اسناد سے بھی اپنے سینے کو سجائے ہوئے تھا۔ ابھی وہ 16 برس کا ہی تھا کہ اس نے ایک آتشزدہ مکان میں داخل ہو کر گیس سیلنڈر نکال کر پورے محلے کو خوفناک المیے سے بچا لیا تھا۔ فرمان علی 6 برس قبل مملکت آیا تھا، اس کی تین بیٹیاں، زبیدہ (7 برس)، مدیحہ (6) برس اور جریرہ (4 برس) ہیں۔ 6 سالہ قیام کے دوران صرف دو مرتبہ ہی پاکستان گیا تھا اور سب سے چھوٹی بیٹی کو دیکھ بھی نہیں پایا تھا۔

اللہ اسے جنت الفردوس میں اعلٰی مقام سے سرفراز کرے۔ آمین !

فرمان علی کو جمعرات 10-ڈسمبر-2009ء کی دوپہر ان کے آبائی علاقے سوات میں سپردخاک کر دیا گیا۔

اس موقع پر فرمان علی کے بھائی محمد عزیز اور ان کے والد عمررحمان نے بتایا کہ خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ کی جانب سے بھی ہمارے بھائی کے کارہائے نمایاں پر انہیں تعریفی سند سے بھی نوازا گیا ہے۔

دریں اثنا فیس بک پر سعودی نوجوانوں نے متعلقہ سعودی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فرمان علی کے خاندان کو مالی امداد فراہم کی جائے اور جدہ کی ایک سڑک کو اس کے نام سے موسوم کیا جانا چاہئے۔

(خبر بشکریہ : اردو نیوز ، سعودی عرب)

ہمارے دوست رفی بھائی نے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بالکل بجا فرمایا ہے کہ :
جہاں یہ واقعہ اسلام میں انسانیت کی قدروں میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے وہیں پاکستان میں ہونے والے آئے روز کے خودکش دھماکوں نے پاکستان اور اسلام کو سرنگوں کرنے کی مکروہ سازش جاری رکھی ہوئی ہے۔
اللہ سب مسلمانوں کو ایسا جذبہ عطا کرے کہ مشرق سے مغرب تک کہیں بھی نہ صرف مسلمان بلکہ کوئی بھی انسان دکھ درد میں مبتلا ہو تو ان کی مدد اپنی جان پر کھیل کر کی جائے نہ کہ مساجد میں مشغولِ عبادت افراد کی جانیں لے کر اسلام کو بدنام کیا جائے!

2009/12/05

کامیابی کے گُر

دنیا میں لوگوں کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔
ایک : وہ لوگ جو اپنے ذاتی تجربات سے سیکھتے ہیں۔ یہ عقلمند لوگ ہوتے ہیں۔
دو : وہ لوگ جو دوسروں کے تجربات سے سیکھتے ہیں۔ یہ خوش باش لوگ ہوتے ہیں۔
تین : وہ لوگ جو نہ اپنے تجربات سے کچھ سیکھتے ہیں اور نہ دوسروں کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ یہ بےوقوف اور نادان لوگ ہوتے ہیں۔

سڑک کے کنارے مایوس کھڑے ہو کر وہاں سے گزرنے والے امیر اور کامیاب آدمیوں کو دیکھ کر ان سے حسد کرنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے۔ عقلمندی یہ ہے کہ ہم ان میں وہ جوہر تلاش کریں جن کے سبب انہوں نے یہ مقام حاصل کیا۔
ایک کامیاب انسان بھی زندگی میں پریشانیوں اور ناکامیوں کا سامنا کر سکتا ہے۔ لیکن کامیاب لوگ اس حقیقت سے واقف ہوتے ہیں کہ کسی مصیبت کے بغیر کوئی سکون نہیں۔ کسی دکھ کے بغیر کوئی سکھ نہیں۔ کسی رنج کے بغیر کوئی راحت نہیں۔ کسی کوشش کے بغیر کوئی کامیابی نہیں !

یاد رکھنا چاہئے کہ وہ کامیابی جو راتوں رات حاصل کی جاتی ہے وہ صبح طلوع ہونے سے قبل ختم ہو جاتی ہے۔
پائیدار خوشیاں اور کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے اپنی شخصیت کی کمزوریوں پر قابو پانا اور ناکامی پر کڑھنے کے بجائے نئے حوصلوں کے ساتھ جدوجہد کرنا ہوگا۔

2009/11/09

فاسٹ فوڈ لائف اور ہمارا کردار

دورِ حاضر کی زندگی بڑی برق رفتار ہو گئی ہے !

اور اس مادّی مسابقت کی گہما گہمی میں ہمارے رویے بھی "فاسٹ فوڈ" کی طرح تیز رفتار ہو گئے ہیں۔ مگر یہ بڑا عجیب معاملہ ہے کہ تیز رفتاری میں اگر کوئی حادثہ ہو جائے یا کسی قسم کی کوئی چوٹ لگ جائے تو اپنی جسمانی تکالیف کے علاج کے لیے ہم دوڑے دوڑے ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے ہیں۔ لیکن روحانی امراض کے علاج کی خاطر اپنا احتساب کرنے ہمارے پاس شاید وقت کی کمی نکل آتی ہے !

درحقیقت ہمارے اخلاقی کردار کا براہ راست اثر ہمارے گھر ، ہمارے معاشرے پر پڑتا ہے۔ خود سے منسلک مختلف و متنوع کردار دراصل وہ خوبصورت اور متاثر کن کردار ہیں جنہیں رب کائینات نے ہمیں عطا کیے ہیں۔ اگر ہر کردار سے متعلق جوابدہی کا اعلیٰ و ارفع تصور ہم اپنے دل و دماغ میں پیوست کر لیں اور یوں ہر کردار کو ایک امتحان سمجھ کر ادا کرنا شروع کر دیں تو ہمارا یہ عمل ہی ہمیں ایسی روحانی قوت عطا کرے گا جس کے باعث ہر رشتے کے ساتھ بہترین اور معتدل اخلاقی رویہ اختیار کرنا ہمارے لئے آسان ہو جائے گا۔

مثبت طرز فکر یقیناً کسی نعمت سے کم نہیں۔ اس سے نہ صرف ہمیں توانائی حاصل ہوتی ہے بلکہ اس کے بہتر اثرات ہمارے گھر ، ہماری صلاحیتوں اور ہمارے زیر انتظام پرورش پانے والی نئی نسل پر بھی پڑتے ہیں۔ افراد سے اگر معاشرہ بنتا ہے تو ہر فرد کی انفرادی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ معاشرے کی اخلاقی فلاح و بہبود کی طرف وہ بذات خود توجہ دے۔

** ذاتی مفاد کو اہمیت دینے کے بجائے اجتماعی مفاد کو ترجیح دیا جائے
** ہر رشتے کے ساتھ عدل و انصاف کو خصوصی توجہ دی جائے
** اچھے اخلاق کے حامل انسانوں سے ربط و ضبط بڑھایا جائے
** سنی سنائی باتوں پر دھیان دینے سے گریز کیا جائے
** بدگمانی کو بتدریج کم کیا جائے
** معاف کرنے اور درگزر کرنے کے جذبات کو بڑھاوا دیا جائے
** رویوں میں دو رنگی کو آہستہ آہستہ کم کیا جائے
** حکمت عملی سے کام لیا جائے کہ یہ وہ خزانہ ہے جس کی بدولت کامیابی قدم چومتی ہے۔

دورِ حاضر کے موثر ذرائع ابلاغ کے ذریعے مختلف تہذیبوں کے لٹریچر ، ڈراموں ، فلموں اور دیگر فنون تک اگر ہماری رسائی سہل و آسان ہو گئی ہے تو ایک ذمہ داری یہ بھی ہم پر لاگو ہو گئی ہے کہ اپنے رویوں اور اپنی تحریروں کے ذریعے نئی نسل تک اپنی تہذیب و تمدن کے اعلیٰ و معیاری اخلاق و روایات کو منتقل کیا جائے۔
کاش کہ اس جانب بھی ہم مستقل مزاجی سے کام کر سکیں۔

2009/11/07

اللہ کو بزنس پارٹنر بنائیں ۔۔۔۔ !

قارون ۔۔۔ دنیا کا امیر ترین شخص تھا !!
قارون کے پاس ان گنت دولت تھی مگر ۔۔۔۔
مگر وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے گریزاں تھا جس کے باعث اس کی دولت بھی اس کے ساتھ غرق ہو گئی اور اس کی کمائی گئی دولت اس کے کسی کام نہیں آئی !

ایک نوجوان نے نوکری کی مسلسل تلاش میں ناکامی کے بعد ایک بزرگ محترم سے مشورہ کیا تو آپ جناب نے فرمایا :
میرا مشورہ مانیں تو اللہ کا نام لے کر کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کر لیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کو بزنس پارٹنر بنا لیں۔
"بزنس پارٹنر" کی اصطلاح پر جب نوجوان نے بھویں اچکائیں تو جواباً آپ نے فرمایا :
اگر کاروبار کے خالص منافع میں سے 5 فیصد بزنس پارٹنر کا حصہ سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو دے دیا کریں اور کبھی بھی اس میں ہیرا پھیری یا ڈنڈی نہ ماریں تو ان شاءاللہ کاروبار دن دگنی رات چگنی ترقی کرتا رہے گا۔

بزرگ کے مشورے کی افادیت پر مشکوک ہونے کے باوجود نوجوان نے عمل کیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شراکتی کاروبار میں کبھی بھی بےایمانی کو قریب نہیں پھٹکنے دیا۔ کوئی دس سال بعد آج وہی نوجوان کہتا ہے کہ :
بزنس پارٹنر کے لئے روزانہ ایک ہزار روپیہ نکل آتا ہے جو الحمدللہ اللہ ہی کی مخلوق پر بلاتفریق خرچ کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں ہوتی۔

ایسی ہی ایک دوسری مثال لاہور کے رہائشی درویش صفت ، عام سے غریب شخص منشی محمد کی بھی ہے۔ ان کی گزر بسر مشکل سے ہوتی تھی۔ انہوں نے ایک دن فیصلہ کیا ہے اپنی آمدنی کا 4 فیصد اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔
کچھ ہی عرصہ بعد آپ نے ایک عام سا کاروبار شروع کیا اور وہ ترقی کرتے ہوئے تھوڑے ہی عرصہ میں ایک فیکٹری کے مالک بن گئے۔ آپ نے اپنی آمدنی کا 4 فیصد مستحق مریضوں کی صحت پر خرچ کرنا شروع کر دیا اور ایک دن ایسا آیا کہ منشی محمد نے 4 کروڑ روپے کی مالیت سے لاہور میں "منشی ہسپتال" قائم کر دیا۔

دنیا کے کچھ امیر ترین افراد کا جائزہ لیجئے۔
51 سالہ ٹی وی میزبان اوپرا ونفرے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی مالکہ ہیں۔ وہ سالانہ ایک لاکھ ڈالر بےسہارا بچوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتی ہیں۔
کمپیوٹر کے بادشاہ بل گیٹس کی دولت کا اندازہ قریب 100 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ وہ ہر سال اپنے فلاحی ادارے کی جانب سے 27 ارب ڈالر انسانی فلاحی کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔
اٹلی کے سابق وزیراعظم سلویا برلسکونی اپنے ملک کے سب سے امیر اور دنیا کے 10 امیرترین افراد میں شامل ہیں۔ وہ سالانہ تقریباً 5 کروڑ ڈالر غریب ملکوں کو بھیجتے ہیں۔
یہودی قوم کی ایک خاصیت ہزاروں سال سے مشہور ہے۔ ہر یہودی اپنی اصل آمدنی کا 20 فیصد لازمی طور پر انسانی خدمت کی مد میں خرچ کرتا ہے۔ آج کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ دنیاوی دولت کا 60 فیصد حصہ یہودی قوم کی ملکیت ہے !

