2010/10/09

تقدیر اور تدبیر

انسان اپنے اعمال و افعال میں بس ایک حد تک مختار ہے ، مختارِ مطلق یا مختارِ کُل نہیں ہے۔ اور اس اختیار کی حدود مقرر کرنا ، انسان کے بس کی بات بھی نہیں ہے یعنی یہ بات انسان کی عقل و فہم سے بالاتر ہے۔
ایک کسان بڑے عمدہ بیج ، بالکل درست موسم میں اور بڑی زرخیز زمین میں بوتا ہے ، رکھوالی کرتا ہے ، پانی بھی خوب دیتا ہے لیکن عین فصل پکنے کے قریب کسی ارضی یا سماوی آفت کے سبب ساری فصل تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔
اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان خود کچھ محنت نہیں کرتا مگر دوسروں کی محنت کا ثمر اسے مل جاتا ہے۔

لہذا جبر و قدر کے اس مسئلہ کا درست حل یہی بنتا ہے کہ اللہ تعالٰی کو عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير مانا جائے۔
اچھی اور بری تقدیر دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور ان دونوں پر ایقان رکھنا مسلمانوں کے ایمان میں داخل ہے۔ جیسا کہ حدیثِ جبریل سے واضح ہے :
وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ
جامع ترمذی ، کتاب الایمان

ویسے یہ بھی یاد رہے کہ صرف تقدیر پر بھروسہ کر کے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیکار بیٹھے رہنے سے شریعت میں منع کیا گیا ہے۔
جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک مشہور روایت سے پتا چلتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بتایا کہ ہر شخص کا جنت یا جہنم والا ٹھکانہ لکھا جا چکا ہے تو صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) نے جواب میں عرض کیا کہ :
"پھر کیوں نہ ہم تقدیر پر بھروسہ کر لیں اور نیک عمل کرنا چھوڑ دیں؟"
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا :
اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ
عمل کرو۔ ہر شخص کو ان اعمال کی توفیق دی جاتی ہے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ جو شخص نیک ہوگا اسے نیکوں کے عمل کی توفیق ملی ہوتی ہے اور جو بدبخت ہوتا ہے اسے بدبختوں کے عمل کی توفیق ملتی ہے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات {فَأَمَّا مَن أَعْطَى وَاتَّقَى : سورہ-92- الليل} آخر تک پڑھیں ، یعنی :
جس نے دیا (اللہ کی راہ میں) اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات کو سچا سمجھا ، سو ہم اس کے لیے نیک اعمال کو آسان کر دیں گے۔
صحیح بخاری ، کتاب التفسیر

ان احدیث کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ تقدیر پر ایمان ، انسان کو عمل سے نہیں روکتا بلکہ اس کے اندر مزید شوق و ولولہ پیدا کرتا ہے کیونکہ وہ جان لیتا ہے کہ ہر انسان کو اس کے مقدر کے حصول کے لیے اللہ کی جانب سے مدد اور توفیق عطا ہوتی ہے اور عمل شروع کرنے سے اس کے مقدر کی راہ آسان ہو جاتی ہے۔
ونیز تقدیر پر ایمان لانے کا لازمی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ انسان اپنی کسی بھی کوشش و سعی کے رائیگاں ہو جانے کا غم نہیں کرتا بلکہ اس نقصان کو اپنی تقدیر کا لکھا سمجھ کر صبر کرتا ہے اور جتنا کچھ اسے ملتا ہے اسی پر قناعت کرتا ہے۔

تقدیر کے مسئلہ پر گفتگو کرنے سے ممانعت کے سلسلے میں یہ دو روایات ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کی جاتی ہیں :
1 :
إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حِينَ تَنَازَعُوا فِي هَذَا الْأَمْرِ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ أَلَّا تَتَنَازَعُوا فِيهِ
(تقدیر کی) انہی باتوں سے پچھلی قومیں ہلاک ہوئیں۔ میرا فیصلہ یہ ہے کہ تم اس معاملہ میں جھگڑا نہ کرو۔
جامع ترمذی ، کتاب القدر

