2011/11/26

نیا ہجری سال 1433 مبارک ہو

نئے ہجری سال 1433 کی آمد آپ سب کو مبارک ہو۔
آج بمطابق عیسوی تقویم ، 26/نومبر 2011 کو سعودی عرب میں یکم محرم الحرام قرار پائی ہے۔

ہر نیا ہجری سال ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم ہجرت کی یاد دلاتا ہے!
وہ ہجرت جس کے باعث اسلام کا غلبہ اور اقتدار ہوا اور جس کی وجہ سے مدینہ منورہ کی پہلی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا ، یہی وہ ہجرت تھی جس کے باعث بدر و حنین اور باقی فتوحات حاصل ہوئیں۔
سفرِ ہجرت ہمیں ان واقعات میں پوشیدہ اسباق پر روشنی ڈالنے اور تجدیدِ عہد کی بھی دعوت دیتا ہے۔ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کا سفرِ ہجرت گوکہ اسلامی تاریخ کا روشن باب ہے تاہم یہ وقت کے ساتھ قید ہے مگر مسلمان کے لیے قیامت تک کے لیے ہجرت کا دروازہ کھلا ہے۔

نیا ہجری سال دعوتِ غور و فکر دے رہا ہے۔ ہم نے اپنی عمر عزیز کا ایک قیمتی سال مکمل کر لیا بلکہ شاید یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ ہماری عمر عزیز کا ایک سال کم ہوا۔
نیا سال دعوتِ محاسبۂ نفس بھی دے رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا ہر گزرنے والا لمحہ اگر ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کر رہا تو دور کرنے کا سبب بن رہا ہے اسلیے کہ انسان وقت کے ہاتھوں محکوم و مجبور ہے۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ہم گذشہ سال کے شب و روز کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ آیا ہم اللہ کے قریب ہوئے ہیں یا گذشتہ سال کے ایام نے ہمیں اللہ تعالیٰ سے مزید دور کر دیا ہے؟
ایک حوالے سے ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے دین نے ہمارے لیے توبہ کا نظام متعارف کروایا ہے۔ سال گذشتہ میں ہوئیں اپنی کوتاہیوں ، نادانیوں اور غلطیوں پر نادم و شرمسار ہو کر آئیے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کریں اور آئیندہ عمل صالح کا عزم کریں ۔۔۔ امید ہے کہ اللہ رب العزت اپنے فضل و کرم سے سابقہ گناہوں کو معاف فرما دے گا بلکہ اپنے خاص لطف و کرم سے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دے گا۔ ان شاءاللہ۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو واقعۂ ہجرت سے صحیح سبق سیکھنے اور غلبۂ دین کی خاطر اللہ کی رضا کے لیے پہلے اپنے اخلاق و کردار کو سنوارنے پھر تبلیغ دین کی سعئ پیہم کی توفیق عطا فرمائے ، آمین یارب العالمین۔

2011/10/16

ڈاکٹر محمد حمید اللہ اور صحیفہ ہمام بن منبہ

ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیدائش: [حیدرآباد دکن] 9 فروری 1908ء ، انتقال : [امریکہ] 17 دسمبر 2002ء) معروف محدث، فقیہ، محقق، قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد حضرت ہمام ابن منبہ کے صحیفے کی دریافت اور اس کی تدوین کا کام ڈاکٹر حمید اللہ کا بہت بڑا کارنامہ تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ فرانسیسی زبان میں ان کے ترجمہ قرآن کی اہمیت بھی مسلم ہے۔

صحیفہ ہمام بن منبہ کے دو مخطوطے ڈاکٹر حمید اللہ کو دستیاب ہوئے تھے، جن میں بال برابر بھی فرق نہ تھا۔ ایک دمشق میں تھا اور دوسرا برلن میں۔ اس صحیفے میں کل 138 احادیث موجود ہیں۔
مولانا عبدالرحمٰن کیلانی (علیہ الرحمۃ) لکھتے ہیں :
صحیفہ ہمام بن منبہ ، جسے ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے حال ہی میں شائع کیا ہے ، یہ ہمام بن منبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں۔ جنہوں نے یہ صحیفہ (جس میں 138 حدیثیں درج ہیں) لکھ کر اپنے استاد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (وفات:58ھ) پر پیش کر کے اس کی تصحیح و تصویب کرائی تھی۔ گویا یہ صحیفہ سن 58 ھجری سے بہرحال پہلے ہی ضبط تحریر میں لایا گیا تھا۔ اس کی ایک قلمی نسخہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے سن 1933 عیسوی میں برلن کی کسی لائیبریری سے ڈھونڈ نکالا۔ اور دوسرا مخطوطہ دمشق کی کسی لائیبریری سے۔ پھر ان دونوں نسخوں کا تقابل کر کے 1955ء میں حیدرآباد دکن سے شائع کیا۔ اور جہاں کہیں الفاظ کا اختلاف ہے ، اسے بھی واضح کر دیا۔
ہمیں یہ دیکھ کر کمال حیرت ہوتی ہے کہ یہ صحیفہ پورے کا پورا مسند احمد بن حنبل میں مندرج ہے۔ اور بعینہ اسی طرح درج ہے جس طرح قلمی نسخوں میں ہے ماسوائے چند لفظی اختلافات کے ، جن کا ذکر ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے کر دیا ہے۔ لیکن جہاں تک زبانی روایات کی وجہ سے معنوی تحریف کے امکان کا تعلق ہے ، اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اب دیکھئے امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ) کا سن 240 ھجری ہے۔ بعینہ صحیفہ مذکور اور مسند احمد بن حنبل میں تقریباً 200 سال کا عرصہ حائل ہے۔ اور دو سو سال کے عرصے میں صحیفہ ہمام بن منبہ کی روایات زیادہ تر زبانی روایات کے ذریعے ہی امام موصوف تک منتقل ہوتی رہیں۔ اب دونوں تحریروں میں کمال یکسانیت کا ہونا کیا اس بات کا واضح ثبوت نہیں کہ زبانی روایات کا سلسلہ مکمل طور پر قابل اعتماد تھا۔
صحیفہ کی اشاعت اور تقابل کے بعد دو باتوں میں ایک بات بہرحال تسلیم کرنا پڑتی ہے :
1 : زبانی روایات ، خواہ ان پر دو سو سال گزر چکے ہوں ، قابل اعتماد ہو سکتی ہیں۔
2 : یہ کہ کتابتِ حدیث کا سلسلہ کسی بھی وقت منقطع نہیں ہوا۔
(بحوالہ : آئینۂ پرویزیت ، ص:533-534)

جامعہ الازہر کے معروف عالم ڈاکٹر رفعت فوزی عبدالمطلب اس مطبوعہ صحیفے کی تحقیق ، تخریج اور شرح کا کام کر رہے تھے اور وہ آدھا کام مکمل کر چکے تھے ، حسن اتفاق ایسا ہوا کہ "دارالکتب المصریہ" سے ایک اور مخطوطہ ان کے ہاتھ لگ گیا جو سن 557 ھجری کا مکتوب تھا۔
اس مخطوطے میں ان دونوں کے مقابلے میں ایک حدیث زائد ہے اور یہ زائد حدیث مسند احمد میں شامل صحیفے کی احادیث میں بھی موجود ہے۔ اب ڈاکٹر رفعت فوزی نے اسی مصری مخطوطے کو بنیاد بنا کر کام مکمل کیا۔ اسے "المکتبہ الخانجی" نے پہلی مرتبہ ستمبر 1985ء (بمطابق محرم الحرام 1406ھ) میں قاہرہ سے شائع کیا۔

صحیفہ ہمام بن منبہ کی 139 احادیث کی تفصیل کچھ یوں ہے :
61 - عقائد و ایمانیات
46 - عبادات
9 - معاملات
17 - اخلاقیات
9 - متفرقات
12 - احادیث قدسیہ

***
صحیفہ ہمام بن منبہ (عربی) ، ویکی سورس پر : الصحيفة الصحيحة - همام بن منبه
///
عربی پی۔ڈی۔ایف (12 میگابائٹس) ، المحقق: رفعت فوزي عبد المطلب - ڈاؤن لوڈ
///
صحیفہ ہمام بن منبہ (اردو ترجمہ) ، کتاب و سنت لائیبریری پر : ۔۔۔۔۔۔۔
اردو ترجمہ و شرح : حافظ عبداللہ شمیم
صفحات : 490
پی۔ڈی۔ایف فائل سائز : قریب 11 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ لنک : صحیفہ ہمام بن منبہ

2011/10/14

غرورِ زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو ۔۔۔۔

ابھی کچھ دن پہلے ایمیل سے کسی کا ایک سوال یوں موصول ہوا کہ :
کیا امر بالمعروف و نھی عن المنکر کا فریضہ ہر مسلمان پر لاگو ہوتا ہے؟ اور اگر ہاں تو اس کے شرعی آداب و شرائط کیا ہیں؟

اس موضوع پر ہر چند کہ ایک طویل عرصہ سے راقم الحروف نے مراسلات تحریر کئے ہیں۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں :

نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنے کا فرض
بےشک یہ بات درست نہیں کہ خود سراسر بےعمل ہو کر دوسروں کو نصیحتیں کرتے جائیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" کا فریضہ اسلیے چھوڑ دیا جائے کہ خود ہم "بےعمل" ہیں۔
امام ابوبکر الرازی الجصاص علیہ الرحمة فرماتے ہیں : ۔۔۔ جو شخص تمام نیکیاں بجا نہیں لا سکتا ، اور تمام برائیوں سے اجتناب نہیں کر سکتا ، اس پر سے بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا واجب ساقط نہیں ہوتا۔
کیا عالم بےعمل کو تبلیغ کا حق حاصل نہیں ہے؟
حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) نے مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) سے کہا: "اپنے ساتھیوں کو نصیحت کیجئے"۔
مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) نے جواباً کہا : "میں ڈرتا ہوں کہ وہ بات کہہ نہ دوں جس کو میں خود نہیں کرتا"۔
یہ سن کر حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) کہنے لگے : "اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔ ہم میں کون ایسا ہے جو وہ (سب کچھ) کرتا ہے ، جو وہ کہتا ہے؟ شیطان اسی بات کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، (تاکہ) پھر کوئی نیکی کا حکم نہ دے اور نہ ہی برائی سے روکے"۔
جب بھی قرآن و سنت کے حوالے سے کوئی اچھی بات کہی جاتی ہے تو لوگ اس کا رخ بدل کر پاکستان یا عالَمِ اسلام کے مسلمانوں کی دگرگوں حالاتِ زار کی طرف موڑ دیتے ہیں یا پھر کہنے والے کی دیگر برائیوں کا اظہار شروع کر دیتے ہیں تاکہ قاری یا سامع کا ذہن بٹ جائے۔۔
اب یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس طرح کے طرزِ عمل کا حقیقی سبب کیا ہے؟
ویسے کسی نے یہ بات شاید بہت اچھی اور معقول کہی ہو کہ ۔۔۔۔
جو لوگ افراد ، ممالک یا گروہ و طبقہ جات کی انفرادی برائیوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں اور ان برائیوں کا برسرعام اظہار کر کے ان کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ تبلیغ دین کے اہم فریضے کو پورا کر رہے ہیں ۔۔۔ تو دراصل وہ تبلیغ کے پردے میں اپنے انتقامی جذبے کو تسکین پہنچانا چاہتے ہیں۔
ورنہ تو اسوۂ حسنہ سے ایسی تعلیمات ہمیں کہیں نہیں ملتیں کہ "نھی عن المنکر" کے بہانے کرید کرید کر مخالفین کی کمزوریاں تلاش کی جائیں اور انہیں اس حوالے سے ذاتی طور پر رسوا کیا جائے۔
ہر ناقص بات جو ذہن میں آئے ، ہر منفی سوچ جس پر نفس اکسائے ، ہر برا رویہ جو مشتعل کرے ۔۔۔۔ ضروری نہیں ہے کہ اسے بیان بھی کیا جائے چاہے "نھی عن المنکر" کے نام پر یا چاہے مظلومیت کے ناتے سہی۔
اگر ہر خرابی بیان کرنے والی ہوتی تو خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اللہ عز و جل کی طرف سے اُس وقت ٹوکا نہ جاتا (آل عمران : 128) جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کفار پر لعنت کر رہے تھے۔ جب کفار پر لعنت کرنے سے رب عظیم نے منع کیا تو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ ہم کیسے مسلمان ہیں کہ اپنے ہی بھائی کا گوشت نوچنے سے باز نہیں آتے!

ان تمام کاموں سے بہتر کام تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سنت ہے جو واشگاف الفاظ میں یوں بیان ہوئی ہے :
من ستر مسلما ستره الله في الدنيا والآخرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه
جو شخص کسی مسلم پر پردہ ڈالے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں پردہ ڈالے گا اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں (رہتا) ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں (رہتا) ہے۔
صحیح مسلم ، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ

نیتوں کا اخلاص صرف یہ نہیں ہوتا کہ قرآن و سنت کی باتیں زبانی کلامی قلمی کہہ دی جائیں یا آگے فارورڈ کر دی جائیں یا ایمیل سرکلر بھیج دیا جائے یا بلک ایس۔ایم۔ایس سے استفادہ کر لیا جائے ۔۔۔ بلکہ کم از کم تحریر کی حد تک عمل بھی یوں ہو کہ کسی لفظ / فقرے سے کسی پڑھنے والے کا دل نہ دکھے اور وہ یہ نہ سمجھے کہ بھری محفل میں اشارے کنایے سے اس کو مذاق کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

صحیح بخاری سے ایک سبق آموز واقعہ پڑھئے۔ ہرچند کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی طور پر شرابیوں پر لعنت بھیجی ہے۔ لیکن جب ۔۔۔۔۔۔
ایک شرابی کو کئی بار پکڑ کر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سامنے لایا گیا تو ایک شخص بالآخر بول اٹھا کہ :
اس پر اللہ کی لعنت کہ بار بار پکڑ کر دربارِ رسالت میں پیش کیا جاتا ہے ۔
رسولِ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ سنتے ہی فرمایا :
اسے لعنت نہ کرو۔ کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت کرتا ہے۔

اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) تو "ام الخبائث" کے شکار فرد کو اس کی برائی کے باوجود اسے ملعون کہنے سے منع فرماتے ہیں اور ایک ادھر ہم ہیں کہ معمولی معمولی سی ذاتی رنجشوں یا کچھ مسلکی نظریاتی اختلافات کے سہارے ایک دوسرے کی بےمحابا توہین و تضحیک سے باز نہیں آتے۔

ملت کا درد رکھنے والے علامہ اقبال نے شاید ایسے ہی واعظ و مبلغ کے لیے فرمایا تھا کہ :
کوئی یہ پوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہے
جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے
غرور زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو
کہ بندگان خدا پر زباں دراز کرے

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اعلیٰ ظرفی ، کشادہ دلی اور وسیع الذہنی عطا فرمائے اور قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات کے علم و عمل سے نوازے ، آمین۔

2011/09/25

۔۔۔ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں

نیٹ پر کسی جگہ ایک دینی علمی مضمون پڑھ رہا تھا ، اچانک خیال آیا کہ کچھ الفاظ و فقروں کے الٹ پھیر سے ایک اور نقطہ نظر کو واضح کیا جا سکتا ہے۔ اعجاز الدین عمری صاحب کے شکریے کے ساتھ راقم کی طرف سے تبدیل شدہ عبارت ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔

فکر و نظر اپنے بطن میں انمول جواہر رکھتے ہیں مگر مسئلہ یہی ہے کہ ہر کوئی اس سے غافل ہے! شاید کسی نے سچ کہا ہو کہ ہر نادان کو یہاں دانائی کا غرور ہے ، ہر بےخبر کو اپنی بیداری کا دعویٰ ہے۔
چند مخصوص قسم کی کتابیں اپنے محدود ذوق کے سہارے کیا پڑھ ڈالیں ، بندہ سمجھتا ہے کہ وہ علم میں ماہر ہو گیا ، علامہ بن گیا ، علماء و فضلاء سے کچھ اتنا آگے بڑھ گیا کہ ببانگ دہل کہنے لگ گیا کہ ۔۔۔۔
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے !!
حالانکہ جھوٹ اور سچ کے مابین فرق کرنے والی لکیر ایک زمانے سے جو واضح چلی آتی ہے ، تنگ پگڈنڈیوں سے گزرنے والا یہ راہی اس سے واقف ہی نہیں ہوتا۔

بات یہ ہے کہ جو طالب علم کسی گھٹی گھٹی سی کوٹھری کے دقیانوسی ماحول کا عادی ہو اسے وسیع اور اجلی روشن علمی دنیا کے مناظر بھی دھندلے دھندلے سے نظر آتے ہیں۔ اپنے محدود ، غیر مصدقہ اور کچے علم کا ماتم کرنے کے بجائے وہ دوسروں کی قسمت کو روتا ہے ، دوسروں کے علم کو نشانہ بناتا ہے۔
یہ کم علم نہیں جانتا کہ اس بازارِ حیات میں اسرارِ علم سے صرف وہ واقف نہیں بلکہ وہ بھی واقف ہیں جن کے نطفے کے سہارے وہ اس دنیا میں وارد تو ہوا مگر دعویٰ یہ ٹھوک ڈالا کہ پانی کے ایک قطرے سے علم کے سمندر تک عروج پانے کے اسرار و رموز آپ نہیں جانتے بلکہ آپ کے بالمقابل میں زیادہ بہتر جانتا ہوں۔
اور کبھی اپنے اساتذہ سے الجھ پڑا کہ ۔۔۔۔ ہم آپ کے مقلد نہیں کہ آپ کی ہر بات کو قرآن و سنت پر پیش کئے بغیر اسے قبول کریں ۔۔۔ حالانکہ یہ نادان بھول گیا کہ کسی بات کو قرآن و سنت پر پیش کرنے کے لیے "قرآن و سنت" کا وہ علم بھی درکار ہے جس کے پیچھے اس کے قابل و فاضل اساتذہ نے ایک عمر گزار ڈالی۔
کبھی نعرہ لگایا کہ یہ علامہ یہ امام یہ مولوی اسلام کی تبلیغ نہیں کرتا بلکہ "اسلام دشمن" ہے۔ یعنی اپنی ہی سوچ کو اس نے اسلام کی توضیح و تشریح کا پیمانہ قرار دے دیا کہ جو "اسلام" اس کی سمجھ میں آئے ، اس کی کسوٹی پر اگر فلاں فلاں پورا اترتا ہے تو بالکل ٹھیک ! یہ اسلام دوست ہے ! ورنہ اسے دائرۂ اسلام سے نکال باہر کرو ، یہ کافر تو نہیں البتہ "اسلام دشمن" ضرور ہے! اب چاہے دنیائے علم و فن کے ماہرین لاکھ سر پٹخ لیں کہ فلاں فلاں مولوی علامہ یا امام کی علمیت و فضلیت پر دنیائے علم کے محققین و ماہرین نے تصدیق کی مہرِ زرین ثبت کر رکھی ہے۔
مگر بھئی ! اسلام تو وہ ہے جو میری سمجھ میں آئے اور اس کی بنیاد پر ہی فیصلہ کیا جا سکے گا کہ کون "اسلام دوست" ہے اور کون "اسلام دشمن"؟
باقی جائیں بھاڑ میں ، ہم کوئی ان کے مقلد ہیں؟

راہِ حیات کے ہر موڑ پر، بشر کے سفر کے ہر نقشِ قدم میں "فریبِ مطالعہ" کے ڈسے ہوئے لوگ کہیں نہ کہیں ایسے مل ہی جاتے ہیں جن کی نگاہِ دل پر تالا ہے اور سر کی آنکھوں پر وہم و گماں کا مایا جال ہے ۔۔۔۔

قرآن نے فرمایا ہے ۔۔۔۔۔
أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لاَ تَعْمَى الأَبْصَارُ وَلَكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُور
کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کے دل سمجھنے والے اور اِن کے کان سُننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ (ترجمہ : سید مودودی)

ہاں ! کتنا سچ کہا میرے رب کے کلام نے !!
فکر و نظر کی بلوغت کو نہ پانے والے ، کثرت مطالعہ کو اپنا شغل نہ بنانے والے ، علم و فن کے ماہرین کی متفقہ آراء کو جھٹلانے والے ۔۔۔ کتنے بودے ہوتے ہیں۔
یہ ہی تو ہیں جنہیں قرآن نے "دل کے اندھے" کا لقب عطا کیا ہے۔

2011/07/31

رمضان کریم - 1432ھ / 2011ء

سعودی عرب میں ان شاءاللہ رمضان 1432ھ ، یکم اگست 2011ء سے شروع ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہم تمام کو اس مبارک مہینے کی رحمتوں اور برکتوں سے فیضیاب ہونے کے زیادہ سے زیادہ مواقع نصیب فرمائے ، آمین۔
آپ تمام کو رمضان کریم کی نیک ساعتیں مبارک ہوں۔

2011/07/26

طواف کیا ہے ؟

اس موضوع پر پروفیسر اختر الواسع (صدر شعبہ علوم اسلامی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی) کے ایک طویل مضمون کا مفید اقتباس ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔

طواف کے لغوی معنی گھومنے اور چکر لگانے کے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں اس سے مراد وہ رسم ہے جس میں خانہ کعبہ کے چاروں طرف گھوم کر دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کو نماز قرار دیا ہے اس فرق کے ساتھ کہ جناب رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وسلم) کے الفاظ میں :
الطواف حول البيت مثل الصلاة إلا أنكم تتكلمون فيه ، فمن تكلم فيه ، فلا يتكلمن إلا بخير
جامع الترمذي , كتاب الحج , باب ما جاء في الكلام في الطواف
(علامہ البانی نے صحیح قرار دیا)

{الاسلام سوال و جواب کے اس فتویٰ کا مطالعہ بھی مفید ثابت ہوگا -- کیا طواف اورسعی کے لیے طہارت شرط ہے؟}

خانہ کعبہ کے طواف کا حکم خود اللہ رب العزت نے سورہ حج میں اس طرح دیا ہے کہ :
وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيق
اس بیت عتیق یعنی پرانے گھر کا طواف کرو
( الحج:22 - آيت:29 )

طواف وہ خاص اور نرالی عبادت ہے جو صرف اور صرف خانہ کعبہ کے اطراف ہی ادا کی جا سکتی ہے۔ دن اور رات کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جس میں طواف جاری نہ رہتا ہو۔ کسی موسم کی سختی اور شدت مشتاقانِ دید کے جذبۂ طواف کو ماند نہیں کر پاتیں۔ جب توحید الٰہی کے پرستار انتہائی وارفتگی اور شوق کے ساتھ سیاہ غلاف میں ملفوف اس گھر کا دیوانہ وار چکر کاٹتے ہیں تو ایسا کرتے وقت رنگ ، نسل ، زبان ، علاقے ، معاشی ثروت و عسرت ، سماجی برتری و کمتری انتہا یہ کہ جنس کی تفریق و تمیز سب اٹھ جاتی ہے۔

طواف انتہائی اہم عبادت ہے۔
طواف ایک علامت بھی ہے اور ایک پیغام بھی۔
طواف اس بات کی علامت ہے کہ بندہ جس طرح پروانہ وار ایک مکعب کا طواف کر رہا ہے ، اس کے گرد چکر لگا رہا ہے اس کی ہر گردش کا مرکز و محور وہ ایک گھر ہے۔
اسی طرح اس کی پوری زندگی ، اس کی نیت ، اس کے ارادے ، اس کی خواہشات ، اس کی توقعات ، اس کے سہارے اور اس کی ہر فکر ہمہ وقت اس احکم الحاکمین کی مرضی اور رضا کے گرد چکر لگائے ، جس کے حکم پر وہ ظاہری طور پر اس گھر کے چکر لگا رہا ہے۔ یہ علامتی چکر اس کی زندگی کی حقیقت کو تبدیل کر کے اللہ واحد کی مرضی کا تابع فرمان ہو جائے۔

طواف جس طرح ظاہری و باطنی ہر اعتبار سے کامل خود سپردگی اور اطاعت شعاری کی علامت ہے اسی طرح اس میں اقوام عالم کے لیے ایک پیغام بھی چھپا ہے۔ یہ مرکز عالم دنیا کا واحد نکتہ ہے جہاں توحیدِ ربانی کا ایک عملی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے ، جہاں دنیا و جہاں سے گورے ، کالے ، مرد و عورت جمع ہوتے ہیں اور اپنے تمام فرق کو مٹا کر ایک ہی گھر کے گرد دیوانہ وار گھومتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسانوں کا سمندر ہے جو ایک خاص دائرے میں بھنور بنائے ہوئے ہے۔ یہ اقوام عالم کے لیے ایک پیغام ہے کہ :
آؤ ! توحیدِ خالص کے اس عملی مظاہرے کو دیکھو کہ کس طرح لاکھوں انسان ایک ہی مرکز کے گرد گھوم رہے ہیں۔

طواف دراصل کامل اطاعت الٰہی اور اس کے سامنے باطنی خود سپردگی کا ایک عملی اظہار ہے۔ بندہ کے قدم مطاف کے راستے پر ایک ہی دائرے میں گامزن رہتے ہیں۔ اس کا دل جذبۂ اطاعت و انقیاد سے سرشار رہتا ہے اور زبانِ حال و زبانِ قال دونوں سے وہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ :

اے پروردگارِ پاک ! تمام تعریفیں تجھ کو ہی سزاوار ہیں ، تو ہی عبادت کے لائق ہے ، تو سب سے بڑا ہے ، تیرے سوا کسی کو کوئی طاقت و قدرت حاصل نہیں ، میں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں ، تیری کتاب کی تصدیق کرتا ہوں ، تیرے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت کا اتباع کرتا ہوں۔
اے اللہ تعالیٰ ! بےشک یہ تیرا گھر ہے یہ تیرا حرم ہے اور یہاں تیری طرف سے امن و سلامتی قائم ہے ، یہاں تیرے بندے تیرے دربار میں حاضر ہیں۔ اے اللہ تعالیٰ ! میں بھی تیرا بندہ ہوں ، یہ مقام جہنم کی آگ سے پناہ مانگنے والوں کا مقام ہے۔ اے اللہ تعالیٰ ! تو ہمارے جسم کو جہنم کے لیے حرام کر دے اور ہمارے دلوں کو ایمان کی محبت سے مالا مال کر دے ، ہمارے دلوں کو ایمان سے مزین فرما اورکفر ، فسق اور نافرمانی کو ہمارے لیے قابل نفرت بنا دے اور ہم کو نیک لوگوں میں سے بنا دے !!

2011/07/20

الوداع انٹرنیٹ اکسپلورر:6

اگر آپ ورڈپریس ویب ڈیولوپر ہیں تو آپ کے لئے ایک اطلاع ہے۔
اچھی یا بری جو بھی سمجھ لیں۔
ورڈپریس نے گذشتہ چند ہفتہ قبل انٹرنیٹ اکسپلورر ورژن 6 کے لیے اپنی مطابقت (compatibility) کو ختم کر دیا ہے۔ اب ورڈپریس (ورژن 3.2) سے انٹرنیٹ اکسپلورر براؤزر کے لیے کوئی سپورٹ (support) نہیں دی جائے گی۔
ورڈپریس تازہ ترین ورژن 3.2 کے ڈیش بورڈ کی جھلک ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔

اور حیرت انگیز مگر مزیدار بات یہ ہے کہ مائیکروسافٹ نے ورڈپریس کے اس عمل پر اپنا ردّعمل پیش کرتے ہوئے ورڈپریس کا فوری طور پر شکریہ ادا کیا ہے :
Thank you, WordPress! Who’s Next?

بات یہ ہے کہ خود مائیکروسافٹ کے بقول انہوں نے دس سالہ پرانے اپنے اس براؤزر (انٹرنیٹ اکسپلورر ورژن 6) کے خلاف مہم چلا رکھی ہے کہ اسے اب انٹرنیٹ کی دنیا سے ہٹا دیا جائے۔ حتیٰ کہ اس مہم کے سلسلے میں ایک خصوصی سائیٹ بھی ترتیب دی گئی ہے ، ملاحظہ فرمائیں :
The Internet Explorer 6 Countdown

انٹرنیٹ اکسپلورر 6 مخالف سائیٹ کے مطابق ڈنمارک اور سویڈن دو ایسے ممالک ہیں جہاں اس براؤزر کا استعمال ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ سب سے زیادہ استعمال چین (33 فیصد) ، جنوبی کوریا (21 فیصد) اور انڈیا (10 فیصد) میں کیا جا رہا ہے
(بمطابق جون 2011ء ڈیٹا بحوالہ نیٹ اپلی کیشنز)

شکر ہے کہ انٹرنیٹ اکسپلورر 6 براؤزر آہستہ آہستہ اپنی زندگی کے خاتمے کی سمت رواں دواں ہے۔ ورنہ تو ویب ڈیولوپرز کی جان عذاب میں تھی کہ اپنے قیمتی وقت کا اچھا خاصا حصہ اس براؤزر کی مطابقت کے پیچھے برباد کرنے کی مجبوری میں گرفتار تھے۔