پسِ تحریر :
حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :
انفق یا ابن ادم انفق علیک
تو میرے ضرورت مند بندوں پر خرچ کر ، میں تجھے خزانۂ غیب سے دیتا رہوں گا۔
صحیح البخاری , کتاب النفقات , باب فضل النفقة على الاہل


(ندیم ذکاء آغا کے مضمون سے شکریے کے ساتھ استفادہ)

2009/11/04

دین و دنیا / کامیابی اور ناکامی

کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ہمارے دفتر کے ایک ساتھی بڑے پریشان ہو رہے تھے۔ ان کے بڑے لڑکے نے بارہویں جماعت کا امتحان دے دیا تھا اور وہ اسے کسی بہترین کالج میں کمپیوٹر انجینرنگ کے کورس میں داخلہ دلانے کی فکر کر رہے تھے۔ کہنے لگے :
ویسے تو میں نے بذات خود اسے اس کے فائینل ایگزام کی تیاریاں کروائی تھیں پھر بعض اہم سبجکٹس کے ٹیوشنز بھی دلائے۔ لیکن پھر بھی کچھ دل یوں یوں سا ہو رہا ہے بھائی۔
میں نے پوچھا کہ : کس سبب آپ یوں فکر مند ہیں؟
جواباً بولے : دراصل آج کل کے نوجوانوں کو تو آپ جانتے ہی ہیں۔ کچھ لاپرواہ قسم کے ہوتے ہیں۔ تو اس کو دوست بھی کچھ ایسے ہیں ملے ہیں۔ میں نے لاکھ کوشش کر لی کہ ایسے دوستوں سے پیچھا چھڑا لے اور تعلیم کی سمت بھرپور توجہ دے ، مگر ۔۔۔۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ۔۔۔

ہمارے دوست بڑے فکرمند تھے۔ اپنے بچے کے نتیجے کا بڑا انتظار تھا۔ یہ تشویش بھی تھی کہ اگر نمبرات کم آئیں تو ؟؟
یہ فکر بھی تھی کہ اگر خدا نہ کرے فیل ہو جائے تو ؟؟

کچھ سال پہلے نیٹ پر کسی دانشور کا ایک مقولہ پڑھنے کو ملا تھا :
آپ کو اس کی بڑی فکر ہے کہ آپ کے مرنے کے بعد آپ کے بچوں کا کیا ہوگا؟ لیکن اس کی فکر نہیں ہے کہ آپ کے بچوں کے مرنے کے بعد ان کا کیا ہوگا؟؟

اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو یہ ایک نہایت تلخ حقیقت ہے !!
ہمیں دنیا کے حوالے سے اپنی اور اپنے اعزاء و اقرباء کی بڑی فکر ہے۔ لیکن آخرت کی جو امتحان گاہ ہے ، اس کے متعلق ۔۔۔۔۔۔
کیا واقعی ہم نے کچھ سوچ رکھا ہے؟
کیا واقعی ہم نے دن بھر میں اس کے لئے کچھ تیاری کی ہے؟
کیا واقعی ہم اس دن کے لیے کچھ فکر مند ہیں؟؟

یہ سب باتیں مجھے اس وقت دوبارہ یاد آئی ہیں جب میں ایک حوالے سے مولانا مودودی (رحمة اللہ علیہ) کی تفہیم القرآن میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔
مولانا نے ذیل میں یہ جو کچھ لکھا ہے ۔۔۔۔۔ کاش کہ ہم اس پر سنجیدگی سے غور کر سکیں ۔۔۔۔۔

دنیا میں انسان کی حیثیت درختوں اور جانوروں کی طرح نہیں کہ اس کا مقصدِ تخلیق یہیں پورا ہو جائے اور قانونِ فطرت کے مطابق ایک مدت تک اپنے حصے کا کام کر کے وہ یہیں مر کر فنا ہو جائے۔
ونیز یہ دنیا اس کے لیے نہ دارالعذاب ہے جیسا کہ راہب سمجھتے ہیں
نہ دارالجزا ہے جیسا کہ تناسخ کے قائلین سمجھتے ہیں
نہ چراگاہ اور تفریح گاہ ہے جیسا کہ مادہ پرست سمجھتے ہیں
بلکہ دراصل یہ اس کے لیے ایک امتحان گاہ ہے۔
وہ جس چیز کو عمر سمجھتا ہے ، حقیقت میں وہ امتحان کا وقت ہے جس اسے یہاں دیا گیا ہے۔ دنیا میں جو قوتیں اور صلاحیتیں بھی اس کو دی گئی ہیں ، جن چیزوں پر بھی اس کو تصرف کے مواقع دئے گئے ہیں ، جن حیثیتوں میں بھی وہ یہاں کام کر رہا ہے اور جو تعلقات بھی اس کے اور دوسرے انسانوں کے درمیان ہیں ۔۔۔ وہ سب اصل میں امتحان کے بےشمار پرچے ہیں اور زندگی کی آخری سانس تک اس امتحان کا سلسلہ جاری ہے۔ نتیجہ اس کا دنیا میں نہیں نکلنا بلکہ آخرت میں اس کے تمام پرچوں کو جانچ کر یہ فیصلہ ہونا ہے کہ وہ کامیاب ہوا ہے یا ناکام ؟

2009/09/12

افطار : تاخیر ۔۔۔؟ / افطار : وقت سے پہلے ۔۔۔؟

افطار میں تاخیر ۔۔۔ خلافِ سنت ہے !

امت مسلمہ کو اس بات کی خوش خبری دی گئی ہے کہ وہ جب تک روزہ افطار کرنے میں جلدی (مغرب کی اذاں کے ساتھ ہی روزہ افطار) کریں گے ، خیریت سے رہیں گے ۔
حضرت سہل بن سعد (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :
اس وقت تک لوگ خیر و عافیت سے رہیں گے جب تک وہ روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے ۔
(بخاری، مسلم ، جامع ترمذی ، سنن ابی نسائی)

روزہ جلدی افطار کرنا اس بات کی علامت ہے کہ دین کی بالادستی قائم ہے ۔ کیونکہ روزہ کا دیر سے افطار کرنا یہودیوں اور نصاریٰ کے ہاں رائج ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:
دین اسلام اس وقت تک بلند رہے گا جب تک لوگ روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے ، کیونکہ یہودی اور نصاریٰ (اپنے مذہب کے مطابق) دیر سے روزہ افطار کرتے ہیں۔
(مسند احمد ، جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ)
لہذا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ ہر بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے ۔

سحری اور افطاری میں سنت نبوی یہ ہے کہ سحری دیر سے تناول کی جائے جبکہ روزہ افطار کرنے میں جلدی کی جائے۔
امام نسائی (رحمة اللہ) ، حضرت ابو عطیہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے سوال کیا کہ ہم میں دو آدمی ایسے ہیں جن میں سے ایک روزہ افطار کرنے میں جلدی اور سحری کرنے میں تاخیر کرتا ہے ۔۔۔ جبکہ دوسرا شخص روزہ افطار کرنے میں تاخیر اور سحری کرنے میں جلدی کرتا ہے ؟ حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) جواب میں فرماتی ہیں :
"جو شخص روزہ افطار کرنے میں جلدی اور سحری کرنے میں تاخیر کرتا ہے ، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل کرتا ہے ۔ "


وقت سے پہلے افطار

جو شخص رمضان کے مہینے میں روزہ رکھ کر کسی شرعی عذر کے بغیر قبل از وقت روزہ توڑ دے تو یہ بڑ ا سنگین جرم ہے، اور اس کی سزا بھی بڑی عبرت ناک ہے ۔
ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
" میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو اُلٹے لٹکائے گئے تھے ، اُن کے جبڑے پھٹے ہوئے تھے اور اُن سے خون رس رہا تھا ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟
مجھے بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے روزہ افطار کر لیا کرتے تھے ۔ یعنی افطاری سے پہلے ہی روزہ توڑ لیا کرتے تھے ۔ "
(صحیح ابن خزیمہ / صحیح ابن حبان)

اس کے علاوہ ، کسی شرعی عذر کے بغیر عمداً روزہ توڑ دینے کی دنیاوی سزا بھی شریعت نے سخت رکھی ہے کہ ایسے شخص کو قضا کے ساتھ کفارہ میں لگاتار ساٹھ دن کے روزے رکھنا ضروری قرار دیا گیا !

2009/08/14

آئیے ، ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں !

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

آئیے ، ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں !

14۔ اگست ، 1947ء
﴿ قیام پاکستان پر قوم کے نام قائد اعظم کا تہنیتی پیغام ﴾

اہالیان ِ پاکستان !
میں انتہائی مسرت و شادمانی اور قلبی احساسات کے ساتھ آج آپ کی خدمت میں تہنیت پیش کرتا ہوں۔
14۔ اگست ، ہماری آزادی اور خود مختار مملکت پاکستان کے وجود میں آنے کا دن ہے!

آج کا دن مسلم قوم کی سرخروئی کا دن ہے جس نے اپنا وطن حاصل کرنے کے لیے گزشتہ کئی برسوں میں بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں ۔
اِس انتہائی اہم ساعت میں میرا دل جنگ آزادی کے اُن دلیر مجاہدوں کی یاد سے معمور ہے جنہوں نے پاکستان کو حقیقت بنانے کے لیے اپنا سب کچھ حتیٰ کہ اپنی جانیں تک نثار کر دیں۔ میں اُنہیں یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان ہمیشہ ان کا ممنون احسان رہے گا اور اُن ساتھیوں کو جو ہم میں نہیں ہیں ، ہمیشہ دل سے یاد رکھے گا۔

اِس نئی مملکت کے قائم ہو جانے سے پاکستان کے شہریوں پر زبردست ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔ انہیں یہ موقع حاصل ہوا ہے کہ دنیا کے سامنے یہ ثابت کر دکھائیں کہ کس طرح ایک ایسی قوم جس میں مختلف عناصر شامل ہیں ، آپس میں مل جل کر صلح و آشتی کے ساتھ رہتی ہے اور دین و ذات کا امتیاز کیے بغیر اپنے تمام شہریوں کے لیے یکساں فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے ۔
ہمارا مطمحِ نظر ، امن ہونا چاہئے ۔۔۔ اندرون ملک بھی اور بیرون ملک بھی ۔
ہم صلح و امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔ اور اپنے قریبی پڑوسیوں کے ساتھ اور ساری دنیا کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں ۔
ہم کسی کے ساتھ جارحانہ عزائم نہیں رکھتے۔ ہم اقوام متحدہ کے منشور کے پابند ہیں ۔ اور عالمی امن و خوش حالی کو فروغ دینے میں بخوشی پورا پورا حصہ لیتے رہیں گے ۔

آئیے ! ہم آج کے دن اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر بجا لائیں اور دعا کریں کہ وہ ہمیں اس کا اہل ثابت ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
آج ہماری قومی تاریخ کے تلخیوں سے بھرپور دور کا اختتام ہوتا ہے اور آج ہی کے دن سے ہمارے نئے ، شاندار اور پروقار عہد کا آغاز بھی ہونا چاہئے۔
اپنی سرحدوں کے حریت پسند قبائل اور سرحدوں کے پرے کی مملکتوں کے باشندوں کی خدمت میں ہم تہنیت پیش کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ ان کے مرتبے کا احترام کرے گا اور قیام امن کے سلسلے میں ان کے ساتھ ہمیشہ دوستانہ تعاون کرتا رہے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم خود باعزت طور پر زندگی بسر کریں اور دوسروں کو بھی باعزت زندگی بسر کرنے دیں۔ اس سے زیادہ ہماری کوئی اور تمنا نہیں ۔

آخر میں میرے عزیز ہم وطنو ! میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرزمین عظیم وسائل سے مالا مال ہے ، لیکن اسے ایسا ملک بنانے کے لیے جو مسلم قوم کے شایان شان ہو ہمیں اپنی تمام قوتوں کی آخری رمق تک درکار ہوگی ، اور ۔۔۔
مجھے بھروسہ ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے سب لوگ دل و جاں سے اپنی پوری قوتیں وقف کر دیں گے۔

پاکستان زندہ باد !!!

