2009/12/26

ہجرت کا سبق - ' امید '

ہجرت کے تمام واقعات کا سب سے بڑا سبق "امید" ہے۔
امت ، جو مایوسیوں کے اندھیروں میں ٹھوکریں کھا رہی ہے اس کے لیے ہجرت کا واقعہ "امید کی نئی کرن" دکھاتا ہے۔

چشم فلک نے وہ وقت دیکھا ہے جب اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنی محبوب سرزمین چھوڑنی پڑی۔ نعیم صدیقی اپنی معروف تصنیف "محسنِ انسانیت" میں واقعہ کی عکاسی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
آج مکہ کے پیکر سے اس کی روح نکل گئی تھی۔ آج اس چمن کے پھولوں سے خوشبو اڑی جا رہی تھی، آج یہ چشمہ سوکھ رہا تھا، آج اس کے اندر سے بااصول اور صاحبِ کردار ہستیوں کا آخری قافلہ روانہ ہو رہا تھا۔ دعوتِ حق کا پودا مکہ کی سرزمین سے اُگا لیکن اس کے پھلوں سے دامن بھرنا مکہ والوں کے نصیب میں نہ تھا ، پھر مدینہ والوں کے حصے میں آئے۔ آج دنیا کا سب سے بڑا محسن و خیرخواہ (صلی اللہ علیہ وسلم) بغیر کسی قصور کے بےگھر ہو رہا ہے۔ کلیجہ کٹا ہوگا، آنکھیں ڈبڈبائی ہوں گی، جذبات امڈے ہوں گے مگر خدا کی رضا اور زندگی کا مشن چونکہ اس قربانی کا بھی طالب ہوا، اس لیے انسانِ کامل نے یہ قربانی بھی دے دی۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مکہ کے پہاڑوں ، گلیوں اور وادیوں پر آخری نگاہ ڈالی ، یہی وہ گلیاں، یہی وہ پہاڑ اور وادیاں ہیں جہاں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بچپن گزرا، جہاں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) جوان ہوئے۔ الوداعی نگاہ ڈالتے ہوئے مکہ سے خطاب فرمایا :
خدا کی قسم ! تو اللہ کی سب سے بہتر زمین ہے اور اللہ کی نگاہ میں سب سے بڑھ کر محبوب ہے۔ اگر یہاں سے مجھے نہ نکالا جاتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔
(ترمذی ، مسند احمد)

اللہ تعالیٰ کی رضا اور مشن کی تکمیل کے لیے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ قربانی بھی دینی پڑی مگر رہتی دنیا تک امت کے لیے ہجرت کا راستہ کھلا چھوڑا۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے فرمان کا مفہوم ہے :
ہجرت کا دروازہ اس وقت تک کھلا رہے گا جب تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور توبہ کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہوگا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۔
(ابوداؤد)
گویا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہجرت کو "تزکیہ" کا ہم معنی قرار دیا ہے۔

ایک اور جگہ پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہجرت کے حقیقی مفہوم کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
حقیقی ہجرت کرنے والا وہ ہے جس نے ان امور سے ہجرت کی (یعنی: ترک کیا) جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
(مسند احمد)

ہجرت کے ایک ایک واقعے میں "امید" کا سبق دہرایا جاتا ہے۔ مایوسیوں کے گرداب میں ڈوبتی اس امت کے دلوں میں امید کے جوت جگانے کی ضرورت ہے کہ ۔۔۔ کس طرح گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نور کی کرن پھوٹتی ہے ، شر کے قلب سے خیر کا پہلو نکلتا ہے اور غموں کے بطن سے خوشی پیدا ہوتی ہے؟
تاریخ کا وہ کون سا دَور ہے جس میں امت کو امتحانوں سے گزارا نہ گیا ہو؟
آج ایک مرتبہ پھر امید کا سبق دہرایا جانا ہے !!
زمینی حقائق کا کہنا ہے کہ چاروں طرف موت منڈلا رہی ہے مگر آسمانی حقیقت کہتی ہے کہ جو اللہ پر بھروسہ کرے گا وہی اس کے لیے کافی ہوگا۔
آج امت چہار سو خطرات کی زد میں ہے۔ امت کے افراد میں سے جو دین پر عمل پیرا ہیں ان کا حال اس شخص سے مختلف نہیں جس نے انگارہ مٹھی میں اٹھا رکھا ہو۔

اس امت کو شروع دن سے سمجھایا گیا ہے کہ ۔۔۔۔۔
تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے، بےشک تنگی کے بعد فراخی بھی ہے۔
(الم نشرح : 5-6)
اس امت کے دین میں مایوسی کفر ہے ۔۔۔
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، اللہ کی رحمت سے مایوس کافر ہی ہوا کرتے ہیں۔
(یوسف : 87)

اللہ کی رحمت ایک مرتبہ پھر ہماری طرف متوجہ ہوگی ، یقیناً اللہ کی رحمت ہم سے قریب ہے۔
ہجرت کا بھولا ہوا سبق ہمیں یاد دلا رہا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔
تاریکی کے بعد روشنی ہے ،
اندھیرا چھٹنے والا ہے اور
مومنین صادقین صبح صادق کو دیکھ کر خوش ہوں گے۔

یہی ہجرت کا سبق ہے !!


(ماخوذ از مضمون : نظر حجازی)

0 تبصرہ جات:

تبصرہ فرمائیں