2011/06/06

دیوقامت جناح [بمقابلہ] بونے سیاستداں

جاوید اقبال کے ایک پرانے کالم سے ۔۔۔۔۔

مجھے مکہ مکرمہ کے ایک دوست نے فون کر کے قصہ سنایا۔ کہانی یوں ہے کہ رمضان المبارک (2008ء) کے آغاز پر مکہ مکرمہ میں کام کرنے والی بجلی کی ایک کمپنی کو حکم ملا کہ پاکستان کے ایک عالیجناب وزیر 21 تا 23 رمضان عمرہ کے خواہشمند ہیں اس لئے ان کیلئے کسی ہوٹل میں کمرے مخصوص کرائے جائیں۔ ان دنوں خاصا اژدھام تھا اسلئے ایک فور اسٹار ہوٹل میں ہی کمرے ملے۔ پاکستان میں وزارتی حکام یہ سنتے ہی سیخ پا ہو گئے۔ چنانچہ دوبارہ بھاگ دوڑ کر کے ہوٹل تبدیل کیا گیا اور فائیو اسٹار صفا ٹاور میں چار ہزار ریال فی کمرہ روزانہ کے نرخ پر کمرے حاصل کئے گئے۔ اب بہتر تھا کیونکہ "پاکستان ہاؤز" یقیناً عالیجناب اور ان کے اسٹاف کے قابل نہ تھا اگرچہ ماضی میں وزراء وہاں ٹھہرتے رہے تھے۔
لیکن ۔۔۔ ایک مسئلہ ہو گیا۔ ملک میں بجلی کے بحران نے عالی جناب کو انتہائی مشغول کر دیا چنانچہ وہ خود تشریف نہ لا سکے البتہ ان کی بیگم صاحبہ اپنے 16 عدد اعزاء و اقارب کے ہمراہ پہنچ گئیں۔ ہوٹل کی ریزرویشن ضائع نہ گئی۔ معزز مہمانوں نے تین دن اور تین راتیں نہایت خضوع و خشوع سے نوافل ادا کئے۔ ملک کی سلامتی کیلئے گریہ و زاری کی۔ مداحوں سے تحائف وغیرہ وصول کئے اور طوعاً و کرہاً شاپنگ بھی کی۔ 24/ رمضان کی صبح باون (52) ہزار ریال کا کمروں کا کرایہ اور تقریباً پچپن (55) ہزار ریال متفرق اخراجات حکومت پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر روزہ داروں کا یہ قافلہ عازم وطن ہوا اور ابھی اس میں وہ رقم شامل نہیں ہے جو اس کاروانِ حجاز کے ٹکٹوں کی مد میں قومی ہوائی کمپنی کو وزارت پاکستان ادا کرے گی۔

اب آئیے ، تصویری البم کے کچھ اوراق پیچھے پلٹائیں ۔۔۔۔۔

گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جب محمد علی جناح مشرقی پاکستان کے دورے پر تشریف لے جانے لگے تو ان کے پاس وہی پرانا دقیانوسی ڈکوٹا جہاز تھا جو تقسیم ہند کے وقت گورنر جنرل پاکستان کے حصے میں آیا تھا۔ ڈھاکہ کے سفر کے لئے اسے راستہ میں تیل لینے کے لئے دہلی میں پالم پور کے ہوائی اڈے پر لازماً اترنا تھا مگر قائد اعظم نے سرزمین ہند پر قدم رکھنا گوارا نہ کیا اور فرمایا کہ ایسا انتظام ہو کہ جہاز بغیر اترے سیدھا چلا جائے۔
اب سیدھی پرواز کے۔ایل۔ایم کی جاتی تھی۔ اور معلوم ہوا کہ مخصوص پرواز پر تقریباً سات لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔ سرکاری خزانہ اس وقت خالی تھا۔ کسی سے اس ضرورت کیلئے روپیہ مانگنا ویسے ہی قائد اعظم کی غیرت خودداری نے گوارا نہ کیا۔ نہ ہی انہوں نے آرام و آسائش پر ٹیکس دہندگان کے گاڑھے پسینے کے کمائی کا ایک پیسہ خرچ کرنا مناسب سمجھا۔
آخر سوچ بچار کے بعد قائد اعظم نے تجویز کیا کہ ڈکوٹا جہاز میں پٹرول کی ایک مزید ٹنکی لگا دی جائے تاکہ اسے راستے میں تیل لینے کی ضرورت نہ پڑے اور وہ ایک ہی پرواز میں منزل مقصود پر پہنچ جائے۔ ماہرین چیختے اور سر پیٹتے ہی رہے۔ لیاقت علی خان کی بھی ایک نہ چلی۔ قائد اعظم پروگرام کے مطابق کراچی سے لاہور تشریف لے گئے۔ وہ اسی فرسودہ ڈکوٹا پر انتہائی خطرہ مول لے کر مشرقی پاکستان کے پہلے اور آخری دورے پر گئے اور بخیریت واپس لوٹے۔

2011/05/30

کند ہو کر رہ گئے مومن کے اخلاق و معاشرت

  • عقائد
  • عبادات
  • معاشرت
  • معاملات
  • اخلاقیات
شریعت اسلامی کے وہ پانچ شعبے ہیں جو عمل کے لحاظ سے مطلوب و مقصود ہیں۔
ایک مسلمان ان پانچوں شعبوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل کا پابند ہے۔

اسلامی شریعت کو اختیار کرنے کا آخر مطلب کیا ہے؟
صاف اور سیدھا مطلب تو قرآن کریم نے ہمیں یوں بتایا ہے :
اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔
( البقرہ : 208 )

"پورے کے پورے" داخل ہونے کا واضح مطلب یہ ہے کہ آدمی کل شریعت کو اختیار کرے اور زندگی کے تمام شعبوں میں دین کو لاگو کرے۔
ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی صرف "عقائد" و "عبادات" کو یہ سوچ کر اپنا لے کہ یہ دین کی بنیاد ہیں اور دیگر شعبوں کو نظرانداز کر دے اور خود کو "اہل حق" باور کر لے ۔۔۔ خود کو جنت اور دیگران کو جہنم کا حقدار سمجھ لے۔
دین کے کسی بھی شعبے کو کمتر سمجھنا یا زیادہ اہمیت کے قابل نہ سمجھنا ۔۔۔ ایمان و عمل کی کمزوری تو ہے ہی ، حدیث و سنت سے بھی دوری ہے۔

ہم میں سے اکثریت کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کچھ عقائد کو بنیاد کے طور پر سمجھ لینے اور کچھ عبادات کو عادات کے طور پر ادا کر لینے کو اپنا دین و ایمان باور کر لیا ہے۔
کسی دوست نے ایک جگہ نہایت اچھی بات لکھی تھی کہ :
ایک مسلمان بظاہر نمازوں کا بڑا اہتمام کرتا نظر آتا ہے ، ذکر و تلاوت کا بھی اہتمام ہے ، عقائد و ایمان کی پختگی ہے ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضہ پر بھرپور عمل ہے ، اسلامی وضع قطع کو بھی ملحوظ رکھتا ہے ، لیکن اس کی معاشرت و معاملات درست نہیں ہوتے ، اپنے اہل و عیال ، دوست احباب ، رشتہ دار پڑوسی اس سے نالاں رہتے ہیں ، وہ جب معاملہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی اور دھوکہ دہی سے کام لیتا ہے۔
ظاہر ہے کہ ایسے شخص نے دین کے صرف ایک حصہ کو "کل دین" سمجھ رکھا ہے۔ دین اس کے نزدیک صرف عقیدہ و عبادت کا نام ہے۔ حالانکہ دیکھا جائے تو وہ "عبادات" میں سب سے بڑا ناقص ہے ، اس لیے کہ عبادات میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی تاثیر رکھی ہے کہ اگر کوئی انہیں صحیح ڈھنگ اور روح کے ساتھ ادا کرنے لگے تو اس سے اس کی معاشرت اور اخلاق درست ہو جاتے ہیں۔

آج اگر ہم اپنی اپنی آن لائن اور آف لائن زندگیوں کا مشاہدہ کر لیں تو جابجا ایسی ہی صورتحال نظر آتی ہے۔
کتنے ہی ایسے لوگ اور ایسے گروہ ہیں جنہیں اپنے پختہ عقائد یا کامل دینداری پر اصرار ہوتا ہے ، وہ خود کو جنت کے اولین مستحق سمجھتے ہیں ۔۔۔
مگر جب ان کی زندگیوں اور روزمرہ کے معمولات کا جائزہ لیا جائے تو انکشاف ہوتا ہے کہ فلاں کی معاشرت غیر اسلامی ہے ، یا اگر معاشرت درست ہے تو معاملات و اخلاقیات کے شعبہ میں وہ کمزور ہے ۔۔۔۔

حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تو فرمایا ہے :
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ (صحيح بخاري)
کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان اور انسان محفوظ رہے۔
اور فرمایا :
الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَايِقَهُ (صحيح بخاري)
بخدا وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا (سہ مرتبہ عرض فرمایا) جس کی تکلیفوں سے اس کا کوئی پڑوسی محفوظ نہ ہو۔

اور ۔۔۔۔
قرآن تو اہل ایمان کو مخاطب کر کے تاکید کرتا ہے کہ وہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں۔
ياأيها الذين آمنوا ادخلوا في السلم كآفة ولا تتبعوا خطوات الشيطان إنه لكم عدو مبين
اے ایمان والو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو ، بلاشبہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

صاحبِ "معارف القرآن" مولانا مفتی محمد شفیع صاحب علیہ الرحمۃ اس آیب کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اس آیت میں ان لوگوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے جنہوں نے اسلام کو صرف مسجد اور عبادات کے ساتھ مخصوص کر رکھا ہے ، معاملات اور معاشرت کے احکام کو گویا دین کا جز ہی نہیں سمجھتے۔ اصطلاحی دین داروں میں یہ غفلت عام ہے ، حقوق و معاملات اور خصوصاً معاشرت سے بیگانہ ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان احکام کو وہ اسلام کے احکام ہی یقین نہیں کرتے ، نہ ان کو معلوم کرنے اور سیکھنے کا اہتمام کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر عمل کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور پھر اس پر صدق دلی سے عمل کی توفیق عطا فرمائے ، آمین یا رب العالمین۔