2009/08/09

اے کاش کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

ہم فتنوں کے دَور سے گزر رہے ہیں !!
تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنوں کی یورش و یلغار ہے۔ بڑے بڑے عقلاء کی عقلیں حیران ہیں کہ کیا کریں ؟
کس مسئلے پر اپنا احتجاج کریں اور کس طرح کریں؟
ہمارا دشمن اسلام دشمنی میں منظم ہے اور اہل اسلام میں انتشار و خلفشار ہے۔
ہم اپنے پاس سب کچھ رکھتے ہوئے بھی دوسروں کے محتاج ہیں ۔۔۔ تہذیب میں ، سیاست میں ، اقتصادیات میں بھی اور تعلیم و تربیت میں بھی۔

یہ آزمائشیں اور فتنے ہمارے اپنے اعمال و عقائد کا نتیجہ ہیں اور اعمال و عقائد کی طرف ہماری مطلقاً توجہ نہیں ۔۔۔ بس ایک ہوس و خواہش کا طوفانِ بلاخیز ہے ، جس میں اپنی اپنی ہمت کے مطابق بلکہ اپنی بساط سے کہیں زیادہ ہم تیر رہے ہیں اور سیراب نہیں ہوتے !

بڑے افسوس کی بات ہے کہ ۔۔۔۔
ہمارے وہ جلسے جس کسی مسئلے پر احتجاج کے لیے منعقد ہوتے ہیں ، ان میں اس بات پر درد و کرب کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ہمارے قرآن کریم کے خلاف جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ نہایت قابل مذمت ہے ، ایسے عناصر زمین پر بوجھ ہیں ، ان کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے۔
لیکن ۔۔۔۔
اس عنوان پر احتجاج کرنے والے قرآن مجید کے کتنے ہی صریح احکامات کی برسرعام خلاف ورزی کرتے ہیں ، اس پر سوچنے کی کسی کو فرصت نہیں !
اسی لیے قرآن میں ایک ایسی ہی قوم کی مثال میں فرمایا گیا ہے :
کتاب اٹھانے کے باوجود کتاب کے حامل نہیں ہیں ، ان کی مثال ان گدھوں کی سی ہے جن پر کتابوں کا انبار لدا ہوا ہے مگر اس سے بےبہرہ ہیں۔

کاش ۔۔۔۔۔۔
کاش کہ ہم ایسے کڑے وقت میں تدبر اور حکمت عملی سے آگے بڑھیں اور اپنے آپ کو قرآن اور للٰہیت کے رنگ میں مکمل طور پر رنگ لیں جو کہ سب سے اچھا رنگ ہے۔
کاش کہ ہمارا مقصود اتباع قرآن و سنت ہو جائے
کاش کہ ہم اپنے آس پاس کے ماحول کو اسلامی تعلیمات کے بےلوث چراغ سے روشن کر دیں
کاش کہ ہم اپنے ماحول کو قرآن و سنت کا آشنا بنا دیں
کاش کہ ہر حالت میں ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے کی عادت اپنا لیں ۔۔۔
کاش کہ ۔۔۔۔
کاش کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2009/08/04

اشاعتی حقوق (copyrights) ۔۔۔؟!

سافٹ وئر پائریسی سے متعلق یاسر عمران مرزا نے اپنے بلاگ پر ایک نہایت مفید تحریر بعنوان "سافٹ ویر پائریسی، حلال یاحرام" ارسال کی ہے جس پر کافی تبصرے ہوئے ہیں۔
یہ دورِ حاضر کا کچھ سلگتا ہوا سا موضوع ہے کہ امتِ مسلمہ شش و پنج کا شکار ہے۔ حالانکہ اس ضمن میں سعودی عرب کے مفتی شیخ محمد صالح المنجد کے دو فتاویٰ درج ذیل روابط پر موجود ہیں :
تقسيم كرنے كى غرض سے كيسٹيں اور سى ڈيز كاپى كرنا
مختلف قسم كے كاپى شدہ سوفٹ وئر پروگرام استعمال كرنا

اور میرا نہیں خیال کہ کسی بھی مکتبِ فکر کے عالم دین کی طرف سے ان فتاویٰ کو غلط قرار دیا گیا ہو۔ کیونکہ یہ مسئلہ خرید و فروخت کے معاملات سے متعلق ہے جس پر مختلف مکاتبِ فکر میں سنگین اختلافات نہایت ہی کم درجہ پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
پہلے فتوے کا درج ذیل پیراگراف کچھ قابل غور ہے :
بعض اوقات ایسے حالات پیش آ سکتے ہیں جن میں مالک کى اجازت کے بغیر ہى کاپى اور
فوٹو کرنا جائز ہو جاتا ہے، اور یہ دو حالتوں میں ہے‫:
1 - جب مارکیٹ میں نہ ہو، اور ضرورت کى بنا پر کاپى کى جائے، اور خیراتى تقسیم کے لیے ہو اور فروخت کر کے اس سے کچھ بھى نفع نہ حاصل کیا جائے.
2 - جب اس کى ضرورت بہت شدید ہو، اور اس کے مالک بہت زیادہ قیمت وصول کریں، اور انہوں نے اپنے اس پروگرام پر خرچ آنے والى رقم ایک مناسب نفع کے ساتھ وصول کر لى ہو، یہ سب تجربہ کار لوگ جانتے ہیں، تو اس وقت جب مسلمانوں کى مصلحت اس سے معلق ہو تو اسے کاپى کرنا جائز ہے، تا کہ نقصان کو دور کیا جا سکے، لیکن شرط یہ ہے کہ اسے ذاتى مفاد کے لیے فروخت نہ کیا جائے.

یہاں "ذاتی مفاد کے لیے فروخت نہ کرنے (یعنی redistribute)" کی بات کی گئی ہے۔ اور ضرورت کی بنا پر کاپی کرنے کو جائز سمجھا گیا ہے۔
آدمی کی "ضرورت" اور "منافع کا حصول" کا درمیانی فرق مجھے تو کم سے کم یہ نظر آتا ہے کہ پائیریٹیڈ سافٹ وئرز کے ذریعے کمپیوٹر میں اپنا مواد محفوظ رکھنا آدمی کی ضرورت ہے لیکن اسی کمپیوٹر پر پائیریٹیڈ سافٹ وئرز کو کاروباری طریق پر استعمال کرنا ، یہ اس کا منافع ہے۔ سوال یہ ہے کہ بلا اجازت دوسروں کی اشیاء کے سہارے کیا ہم منافع حاصل کر سکتے ہیں اور ایسا منافع جائز ہوگا؟

جہاں تک کتابوں کے حقوق کا معاملہ ہے ۔۔۔۔۔
جب میں نے ابن صفی بلاگ شروع کیا اور بلاگ پر ابن صفی کے بہت سے ناولوں کی پ۔ڈ۔ف فائلوں کے ربط دئے تو ابن صفی کے فرزند محترم احمد صفی صاحب کا اعتراض نامہ وصول ہوا اور انہوں نے کہا کہ ناشر (ابن صفی خاندان) کی اجازت کے بغیر نیٹ پر ان ناولوں کی فراہمی کاپی رائیٹ کی خلاف ورزی ہے۔
میں نے بہرحال روابط ہٹا دئے۔ لیکن بہت سے دوستوں کا اعتراض ہے کہ :
اسلام کا درس تو اوپن سورس ہے ورنہ کتبِ احادیث نہ سامنے آتیں نہ ہم کو دین کا کچھ علم ہوتا
اُن (ابن صفی) کی کتب تو قومی اثاثہ ہیں

ایسا ہی ایک اعتراض یاسر صاحب کی متذکرہ بالا تحریر کے تبصرے میں محمد سعد صاحب نے یوں کیا ہے:
مصنف کو یہ حق تو حاصل ہے کہ اس کی تحریر کو کوئی اور اپنے نام سے نہ چھاپے لیکن یہ نہیں کہ اگر کوئی اسی سے کتاب خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اس پر علم کے دروازے بند کر دے۔

علم کے دروازے بند کرنے کی بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی۔ پاکستان یا کسی دوسرے ملک کا کوئی علاقہ ایسا پسماندہ تو نہیں کہ وہاں "لائیبریری" کا وجود ہی نہ ہو۔ اگر پسماندہ ہو بھی تو اس کے قصور وار حکومت یا علاقے کے حکام ٹھہریں گے یا مصنفین؟
مانا کہ تبلیغِ علم اہم فریضہ ہے مگر یہ تو ہر عام مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
یہ کہاں کا انصاف ٹھہرا کہ مصنف تو اپنی صلاحیتوں کے بل پر کتاب لکھے ، اسے اپنے خرچے پر شائع کروائے اور پھر علم کے متلاشی غریب غرباء میں فی سبیل للہ مفت بانٹ دے؟
دیگر جو صاحبین استطاعت ہیں ، جو کتاب/کتب کے نسخے خرید کر بانٹ سکتے ہیں ، وہ اپنی ذمہ داری سے بَری ہیں؟
اور وہ جو بلااجازت کتب چھاپ کر منافع اور مشہوری حاصل کریں وہ قابلِ مواخذہ نہیں ہوں گے؟

حقوق کی حفاظت کے معاملے میں ایک واضح صحیح حدیث موجود ہے ، ملاحظہ فرمائیں۔
رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه
كسى بھى مسلمان شخص كى اجازت اور رضامندى كے بغير اس كا مال حلال نہيں۔
(صحیح الجامع الصغیر ، کنز الاعمال ، مجمع الزوائد)
علامہ البانی نے اس روایت کو "صحیح الجامع الصغیر" میں صحیح‌ کہا ہے۔

2009/07/20

بلاگ اسپاٹ بلاگز کی مکمل چوڑائی والی تھیمز

بلاگ اسپاٹ کے بلاگز کی کچھ تھیمز ایسی ہیں جو براؤزر کے ونڈو کی تمام چوڑائی کو اس طرح استعمال کرتی ہیں کہ براؤزر میں افقی پٹی (horizontal bar) آنے نہیں پاتی۔ سارا مواد عمودی سمت (vertical direction) میں پھیل جاتا ہے۔ یہ شائد اس سبب بھی ہو کہ ان تھیمز میں کوئی امیج استعمال نہیں ہوتا۔

جو بلاگرز اسکرین کی ساری چوڑائی کو استعمال کرنا پسند کرتے ہیں ، ان کے لئے یہ تھیمز پسندیدہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہ جملہ 8 تھیمز ہیں ، جن کے نام یوں ہیں :

Sand Dollar
Tekka
Herbert
Jelly Fish
Minima Stretch
Minima Lefty Stretch
Stretch Denim
Stretch Denim Light

مجھے ان میں سے Minima Stretch اور Stretch Denim پسند ہیں۔

***

2009/07/10

عمرہ مافیا ۔۔۔۔؟!

حالیہ "عمرہ اسکینڈل" کے موضوع پر ہمارے ایک قریبی دوست نے اپنا مشاہدہ ، تجربہ اور تاثرات اس مضمون میں بیان کیے ہیں :
ضیوف الرحمٰن، دھوکہ باز اور حکومتِ پاکستان!

ان کا یہ مراسلہ ، سعودی عرب سے شائع ہونے والے روزنامہ "اردو نیوز" (مورخہ 5-جولائی-2009ء) میں بھی "ایڈیٹر کے نام خطوط" کالم میں چھپا ہے۔
بغیر کسی تبصرہ کے ، آپ سب کی خدمت میں بھی پیش ہے ۔۔۔۔۔۔

***
السلام علیکم!

ابھی زیادہ دور کی بات نہیں‌کہ سال میں ایک آدھ بار جب کسی خوش نصیب کی عمرے یا حج کی درخواست منظور ہو جاتی تو مبارکباد دینے والوں کا تانتا بندھ جاتا، اور مہینہ بھر پہلے ہی لوگ اس کے گھر میں جا کر اپنی حسرتوں کے تکمیل کے لیے دعاؤں کا کہتے کہ وہاں جا کر ہمارے لیے بھی دعائیں‌کرنا، اور اس کی واپسی پر سب اشتیاق کے ساتھ اس کا والہانہ استقبال کرتے، اور یہاں کے مقدس مقامات کے بارے میں آنکھوں دیکھا حال سن کر اپنے جی کو بہلاتے، آبِ زمزم کا تبرک انتہائی ادب و احترام کے ساتھ وصول کرتے۔ غرض اس فرد کی خوش نصیبی پر ہر کوئی شاداں و فرحاں‌ہوتا، اور اسے ایک خصوصی پروٹوکول کے ساتھ ساتھ اسکے اصل نام کے بجائے "حاجی صاحب" کی پہچان مل جاتی۔

جوں جوں پیسے کی روانی زیادہ ہوتی گئی، سفر میں آسانیاں پیدا ہوتی گئیں یہ سعادت پہلے سے زیادہ افراد کے حصے میں نصیب ہونے لگی، اور گھر گھر میں اتنے حاجی صاحبان ہو گئے کہ اب تو یہ لقب بھی معنی خیز الفاظ میں بولا جانے لگا ہے۔

مگر پھر بھی ان افراد کی خوش قسمتی پر رشک کیا جاتا ہے جو حج و عمرہ کے سعادت سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ مگر جب سے یہ عبادت کمرشلائز ہوئی اس کاروبار میں جرائم پیشہ افراد کی دلچسپی بھی بڑھنا شروع ہوئی۔ بے چارے سادہ لوح مسلمان، جو کہ شاید ایسا سوچ بھی نہیں سکتے کہ کوئی اس مقدس نیت سے کیے جانے والے سفر میں بھی انہیں دھوکہ دینے سے باز نہیں آئے گا، بعض اوقات اپنے مقدر کو روتے نظر آتے ہیں۔

جی ہاں میں نے اپنے ایک جاننے والی خاتون جو دو سال پہلے عمرے پر آئیں، ان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جگہ تو مقدس ہے مگر یہاں اللہ کسی دشمن کو بھی نہ لائے، یہ ان کی اس آپ بیتی کا نتیجہ تھا جو اس قدر اشتیاق اور حسرتیں لیے زندگی بھر کا پیسہ جمع کر کے ایک عمرے کی خاطر یہاں آئیں مگر جس ایجنٹ سے انہوں نے ویزہ لیا تھا اس نے صرف تین دن کا پیکج بک کروایا جبکہ ان سے پورے مہینے کے پیسے لے لیے، اور ان کو تب جا کر یہ معلوم ہوا جب ارضِ مقدس پر پہنچے اور تیسرے دن ان کا سامان ہوٹل والوں نے باہر نکال پھینکا، کچھ راتیں تو حرم کے صحن میں سوتے رہے پھر پولیس کے ہتھے چڑھ گئے، جہاں سے بڑی مشکلوں سے ان کی جان چھوٹی رمضان کا مہینہ ہونے کی وجہ سے سیٹ بھی کنفرم تاریخ سے پہلے کی نہیں‌ مل سکتی تھی، خدا خدا کر کے انہوں نے مہینہ گذارا اور ایک تلخ تجربے کے بعد وطن واپس روانہ ہوئے۔

ابھی سب کے ذہنوں میں معتمرین کے ذریعے منشیات سمگل کرنے کی کوشش تازہ ہوگی جس میں ایک سب ایجنٹ ملوث تھا، یہ واقعہ ابھی ذہن سے محو نہیں ہوا کہ ایک معتمرین کا ایک اور سکینڈل سامنے آگیا جس میں آٹھ سو افراد کو یہاں بھیج کر ایجنٹ نے ایئر لائن والوں کے ساتھ مل کر ان کے واپسی کے کنفرم ٹکٹ ریفنڈ کروالئے۔ اب وہ بے چارے جب واپسی کے لیے ائیر پورٹ پہنچے تو انہیں کہا گیا کہ یا تو نیا ٹکٹ خریدیں یا پھر انہیں پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔

اس سے پہلے پاکستان سے عمرے کے ویزے پہ آکر یہاں پر روزگار کے سلسلے میں رک جانے والوں کی شکایات عام ہونے پر سعودی حکومت نے عمرے کے لیے کم از کم عمر چالیس سال کی شرط رکھی تھی، ہماری حکومت کو اسی وقت اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کرنے چاہیئے تھے اور ایسے ٹور آپریٹرز کے لائسنس کی منسوخی کے ساتھ ساتھ جرمانے کیے جاتے کہ منافع کے لالچ میں غیر قانونی اقدامات کرنے والے ایجنٹس حضرات خود ہی اس مقدس سفر کے بارے میں کوئی غیر قانونی حرکت کرنے سے گریز کرتے۔ مگر جہاں ایک سپاہی سے لیکر وزیر تک رشوت خور ہو وہاں شاید ایسی رسوائیوں پر صرف اپنا جی ہی جلایا جا سکتا ہے، کیونکہ حکومت کے کانوں پر تو جوں تک نہیں رینگنے والی۔

پاکستانیوں‌کو پہلے ہی دنیا بھر میں سفر کرنے پر جس عزت افزائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے ہمارے اربابِ اختیار اچھی طرح واقف ہیں کہ جہاں خود انہیں جوتے تک اتار کر جامہ تلاشی دینا پڑتی ہے۔ لے دے کر ایک ملک بچا تھا جہاں اطمینان کے ساتھ اہلِ پاکستان اللہ کے مہمان بنتے ہیں، اب یہاں بھی حکومتی پالیسی میکروں کی نا اہلی کے سبب سخت چیکنگ کے ساتھ ساتھ نہ جانے مزید کونسےنئے قواعد لاگو ہونے والے ہیں۔

بشکریہ : سید رفاقت حسین (مکہ مکرمہ)

2009/06/29

اردو کے ادبی موضوعاتی بلاگز

ماشاءاللہ ۔۔۔
اردو بلاگنگ کی دنیا وسیع و عریض ہوتی جا رہی ہے۔

اردو بلاگنگ کے منظرنامہ پر صریر خامۂ وارث (محمد وارث) ، غبارِ خاطر (وہاب اعجاز خان) اور ناطقہ (م۔م۔مغل) جیسے خالص ادبی بلاگز کی موجودگی ، علم و ادب کے شعور و بالیدگی کے ساتھ سنجیدہ مزاجی کا حسین امتزاج ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ احباب کچھ اہم موضوعاتی بلاگز کی شروعات کی جانب بھی توجہ فرمائیں۔ مثلاً :
دورِ حاضر کے شعراء کا منتخب کلام
دورِ حاضر کی نمائیندہ نسائی شاعری
اردو کے قدیم معروف شعراء و ادباء کا تعارف
اردو کی نئی بستیاں
اردو میں تنقید و تحقیق کے رحجانات / تحریکیں
نمائیندہ ادیب و شعراء کی تخلیقات کا انتخاب
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔


اسی ضمن میں قدم بڑھاتے ہوئے راقم الحروف نے دو موضوعاتی بلاگز کی شروعات کی ہے۔

مشتاق احمد یوسفی - شہ پارے ‫!!
یہ موضوعاتی بلاگ ، عصر۔ حاضر کے نامور طنز و مزاح نگار محترم جناب مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں سے اخذ کردہ منفرد ، متنوع اور لازوال شہ پاروں سے مزین کیا جا رہا ہے !

ابن صفی
ابن صفی ، ایشیا کے سب سے بڑے مصنف ، مقبول ترین ناول نگار اور اردو کے جاسوسی ادب کو برصغیر میں روشناس کرانے والے قلمکار کا اسم گرامی ہے ۔
ابن صفی ہی اُس ادبی شخصیت کا نام ہے ، جس نے تھکے ہوئے ذہنوں کے لئے صحت مند تفریح مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لوگوں میں کچھ نہ کچھ پڑھتے رہنے کی عادت ڈلوائی ہے ۔ اس کے علاوہ ، برصغیر میں ریڈنگ لائبریریوں ‫(reading libraries) کے رواج کو ابن صفی ہی کا کارنامہ کہا جاتا ہے ۔ آج کا قاری بھی ابن صفی کا ناول ایک ہی نشست میں ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ کمال کسی اور مصنف کو حاصل نہیں ہے !
ابن صفی کے نام معنون اِس بلاگ پر ، ابن صفی کی مزاحیہ تحریریں ، ان کی شاعری ، انٹرویوز ، جاسوسی ناولوں کے پیش رَس، اقتباسات اور ابن صفی پر لکھے گئے تاثراتی مضامین کے ساتھ ساتھ ابن صفی کے تمام جاسوسی ناولوں کے دستیاب آن لائن ایڈیشن (برائے ڈاؤن لوڈ) کے روابط بھی پیش کئے جا رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔
امید ہے کہ احباب آگے آئیں گے اور یوں جب نیٹ پر چراغ سے چراغ جلیں تو اردو کی روشنی چہار سو پھیلے گی۔ ان شاءاللہ !

2009/06/27

بیسویں صدی کی دو ادبی تحریکیں

ترقی پسندی

سن 1936ء میں لندن میں مقیم کچھ ہندوستانی ادیبوں نے جن میں سجاد ظہیر اور ڈاکٹر ملک راج آنند وغیرہ شامل تھے ، ایک ادبی انجمن کا خاکہ مرتب کیا اور " انجمن ترقی پسند مصنفین" کی بنیاد ڈالی ۔ انگریزی میں اس کا نام رکھا گیا :
Progressive Writers Association
اس کی پہلی سالانہ کانفرنس 1936ء میں ہی بمقام لکھنؤ منعقد ہوئی ۔ اُس وقت کے صفِ اوّل کے ادیب منشی پریم چند نے اس کی صدارت کی اور اپنے خطبہ میں وہ یادگار جملہ ادا کیا :
" ہمیں اپنے حسن کا معیار بدلنا ہوگا ! "

انجمن کے مقاصد میں ۔۔۔ مزدوروں اور کسانوں کے مسائل کو ادب میں پیش کرنا ، ہندوستان کی جدوجہد ِ آزادی میں ادیبوں کو اپنے قلم کے ذریعے شریک ہونے کی تلقین ، اور سب سے بڑا بنیادی مقصد سامراج اور سرمایہ داری کے خلاف بغاوت اور دولت کی مساویانہ تقسیم کی حمایت ۔۔۔ شامل تھے ۔


جدیدیت

بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں جب کہ ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی ، اس کے محاذی ایک اور تحریک پروان چڑھی ۔ اس کا نام توخیر بہت بعد میں '' جدیدیت '' یعنی (Modernism) پڑا ۔ لیکن ترقی پسندی کی مخالفت میں لاہور کے ''حلقہ ئ ارباب ِ ذوق '' والے اس میں پیش پیش تھے ۔
حلقہ ئ اربابِ ذوق میں ۔۔۔ میرا جی ، ن۔م۔راشد ، مختار صدیقی ، تصدق حسین خالد ، قیوم نظر وغیرہ شامل تھے ۔ اُن شعراء / ادباء کا یہ نظریہ تھا کہ ۔۔۔ ادب کو کسی نظریے کا پابند نہیں ہونا چاہئے ، بلکہ انکشافِ ذات اور اپنی داخلی کیفیات کے اظہار کو نمایاں کرنا چاہئے۔


مزید تفصیل یہاں پڑھئے : ترقی پسند تحریک اور جدیدیت

2009/06/16

ایک گدھے کی سرگزشت (کرشن چندر)

کچھ مختصر تمہید ۔۔۔۔

کل 15-جون-09ء کے اخبار "اردو نیوز" (سعودی عرب) میں ایک خبر آئی کہ "بارہ بنکی" میں ایک 35 سالہ خوبصورت عورت نے اپنے شوہر کو اتنا پیٹا کہ بچارہ ہلاک ہو گیا۔ وجہ یہ تھی کہ شوہر بیوی پر ادھر ادھر جانے پر سخت پابندیاں لگا رہا تھا۔
ساتھ ہی اخبار دیکھنے والے ایک دوست نے پوچھا کہ: یار، یہ بارہ بنکی کہاں ہے؟
بازو موجود ایک ہندوستانی صاحب مسکراتے ہوئے بولے:
شمالی ہند کا مشہور شہر ہے جہاں کے 'گدھے' بھی مشہور ہیں۔
اس پر میں نے ٹکڑا لگایا کہ : ہاں ! جہاں کے ایک گدھے پر کرشن چندر معرکہ خیز ناول بھی لکھ چکے ہیں۔
مگر افسوس کہ ۔۔۔۔۔۔
نہ کسی کو کرشن چندر کا نام معلوم اور نہ اس ناول کا نام !

کیا یہ اردو ادب کا المیہ ہے کہ ہماری موجودہ نسل ہی ایک ایک کر کے ادبی کلاسکس کو فراموش کرتی جا رہی ہے؟؟
آج گوگل چیک کیا تو کرشن چندر کا یہ لازوال ناول پ۔ڈ۔ف شکل میں دستیاب ہو گیا۔

کچھ صفحات ذیل میں مطالعہ فرمائیں اور اردو کے اس صاحب طرز ادیب کو خراج تحسین پیش کریں کہ اس کے قلم کی کاٹ آج بھی موثر لگتی ہے !!

*********
حضرات !
میں نہ تو کوئی سادھو فقیر ہوں ، نہ پیر دستگیر ہوں ، نہ شری 108 سوامی گھمگھمانند کا چیلا ہوں ، نہ جڑی بوٹیوں والا صوفی گورمکھ سنگھ مچھیلا ہوں ، میں نہ ڈاکٹر ہوں ، نہ حکیم ہوں ، نہ کسی ہمالیہ کی چوٹی پر مقیم ہوں ، میں نہ کوئی فلم اسٹار ہوں ، نہ سیاسی لیڈر۔
میں تو بس ایک گدھا ہوں۔
جسے بچپن کی غلط کاریوں کے باعث اخبار بینی کی مہلک بیماری لاحق ہو گئی تھی۔ ہوتے ہوتے یہ بیماری یہاں تک بڑھی کہ میں نے اینٹیں ڈھونے کا کام چھوڑ کر صرف اخبار بینی اختیار کی۔
ان دنوں میرا مالک دھنو کمہار تھا جو بارہ بنکی میں رہتا تھا (جہاں کے گدھے بہت مشہور ہیں)، اور سید کرامت علی شاہ بار ایٹ لا کی کوٹھی پر اینٹیں ڈھونے کا کام کرتا تھا۔ سید کرامت علی شاہ لکھنؤ کے ایک مانے ہوئے بیرسٹر تھے اور ان دنوں اپنے وطن مالوف بارہ بنکی میں ایک عالی شان کوٹھی خود اپنی نگرانی میں تیار کرا رہے تھے۔ سید صاحب کو پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا۔ اس لئے اپنی کوٹھی کا وہ حصہ جو انہوں نے سب سے پہلے تعمیر کرایا ، وہ ان کی لائیبریری کا ہال تھا اور ریڈنگ روم تھا، جہاں وہ علی الصباح آ کر بیٹھ جاتے۔
باہر برآمدے میں کرسی ڈال کر اخبار پڑھنے کا چسکہ پڑ گیا۔ ہوتا اکثر یوں تھا کہ ادھر میں نے ایک بلند ہوتی ہوئی دیوار کے نیچے اینٹیں پھینکیں اور بھاگتا ہوا ریڈنگ روم کی طرف چلا گیا۔
وکیل صاحب اخبار پڑھنے میں اس طرح مصروف ہوتے کہ انہیں میرے آنے کی خبر بھی نہ ہوتی اور میں ان کے پیچھے کھڑا رہ کر اخبار کا مطالعہ شروع کر دیتا۔ پڑھتے پڑھتے یہ شوق یہاں تک بڑھا کہ اکثر میں وکیل صاحب سے پیشتر آگے اخبار پڑھنے لگتا۔
بلکہ اکثر تو ایسا ہی ہوا ہے کہ اخبار کا پہلا صفحہ میں پڑھ رہا ہوں اور وہ سینما کے اشتہاروں والا صفحہ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ یہ جو میں پڑھنا بولنا سیکھا ہوں ، اسے سید صاحب کی کرامت سمجھئے یا ان کی مہربانی کا نتیجہ۔ کیونکہ سید صاحب کو اخبار پڑھتے ہوئے خبروں پر بحث کرنے اور کتاب زور زور سے پڑھنے اور پڑھتے ہوئے اس پر تنقید کرنے کی عادت تھی۔ یہاں جس جگہ پر وہ کوٹھی تعمیر کرا رہے تھے۔ انہیں کوئی ایسا نہ ملا جس سے وہ ایسی بحث کر سکتے۔ یہاں ہر شخص اپنے اپنے کام میں مصروف تھا۔ میں ہی ایک گدھا انہیں ملا مگر اس سے انہیں بحث نہ تھی۔ وہ دراصل گفتگو کرنا چاہتے تھے۔ اپنی دل ودماغ کی باتیں کسی سے کہنا چاہتے تھے۔ گدھے کے بجائے ایک خرگوش بھی ان کی صحبت میں رہتا تو عالم فاضل بن جاتا۔
سید صاحب مجھ سے بڑی ملاطفت سے پیش آتے تھے اور اکثر کہا کرتے:
"افسوس کہ تم گدھے ہو۔ اگر آدمی کا بچہ ہوتے تو میں تمہیں اپنا بیٹا بنا لیتا۔"

سید صاحب کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ خیر صاحب کرنا خدا کا کیا ہوا کہ ایک دن سید کرامت علی شاہ کی کوٹھی تیار ہو گئی اور میرے مالک کو اور مجھے بھی اسی دن وہاں کے کام سے جواب مل گیا۔ اسی رات دھنو کمہار نے تاڑی پی کر مجھے ڈنڈے سے خوب پیٹا اور گھر سے باہر نکال دیا۔ اور کھانے کے لئے گھاس بھی نہ دیا۔ میرا قصور یہ بتایا کہ میں اینٹیں کم ڈھوتا تھا اور اخبار زیادہ پڑھتا تھا۔
اور کہا کہ:
"مجھے تو اینٹیں ڈھونے والا گدھا چاہئے، اخبار پڑھنے والا گدھا نہیں چاہئے۔"

ناچار میں بھوکا پیاسا رات بھر دھنو کمہار کے گھر کے باہر سردی میں ٹھٹھرتا کھڑا رہا۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ صبح ہوتے ہی سید کرامت علی شاہ کی کوٹھی پر جاؤں گا اور ان سے کہوں گا کہ اگر اینٹیں ڈھونے پر نہیں تو کم از کم کتابیں ڈھونے پر ہی مجھے نوکر رکھ لیجئے۔
شیکسپئر سے لے کر احمق بھوردی تک میں نے ہر مصنف کی کتاب پڑھی ہے اور جو کچھ میں ان مصنفوں کے بارے میں جانتا ہوں وہ کوئی دوسرا گدھا کیا جان سکتا ہے۔
مجھے امید ہے کہ وکیل صاحب ضرور مجھ سے التفات کریں گے اور مجھے رکھ لیں گے۔
مگر قسمت تو دیکھئے ۔۔۔۔ دوسری صبح جب میں سید صاحب کی کوٹھی پر گیا تو معلوم ہوا۔ راتوں رات فسادیوں نے حملہ کیا اور سید کرامت علی شاہ کو اپنی جان بچا کر پاکستان بھاگنا پڑا۔ فسادیوں میں لاہور کے گنڈا سنگھ پھل فروش بھی تھے۔ جن کی لاہوری دروازے کے باہر پھلوں کی بہت بڑی دوکان تھی اور ماڈل ٹاؤن سے ملی ہوئی ایک عالیشان کوٹھی بھی تھی۔
اس لئے حساب سے ایک عالیشان کوٹھی زمین بھی یہاں ملنی چاہئے تھی۔ سو بھگوان کی کرپا سے انھیں یہ سید کرامت علی شاہ کی نئی بنی بنائی تیار کوٹھی مل گئی۔

جب وہاں پہنچا ہوں۔ تو گنڈا سنگھ لائیبریری کی تمام کتابیں ایک ایک کر کے باہر پھینک رہے تھے اور لائیبریری کو پھلوں سے بھر رہے تھے۔
یہ شیکسپئر کا سیٹ گیا اور تربوزوں کا ٹوکرا اندر آیا۔
یہ غالب کے دیوان باہر پھینکے گئے اور ملیح آباد کے آم اندر رکھے گئے۔
یہ خلیل جبران گئے اور خربوزے آئے۔
تھوڑی دیر کے بعد سب کتابیں باہر تھیں اور سب پھل اندر تھے۔
افلاطون کے بجائے آلوبخارا۔
جوش کی جگہ جامن ،
مومن کی جگہ موسمبی ،
شیلے کی جگہ شریفے ،
سقراط کی جگہ سیتاپھل ،
کیٹس کی جگہ ککڑیاں ،
بقراط کی جگہ بادام ،
کرشن چندر کی جگہ کیلے ،
اور
آل احمد کی جگہ لیموں بھرے ہوئے تھے !

کتابوں کی یہ درگت دیکھ کر میری آنکھوں میں بےاختیار آنسو آ گئے اور اب ایک ایک کر کے انہیں اٹھا کر اپنی پیٹھ پر لادنے لگا۔
اتنے میں گنڈاسا سنگھ اپنی پھلوں کی لائیبریری سے باہر نکل آئے ، آکر ایک نوکر سے کہنے لگے :
"اس گدھے کی پیٹھ پر کتابیں لاد لو۔ اور اگر ایک پھیرے میں یہ سب کتابیں نہ جائیں تو آٹھ دس پھیرے کر کے یہ سب کتابیں ایک لاری میں بھر کر لکھنؤ لے جاؤ اور انہیں نخاس میں بیچ دو۔"
چنانچہ گنڈا سنگھ کے نوکر نے ایسا ہی کیا۔ بس دن بھر کتابیں لاد لاد کر لاری تک پہنچاتا رہا۔ اور جب شام ہوئی اور جب آخری کتاب بھی لاری تک پہنچ گئی ، اس وقت گنڈا سنگھ کے نوکر نے کہیں جا کے مجھے چھوڑا۔
اس نے میری پیٹھ پر ایک زور کا کوڑا جمایا اور مجھے لات مار کے وہاں سے بھگا دیا۔

میں نے سوچا جس شہر میں کتابوں اور عالموں فاضلوں کی یہ بےحُرمتی ہوئی ہو وہاں رہنا ٹھیک نہیں۔
اس لئے میں نے ترک وطن کا ارادہ کر لیا اور اپنے شہر کے در ودیوار پر حسرت بھری نگاہ ڈالی۔ گھاس کے دو چار تنکے توڑ کر اپنے منہ میں رکھ لئے اور دہلی کا رُخ کیا کہ آزاد ہندوستان کی راجدھائی یہی ہے ، گہوارۂ علم و ادب ہے۔ ریاست ، سیاست کا مرکز ہے ، وہاں کسی نہ کسی طرح گزر ہو ہی جائے گی۔

*********
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھانے میں پہنچ کر کانسٹبل نے مجھے اپنے ہیڈ کانسٹبل کے سامنے جا کھڑا کیا۔
ہیڈ کانسٹبل نے بڑی حیرت سے اس کی طرف دیکھ کر کہا :
"اسے یہاں کیوں لائے ہو رام سنگھ؟"
رام سنگھ نے کہا : "حضور، یہ ایک گدھا ہے۔"
"گدھا تو ہے، یہ تو میں بھی دیکھ رہا ہوں، مگر تم اسے کیوں لائے ہو؟"
"حضور۔ یہ انڈیا گیٹ پر گھاس چر رہا تھا۔"
"ارے گھاس چر رہا تھا۔ تو کیا ہوا۔ تمہاری عقل بھی گھاس چرنے تو نہیں چلی گئی۔ اسے یہاں کیوں لائے ہو؟ لے جا کے کسی مویشی خانے میں بند کر دیتے۔ اس بےزبان جانور کو تھانے میں لانے کی کیا ضرورت تھی؟"
رام سنگھ نے رُکتے رُکتے میری طرف فتح مندی کی نگاہوں سے دیکھ کر کہا :
"حضور، یہ بےزبان نہیں ، بولتا بھی ہے!"
اب کے ہیڈ کانسٹبل بہت حیران ہوا ، مگر پہلے تو اسے یقین نہیں آیا۔ بولا :
"رام سنگھ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟"
"نہیں، یہ بالکل ٹھیک کہتا ہے ہیڈ کانسٹبل صاحب۔" میں نے آہستہ سے سر ہلا کے کہا۔

