2009/06/27

بیسویں صدی کی دو ادبی تحریکیں

ترقی پسندی

سن 1936ء میں لندن میں مقیم کچھ ہندوستانی ادیبوں نے جن میں سجاد ظہیر اور ڈاکٹر ملک راج آنند وغیرہ شامل تھے ، ایک ادبی انجمن کا خاکہ مرتب کیا اور " انجمن ترقی پسند مصنفین" کی بنیاد ڈالی ۔ انگریزی میں اس کا نام رکھا گیا :
Progressive Writers Association
اس کی پہلی سالانہ کانفرنس 1936ء میں ہی بمقام لکھنؤ منعقد ہوئی ۔ اُس وقت کے صفِ اوّل کے ادیب منشی پریم چند نے اس کی صدارت کی اور اپنے خطبہ میں وہ یادگار جملہ ادا کیا :
" ہمیں اپنے حسن کا معیار بدلنا ہوگا ! "

انجمن کے مقاصد میں ۔۔۔ مزدوروں اور کسانوں کے مسائل کو ادب میں پیش کرنا ، ہندوستان کی جدوجہد ِ آزادی میں ادیبوں کو اپنے قلم کے ذریعے شریک ہونے کی تلقین ، اور سب سے بڑا بنیادی مقصد سامراج اور سرمایہ داری کے خلاف بغاوت اور دولت کی مساویانہ تقسیم کی حمایت ۔۔۔ شامل تھے ۔


جدیدیت

بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں جب کہ ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی ، اس کے محاذی ایک اور تحریک پروان چڑھی ۔ اس کا نام توخیر بہت بعد میں '' جدیدیت '' یعنی (Modernism) پڑا ۔ لیکن ترقی پسندی کی مخالفت میں لاہور کے ''حلقہ ئ ارباب ِ ذوق '' والے اس میں پیش پیش تھے ۔
حلقہ ئ اربابِ ذوق میں ۔۔۔ میرا جی ، ن۔م۔راشد ، مختار صدیقی ، تصدق حسین خالد ، قیوم نظر وغیرہ شامل تھے ۔ اُن شعراء / ادباء کا یہ نظریہ تھا کہ ۔۔۔ ادب کو کسی نظریے کا پابند نہیں ہونا چاہئے ، بلکہ انکشافِ ذات اور اپنی داخلی کیفیات کے اظہار کو نمایاں کرنا چاہئے۔


مزید تفصیل یہاں پڑھئے : ترقی پسند تحریک اور جدیدیت

1 comment: