2009/08/09

اے کاش کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

ہم فتنوں کے دَور سے گزر رہے ہیں !!
تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنوں کی یورش و یلغار ہے۔ بڑے بڑے عقلاء کی عقلیں حیران ہیں کہ کیا کریں ؟
کس مسئلے پر اپنا احتجاج کریں اور کس طرح کریں؟
ہمارا دشمن اسلام دشمنی میں منظم ہے اور اہل اسلام میں انتشار و خلفشار ہے۔
ہم اپنے پاس سب کچھ رکھتے ہوئے بھی دوسروں کے محتاج ہیں ۔۔۔ تہذیب میں ، سیاست میں ، اقتصادیات میں بھی اور تعلیم و تربیت میں بھی۔

یہ آزمائشیں اور فتنے ہمارے اپنے اعمال و عقائد کا نتیجہ ہیں اور اعمال و عقائد کی طرف ہماری مطلقاً توجہ نہیں ۔۔۔ بس ایک ہوس و خواہش کا طوفانِ بلاخیز ہے ، جس میں اپنی اپنی ہمت کے مطابق بلکہ اپنی بساط سے کہیں زیادہ ہم تیر رہے ہیں اور سیراب نہیں ہوتے !

بڑے افسوس کی بات ہے کہ ۔۔۔۔
ہمارے وہ جلسے جس کسی مسئلے پر احتجاج کے لیے منعقد ہوتے ہیں ، ان میں اس بات پر درد و کرب کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ہمارے قرآن کریم کے خلاف جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ نہایت قابل مذمت ہے ، ایسے عناصر زمین پر بوجھ ہیں ، ان کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے۔
لیکن ۔۔۔۔
اس عنوان پر احتجاج کرنے والے قرآن مجید کے کتنے ہی صریح احکامات کی برسرعام خلاف ورزی کرتے ہیں ، اس پر سوچنے کی کسی کو فرصت نہیں !
اسی لیے قرآن میں ایک ایسی ہی قوم کی مثال میں فرمایا گیا ہے :
کتاب اٹھانے کے باوجود کتاب کے حامل نہیں ہیں ، ان کی مثال ان گدھوں کی سی ہے جن پر کتابوں کا انبار لدا ہوا ہے مگر اس سے بےبہرہ ہیں۔

کاش ۔۔۔۔۔۔
کاش کہ ہم ایسے کڑے وقت میں تدبر اور حکمت عملی سے آگے بڑھیں اور اپنے آپ کو قرآن اور للٰہیت کے رنگ میں مکمل طور پر رنگ لیں جو کہ سب سے اچھا رنگ ہے۔
کاش کہ ہمارا مقصود اتباع قرآن و سنت ہو جائے
کاش کہ ہم اپنے آس پاس کے ماحول کو اسلامی تعلیمات کے بےلوث چراغ سے روشن کر دیں
کاش کہ ہم اپنے ماحول کو قرآن و سنت کا آشنا بنا دیں
کاش کہ ہر حالت میں ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے کی عادت اپنا لیں ۔۔۔
کاش کہ ۔۔۔۔
کاش کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 comment:

  1. اسی لیے قرآن میں ایک ایسی ہی قوم کی مثال میں فرمایا گیا ہے :
    کتاب اٹھانے کے باوجود کتاب کے حامل نہیں ہیں ، ان کی مثال ان گدھوں کی سی ہے جن پر کتابوں کا انبار لدا ہوا ہے مگر اس سے بےبہرہ ہیں۔
    بس یہ ہے اصل بات !کہ ہم جس قوم سے شدید نفرت کرتے ہیں اپنے ہر عمل میں اس کے مشابہ ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے مسلمان اور بنی اسرائیل ایک دوسرے سے اتنے مشابہ ہوجائیں گے جیسے دو جوتے ایک دوسرے سے مشابہ ہوتے ہیں اور یہ ثابت ہورہا ہے :(

    ReplyDelete