ہیڈ کانسٹبل اپنی سیٹ سے اچھلا۔ یوں کہ اس نے جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔ اصل میں اس کی حیرت بالکل حق بجانب تھی۔ کیونکہ نئی دلی میں ایسے تو بہت لوگ ہوں گے جو انسان ہو کر گدھوں کی طرح باتیں کرتے ہیں۔ لیکن ایسا گدھا جو گدھا ہو کر انسانوں کی سی بات کرے ، ہیڈ کانسٹبل نے آج تک نہ دیکھا نہ سنا تھا۔ اسی لئے بےچارہ چکرا گیا۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کرے؟
آخر سوچ سوچ کے اس نے روزنامچہ کھولا اور رپٹ درج کرنے لگا۔
اس نے مجھ سے پوچھا:
"تمہارا نام؟"
"گدھا"
"باپ کا نام؟"
"گدھا"
"دادا کا نام؟"
"گدھا"

"یہ کیا؟"
ہیڈ کانسٹبل نے تعجب سے کہا۔
"سب کا ایک ہی نام ہے۔"
یہ کیسے ہو سکتا تھا؟
"مجھے دیکھو۔ میرا نام جیوتی سنگھ ہے۔ میرے باپ کا نام پیارے لال تھا۔ میرے دادا کا نام جیون داس تھا۔ ہمارے ہاں نام بدلتے رہتے ہیں، تم ضرور جھوٹ بولتے ہو۔"
جیوتی سنگھ مجھے شبہ کی نظروں سے دیکھنے لگا۔
میں نے کہا:
"نہیں حضور، میں جھوٹ نہیں بولتا ، اور واقعہ یہی ہے کہ ہمارے یہاں نام نہیں بدلتے ، جو باپ کا نام ہوتا ہے ، وہی بیٹے کا ، وہی پوتے کا۔"
"اس سے کیا فائدہ؟" جیوتی سنگھ نے پوچھا۔
"اس سے شجرۂ نسب ملانے میں آسانی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ۔۔۔ کیا آپ مجھے اپنے پردادا کے دادا کا نام بتا سکتے ہیں؟" میں نے جیوتی سنگھ سے پوچھا۔
"نہیں!" جیوتی سنگھ نے افسوس سے سر ہلا کے کہا۔
"مگر میں بتا سکتا ہوں۔ آپ کے ہاں وہ آدمی بڑا خاندانی سمجھا جاتا ہے جو آج سے چار سو ، پانچ سو ، چھ سو سال پہلے کے مورثِ اعلیٰ کا نام بتا سکے۔ دیکھئے میں آپ کو آج سے آٹھ ہزار آٹھ لاکھ سال پہلے کے مورثِ اعلٰی کا نام بتا سکتا ہوں۔
شری گدھا !
بولئے پھر کیا ہم گدھے آپ سے بہتر خاندان کے ہوئے کہ نہیں ؟"

جیوتی سنگھ نے بڑے غور سے میری طرف دیکھا۔ اس کا شبہ اور بڑھ گیا۔ اس نے آہستہ سے رام سنگھ کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا :
"مجھے یہ شخص بڑا خطرناک معلوم ہوتا ہے۔ ہونہہ۔ یہ کوئی غیرملکی جاسوس ہے ، جو گدھے کے لباس میں نئی دلی کا چکر لگا رہا ہے۔"

رام سنگھ نے کہا :
"حضور۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اس کی کھال اتروا کر دیکھنا چاہئے۔ اندر سے وہ خفیہ جاسوس باہر نکل آئے گا۔ پھر ہم اسے گرفتار کر لیں گے۔"
جیوتی سنگھ نے کہا:
"تم بالکل ٹھیک کہتے ہو۔ مگر اس کے لئے سب انسپکٹر چانن رام کی منظوری لینا بہت ضروری ہے۔ چلو آؤ اسے ان کے سامنے لے چلیں۔"

میرے کان میں بھی کچھ بھنک پڑ چکی تھی۔ مگر میں کان لپیٹے خاموش رہا اور ان دونوں کے ساتھ اندر کے کمرے میں سب انسپکٹر چانن رام کے سامنے چلا گیا۔ چانن رام کی مونچھیں بچھو کے ڈنک کی طرح کھڑی تھیں اور اس کے سرخ چہرے پر ہمیشہ غیض وغضب کا جاہ وجلال رہتا تھا۔ چانن رام کو آج تک کسی نے ہنستے یا مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ اسی لئے بہت سے لوگ اسے اعلیٰ افسر سمجھتے تھے۔
چانن رام نے ان کی ساری بات سن کر میری طرف گھور کر دیکھا اور کہا:
"ہاں ، تم تو پاکستان کے جاسوس ہو۔"
میں چپ رہا۔
چانن رام نے زور سے میز پر مکہ مار کر کہا:
"سمجھ گیا ، تم روس کے ایجنٹ ہو۔"
میں پھر بھی خاموش رہا۔
چانن رام نے دانت پیستے ہوئے کہا:
"کمبخت، بدمعاش، کمیونسٹ، میں تمہاری ہڈی پسلی ایک کردوں گا، ورنہ جلد بتاؤ کہ تم کون ہو؟"

یہ کہہ کر چانن رام مجھے مکوں ، لاتوں ، ٹھوکروں سے مارنے لگا۔ مارتے مارتے جب وہ بالکل بےدم ہو گیا تو میں نے ایک زور سے درد بھری ہانک لگائی۔
ہانک لگاتے ہی وہ رک گیا۔ اور پہلے میری طرف حیرت سے دیکھ کر اور پھر نہایت ہی غصہ سے جیوتی سنگھ اور رام سنگھ کی طرف دیکھ کر بولا:
"ارے یہ تو بالکل گدھا ہے، ایک دم گدھا ہے اور تم کہتے ہو کہ کوئی غیرملکی جاسوس ہے۔ تم مجھ سے مذاق کرتے ہو۔ میں ابھی تم کو ڈسمس کراتا ہوں۔"

رام سنگھ اور جیوتی سنگھ دونوں ڈر سے تھر تھر کانپنے لگے۔ ہاتھ جوڑ کر بولے:
"نہیں حضور۔ ابھی یہ باہر کے کمرے میں بول رہا تھا۔ صاف صاف بول رہا تھا انسانوں کی طرح۔"
"تم نے خواب دیکھا ہوگا۔ یا کام کرتے کرتے تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہوگا۔ جاؤ اس گدھے کو ہمارے سامنے سے لے جاؤ اور کسی مویشی خانے میں بند کر کے رکھ دو۔ اگر تین چار دن میں اس کا مالک نہ آئے تو اسے نیلام کر دو۔"

میں خوشی خوشی باہر آیا۔ میری چال کام کر گئی۔ اگر میں بولتا تو وہ لوگ ضرور میری کھال ادھیڑ کر دیکھتے کہ اندر کون ہے؟

اس کے بعد تین چار دن تو کیا جب ایک ہفتہ تک کوئی مالک نہ آیا تو مجھے نیلام کر دیا گیا۔ اب مجھے رامو دھوبی نے خرید لیا جو جمنا پار کرشنا نگر میں رہتا تھا۔


*********
اردو کا کلاسک ناول ۔۔۔
معروف ادیب کرشن چندر کا معرکۃ الآرا ناول
ایک گدھے کی سرگزشت

پ۔ڈ۔ف فائل کی شکل میں ڈاؤن لوڈ کیجئے ۔۔۔
بشکریہ : www.urdudost.com

فائل صفحات : 89
فائل حجم : 1.5 ایم-بی

ڈاؤن لوڈ ربط : یہاں

2009/06/15

لاٹری کا ٹکٹ

لاکھوں روپے کی " لاٹری کا ٹکٹ " ہر شخص " بسم اللہ " کہہ کر خریدتا ہے ۔
ایک غریب ، ایک وقت کا چولہا نہ جلا کر ٹکٹ خریدتے ہوئے دعا کرتا ہے :
خدایا ! تو گواہ ہے ، میں نے اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر تیری رحمت پر بھروسہ کیا ہے۔
ایک جوان لڑکی کا باپ ٹکٹ خرید کر خدا سے جہیز کے لیے گڑگڑاتا ہے ۔
ایک کینسر کا مریض اپنے علاج کے لیے وہ ٹکٹ خریدتا ہے ۔
لاکھوں دکھ ہیں ، لاکھوں بیماریاں اور لاکھوں مسائل ہیں۔
دنیا کے تمام مصائب زدہ لاٹری کا ٹکٹ لے کر خدا کو پکارتے ہیں۔
چار جواریوں میں سے تین کی ہار اور ایک کی جیت خدا کو منظور نہیں ہوتی۔
لاکھوں گھروں سے دس دس روپے لے کر کسی ایک شخص کو " دس لاکھ " دینا خدا کو منظور نہیں ہے۔ وہ معبود ریس کے گھوڑے سے کسی کو " لکھ پتی " نہیں بناتا ۔
یہ انسانوں کی اپنی نوسر بازی اور افتادِ طبع ہے ۔
خدا دیتا ہے تو حقدار کو ضرور دیتا ہے !!

(محی الدین نواب)

2009/06/13

بلاگ اسپاٹ : ایک ٹرک

بلاگ اسپاٹ کے اکثر اردو بلاگز پر تبصروں کی جگہ کچھ انگریزی باقی رہ گئی ہے۔
جیسا کہ اگر میں کسی کے بلاگ پر تبصرہ کروں تو یہ لکھا آتا ہے :
باذوق said...

انگریزی لفظ
said...
کو نکال کر اس کی جگہ اردو لکھی جا سکتی ہے
مثلاً
نے کہا
یا
نے لکھا

Edit HTML میں جائیں
Expand Widget Templates پر چیک مارک لگائیں
درج ذیل لفظ ڈھونڈئے



اس کو ہٹا کر اردو لکھ دیں ، یعنی
نے لکھا ۔۔۔

بس !!

2009/05/26

یہ عشق نہیں آساں ۔۔۔

عشق یا عشقِ رسول کے موضوع پر یہاں اور یہاں کافی گفتگو چل نکلی تھی۔ پھر سرچنگ میں ایک عمدہ مضمون نظر سے گزرا جو سعودی عرب میں مقیم ایک معروف قلمکار کے قلم سے تحریر کردہ ہے۔
اسی مضمون سے چند مفید اقتباسات ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

***

نزولِ قرآن کے وقت دنیا کی نئی صورتگری کرنے کے لئے صاحبِ مہبطِ وحی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جو مطلوبہ ایثار کی ضرورت ان کے چاہنے والوں سے تھی ، یعنی صحابہ (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کو جو درسِ فنا دیا جانا مطلوب تھا ، اس کے لیے قرآن اور صاحبِ قرآن نے اس لفظ "عشق" کو اپنی پوری توانائی کے علی الرغم ردّ کیا۔
اور کہیں بھی اپنے نصابِ دانش میں قربانیوں اور محبتوں کے ہزاروں واقعات کی ترسیل کے لیے اس لفظ کو نہیں برتا۔
کیونکہ اس لفظ نے اپنی ایک پوری دنیا تعمیر کر لی تھی۔ جہاں اس کے چشمہ صافی میں دیگر غیر محترم و مشکوک موضوعات کی گدلاہٹ شامل ہو چکی تھی۔
قرآن نے اپنے تمدنی تقاضے "محبت" کے لفظ سے پورے کئے ! جبکہ اس لفظ "عشق" کی دلکشی سے کم کشش لفظ "محبت" میں ہے۔ لیکن یہ موضوع کی ترسیل میں آبِ زمزم میں شراب کی آمیزش ہونے نہیں دیتا۔

علامہ اقبال نے اپنی فکر سے اپنی آرزوؤں کی ایک الگ دنیا تعمیر کی ہے۔ اس لیے اقبال کے ہاں عشق کا تصور بالکل مختلف ہے۔ جہاں خیال کی قوت اپنی شوکت کی جلوہ نمائی کے لئے بساطِ شعر میں آتی ہے تو لفظ اپنا حسب نسب بھول جاتے ہیں۔
جہاں روایت کی حیثیت بےشکل پتھر سے زیادہ کی نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کی بدہئیتی ، تاج محل کے معمار کے ہاتھوں دائمی ہنروری کے تاریخ رقم کرواتی ہے۔
مثال کے طور پر اقبال نے "خودی" کے لفظ میں بجلیاں بھر دی ہیں۔ جبکہ ان سے پہلے یہ لفظ اپنی روح اور داخلی امراض کے سبب متعفن تھا۔ اور آج حسنِ ذات اور جوہرِ ذاتی کی آبرو اس لفظ کی معنوی جہت کی یافت میں پنہاں ہے۔
اس لیے ہمیں "عشق" کے موضوع پر اقبالیات کو ایک ایسے جہانِ نو کی طرح سمجھنا چاہئے جو سب سے الگ اور مکمل ہے۔ جہاں بدر و حنین ، صبرِ حسین (رضی اللہ عنہ) سب کچھ عشق ہے۔
ورنہ تو ۔۔۔۔۔

یہ "عشق" کا نعرہ مستانہ کانٹ چھانٹ کر جب پاکستان کا "جنون میوزیکل گروپ" گاتا ہے تو سننے والوں کو عشق کا وہ گداز نہیں ملتا جو اقبال کی نظم "ساقی نامہ" پڑھتے ہوئے دنیا بھر کو ملا۔
یعنی ۔۔۔۔ جنون گروپ نے یہ تو شامل کیا :
جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
میرا عشق میری نظر بخش دے
لیکن ہر اس مصرعے کو کاٹا ہے جہاں چل کر اقبال کا تصورِ عشق اس کی معنوی بےسمتی کو راہ پانے نہیں دیتا ، جیسے ۔۔۔
دلِ مرتضی (رض) سوزِ صدیق (رض) دے
وغیرہ۔

عشق کو ہوا دینے والوں میں ۔۔۔۔ اہم ترین دنیائے ادب کی جنون تاب شاعری ہے اور اس کی تصوراتی اچھل کود ، فلم اور آرٹ کے تراشے ہوئے رنگین خوابوں میں کھوئے ہوئے لوگ۔۔۔۔ اب اسی عکس و آواز کے آفریدہ گھرانوں کی ہلاکت خیزیاں لوگ دیکھ رہے ہیں۔
مشرقی تہذیب کے جیالے عشق کے نام پر پردۂ سیمیں کی طوفان بدتمیزیوں کو اپنے گھروں کی آخری چوکیاں بھی ہار کے لے آئے !

یاد رہے کہ لغت کے بکھیڑوں میں جذبات کی ہلاکت خیزیاں حدوں کا تعین نہیں کرتی۔ آج الفاظ کا وجود معنوی ارتداد کا شکار ہو چکا ہے۔
اس لیے مشکوک کو متروک ہی رہنے دو ۔۔۔ یا اس پر گہری نگاہ رکھو :

علامتیں ہیں نئے دور کی برہنہ سب
مگر مزاج غزل کا غلاف چاہتا ہے
(ظفر سنبھلی)


---
بشکریہ : نعیم جاوید صاحب کا مضمون

2009/05/21

جذبات کا آن لائن سفر

ہمارے ایک دوست نے کہا ہے :
زباں سے کہہ بھی دیا کہ دیارغیرمیں ‌ہوں مطمئن تو کیا حاصل
دل و نگاہ ، وطن میں تو دیار میں کچھ بھی نہیں

مزید لکھتے ہیں :
معیشت کے لئے ایک جم غفیر کا اپنے وطنوں سے دور ہونا۔۔۔ ضرور میشیت الٰہی کے تحت ہوا ہوگا ۔۔۔ لیکن۔۔۔ اسکے دور رس اثرات سے ہم انکار کر ہی نہیں‌ سکتے۔۔۔۔۔
ایک فیملی کا۔۔۔ واقعہ ملاحظہ ہو۔۔۔
جب وہ گھر سے نکلے۔۔۔ کچھ تو ٹمپٹیشن کا شکار تھے تو کچھ۔۔۔ضروریات۔۔۔5 سال تو۔۔۔۔ایسے ہی نکل گئے۔۔۔پھر شادی کے بعد۔۔۔مزید 15 سال ایسے ہی نکل گئے۔۔۔پھر۔۔۔۔اسکے بعد۔۔۔تعلیم وغیرہ کے لئے جب فیملیی کو بچوں کے ہمراہ وطن بھجایا۔۔تب۔۔۔مزید 10 سال ایسے ہی نکل گئے۔۔۔لیکن عمر عزیز کے آخری وقت یعنی اپنی ضعیفی میں‌ جب۔۔۔۔۔ وہ اپنے گھر کو لوٹے۔۔۔تب۔۔۔انکے اپنے لڑکوں‌اور لڑکیوں ‌سے انکا تعلق۔۔۔ایک سوالیہ نشان بن گیا تھا۔۔۔وہ تو ایک چیک کی حیثیت بن چکے تھے۔۔۔۔یہاں تک تو ٹھیک تھا۔۔۔لیکن انکی اپنی شریک حیات بھی انہیں اب بار سمجھنے لگی تھین۔۔۔۔۔۔
اس کیفیت میں وہ ۔۔۔2 سال تک۔۔۔اپنے ہی گھر میں اجنبی بنکر۔۔۔۔پھر۔۔۔۔۔اپنے فیملی اور بچوں کے بے حد اصرار پر۔۔پھر سے۔۔۔مزید کچھ نئے عزائم لیکر ۔۔۔اپنے عمر کے آخری حصے میں۔۔۔پھر سے۔۔۔دیار غیر روانہ ہوگئے۔۔۔۔۔

جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے ضروری تو نہیں کہ ہر پردیسی کے ساتھ ایسا ہو ہاں اکثریت کے ساتھ ایسا ہوتا دیکھا اور سنا گیا ہے۔
دوسری بات یہ کہ مشرق میں ابھی وہ نظام باقی ہے جو رشتہ دار دوست احباب کو آپس میں جوڑے رکھتا ہے جبکہ مغرب میں مادیت پسندی نے اس نظام کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا ہے۔ اور بڑے دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ اب یہی تباہی آہستہ آہستہ مشرق میں بھی اپنے پنجے پھیلا رہی ہے۔ ڈش چینلوں کے موجودہ پروگرام ڈرامے کہانیاں کیا اسکی عکاسی نہیں ہیں؟
آج سے کوئی عشرہ دو عشرہ قبل جو سادہ دل اور پُرخلوص معاشرہ پایا جاتا تھا کیا بعینہ وہی معاشرہ آج موجود ہے؟ سوال بڑا تلخ ہے۔ جواب بھی شائد ہمارے لیے تلخ نکلے۔

دنیا کے گلوبل ولیج بن جانے کے سبب بھی انتشار پھیلا ہے۔ جذبات بٹ گئے ہیں ، رشتے بٹ گئے ہیں ، دوستی ملک ملک بکھر گئی ہے۔
بیوی، پنڈی کے کسی دیہات میں یا بہار کے کسی ناخواندہ علاقے میں مقیم ہے تو شوہر نیویارک جیسے چمکتے دمکتے شہر میں۔ والدین مشرق کے کسی پسماندہ علاقے میں تو اولاد ترقی یافتہ ممالک کے مختلف نامور شہروں میں ، وہ دوست جنہوں نے ایک ہی غریب شہر کے اکلوتے انجینرنگ یا میڈیکل کالج میں تعلیم پائی تھی آج وہی دنیا کے مختلف کونوں میں بغرض معاش آباد ہیں۔
اور اتنا سب ہونے کے بعد بھی گلوبل ولیج کا کونسپٹ اس قدر طاقتور ہے کہ اس نے ان تمام کو پھر بھی الکترانک ذرائع سے جوڑے رکھا ہے۔

ماحاصل یہ کہ ۔۔۔۔
جذبات ۔۔۔ دورِ حاضر میں آن لائن سفر کر رہے ہیں !!

2009/05/15

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

قریب تین دہے گزر گئے۔ لڑکپن سے اقبال کے یہ اشعار پڑھتے آ رہا ہوں۔ لڑکپن میں تک جب پڑھتا تھا تو کچھ عجیب سے احساسات پیدا ہو جاتے تھے۔ لگتا تھا بدن میں کپکپی سی دوڑ رہی ہے۔ اتنا عرصہ گزر گیا۔ آج بھی بال جبریل کے یہ اشعار پڑھتا ہوں تو نجانے کیوں حلق نمکین ہو جاتا ہے ، بدن میں رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ یک بیک سارے عالم پر سناٹا چھا گیا ہو اور اقبال کی آواز ایک گونج کی شکل میں مشرق تا مغرب افق تا افق لہرانے لگی ہو ۔۔۔۔۔۔

*****
گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر
ہوش و خرد شکار کر ، قلب و نظر شکار کر
باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے ، اب مرا انتظار کر

خردمندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں ، میری انتہا کیا ہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تیری رضا کیا ہے

تُو اپنی خودی کو کھو چکا ہے
کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر
بےذوق نہیں ہے اگرچہ فطرت
جو اس سے نہ ہو سکا ، وہ تُو کر !

تُو شاہیں ہے ، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
یا وسعتِ افلاک میں تکبیرِ مسلسل
یا خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات

ترے سینے میں دم ہے ، دل نہیں ہے
ترا دم گرمی محفل نہیں ہے
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے ، منزل نہیں ہے

محبت کا جنوں باقی نہیں ہے
مسلمانوں میں خوں باقی نہیں ہے
صفیں کج ، دل پریشاں ، سجدہ بےذوق
کہ جذبِ اندروں باقی نہیں ہے

جوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا! آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل ، وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں ، تُو باقی نہیں ہے

اس کی امیدیں قلیل ، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دل فریب ، اس کی نگہ دل نواز
نرم دمِ گفتگو ، گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم ہو ، پاک دل و پاک باز

یہ غازی ، یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی

ترے صوفے ہیں افرنگی ، ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہ ہو نومید ، نومیدی زوال علم و عرفاں ہے
امید مرد مومن ہے خدا کے رازدانوں میں
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے ، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

2009/05/13

اِس کتاب کو مت پڑھئے ۔۔۔ ہرگز مت پڑھئے ‫!