2011/05/26

نعرۂ جاہلیت بھی ، نصرتِ اللہ کی امید بھی ؟

کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ۔۔۔
ایک انسان تلوار ہاتھ میں رکھتا ہے، لیکن ذہنى طور پر اتنا بزدل ہے کہ اس کے بازو دشمن کے مقابلہ میں تلوار اُٹھا نہیں پاتے تو ایسى تلوار کس کام کى؟
اسی طرح مسلمانوں کے پاس جدید سے جدید ٹیکنالوجى موجود ہو لیکن دشمن کى ایک بڑھک ان کے اوسان خطا کردے تو پھر ایسى ٹیکنالوجى کا کیا حاصل؟
بقولِ شاعر :
أسد عکى وفى الحروب نعامة
هیفاء تصفر من صفیر الصافر

(بیوى اپنے شوہر سے مخاطب ہے: ) میرے اوپر تو شیر بنا پھرتا ہے لیکن جنگ میں شتر مرغ ، کہ ذرا سى آہٹ سے کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔

ٹیکنالوجى علم سے وابستہ ہے۔ عالم اسلام میں جدید علوم کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ جامعات قائم ہونى چاہئیں لیکن ان جامعات میں سیرت اور اعجازِ علمى سلیبس (syllabus) کا لازمى جزو ہونا چاہئے تاکہ مادّى علوم کے ساتھ ایمان کو بھى جلا ملتى رہے۔

اعجازِ علمى سے ہمارى مراد ہے کہ قرآن و حدیث میں ایسے بہت سے اشارات ملتے ہیں جو سائنسى حقائق کا پتہ دے رہے ہیں۔ رابطہ عالم اسلامى کے صدر دفتر مکہ مکرمہ میں اعجازِ علمى کا مستقل شعبہ قائم ہے جس میں اس موضوع پر سیرحاصل کام ہوچکا ہے۔ ان کے اس کام سے رہنمائى حاصل کى جائے۔ مزید برآں ایسے اساتذہ کا انتخاب ہونا چاہئے جو سائنس کى تعلیم کے ساتھ طلبہ کے سینوں میں ایمان کى مشعلیں بھى فروزاں رکھیں۔
آج ہمارے کتنے عالى دماغ جوہر مغرب میں سائنس کى تعلیم حاصل کررہے ہیں اور کتنے ہى علم کے اعلىٰ مدارج حاصل کرچکے ہیں لیکن دیارِ مغرب کے ملحد ذہنوں سے تربیت پانے کى بنا پر حب ِعاجلہ کا شکار ہیں اور بجائے اوطانِ اسلام کو مضبوط کرنے کے اغیار کى خدمت کررہے ہیں۔ ہمارے کتنے جرنیل مغرب کى عسکرى تربیت گاہوں میں ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد معرکہ کفر و ایمان میں اپنى بے اعتقادى، ضعف ایمانى اور کم ہمتى کى بنا پر دشمنوں کے سامنے سپر ڈال چکے ہیں۔ سقوطِ بیت المقدس، سقوطِ ڈھاکہ اور اب سقوطِ بغداد انہى جرنیلوں کى سیہ کاریوں کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئے۔

اس وقت اُمت ِمسلمہ ستاون (57) ممالک میں سیاسى برترى اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اپنا ایک مستقل وجود رکھتى ہے، ہر مسلم ملک ایک اکائى کى حیثیت رکھتا ہے جو دوسرى اکائیوں کے ساتھ مل کر ایک عظیم اتحاد کى شکل اختیارکر سکتا ہے، لیکن سب سے پہلے ہر اکائى کو مضبوط کرنے کى ضرورت ہے۔
ان تمام عوامل کى بیخ کنى لازمى ہے جو ایک وحدت کو پارہ پارہ کرنے کى کوشش میں لگے ہوں، ان میں سرفہرست برادرى ازم، قبائلى عصبیت، علاقائیت، قومیت اور فرقہ واریت ہیں۔ کسى بھى اسلامى ملک کو دیکھ لیجئے، علاقائیت کا عفریت بھائى بھائى کے درمیان نفرت اور عداوت کے بیج بوتا نظر آئے گا۔
صومالیہ میں شمال و جنوب کى کشمکش، پاکستان میں شیعہ و سنى اور صوبائیت پر مبنى تعصبات کى آویزش، بنگلہ دیش میں سلہٹ اور غیر سلہٹى افراد کے درمیان تفاخر کى کیفیت، عراق میں تمام تر مصائب کے باوجود اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان اور پھر عربوں اور کردوں کے درمیان محاذ آرائى، افغانستان میں پختون، ازبک اور تاجک قوموں کے مابین تنافس جو امریکہ کے حملہ کے وقت کھل کر ظاہر ہوچکا، اس امر کى چند نمایاں مثالیں ہیں۔

نبى کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جو معاشرہ قائم کیا تھا، اس کى بنیاد مہاجرین و انصار کے درمیان اُخوت، محبت اور یگانگت پر رکھى گئى تھى۔مہاجر اور انصار کے دونوں معزز لقب اپنے اپنے اوصافِ حمیدہ کى بنا پر وحى الٰہى میں جگہ پاگئے :
والسابقون الأولون من المهاجرين والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان رضي الله عنهم ورضوا عنه وأعد لهم جنات تجري تحتها الأنهار خالدين فيها أبدا ذلك الفوز العظيم
( التوبة:9 - آيت:100 )

اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور متقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ ان سب سے راضى ہوا اور وہ سب اس سے راضى ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جارى ہوں گى اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بہت بڑى کامیابى ہے۔

لیکن جب انہى دونوں جماعتوں کے دو افراد ایک کنویں سے پانى نکالنے پرجھگڑ پڑے اور مہاجر نے مہاجرین کى دہائى دى اور انصارى نے انصار کى تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سب کام چھوڑ چھاڑ کر موقع نزاع پرپہنچے اور ببانگ ِدُہل ارشاد فرمایا:
أَبِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ
جاہلیت کا نعرہ لگاتے ہو، حالانکہ میں ابھى تمہارے درمیان ہوں۔
(حوالہ : جامع البيان عن تأويل آي القرآن ، أسد الغابة)
یعنى وہ معزز لقب جو "ہجرت" اور "نصرت" کے اعتبار سے انتہائى معزز اور قابل صد افتخار تھا، جب دو جماعتوں کو لڑانے کے لئے استعمال کیا گیا تو "جاہلیت کا نعرہ" کہلایا گیا، وہ جاہلیت جسے قبل از اسلام کفریہ دور سے تعبیر کیا جاتا تھا۔

کیا پاکستانى مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ نہیں کہ یہاں بھى صوبائیت اور مہاجرت کے نام پر بھائى بھائى کى گردن کاٹى گئى ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جارى ہے اور پھر بھى الله کى نصرت کى اُمید کى جاتى ہے!!
عرب ممالک میں قومیت کا نعرہ بڑى شان سے بلند کیا گیا، لیکن یہ نعرہ یہودیوں کى چھوٹى سى ریاست کا مقابلہ کرنے یا اہل فلسطین کو ان کى سرزمین واپس لوٹانے میں عربوں کى کوئى مدد نہیں کرسکا، عرب لیگ آج ایک بے جان لاشہ ہے جو تجہیز و تکفین کا منتظر ہے۔ صدام اور حافظ الاسد کى بعث پارٹى کے نام سے ایک بے خدا تحریک آپس میں جنگ وجدال، قتل و غارت اور سفاکى و درندگى کا ننگا ناچ ناچنے کے بعد خود بھى ڈوبى اور اپنى قوم کو بھى لے ڈوبى۔ کیا اب بھى اس کى باقیاتِ سیئہ سے خیر کى توقع کى جا سکتى ہے؟

(اقتباس بشکریہ مقالہ "دورِ حاضر ميں اُمت ِمسلمہ كے مسائل اور ان کا حل" از : ڈاکٹر صہیب حسن)

2011/05/16

عالِم بےعمل کو تبلیغ کا حق ۔۔۔؟

یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ : عالم بے عمل، کیا تبلیغ کا حق رکھتے ہیں؟

قرآن میں امت مسلمہ کو "خیر الامۃ" کا لقب دیا گیا ہے اور اس کے ذمہ "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" کا عظیم الشان فرض عائد کیا گیا ہے ، قطع نظر اس کے کہ کون مسلمان عمل والا ہے اور کون بےعمل؟ "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" کی ذمہ داری دونوں طبقوں پر برابر عائد ہے۔
بےشک یہ بات درست نہیں کہ خود سراسر بےعمل ہو کر دوسروں کو نصیحتیں کرتے جائیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" کا فریضہ اسلیے چھوڑ دیا جائے کہ خود ہم "بےعمل" ہیں۔

ویسے تو میں نے اس موضوع پر کچھ عرصہ قبل ایک تحریر یوں پیش کی تھی :
نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنا ۔۔۔؟

اس کے مطالعے کا اعادہ بہتر ہوگا۔
علم و عمل میں نمایاں فرق اور اس جیسی منافقت پر یہ ایک بہترین اقتباس ہے :
حضرت حسن بصری، تاریخ اسلام کی ایک بڑی شخصیت اکثر اپنے نفس پہ خفا ہوتے اور اپنے آپکو جھڑک کر کہتے حسن بصری، تو پرہیز گاروں اور اطاعت گذاروں جیسی باتیں کرتا ہے مگر تیرے کام تو جھوٹوں ، منافقوں اور دکھاوا کرنے والوں کے سے ہیں۔ سن لے اور خوب اچھی طرح سن لے کہ یہ اللہ سے محبت رکھنے والوں کی صفت نہیں کہ وہ سراپا اخلاص اور تمام تر ایثار نہ ہوں۔

لیکن ۔۔۔۔۔
اس اقتباس سے یہ ہرگز بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ اگر کوئی بےعمل ہے تو اس پر سے "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" کا فریضہ ساقط ہو جائے گا۔ اگر کوئی شرابی یا جواری ہو تو کیا ہم اس کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن کی اس آیت کو نہ تو خود ہرگز بھی پڑھے اور نہ دوسروں کو پڑھ کر ہی سنائے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون
اے ایمان والو! بےشک شراب اور جوا اور بُت اور (قسمت کا حال معلوم کرنے) فال کے تیر (سب) ناپاک شیطانی کام ہیں۔ سو تم ان سے پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ
( المائدة:5 - آيت:90 )