2 :
مَنْ تَكَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدَرِ سُئِلَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ لَمْ يُسْأَلْ عَنْهُ
جو شخص تقدیر کے بارے گفتگو کرے گا قیامت کے دن اس سے سوال کیا جائے گا، جو خاموش رہے گا اس سے کچھ سوال نہ ہوگا۔
سنن ابن ماجہ ، باب فی القدر

واضح رہے کہ محدثین کی تحقیق کے مطابق : یہ دونوں ہی روایات شدید ضعیف ہیں۔

2010/10/04

ویب صفحات پر غزل جسٹی فیکیشن

اردو کے ویب صفحات پر غزل جسٹی فیکیشن (poetry justification) کے حوالے سے عرصہ دراز سے کوئی مناسب حل ڈھونڈا جا رہا ہے۔
W3C پر CSS3 کی تحقیق کرتے ہوئے جب میں نے یہ لفظ سرچ کیا : Asian typography

تو یہ صفحہ سامنے نظر آیا ہے :
Last line alignment: the 'text-align-last' property

CSS3 کے اس کوڈ کو لے کر میں نے مختلف براؤزرز میں تجربات کئے۔
انٹرنیٹ اکسپلورر اور اوپیرا پر "غزل جسٹی فیکیشن" کا یہ سی-ایس-ایس کوڈ بہترین مطلوبہ نتائج دکھاتا ہے۔
مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ موزیلا فائرفاکس ، سفاری اور گوگل کروم ، CSS3 کے اس ٹکسٹ-جسٹی فیکیشن کو سپورٹ نہیں کرتے !!

سی ایس ایس کوڈ یہ ہے :

[div style="font-family: Jameel Noori Nastaleeq, Alvi Nastaleeq, Urdu Naskh Asiatype, Tahoma; font-size: 18px; line-height: 125%; text-align-last: justify; text-align: justify; text-justify: distribute; width: 80%;"]اردو غزل[/div]

میں نے کئی گھنٹے کسی ہیک کی تلاش میں مشغول کئے کہ کسی طرح CSS3 کی اس ٹکسٹ-جسٹی فیکیشن سہولت کو فائر فاکس اور کروم میں بھی کارآمد بنایا جائے۔ مگر سوائے اس ہیک کے ، کوئی مفید تحریر نہیں ملی :
William’s Blog - Justifying text

ابھی میں نے اس ہیک کو ٹسٹ نہیں کیا ہے۔ فرصت ملتے ہی دیکھوں گا ، ان شاءاللہ۔
آپ مسدس حالی کا ایک بند اس کوڈ کے سہارے ، یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
جسٹی فیکیشن میں قید اس شاعری کو پڑھنے کے لیے انٹرنیٹ اکسپلورر یا اوپیرا براؤزر استعمال کیجئے گا۔
انٹرنیٹ اکسپلورر کا اسکرین شاٹ

مگر دینِ بر حق کا بوسیدہ ایواں
تزلزل میں مدت سے ہیں جس کے ارکاں

زمانہ میں ہے جو کوئی دن کا مہماں
نہ پائیں گے ڈھونڈا جسے پھر مسلماں

عزیزوں نے اُس سے توجہ اٹھا لی
عمارت کا ہے اس کی اللہ والی

پڑی ہیں سب اجڑی ہوئی خانقاہیں
وہ درویش و سلطاں کی امید گاہیں

کھلیں تھیں جہاں علمِ باطن کی راہیں
فرشتوں کی پڑتی تھیں جن پر نگاہیں

کہاں ہیں وہ جذبِ الٰہی کے پھندے
کہاں ہیں وہ اللہ کے پاک بندے

وہ علمِ شریعت کے ماہر کدھر ہیں
وہ اخبار دیں کے مبصر کدھر ہیں

اصولی کدھر ہیں، مناظر کدھر ہیں
محدث کہاں ہیں، مفسر کدھر ہیں

وہ مجلس جو کل سر بسر تھی چراغاں
چراغ اب کہیں ٹمٹاتا نہیں واں

مدارس وہ تعلیم دیں کے کہاں ہیں
مراحل وہ علم و یقیں کے کہاں ہیں

وہ ارکان شرعِ متیں کے کہاں ہیں
وہ وارث رسولِ امیں کے کہاں ہیں

رہا کوئی امت کا ملجا نہ ماویٰ
نہ قاضی نہ مفتی نہ صوفی نہ مُلّا

کہاں ہیں وہ دینی کتابوں کے دفتر
کہاں ہیں وہ علمِ الٰہی کے منظر

چلی ایسی اس بزم میں بادِ صرصر
بجھیں مشعلیں نورِ حق کی سراسر

رہا کوئی ساماں نہ مجلس میں باقی
صراحی نہ طنبور، مطرب نہ ساقی

2010/10/02

بہتر کون ۔۔۔ ؟!

کچھ لوگ اٹھ آتے ہیں بہتر معاشی یا سماجی یا تعلیمی پس منظر سے اور کامیابی بھی حاصل کر جاتے ہیں۔
اور کچھ کا نقطۂ آغاز انتہائی نچلی سطح یعنی کہ صفر سے شروع ہوتا ہے ، ایک ایک سنگِ میل عبور کرنے انہیں مستقل مزاجی سے سخت ترین محنت کرنا پڑتی ہے۔

کامیابی کا تقریباً ایک ہی مقام حاصل کرنے والے درج بالا دونوں طبقوں کے افراد کا تقابل اگر کیا جاتا ہے تو ان کے نقطۂ آغاز اور ان کے وہ تمام حالات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہئے جن سے گزر کر وہ اس مقام تک پہنچے ہیں۔

جب ایک انسان زندگی میں انتہائی نچلی سطح سے جدوجہد شروع کرتا ہے اور اس کی مدد اور رہنمائی کے ذرائع بھی کمزور ہوتے ہیں تو ناموافق حالات کی وجہ سے زندگی میں ترقی کے منازل طے کرنے میں اسے بڑی مستقل مزاجی سے سخت محنت کرنا پڑتی ہے اور ہر سنگِ میل عبور کرنے کے لیے بیشمار سختیاں جھیلنی پڑتی ہیں۔

لہذا ایسے انسان کی کامیابی ایک ایسے شخص کی کامیابی سے بڑھ کر ہے جو زندگی میں تو اسی مقام پر پہنچا لیکن اس کا معاشی اور سماجی پس منظر بہتر اور اعانت و تعاون کا نظام مستحکم تھا۔

جناب سید نوید حیدر جعفری ، کامیابی کے اصولوں کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔
حقیقی دنیاوی کامیابی کو سمجھنے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کامیابی ہمیشہ جیتنے کا نام نہیں !
بلکہ اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ہار جانا یا پیچھے ہٹ جانا بھی اپنے اندر ایک طرح کا مستحسن عمل ہے۔
اگر کسی کی جیت میں "اصول" اور "انصاف" ہار جاتے ہیں تو چاہے کامران شخص نے اپنی جیت میں کچھ بھی حاصل کیا ہو مگر وہ دراصل اُس کا حق نہیں ہوتا بلکہ اس نے کسی اور کا حق غصب کیا ہوتا ہے۔

لہذا دیکھنے کی بات یہ بھی ہوتی ہے کہ کامیاب انسان نے اپنے اہداف تک پہنچنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا ہے؟ کیونکہ ۔۔۔۔
جب اپنے مقاصد کے حصول کے لیے صحیح راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو راستے کی سختیاں اور مشقت کامیاب انسان کو ذاتی طور پر مضبوط اور کردار کی سطح پہ بلند کرتی ہیں۔
اور یہی حقیقتاً کسی بھی کامیابی کی روح ہے !

اسی لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کوئی انسان زندگی میں کس مقام پہ پہنچا بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ کس راستے سے اور کن حالات سے گزر کر وہ اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکا ہے؟