2010/12/20

نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنا ۔۔۔؟

ہمارے معاشرے میں بسا اوقات ایسا دیکھا گیا ہے کہ انجانے لوگ برسرعام ہمیں ٹوک دیتے ہیں۔ کبھی کہہ دیا کہ : مردِ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ پائینچے ٹخنوں سے اوپر ہوں۔ غیروں کے فیشن کا کیا ہے ہر پل تبدیل ہوتا رہتا۔ کبھی کسی خاتون کو اٹھا کر کہہ دیا کہ سر پر دوپٹہ ڈال لینے سے آپ کا کیا بگڑ جائے گا؟ کبھی کسی بچے کو ٹوک دیا کہ خراب زبان استعمال مت کیا کرو بیٹے ، کیا ماں باپ نے ایسا ہی سکھایا ہے تمہیں؟

جی ہاں ! یہ ہمارے مسلم معاشرہ کی خصوصیات ہیں !!
کبھی عقلی طور سے سوچا جائے تو گلوبل ولیج میں یہ کچھ عامیانہ سی حرکت نظر آتی ہے۔ اور اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ یہ ناصحانہ انداز صرف مسلمانوں میں ہی کیوں؟ جبکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ پہلے خود اپنے اعمال درست کئے جائیں پھر دوسروں کو نصیحت کی جائے جیسا کہ آیتِ ربانی ہے :
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلاَ تَعْقِلُون
کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو ، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
( البقرة:2 - آيت:44 )

مگر ۔۔۔۔۔۔
کیا یہ "شرط" ضروری ہے کہ : پہلے خود کی اصلاح کر لی جائے اس کے بعد دوسروں کی اصلاح کی طرف توجہ کی جائے؟
اگر دوسروں کی اصلاح کے لیے ایسی شرط کا پورا کرنا پہلے لازم قرار دے دیا جائے تو ۔۔۔۔۔ تو پھر ہوگا یہ کہ ہم کسی کو بھی "فریضۂ احتساب" ادا کرنے والا نہ پائیں گے اور اس طرح اسلام کا ایک عظیم فریضہ "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" معطل ہو کر رہ جائے گا !!

علمائے امت نے اس بات کو نہایت واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔

وقال مالك عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن سمعت سعيد بن جُبير يقول: لو كان المرء لا يأمر بالمعروف ولا ينهى عن المنكر حتى لا يكون فيه شيء، ما أمر أحد بمعروف ولا نَهَى عن منكر. قال مالك: وصدق، من ذا الذي ليس فيه شيء!.
حضرت سعید بن جبیر (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں:
اگر کوئی شخص اس وقت تک نیکی کا حکم نہ دے ، اور برائی سے نہ روکے ، جب تک خود اس میں کوئی (برائی) نہ رہے ، تو (پھر تو) کوئی شخص نیکی کا حکم نہ دے سکے گا اور برائی سے نہ روک سکے گا۔
امام مالک (رحمة اللہ علیہ) قولِ بالا پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"اور انہوں (سعید بن جبیر) نے سچ کہا ، وہ کون ہے جس میں کوئی چیز (خرابی) نہیں؟"
بحوالہ : تفسیر قرطبی ، آیت : البقرہ-44 // آن لائن ربط

وقال الحسن لمطرِّف بن عبد اللَّه: عِظ أصحابك؛ فقال إني أخاف أن أقول ما لا أفعل؛ قال: يرحمك الله! وأيّنا يفعل ما يقول! ويودّ الشيطان أنه قد ظَفِر بهذا، فلم يأمر أحد بمعروف ولم ينه عن منكر.
حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) نے مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) سے کہا:
اپنے ساتھیوں کو نصیحت کیجئے۔
مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) نے جواباً کہا :
میں ڈرتا ہوں کہ وہ بات کہہ نہ دوں جس کو میں خود نہیں کرتا۔
یہ سن کر حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) کہنے لگے :
اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔ ہم میں کون ایسا ہے جو وہ (سب کچھ) کرتا ہے ، جو وہ کہتا ہے؟ شیطان اسی بات کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، (تاکہ) پھر کوئی نیکی کا حکم نہ دے اور نہ ہی برائی سے روکے۔
بحوالہ : تفسیر قرطبی ، آیت : البقرہ-44 // آن لائن ربط

امام طبری علیہ الرحمۃ اسی بات کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں :
واما من قال لا يأمر بالمعروف الا من ليست فيه وصمة فان أراد أنه الأولى فجيد والا فيستلزم سد باب الأمر إذا لم يكن هناك غيره
اور جس نے یہ کہا کہ :
"نیکی کا حکم وہی دے ، جس میں کوئی غلطی نہ ہو"
اگر کہنے والے کا مقصود یہ ہے کہ 'یہ بہترین صورت ہے' تو یہ عمدہ (بات) ہے۔
بصورت دیگر اس فریضہ کو ادا کرنے والے کسی دوسرے شخص کے موجود نہ ہونے کی صورت میں نیکی کے حکم دینے کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
بحوالہ : فتح الباری شرح بخاری ، باب الفتنة التي تموج كموج البحر // آن لائن ربط

امام ابوبکر الرازی الجصاص علیہ الرحمة فرماتے ہیں :
وجب أن لا يختلف في لزوم فرضه البر والفاجر لأن ترك الإنسان لبعض الفروض لا يسقط عنه فروضا غيره ألا ترى أن تركه للصلاة لا يسقط عنه فرض الصوم وسائر العبادات فكذلك من لم يفعل سائر المعروف ولم ينته عن سائر المناكير فإن فرض الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر غير ساقط عنه
(نیکی کا حکم دینے کے متعلق) لازم ہے کہ نیک اور فاسق پر اس کے واجب ہونے کے بارے میں کچھ فرق نہ ہو ، (بلکہ اس کا ادا کرنا دونوں پر واجب ہے) کیونکہ انسان کے بعض واجبات کے چھوڑنے سے دوسرے واجبات کا چھوڑنا لازم نہیں آتا !
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ نماز کا ترک کرنا ، انسان کے روزوں اور دوسری عبادات کے ترک کرنے کے لیے باعثِ جواز نہیں بن سکتا۔ اسی طرح جو شخص تمام نیکیاں بجا نہیں لا سکتا ، اور تمام برائیوں سے اجتناب نہیں کر سکتا ، اس پر سے بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا واجب ساقط نہیں ہوتا۔
بحوالہ : احکام القرآن ، امام ابی بکر الجصاص // آن لائن ربط

اور اسی بات کو امام نووی علیہ الرحمۃ ، ایک دوسرے انداز سے واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
قال العلماء: ولا يشترط في الاَمر والناهي أن يكون كامل الحال، ممتثلاً ما يأمر به، مجتنبا ما ينهى عنه، بل عليه الأمر وإن كان مخلاً بما يأمر به، والنهي وإن كان متلبسا بما ينهى عنه، فإنه يجب عليه شيئان: أن يأمر نفسه وينهاها، ويأمر غيره وينهاه. فإذا أخل بأحدهما كيف يباح له الإخلال بالاَخر؟
علمائے کرام نے کہا ہے کہ (نیکی کا) حکم دینے اور (برائی سے) روکنے والے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ خود درجۂ کمال کو پہنچا ہوا ہو۔ بلکہ اس پر (نیکی کا) حکم دینا واجب ہے، اگرچہ وہ اسے پوری طرح ادا کرنے والا نہ ہو۔ اسی طرح (برائی سے) روکنا اس پر فرض ہے اگرچہ اس کا دامن اس (برائی) سے آلودہ ہی کیوں نہ ہو۔
پس اس پر دو چیزیں واجب ہیں :
1۔ اپنے نفس کو (نیکی کا) حکم دے اور (برائی سے) روکے
2۔ دوسروں کو (نیکی کا) حکم دے اور (برائی سے) روکے
اور اگر اس نے ایک واجب میں کوتاہی کی ، تو اس کے لیے دوسرے واجب میں غفلت برتنا کیسے جائز ہو گیا؟
بحوالہ : عون المعبود شرح سنن أبي داود - كِتَاب الْمَلَاحِمِ // آن لائن ربط

بےشک یہ بات درست نہیں کہ خود سراسر بےعمل ہو کر دوسروں کو نصیحتیں کرتے جائیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" کا فریضہ اسلیے چھوڑ دیا جائے کہ خود ہم "بےعمل" ہیں۔
سورہ البقرہ کی بالا آیت:44 کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :
وليس المراد ذمهم على أمرهم بالبر مع تركهم له
اس آیت سے مراد یہ نہیں کہ نیکی کا حکم دینے کے ساتھ نیکی ترک کرنے پر ان کی مذمت کی گئی ہے ، بلکہ نیکی کے چھوڑنے پر (ان کی مذمت کی گئی) ہے۔
بحوالہ : تفسیر ابن کثیر ، آیت : البقرہ-44 // آن لائن ربط

اسی طرح امام قرطبی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اعلم وفّقك الله تعالى أن التوبيخ في الآية بسبب ترك فعل البر لا بسبب الأمر بالبر
جان رکھو ! اللہ تعالیٰ تجھے توفیق دے کہ اس آیت میں توبیخ کا سبب نیکی کا نہ کرنا ہے ، نیکی کا حکم دینا باعثِ توبیخ نہیں۔
بحوالہ : تفسیر قرطبی ، آیت : البقرہ-44 // آن لائن ربط

کم سے کم ہمارا معاشرہ اس قدر تو زندہ ہے کہ لوگ بےعمل سہی مگر امر بالمعروف و نھی عن المنکر کا ہی کچھ خیال کر لیتے ہیں۔ اگر یہ بھی باقی نہ رہے تو پھر وہی ہوگا جس کی طرف حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ :
شیطان اسی بات کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، (تاکہ) پھر کوئی نیکی کا حکم نہ دے اور نہ ہی برائی سے روکے !!

4 comments:

  1. نہایت عمدہ موضوع ہے لیکن میرے خیال میں یہاں دو چیزیں زیر بحث آئی ہیں ایک اخلاقی اصول اور دوسرا واجب.
    دین کا ، عقل کا اور اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ آپ اس چیز کی تبلیغ نہ کریں جو خود آپکے عمل میں نہ ہو. لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ آدمی مطمئن ہو کر بیٹھہ جائے. کوشش کر کے اس راہ پر قدم رکھے اور پھر اسکی نصیحت لوگوں کو کرے. اسکی مثال ہمیں اسوہ حسنہ میں ملتی ہے کہ جب ایک عورت نبی کریم صلی الله علیھ وسلم کے پاس آئی اور درخواست کی کے آپ صلی الله علیھ وسلم میرے بیٹے کو نصیحت کریں کہ یہ گڑ نہ کھائے. آپ صلی الله علیھ وسلم نے اس عورت کو دوسسرے دن بلایا اور پھر اسکے بیٹے کو نصیحت کی. وجہ اسکی یہ تھی کے اس دن نبی کریم صلی الله علیھ وسلم نے خود گڑ کھایا ہوا تھا.
    میرا خیال ہے کہ جب تک آپ خود کسی فعل کے عامل نہ ہوں تب تک اس فعل کی نصیحت لوگوں کو نہ کریں کیونکہ اول تو آپ کے قول میں وہ اخلاقی قوت نہیں ہوگی جو ایک نصیحت کو اثر پذیر بناتی ہے اور دوسرے اسکا منفی رد عمل ہونے کے قوی امکانات ہوں گے. الله سبحانه تعالیٰ سب کو عمل کرنے اور اور اسکی نصیحت کرنے کی توفیق اتا فرمائے. آمین

    ReplyDelete
  2. آپ کی باتیں گو اچھی سہی مگر معذرت کہ میرا ان سے اتفاق ممکن نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میرے مطالعے میں ائمہ دین کی جو تشریحات ہیں اس کے مطابق یہ نظریہ درست نہیں کہ : آپ اس چیز کی تبلیغ نہ کریں جو خود آپکے عمل میں نہ ہو۔
    آپ نے اس نظریے کی دلیل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب جو گڑ والا واقعہ بتایا ہے میرے علم کے مطابق یہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔
    ان شاءاللہ کبھی موقع ملے تو اس موضوع پر مزید لکھوں گا۔ ویسے آپ کا شکریہ کہ آپ نے اس تحریر کو اپنے موقر تبصرہ سے نوازا۔

    ReplyDelete
  3. خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
    ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توقیر
    اقبال

    ReplyDelete
  4. @ عنیقہ ناز

    کم سے کم مجھے تو علم نہیں ہے کہ علامہ اقبال علیہ الرحمۃ نے اس شعر کے ذریعہ ائمہ دین رحمہم اللہ کو متہم کیا ہو یا ان کی تحقیر کی ہو۔
    معروف تابعی حضرت سعید بن جبیر ، حضرت حسن بصری علیہم الرحمۃ اور معروف مفسرین امام طبری ، امام ابن کثیر ، امام قرطبی ، امام الرازی الجصاص رحمۃ اللہ علیہم ۔۔۔۔ کی جانب سے کی گئی کسی آیت / آیات کی تشریح اگر ہمیں "غیر صحیح" نظر آئے تو چاہئے کہ "صحیح تشریح" کی تلاش کریں اور اسے سامنے لائیں۔

    ReplyDelete