بات اگر حسن بصری رحمۃ اللہ کی نکلی ہے ہے تو یہی حسن بصری کہتے ہیں کہ :
ہم میں کون ایسا ہے جو وہ (سب کچھ) کرتا ہے ، جو وہ کہتا ہے؟ شیطان اسی بات کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، (تاکہ) پھر کوئی نیکی کا حکم نہ دے اور نہ ہی برائی سے روکے۔

حسن بصری نے یہ کیوں کہا ؟ تفسیر قرطبی (بہ تفسیر آیت : البقرہ-44) میں یہاں یہ واقعہ یوں درج ہے کہ ۔۔۔۔
حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) نے مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) سے کہا: "اپنے ساتھیوں کو نصیحت کیجئے"۔
مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) نے جواباً کہا : "میں ڈرتا ہوں کہ وہ بات کہہ نہ دوں جس کو میں خود نہیں کرتا"۔
یہ سن کر حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) کہنے لگے : "اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔ ہم میں کون ایسا ہے جو وہ (سب کچھ) کرتا ہے ، جو وہ کہتا ہے؟ شیطان اسی بات کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، (تاکہ) پھر کوئی نیکی کا حکم نہ دے اور نہ ہی برائی سے روکے"۔

ہمارے ساتھی بلاگر ڈاکٹر جواد نے اپنے ایک تبصرے میں یہ بات بالکل درست لکھی ہے کہ :
جو چیز آپکو بری لگ رہی ہے وہ رد عمل ہے جو قرآن و سنت کے خلاف کی جانے والی بات پر ہوتا ہے اور خاص طور پر اس وقت جب یہ بات اصلاح کے روپ میں کی جائے۔

مجھے نہیں معلوم کہ جب بھی قرآن و سنت کے حوالے سے کوئی اچھی بات کہی جاتی ہے تو لوگ اس کا رخ بدل کر پاکستان یا عالَمِ اسلام کے مسلمانوں کی دگرگوں حالاتِ زار کی طرف کیوں موڑ دیتے ہیں؟ کیا لوگوں کے حالات خراب ہوں تو اچھی بات کہنا روک دینا چاہئے اور بری باتوں سے منع کرنا ختم کر دینا چاہئے؟

اس موضوع پر امام ابوبکر الرازی الجصاص علیہ الرحمة نے بالکل بجا فرمایا ہے کہ :
(نیکی کا حکم دینے کے متعلق) لازم ہے کہ نیک اور فاسق پر اس کے واجب ہونے کے بارے میں کچھ فرق نہ ہو ، (بلکہ اس کا ادا کرنا دونوں پر واجب ہے) کیونکہ انسان کے بعض واجبات کے چھوڑنے سے دوسرے واجبات کا چھوڑنا لازم نہیں آتا !
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ نماز کا ترک کرنا ، انسان کے روزوں اور دوسری عبادات کے ترک کرنے کے لیے باعثِ جواز نہیں بن سکتا۔ اسی طرح جو شخص تمام نیکیاں بجا نہیں لا سکتا ، اور تمام برائیوں سے اجتناب نہیں کر سکتا ، اس پر سے بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا واجب ساقط نہیں ہوتا۔
بحوالہ : احکام القرآن ، امام ابی بکر الجصاص // آن لائن ربط

2011/05/11

دل تو ہے دل

کچھ ہفتہ قبل ہمارے ایک دوست کے دو صاحبزادے فیض کے کلام کی شرح پوچھنے آئے تھے۔ اس دفعہ دوبارہ تشریف لائے تو شرماتے مسکراتے۔ بلکہ آپس میں ایک دوسرے کو کہنی مارتے ہنستے کھلکھلاتے۔
بدقت تمام ایک بھتیجہ گویا ہوا : "انکل، دل والے محاورے چاہئے ، معنوں کے ساتھ"۔
دوسرے نے ہنسنا شروع کر دیا۔ استفہامیہ نظر اس پر ڈالی تو اسی طرح ہنستے ہوئے اپنے بھائی کی طرف اشارہ کرتے بولا :
"انکل ، اردو ٹیچر نے آج جب پوچھا تو جواب میں انہوں نے گننا شروع کر دیا یوں ۔۔۔۔
دل سے ، دل ہیکہ مانتا نہیں ، دل چاہتا ہے ، دل بولے ہڑپا ، دل تو پاگل ہے ، دل تو بچہ ہے جی ۔۔۔۔"
قصور بچارے بچوں کا نہیں۔ ماحول ہی کچھ ایسا بن گیا ہے کہ ڈش انٹینا کلچر یا مادر پدر آزادانٹرنیٹ سے ایسی ہی کچھ معلومات آجکل حاصل ہوتی ہیں۔ مطالعہ کم ہو گیا ہے۔ لغت دیکھنے کی کسی کو فرصت نہیں۔ انٹرنیٹ پر معلومات اردو زبان کی تہذیب و قواعد سے متعلق موجود نہیں بلکہ فلم ، تفریح اور دیگر لغویات پر مشتمل ہیں۔ ایسے میں چند ہی لوگ ہیں جو خدمتِ اردو کی خاطر فی سبیل للہ کام کئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر کو بیکار کے مباحث ، مسلکی مذہبی نظریاتی جھگڑوں ، سیاسی و ملکی حالات پر غیرضروری اور لٹھ بردار تبصروں سے فرصت نہیں۔ کاش کہ ہم سب اردو کی نئی نسل کی ہی خاطر کچھ نہ کچھ تعمیری کاموں کی طرف راغب ہوں۔
بہرحال گوگلنگ کرنے پر "دل" سے متعلق محاورے اردو یونیکوڈ تحریر میں کہیں نظر نہیں آئے۔ لہذا فیروز اللغات کی مدد سے یہ کچھ معروف و مقبول محاورے معانی کے ساتھ پیش خدمت ہیں۔

محاورہ | معنی
  1. دل آب آب ہونا | دل کا نرم ہونا
  2. دل آزردہ ہونا | افسردہ ہونا
  3. دل اُچاٹ ہونا | جی نہ لگنا ، جی اکتانا
  4. دل اُچٹ جانا | گھبرا جانا
  5. دل الٹ پلٹ ہونا | دل کا گبھرانا ، بےچین ہونا
  6. دل امڈ آنا | دل کا بھر آنا ، رونے کے قریب ہونا
  7. دل باغ باغ ہونا | بہت خوش ہونا
  8. دل بحال ہونا | دل کو چین آنا
  9. دل بدست آور کہ حج اکبر است | دلجوئی کرنا حج اکبر کے برابر ہے
  10. دل بَلیوں اچھلنا | بہت بےتاب ہونا
  11. دل بیٹھ جانا | ہمت نہ رہنا ، افسردہ ہونا
  12. دل پارہ پارہ ہونا | روحانی صدمہ ہونا
  13. دل پتھر ہو جانا | مصیبتیں جھیل جھیل کر دل کا سخت ہو جانا
  14. دل پر پتھر رکھ لینا | صبر کر لینا ، دل سخت کر لینا
  15. دل پر چھریاں چلنا | اندرونی صدمہ پہنچنا
  16. دل پر سانپ لوٹنا | افسوس ہونا ، پچھتاوا ہونا ، رشک ہونا ، حسد ہونا
  17. دل پر گھونسا پڑنا | اچانک کوئی صدمہ پہنچنا
  18. دل پر ہاتھ رکھ کے دیکھو | اپنی حالت کا اندازہ کر کے دوسرے کی نسبت کچھ کہو
  19. دل پکڑ کر بیٹھ جانا | صدمہ کی وجہ سے بول نہ سکنا یا گھبرا جانا
  20. دل ٹکڑے ٹکڑے ہونا | سخت صدمہ ہونا
  21. دل جگر دیکھنا | حوصلہ یا ہمت دیکھنا
  22. دل جل کر کباب ہونا | سخت رنج یا صدمہ ہونا ، رشک سے جلنا
  23. دل چیر کر دیکھنا | دل کا حال معلوم کرنا
  24. دل چیر کر دکھانا | راز ظاہر کرنا
  25. دل خون کرنا | بےحد محنت و مشقت کرنا
  26. دل دریا ہونا | بہت سخی یا فیاض ہونا
  27. دل دھک دھک کرنا | بیماری ، ڈر یا اضطراب سے دل کی حرکت تیز ہو جانا
  28. دل ڈانواں ڈول ہونا | دل بےاختیار ہونا ، دل قابو میں نہ ہونا
  29. دل ڈوبنا | غشی طاری ہونا
  30. دل سے اُتر جانا | بےوقعت ہو جانا ، بھول جانا
  31. دل سے کانٹا نکلنا | دل کی خلش جاتی رہنا
  32. دل کا ارمان نکلنا | آرزو پوری ہونا
  33. دل کا بخار | غصہ ، رنج ، کدورت ، ملال
  34. دل کا دو دو ہاتھ اچھلنا | بہت بےقرار ہونا ، مضطرب ہونا
  35. دل کا کنول کھلنا | خوش ہونا ، شگفتہ خاطر ہونا
  36. دل کباب ہونا | جلنا ، رنجیدہ ہونا ، غمگین ہونا
  37. دل کو دل سے راہ ہوتی ہے | محبت دونوں طرف سے ہوتی ہے
  38. دل کھول کے | بےدھڑک ، خاطر خواہ
  39. دل کی کلی کھلنا | آرزو پوری ہونا
  40. دل کی گانٹھ کھولنا | عداوت دور کرنا ، چھپے ہوئے کینہ کو دفع کرنا
  41. دل کی گرہ کھولنا | رنجش دور ہونا ، عقدہ کشائی ہونا ، راز ظاہر ہونا
  42. دل کے پھپھولے پھوڑنا | برا بھلا کہہ کر دل کا غصہ نکالنا، رنج و غم کے باعث جلی کٹی باتیں کرنا ، بدلہ لینا ، زہر اگلنا ، دردِ دل ظاہر کرنا
  43. دل گواہی دیتا ہے | دل تائید کرتا ہے
  44. دل لٹو ہونا | فریفتہ ہونا
  45. دل لگ جانا | جی بہلنا ، کسی کام میں مشغول ہو جانا ، محبت ہونا
  46. دل لوٹ پوٹ ہونا | فریفتہ ہونا ، شیدا ہونا ، عاشق ہونا
  47. دل مارنا | خواہشوں کو روکنا، ضبط کرنا
  48. دل مٹھی میں لینا | کسی کو قابو کرنا ، گرویدہ کر لینا
  49. دل مر جانا | دل میں کوئی خواہش نہ رہنا
  50. دل میں چٹکیاں لینا | طعنے دینا ، دل دکھانا ، درپردہ آزار پہنچانا
  51. دل میں چور بیٹھنا | بدگمانی ہونا ، بدظنی ہونا
  52. دل میں زہر بھرا ہونا | دل میں کسی کے متعلق دشمنی یا بدی ہونا
  53. دل میں غبار آنا | کدورت رکھنا
  54. دل میں کانٹا سا کھٹکنا | ناگوار گزرنا ، بار خاطر ہونا
  55. دل میں گرہ پڑنا | رنج و ملال ہونا
  56. دل میں گڑ جانا | پسند آنا ، اثر ہونا
  57. دل میں گھر کر جانا | دوستی پیدا کرنا ، محبت کرنا
  58. دل میں گھونسا لگنا | اچانک کوئی صدمہ پہنچنا
  59. دل میں لڈو پھوٹنا | بہت خوش ہونا
  60. دل میں ہُوک اٹھنا | رنج و غم کی بات یاد آنا
  61. دل ہارنا | ہمت ہار دینا ، گھبرا جانا
  62. دل ہلکا ہونا | رونے دھونے سے غم کا ہلکا ہونا
  63. دل ہوا ہو جانا | ڈر سے گھبرا جانا
  64. دل ہی دل میں | اندر ہی اندر ، چپکے چپکے

