2009/05/15

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

قریب تین دہے گزر گئے۔ لڑکپن سے اقبال کے یہ اشعار پڑھتے آ رہا ہوں۔ لڑکپن میں تک جب پڑھتا تھا تو کچھ عجیب سے احساسات پیدا ہو جاتے تھے۔ لگتا تھا بدن میں کپکپی سی دوڑ رہی ہے۔ اتنا عرصہ گزر گیا۔ آج بھی بال جبریل کے یہ اشعار پڑھتا ہوں تو نجانے کیوں حلق نمکین ہو جاتا ہے ، بدن میں رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ یک بیک سارے عالم پر سناٹا چھا گیا ہو اور اقبال کی آواز ایک گونج کی شکل میں مشرق تا مغرب افق تا افق لہرانے لگی ہو ۔۔۔۔۔۔

*****
گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر
ہوش و خرد شکار کر ، قلب و نظر شکار کر
باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے ، اب مرا انتظار کر

خردمندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں ، میری انتہا کیا ہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تیری رضا کیا ہے

تُو اپنی خودی کو کھو چکا ہے
کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر
بےذوق نہیں ہے اگرچہ فطرت
جو اس سے نہ ہو سکا ، وہ تُو کر !

تُو شاہیں ہے ، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
یا وسعتِ افلاک میں تکبیرِ مسلسل
یا خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات

ترے سینے میں دم ہے ، دل نہیں ہے
ترا دم گرمی محفل نہیں ہے
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے ، منزل نہیں ہے

محبت کا جنوں باقی نہیں ہے
مسلمانوں میں خوں باقی نہیں ہے
صفیں کج ، دل پریشاں ، سجدہ بےذوق
کہ جذبِ اندروں باقی نہیں ہے

جوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا! آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل ، وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں ، تُو باقی نہیں ہے

اس کی امیدیں قلیل ، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دل فریب ، اس کی نگہ دل نواز
نرم دمِ گفتگو ، گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم ہو ، پاک دل و پاک باز

یہ غازی ، یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی

ترے صوفے ہیں افرنگی ، ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہ ہو نومید ، نومیدی زوال علم و عرفاں ہے
امید مرد مومن ہے خدا کے رازدانوں میں
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے ، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

2 comments:

  1. بالِ جبریل واقعی ایک شاہکار ہے۔

    ReplyDelete
  2. یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے
    جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
    دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
    سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
    شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
    نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
    خیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے
    قبا چاہیئے ان کو خونِ عرب سے

    جب قومیں بے حس ہو جاتی ہیں یا مادہ پرست ہو جاتی ہیں تو وہ مال پر بھروسہ کرتی ہیں اور مال دینے والے کو بھول جاتی ہین ۔ ایسیہی بہت سی قوموں کا نام و نشان بھی آج باقی نہیں ہے

    ReplyDelete