2009/05/21

جذبات کا آن لائن سفر

ہمارے ایک دوست نے کہا ہے :
زباں سے کہہ بھی دیا کہ دیارغیرمیں ‌ہوں مطمئن تو کیا حاصل
دل و نگاہ ، وطن میں تو دیار میں کچھ بھی نہیں

مزید لکھتے ہیں :
معیشت کے لئے ایک جم غفیر کا اپنے وطنوں سے دور ہونا۔۔۔ ضرور میشیت الٰہی کے تحت ہوا ہوگا ۔۔۔ لیکن۔۔۔ اسکے دور رس اثرات سے ہم انکار کر ہی نہیں‌ سکتے۔۔۔۔۔
ایک فیملی کا۔۔۔ واقعہ ملاحظہ ہو۔۔۔
جب وہ گھر سے نکلے۔۔۔ کچھ تو ٹمپٹیشن کا شکار تھے تو کچھ۔۔۔ضروریات۔۔۔5 سال تو۔۔۔۔ایسے ہی نکل گئے۔۔۔پھر شادی کے بعد۔۔۔مزید 15 سال ایسے ہی نکل گئے۔۔۔پھر۔۔۔۔اسکے بعد۔۔۔تعلیم وغیرہ کے لئے جب فیملیی کو بچوں کے ہمراہ وطن بھجایا۔۔تب۔۔۔مزید 10 سال ایسے ہی نکل گئے۔۔۔لیکن عمر عزیز کے آخری وقت یعنی اپنی ضعیفی میں‌ جب۔۔۔۔۔ وہ اپنے گھر کو لوٹے۔۔۔تب۔۔۔انکے اپنے لڑکوں‌اور لڑکیوں ‌سے انکا تعلق۔۔۔ایک سوالیہ نشان بن گیا تھا۔۔۔وہ تو ایک چیک کی حیثیت بن چکے تھے۔۔۔۔یہاں تک تو ٹھیک تھا۔۔۔لیکن انکی اپنی شریک حیات بھی انہیں اب بار سمجھنے لگی تھین۔۔۔۔۔۔
اس کیفیت میں وہ ۔۔۔2 سال تک۔۔۔اپنے ہی گھر میں اجنبی بنکر۔۔۔۔پھر۔۔۔۔۔اپنے فیملی اور بچوں کے بے حد اصرار پر۔۔پھر سے۔۔۔مزید کچھ نئے عزائم لیکر ۔۔۔اپنے عمر کے آخری حصے میں۔۔۔پھر سے۔۔۔دیار غیر روانہ ہوگئے۔۔۔۔۔

جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے ضروری تو نہیں کہ ہر پردیسی کے ساتھ ایسا ہو ہاں اکثریت کے ساتھ ایسا ہوتا دیکھا اور سنا گیا ہے۔
دوسری بات یہ کہ مشرق میں ابھی وہ نظام باقی ہے جو رشتہ دار دوست احباب کو آپس میں جوڑے رکھتا ہے جبکہ مغرب میں مادیت پسندی نے اس نظام کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا ہے۔ اور بڑے دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ اب یہی تباہی آہستہ آہستہ مشرق میں بھی اپنے پنجے پھیلا رہی ہے۔ ڈش چینلوں کے موجودہ پروگرام ڈرامے کہانیاں کیا اسکی عکاسی نہیں ہیں؟
آج سے کوئی عشرہ دو عشرہ قبل جو سادہ دل اور پُرخلوص معاشرہ پایا جاتا تھا کیا بعینہ وہی معاشرہ آج موجود ہے؟ سوال بڑا تلخ ہے۔ جواب بھی شائد ہمارے لیے تلخ نکلے۔

دنیا کے گلوبل ولیج بن جانے کے سبب بھی انتشار پھیلا ہے۔ جذبات بٹ گئے ہیں ، رشتے بٹ گئے ہیں ، دوستی ملک ملک بکھر گئی ہے۔
بیوی، پنڈی کے کسی دیہات میں یا بہار کے کسی ناخواندہ علاقے میں مقیم ہے تو شوہر نیویارک جیسے چمکتے دمکتے شہر میں۔ والدین مشرق کے کسی پسماندہ علاقے میں تو اولاد ترقی یافتہ ممالک کے مختلف نامور شہروں میں ، وہ دوست جنہوں نے ایک ہی غریب شہر کے اکلوتے انجینرنگ یا میڈیکل کالج میں تعلیم پائی تھی آج وہی دنیا کے مختلف کونوں میں بغرض معاش آباد ہیں۔
اور اتنا سب ہونے کے بعد بھی گلوبل ولیج کا کونسپٹ اس قدر طاقتور ہے کہ اس نے ان تمام کو پھر بھی الکترانک ذرائع سے جوڑے رکھا ہے۔

ماحاصل یہ کہ ۔۔۔۔
جذبات ۔۔۔ دورِ حاضر میں آن لائن سفر کر رہے ہیں !!

2 comments:

  1. بھلائی اور بُرائی کے درمیان ایک نہائت باریک لکیر ہوتی ہے ۔ کوئی شخص ایک بھکاری کو ایک روپیہ دیتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے سوچا بیچارہ محروم ہے اور مجھے اللہ نے دیا ہے تو اس میں سے اسے دینا چاہیئے ۔ وہ اچھا بن گیا دوسرا شخص بھکاری سے جان چھڑانے کیلئے دیتا ہے یا اس خیال سے دیتا ہے کہ اسے اچھا سمجھا جائے تو وہ بُرا بن گیا ۔
    پہلی صورت انسانیت ہے اور دوسری صورت مادیت ۔ دنیا کی اکثریت مادیت کی طرف دوڑی جا رہی ہے اس لئے انسنی قدریں ختم ہو رہی ہیں ۔ لیکن اللہ کا بنایا ہوا نظام کچھ ایسا ہے کہ اچھائی کو مٹایا نہیں جا سکتا ۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ اسلام کا بول بالا کرنے والے یہود و نصارٰی کے درمیان میں سے اُٹھیں گے ۔ یہی سوچ یہود و نصارٰی کو عراق ۔ افغانستان اور پاکستان کی طرف کھینچ لائی ہے جہاں وہ اسلام کو مار دینا چاہتے ہیں لیکن اسلام تو زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

    ReplyDelete
  2. بہت پر مغز تحریر لکھی ہے
    میرا ایک دوست کہت اہے کہ
    بندہ دبئی نہیں جاتا
    سراصل اس کے گھر والاے جاتے ہیں
    میرا تجربہ اور تجزیہ کہتا ہے کہ یہ بالکل ٹھیک بات ہے
    اس لئے میں نے بہتر سمجھا کہ جس پسماندگی میں گھر والے رہیں وہیں میں بھی رہوں
    یہ نا ہو جب واپسی ہو تو بچے باپ کی بجائے منشی کے نام سے جانتے ہوں
    ;)

    ReplyDelete