2011/04/18

چوری کا فتویٰ اور ڈالروں کی برسات

جاوید اقبال
معروف و مقبول کالم نگار ہیں۔ روزنامہ اردو نیوز (سعودی عرب) کے جمعہ ایڈیشن میں بلاناغہ ان کا ایک مختصر پراثر کالم چوتھے صفحہ پر شائع ہوتا ہے۔ میں کافی عرصہ سے اس کالم کا قاری ہوں۔ کچھ مرتبہ ان کے کالم شئر بھی کئے ہیں۔
اس بار بھی ان کا تازہ ترین کالم بعنوان "تیسری ای میل" (شائع شدہ : 15 اپریل 2011ء) پیش خدمت ہے۔
میں اس کالم کو مزید مختصر کر کے اپنی ترتیب کے ساتھ پیش کر رہا ہوں ، اصل کالم آپ نیچے دئے گئے لنک میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
***

ایک محترم دوست کی جانب سے مجھے دو ایمیل ملی ہیں۔

پہلی ای میل ۔۔۔۔۔۔ کراچی کی جامعہ بنوریہ کے بارے میں۔
اخباری رپورٹ کا عنوان ہے "لوگوں کی جان بچانے کیلئے چوری کا فتویٰ جاری کرنے پر غور"۔
جامعہ بنوریہ کے مفتی صاحب کے پاس 2 ہزار کے لگ بھگ سائلین حاضر ہوئے۔ یہ کراچی کے معروف صنعتی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور تھے۔ ان کی شکایات تھیں کہ ۔۔۔۔
وہ اشیائے خورد و نوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں آئے روز کے اضافے سے تنگ آ چکے ہیں۔ ان کا ماہانہ مشاہرہ 6 سے 9 ہزار روپے کے درمیان ہے اور گھرانہ 5 ، 6 یا 10 افراد پر مشتمل ہے۔ اس قلیل اجرت پر اور مہنگائی کے اس طوفان میں ان کا گزارہ مشکل ہے۔ گھروں میں فاقے ہو رہے ہیں اور علاج معالجہ کے وسائل نہ ہونے پر ان کے اہل خانہ ان کی آنکھوں کے سامنے سسک سسک کر دم توڑ رہے ہیں۔
سائلین نے کہا ۔۔۔۔۔
جب کسی مسلمان کی بھوک کے مارے موت واقع ہونے والی ہو تو اسلام اسے سور کا گوشت کھانے کی اجازت دیتا ہے اور خودکشی کو حرام قرار دیتا ہے۔ اب کیا اسی دلیل کو سامنے رکھتے ہوئے چوری ، ڈکیتی یا ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ ناجائز مال سے وہ اپنے اہل خانہ کے پیٹ کی آگ بجھا سکتے ہیں ؟؟

ملک کے مشہور فلاحی ادارے ایدھی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ شہر میں پانچ مقامات پر مفلس لوگوں کو کھانا کھلا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود عوام کی ایک بڑی تعداد دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے۔ یہ صورتحال اس وقت تک تبدیل نہیں ہو سکتی جب تک مراعات یافتہ طبقہ اپنی شاہ خرچیوں میں کمی نہیں لاتا۔

دوسری ای میل ۔۔۔۔۔۔ فیصل آباد میں شادی کی ایک تقریب میں ڈالروں کی برسات۔
یہ تقریباً پانچ منٹ کی یوٹیوب ویڈیو ہے۔ منظر شادی کی تقریب ، محفلِ راگ و رنگ ، اسٹیج پر ایک مغنی اپنے سازندوں کے ہمراہ، سامنے ہال میں دیڑھ دو سو کے قریب حاضرین۔
حاضرین میں سے ایک نوجوان اپنا بریف کیس کھولتا ہے اور ڈالروں کی گڈیاں نکال کر گانے والے پر نچھاور کرتا ہے۔ جب ہاتھ میں پکڑے ڈالر ختم ہو جاتے ہیں تو بریف کیس سے دوبارہ نئی گڈیاں لا کر اچھالتا ہے۔ وہ ایسا کئی بار کرتا ہے اور اس کے کام میں اس کا ایک اور ساتھی بھی ہاتھ بٹاتا ہے۔ لٹانے والے دیوانے ہو چکے ہیں۔ سارا فرش امریکی کرنسی کے ڈھیر میں چھپ گیا ہے۔ گانے والے پر ڈالروں کی برسات ہو رہی ہے۔ مستی مسرت ہے۔
مگر ۔۔۔۔ صرف چند سو گز کے دائرے میں برقی توانائی نہ ہونے سے ہزاروں کھڈیاں ویران پڑی ہیں اور ہزاروں مزدور گھرانے شکم کی آگ میں اپنے بدنوں کے ایندھن جلا رہے ہیں !

***
تیسری ای میل کی خواہش نہیں ہے !
جب اہل ثروت پر اتنی بےحسی چھا جائے کہ ان کے نزدیک نام و نمود انسانی جان سے زیادہ اہم ہو جائے تو پھر تاریخ کا دھارا اپنا رخ یوں پلٹتا ہے کہ ہر قدم پر لہو کا خراج لیتا ہے۔ لاکھوں کے لباس زیب تن کرنے والے ، نجی محفلوں پر کروڑوں لٹانے والے اور مظلوم خلق خدا کے درد و آشوب سے بےحسی کا مظاہرہ کرنے والے ہمارے حکمران اور ثروت مند فوراً تاریخ سے سبق سیکھیں ورنہ ۔۔۔۔
تیسری ای میل کہیں ان کے عبرتناک انجام کے بارے میں نہ ہو !!

-----
کالم : تیسری ای میل (جاوید اقبال) - روزنامہ اردو نیوز ، 15-اپریل-2011

2011/04/12

www.jihad.com ۔۔۔ حقیقت کیا ہے؟

تشدد ، دہشت گردی اور مذہبی جنونیت ۔۔۔۔
کیا اس کے خلاف مسلم دنیا میں کچھ کہا گیا ہے؟ اور کیا مسلم دنیا کے ایسے خیالات کو انگریزی میڈیا میں پیش کیا گیا ہے؟ کیا ہمارے نامور اور معتبر علماء نے واقعتاً اسلام پر لگائے جانے والے دہشت گردی کے الزام کا مدلل رد کیا ہے؟
اس موضوع پر نیٹ گردی کے دوران امریکن مسلم ویب سائیٹ کا یہ تحقیقی مقالہ مطالعے سے گزرا ۔۔۔۔
Muslim Voices Against Extremism and Terrorism - Fatwas & Formal Statements by Muslim Scholars & Organizations

یہ تحقیق بلاشبہ ایک انتہائی قابل قدر کوشش ہے جس کو زیادہ سے زیادہ کشادہ ذہن علمی و دینی حلقوں تک پہنچایا جانا چاہئے۔

اسی ضمن میں جب منفی نقطہ نظر کی تلاش ہوئی تو ایک معروف مغربی کالم نگار کا تجزیہ مطالعے سے گزرا۔
تھامس فرائیڈمن ، نیویارک ٹائمز (امریکہ) کے مشہور کالم نویس ہیں۔
آپ جناب نے کوئی سال دیڑھ سال قبل ایک آرٹیکل لکھا تھا بعنوان :
www.jihad.com
خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
مسلم ممالک میں ایک پرتشدد اور جہاد پرست اقلیت ایسی ہے جو اپنے وجود کو جائز ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ مسلم ممالک کے سیاسی اور مذہبی قائدین میں سے چند ہی عوام کے آگے جہاد اور تشدد کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مسلم ممالک کی اہم مذہبی شخصیات میں سے کتنوں نے اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے خلاف فتوے جاری کئے ہیں ؟؟

فرائیڈمن مسلم دنیا کے معاملات کے تعلق سے اس قدر باخبر صحافی ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ اور اس کے وسائل کے بارے میں ایک کتاب (From Beirut to Jerusalem) بھی شائع کر چکے ہیں جسے غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔
لیکن جب یہی فرائیڈمن اپنے آرٹیکل (www.jihad.com) میں ایک ناقابل فہم بات لکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ دانستہ طور پر ناواقفیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

