2009/12/11

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن ۔۔۔

25 نومبر 2009ء کو جدہ میں ہونے والی طوفانی بارش نے جہاں جدہ (سعودی عرب) کے شہریوں کو بے شمار غم اور دردناک سانحوں سے دوچار کیا ہے وہیں انسانیت نواز واقعات نے تمام فرزندانِ اسلام خصوصاً پاکستانی کمیونٹی کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
32 سالہ پاکستانی نوجوان فرمان علی خان نے 14 افراد کی جان بچا کر 15 ویں شخص کو بچاتے ہوئے موت کو گلے لگا لیا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون

سعودی عرب کے اخبارات نے فرمان علی خان کی جراتمندانہ شہادت کو بہترین الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ جدہ کے شہری اس کی ہمت، انسانیت نوازی اور ایثار کے جذبے کا تذکرہ بڑے فخر و ناز اور انتہائی ممنونیت سے کر رہے ہیں۔
فرمان علی خان کے بڑے بھائی رحمٰن علی خان نے الحیاۃ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنے بھائی کی موت کا دکھ بےشک ہے لیکن جس انداز سے اس نے جامِ شہادت نوش کیا اس پر ہم سب پہلے تو رب کریم کے حضور سجدہ شکر ادا کرتے ہیں اور پھر بھائی کے کارنامے پر نازاں بھی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کے فرمان علی خان کراٹے کا چیمپیئن تھا۔اس نے جدہ میں آنے والے تاریخی سیلاب سے ٹکر لینے کی کوشش کی اور سیلاب کے جبڑوں سے 14 افراد کو نکالنے میں کامیاب ہوا، تاہم سیلاب نے اسے آخرت کے سفر پر روانہ کر دیا۔
یونیورسٹی گریجوایٹ فرمان علی دیگر رضاکارانہ سرگرمیوں کی توصیفی اسناد سے بھی اپنے سینے کو سجائے ہوئے تھا۔ ابھی وہ 16 برس کا ہی تھا کہ اس نے ایک آتشزدہ مکان میں داخل ہو کر گیس سیلنڈر نکال کر پورے محلے کو خوفناک المیے سے بچا لیا تھا۔ فرمان علی 6 برس قبل مملکت آیا تھا، اس کی تین بیٹیاں، زبیدہ (7 برس)، مدیحہ (6) برس اور جریرہ (4 برس) ہیں۔ 6 سالہ قیام کے دوران صرف دو مرتبہ ہی پاکستان گیا تھا اور سب سے چھوٹی بیٹی کو دیکھ بھی نہیں پایا تھا۔

اللہ اسے جنت الفردوس میں اعلٰی مقام سے سرفراز کرے۔ آمین !

فرمان علی کو جمعرات 10-ڈسمبر-2009ء کی دوپہر ان کے آبائی علاقے سوات میں سپردخاک کر دیا گیا۔

اس موقع پر فرمان علی کے بھائی محمد عزیز اور ان کے والد عمررحمان نے بتایا کہ خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ کی جانب سے بھی ہمارے بھائی کے کارہائے نمایاں پر انہیں تعریفی سند سے بھی نوازا گیا ہے۔

دریں اثنا فیس بک پر سعودی نوجوانوں نے متعلقہ سعودی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فرمان علی کے خاندان کو مالی امداد فراہم کی جائے اور جدہ کی ایک سڑک کو اس کے نام سے موسوم کیا جانا چاہئے۔

(خبر بشکریہ : اردو نیوز ، سعودی عرب)

ہمارے دوست رفی بھائی نے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بالکل بجا فرمایا ہے کہ :
جہاں یہ واقعہ اسلام میں انسانیت کی قدروں میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے وہیں پاکستان میں ہونے والے آئے روز کے خودکش دھماکوں نے پاکستان اور اسلام کو سرنگوں کرنے کی مکروہ سازش جاری رکھی ہوئی ہے۔
اللہ سب مسلمانوں کو ایسا جذبہ عطا کرے کہ مشرق سے مغرب تک کہیں بھی نہ صرف مسلمان بلکہ کوئی بھی انسان دکھ درد میں مبتلا ہو تو ان کی مدد اپنی جان پر کھیل کر کی جائے نہ کہ مساجد میں مشغولِ عبادت افراد کی جانیں لے کر اسلام کو بدنام کیا جائے!

2 comments:

  1. اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی مرحوم کو غریقِ رحمت کرے اور پسماندگان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اُن کی حاجات احسن طریقہ سے پوری کرے

    ReplyDelete
  2. اللہ انکے اعمال کو قبول کرے اور انہیں اس قوم کے لوگوں کے لئے ایک مثال بنا دے کہ درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔ اجمل صاحب کی دعا میں ہماری آواز بھی شامل ہے۔

    ReplyDelete