یہ کتاب
یہ کتاب نہ فلسفہ بگھارتی ہے
نہ علمیت چھانٹتی ہے
نہ دانشوریاں پیش کرتی ہے۔
اگر آپ سنجیدہ اور مدلل مطالعہ کے خواہش مند ہیں تو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ آپ یہ کتاب نہ پڑھیں۔ خواہ مخواہ وقت ضائع ہوگا۔
سچی بات یہ ہے کہ یہ کتاب ، کتاب ہی نہیں۔ میں نے بڑی کوشش کی ہے کہ یہ کتاب نہ بن جائے "بکش" نہ ہو جائے۔ بوجھل نہ ہو جائے۔ اونچی باتیں نہ کرے ، جو سر کے اوپر سے گزر جائیں۔

یہ کتاب آپ سے باتیں کرے گی۔ ہلکی پھلکی باتیں ، چھوٹے چھوٹے موضوعات پر باتیں ، ممکن ہے آپ کو اس کی کچھ باتوں سے اتفاق نہ ہو۔ ایسا ہو تو ازراہ کرم اس کی بات کو پلے نہ باندھیں۔ جھگڑا نہ کریں۔ صاحبو ! دلیل سے کبھی کوئی قائل نہیں ہوا۔ اختلاف رائے تو ہوتا ہی ہے۔ اسی سے زندگی رنگ بھری ہے۔

اس کتاب کا نام غلط ہے۔ غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے۔ قاری کہے گا اگر "تلاش" ہے تو "منزل" بھی ہوگی۔ لیکن یہ ایسی تلاش ہے جس کی کوئی منزل نہیں۔ صرف تلاش ہی تلاش ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کس چیز کی تلاش ہے؟
کبھی شک پڑتا ہے کہ "مسلمان" کی تلاش ہے۔ کبھی خیال آتا ہے کہ شاید دورِ حاضرہ کی حقیقت کی تلاش ہے۔ کبھی ایسے لگتا ہے کہ یہ تو سچ کی تلاش ہے۔ حتمی سچ کی نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی سچائیوں کی۔ سوچوں کی سچائیاں ، ایمان کی سچائیاں ، برتاؤوں کی سچائیاں ، رسمی سچائیاں ، پرانی سچائیاں ، نئی سچائیاں۔

کسی نے بوٹے سے پوچھا :
بوٹے ، بوٹے یہ بتا تُو اگنے میں اتنی دیر کیوں لگاتا ہے؟
بوٹا بولا : اس لیے کہ زمین کی کشش مجھے اگنے نہیں دیتی۔
ہائیں ایسا ہے؟ بری بات۔
بوٹا بولا : نہ نہ زمین کو برا نہ کہو۔
کیوں نہ کہیں ؟
اس لیے کہ اگر زمین مجھے اگنے سے نہ روکے تو میں کبھی نہ اُگ سکوں۔
وہ کیا بات ہوئی؟

رکاوٹ نہ ہو تو حرکت ممکن ہی نہیں !
یہ قانون فطرت ہے صاحبو۔
رکاوٹیں دراصل رحمتیں ہیں۔ رکاوٹیں حرکت پیدا کرتی ہیں۔ جن کے پہنچ جانے کا خطرہ ہو ان کے راستے میں رکاوٹیں آتی ہیں۔
بڑے رکاوٹیں نہ کھڑی کریں تو چھوٹوں میں احتجاج پیدا نہ ہو۔ Revolt نہ ہو۔ حرکت پیدا نہ ہو۔
اور حرکت نہ ہو تو زندگی نہ ہو۔ کچھ بھی نہ ہو۔
یہ دنیا تصویر کی طرح فریم میں ٹنگی رہے۔
یہ زندگی کیا ہے؟
قیام اور حرکت کا اک کھیل ہی تو ہے۔
کبھی قیام آ جاتا ہے اور آتے ہی حرکت پر دفعہ 144 لگا دیتا ہے۔
خبردار ! حرکت نہ کرنا ۔۔۔ حرکت گناہ ہے ۔۔۔ حرکت شیطانیت کا کھیل ہے !

پھر حرکت کا ریلا آتا ہے ، سب کچھ توڑ پھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔

مزید پڑھنا چاہیں تو ۔۔۔۔
یہاں پڑھئے !!


اقتباس : "تلاش" از ممتاز مفتی

2009/04/12

اردو کی ترقی و ترویج کے دعوے داروں کے کرتوت

السلام علیکم

مشتاق احمد یوسفی ، میرے پسندیدہ مصنفین میں شامل ہیں۔ ایک عرصہ سے خواہش تھی کہ ان کی تحریروں پر مبنی ایک موضوعاتی بلاگ بنایا جائے۔ بالآخر یہ مہم بھی سر کر لی ہم نے۔ بلاگ ذیل کے پتے پر ملاحظہ فرمایا جا سکتا ہے :
مشتاق احمد یوسفی - شہ پارے ‫!!

میں چاہ رہا تھا کہ یوسفی صاحب کی جتنی تحریریں میں نے کمپوز کر رکھی ہیں اور اِدھر اُدھر فورمز پر بھی پوسٹ کر رکھی ہیں ، انہیں اس ایک بلاگ پر جمع کر دوں۔ اسی کے لئے گوگل سرچ کیا۔
گوگل سرچ کی ضرورت بھی اس لئے پیش آئی کہ : ہمارے ایک دوست نے اردو مجلس پر شکایت کی تھی کہ میں جو اصل تحریر کا حوالہ دینے کا اکثر تقاضا کیا کرتا ہوں ، اپنے اس اصول پر خود میں نے ایک بار عمل نہیں کیا۔

اب مجھے گوگل سرچ سے معلوم ہوا کہ اصل قصہ کیا تھا۔ مشتاق احمد یوسفی کی کتاب "آبِ گُم" سے ایک اقتباس میں نے اپنے طریقے سے ترتیب دے کر کئی جگہ پوسٹ کیا تھا۔ مثلاً 17-اکتوبر-08ء کو اپنے بلاگ پر یہاں ، پاک نیٹ فورم پر یہاں ، اردو مجلس فورم پر یہاں اور 18-اکتوبر-08ء القلم فورم پر یہاں۔

30-اکتوبر-2008ء کو ہماری اردو پیاری اردو فورم پر کسی نعیم صاحب نے یہی اقتباس بنا حوالہ کاپی کر دیا۔
کاپی وہ کریں اور الزام مجھے ملے؟؟
لہذا میں نے ابھی کچھ دیر قبل ہماری اردو فورم کے اُس تھریڈ میں نہایت نرم لہجے میں ذکر کیا کہ حضور آپ کے بنا حوالہ کاپی کے سبب الزام مجھے سننا پڑا تھا۔

بڑی عجیب بات ہے بھئی ۔۔۔۔۔
اردو کی ترقی اور ترویج کے دعوے کرنے والوں کی اپنی نرالی منطق ہے !!
ان انصاف پسند دعوے داروں نے پہلے تو میرا شکایتی مراسلہ وہاں سے حذف کیا اور دوم یہ کہ میری آئی-ڈی ہی اپنے فورم پر بین کر دی !!

اِس قسم کی ذہنیت کو آپ کیا نام دیتے ہیں ۔۔۔۔ یہ میں آپ سب پر چھوڑتا ہوں۔

2009/01/06

غزہ پر قبضہ اور اس کی حقیقت - اسرائیلی تجزیہ نگار

معروف اسرائیلی تجزیہ نگار لیری ڈرفنر (‫LARRY DERFNER) ، یروشلم پوسٹ میں لکھتے ہیں ‫:
Rattling the Cage: Clueless in Gaza

غزہ کے متعلق ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا ، ہمیں اپنی راہِ عمل کو بھی بدلنا ہوگا ، بے رحمی اور خودکار طریقے سے غزہ کے باشندوں کا صفایا کرنے سے ہمیں رک جانا ہوگا۔
غزہ کے ساتھ اسرائیل کی جنگ، زمین پر یقینی یکطرفہ جنگ ہے اور یہ جنگ باشندگانِ غزہ کے لئے غیرضروری اور ہولناک نتائج لا رہی ہے۔ یہ جنگ اسرائیل کے عوام اور فوجیوں کو ایک ناحق خطرے سے دوچار کر رہی ہے اور ایک ایسے عظیم خونی غلبے اور تصرف کی سمت بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں دونوں طرف کے عوام بلا کسی سبب کے مارے جائیں گے ‫!

اسرائیل کا یہ محاصرہ حماس یا اسلامی جہاد کو کمزور نہیں کر سکتا ، یہ محاصرہ باشندگانِ غزہ کو حماس کے خلاف نہیں کر سکتا اور نہ ہی دہشت گردی کو ختم کر سکتا ہے۔ غزہ کا محاصرہ ، اسرائیل کی سیکوریٹی کو مضبوط کرنا تو دور کی بات ، مزید شدت پسندوں کی تخلیق کا سبب بن رہا ہے۔

اور سب سے بڑی مضحکہ خیز بات تو اسرائیل کا یہ فرمان ہے کہ ‫:
اسرائیل نے غزہ کا کوئی محاصرہ نہیں کیا ہوا ہے ، انسانیت کی کوئی تذلیل نہیں ہو رہی ، یہ سب جھوٹ ہے ، ‫‫Pallywood ہے۔
فلسطینی جھوٹ بول رہے ہیں ، اقوام متحدہ جھوٹ بول رہا ہے ، حقوقِ انسانی کی تنظیمیں جھوٹی ہیں۔
فلسطینی نہایت آرام سے ہیں ، ہم خود انہیں دیکھ رہے ہیں۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ہم دیدہ و دانستہ معصوم بچوں کو ضرر پہنچا رہے ہیں تو دراصل ایسا کہنے والا مخالف یہودی ذہنیت کا شکار ہے۔

کیا واقعی میں ایسا ہی ہے؟
اگر سچ مچ کوئی محاصرہ نہیں ہے اور فسطینی مقامی عوام تکالیف و مظالم نہیں سہہ رہے تو پھر حمل و نقل کی بھی آزادی دیں۔
اور اگر ہم ایسا نہیں کرتے ، اور نہ ہی کریں گے ، تو پھر کم سے کم دیانت داری سے اس کی وجہ کو بھی قبول کریں۔
کیوں ؟ کیونکہ غزہ میں اشیائے ضروریہ پر ہماری یہ روک ٹوک دراصل منطقی لحاظ سے غزہ کے دیڑھ ملین عوام کو مفلوج بنا رہی ہے‫!

اور ہم نے غزہ کی بحری پٹی کی ناکہ بندی کس لیے کر رکھی ہے؟
کیا ہتھیاروں کے حمل و نقل کو روکنے کے لیے؟ کہ وہ لوگ ٹنوں کی تعداد میں مصر کے زیر زمین راستوں سے ہتھیار درآمد کر رہے ہیں؟
مگر ۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل ہتھیاروں کو امپورٹ نہیں کرتا؟
اگر کوئی یہ سوچ کر کہ ہم ہتھیاروں کو درآمد کریں گے، ہمارے اُس راستے پر پابندی لگا دے جو سمندر تک ہمیں رسائی دیتا ہو تو یقیناً ہم ایسی حرکت کو خود پر حملہ قرار دیں گے۔ جیسا کہ ماضی میں ایسا ہی الزام ہم نے لگایا تھا جب مصر نے طیران کا وہ بحری راستہ بند کر دیا تھا جس کے سبب ہی ایلت پورٹ تک ہماری رسائی ممکن تھی۔

یہ ایک الگ بات ہے، جب ہم کہیں کہ ہم کسی ایسے دشمن کو برداشت نہیں کریں گے جو ہمارے خلاف مسلح جدوجہد کرے اور یہ ایک بالکل مختلف بات ہوگی جب ہم یہ کہیں کہ کسی دشمن کو مسلح قوت جمع نہیں رکھنی چاہئے۔
ہم یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ فلسطینی اس بات کو قبول کر لیں گے کہ ان کے پڑوس میں اسرائیل کو اپنی فوجی طاقت بزور قوت قائم رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
امن اس طرح حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

سارے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے بہت سے دشمن ہیں اور یہ تمام دشمن جتنی مرضی چاہے اتنا اسلحہ خریدتے ہیں اور یقیناً یہ اس تعداد یا مقدار سے بےتحاشا ہوتی ہے جتنا کہ حماس بذریعہ فضائی ، سمندری یا زمینی راستے سے خریدتی ہے۔
اس کے باوجود اسرائیل کے یہ دشمن کیوں حملہ کی ہمت نہیں کر پاتے تو اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ان دشمنوں کی مسلح قوت سے سینکڑوں گنا قوت خود اسرائیل کے پاس موجود ہے۔ اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جس سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔

تو پھر آخر کار ہمیں یہی کرنا ہوگا کہ غزہ پر معتبر طریقے سے اپنا قبضہ قطعیت کے ساتھ ختم کر دیں۔
عوام کو آمد و رفت کی ویسی ہی آزادی دی جائے جیسا کہ ایک آزاد ملک کے بااختیار باشندوں کو حاصل ہوتی ہے۔ ایسی آزادی ہو کہ اسرائیل سے گاڑیاں جب غزہ میں داخل ہوں تو سرحد پر ان کی جانچ پڑتال محض عمومی نوعیت کی رہے۔

آخر میں ایک بار پھر دہراؤں گا ‫:
غزہ میں اسرائیل جو جنگ لڑ رہا ہے وہ زمین پر یقیناً یکطرفہ جنگ ہے۔ اگر اسے روکنا ہے یا کم سے کم اختتام کی طرف ہی لے جانا ہو ، تو یاد رہے کہ گیند حماس کے کورٹ میں نہیں بلکہ ہمارے کورٹ میں ہے‫!

- اردو ترجمانی : باذوق