تھامس فرائیڈمن کی اس متنازعہ تحریر (www.jihad.com) کے ہفتہ بھر بعد ہی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے شعبہ مذہب و بین الاقوامی امور کے پروفیسر جان ایل اسپازیٹو نے فرائیڈمن کے نظریات کا رد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ تھامس فرائیڈمن نے غیرحقیقی اور غیرمنطقی گفتگو کی ہے۔ پروفیسر جان اسپازیٹو کا مکمل مقالہ یہاں ملاحظہ فرمائیں :
Tom Friedman on Muslims and Terrorism: Getting it Wrong Again

پروفیسر اسپازیٹو کے غیرجانبدارانہ اور منصفانہ تجزیے کے مطابق ۔۔۔۔۔
گیلپ عالمی پول (Gallup World Poll) کے مطابق تو 35 مسلم ممالک ، جو شمالی افریقہ سے جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلے ہوئے ہیں ، میں کئی مسلم افراد اور امریکیوں نے شہریوں کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنانے جانے کی کھل کر مذمت کی ہے اور انہیں اخلاقی طور پر ناجائز قرار دیا ہے۔
11 ستمبر کے حملوں کے بعد سعودی عرب سے لے کر ملیشیا اور امریکہ میں تک کئی اہم بااثر اور مختلف الخیال مذہبی قائدین نے عمومی طور پر دہشت گردی اور خصوصاً اسامہ بن لادن کی سرگرمیوں کی مذمت کی ہے۔ ان قائدین میں شیخ طنطاوی (جامعہ الازہر کے مرحوم چانسلر) اور ایران کے آیت اللہ کاشانی تک شامل ہیں۔
بطور ثبوت یہ مقالہ دیکھیں ۔۔۔۔
Muslim Voices Against Extremism and Terrorism

تھامس فرائیڈمن اگر یہ کہتے ہیں کہ :
مسلمانوں میں ایک عجیب و غریب ذہنیت گھر کر چکی ہے جس کے تحت عربوں اور مسلمانوں کو محض ایک ایسا محرک سمجھا جانے لگا ہے جو دنیا میں ہونے والے کسی بھی واقعہ کے لیے ذمہ دار نہیں۔ جبکہ ہم دنیا کے کسی بھی واقعے سے متاثر ہونے والے افراد ہیں جو دنیا میں کہیں بھی ہونے والے کسی بھی واقعہ کیلئے ذمہ دار ہیں۔

تو ان کے لیے میرا ناقص مشورہ یہ ہے کہ :
اگر عربوں اور مسلمانوں کی ذمہ داری کو ابھارنے کے لیے فرائیڈمن اس قدر تعلق خاطر رکھتے ہیں اور ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف زیادہ سے زیادہ مزاحمت کریں تو پھر انہیں اور نیویارک ٹائمز جیسے معتبر اخبار کو ایک مثبت قدم اٹھانا ضروری ہے۔ اور وہ یہی کہ وہ مسلم قائدین اور مسلمانوں کی بھاری اکثریت کی نمائیندگی کرنے والے افراد کے بیانات کو نظر انداز نہ کریں بلکہ ان کو زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچائیں !
اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ گویا ایک طرح کی غیرذمہ دارانہ صحافت ہوگی اور اس کا مقصد یہ قرار پائے گا کہ وہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو یکا و تنہا کر کے ان کے جائز مقاصد کی تکمیل کے متعلق پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں !!

2011/03/27

مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی کچھ تازہ تصاویر

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اس ہفتہ اتفاق سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زیارت کا موقع نصیب ہوا تھا۔ ہمارے ایک عزیز دوست عتیق الرحمٰن بھائی لندن سے بغرض عمرہ سعودی عرب تشریف لائے تھے۔ ان سے ملاقات کا ارادہ تھا جو الحمدللہ پورا ہوا اور کافی طویل عرصہ کی نیٹ-دوستی میں دوبدو ملاقات کا شرف بھی پہلی بار حاصل ہوا۔

ان دنوں عمرہ کا سیزن چل رہا ہے۔ اس لیے حرمین شریفین میں بےپناہ ہجوم ہے۔ اطلاعات کے مطابق ترکی کے زائرین سب سے زیادہ تعداد میں تشریف لائے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر پاک و ہند کے زائرین ہیں۔

اللہ تعالیٰ سب کی عبادتوں اور دعاؤں کو قبول فرمائے ، امت مسلمہ کو حفظ و امان میں رکھے اور عالم اسلام کو سربلندی عطا فرمائے ، آمین یارب العالمین۔

اس موقع پر حرمین شریفین کی کچھ تازہ تصاویر ملاحظہ فرمائیں۔

مسجد الحرام (مکہ مکرمہ) کا اندرونی منظر
بروز جمعہ 25-مارچ-2011ء ، بوقت : صبح 7 بجے

مسجد نبوی (مدینہ منورہ) کا بیرونی منظر ، گنبد خضرا
بروز جمعرات 24-مارچ-2011ء ، بوقت : علی الصبح 4 بجے

مسجد نبوی (مدینہ منورہ) کا بیرونی منظر ، مرکزی دروازہ باب الفہد (قریبی منظر)
بروز جمعرات 24-مارچ-2011ء ، بوقت : صبح 10 بجے

مسجد نبوی (مدینہ منورہ) کا بیرونی منظر ، مرکزی دروازہ باب الفہد
بروز جمعرات 24-مارچ-2011ء ، بوقت : صبح 10 بجے

2011/03/11

سعودی عرب میں یوم الغضب ؟؟

حسب روایت بی بی سی نے اپنی پراگندہ ذہنی کے طور پر ایک خبر کی سرخی یوں لگائی ہے :
سعودی عرب میں یوم الغضب

کون سا یوم الغضب ؟
اور کس معاملے پر لوگوں میں غیض و غضب پیدا ہوا ہے یا ہو رہا ہے؟
مٹھی بھر شرپسند افراد کا وہ "احتجاج" جو فیس بک جیسی متنازعہ سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹ کے ذریعے ہوّا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور یوں کہ جیسے انسانی حقوق کی لرزہ خیز حق تلفی کی جا رہی ہو؟
واہ !! بڑا اچھا مذاق ہے !

مغربی و صیہونی ایجنسیوں کی پشت پناہی کے ذریعے چلانے جانے والی اس سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹ کے متعلق ذرا گوگل پر صاحبان عقل و دانش تحقیق تو کر دیکھیں۔ پتا چلے گا کہ کس قدر دوغلی فکر و نظر کی اشاعتِ عام ہو رہی ہے۔
جب مسلمانوں کے عظیم ترین مذہبی رہنما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف واہیات کارٹون شائع ہوتے ہیں اور ساری دنیا میں مسلمان احتجاج کرتے ہیں تب ۔۔۔۔۔ ؟
تب یہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کا نام جپنے والی تنظیمیں مسلمانوں کی حمایت میں آگے آ کر بیان کیوں نہیں دیتیں؟
دنیا بھر کے مسلمانوں کا احتجاج ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں رکھتا اور چند متعصب سرپھروں کی آزادئ رائے کا اظہار ان کے نزدیک اہم ہے ؟؟
سبحان اللہ۔ قربان جائیے اس آزادئ رائے پر۔

سعودی عرب ، دنیا کا شائد وہ واحد ملک ہے جہاں جرائم کی شرح نہایت ہی کم ہے۔ کیا یہ ہی وجہ ہے کہ یہ ملک غیروں کی نگاہوں میں کھٹک رہا ہے؟

دوسری طرف امریکہ کے 35 ویں امیر ترین فرد اور فیس بک کے مالک نے دنیا کے غریب اور ضرورت مندوں کی کیا خدمات انجام دی ہیں؟
بلکہ ان محترم کے بارے میں تو کہا گیا ہے کہ :
He's created a global network of friendships, but ruthlessly betrayed his own friends.

جو لوگ مغربی میڈیا سے مرعوب و متاثر ہیں ، کم از کم انہیں کچھ تحقیق بھی کر لینا چاہئے کہ جتنا کچھ انہیں بتایا یا جتایا جا رہا ہے ، ان کے پس پردہ اصل حقائق کیا ہیں؟

2011/03/09

آخر قرآن کیوں جلے؟

کچھ دن پہلے ایک اردو کتاب اس عنوان سے منظر عام پر آئی ہے :
میں نے بائبل سے پوچھا قرآن کیوں جلے؟
اس کے مولف ہیں : مولانا امیر حمزہ۔
اس کتاب کو پی۔ڈی۔ایف فائل کی شکل میں ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ ڈاؤن لوڈ لنک اس تحریر کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔
یہ کتاب دراصل اس اشتعال انگیز پروپگنڈے کا علمی و تحقیقی جواب ہے جو کچھ پراگندہ ذہن لوگ قرآن کریم کے خلاف برپا کرنے پر تلے ہیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو ان کے برے انجام سے جلد از جلد دوچار کرے۔

اس میں شک نہیں کہ شیخ امیر حمزہ کی یہ ایک اور منفرد اور مفید کتاب ہے۔ خاص طور پر انہوں نے جس قدر عرق ریزی سے تحقیق کی ہے اور جتنی اہم کتب (عہدنامہ قدیم ، باتصویر بائبل ، یہود سے متعلق انسائیکلوپیڈیا) کو کنگھالا ہے اس کی داد نہ دینا ناانصافی ہوگی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی جلد سے جلد پیش کیا جائے۔
مگر ۔۔۔۔۔۔
انگریزی میں یہ کتاب پیش کرنے کیلئے کتاب کے اسلوب اور لب و لہجہ کی موثر تبدیلی نہایت ناگزیر امر ہے۔
ذاتی طور پر مجھے خود اس اردو کتاب کے لب و لہجہ پر اعتراض ہے۔ شیخ محترم کی علمیت و ادبی حیثیت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر مختلف موضوع ایک مختلف اسلوب و انداز کا متقاضی ہوتا ہے۔
ایک عام مسلمان کو دین کے حوالے سے فخر و غرور یا جذباتیت میں ضرور مبتلا کیا جا سکتا ہے لیکن مذہب سے کچھ دور اور مادیت پرستی میں مشغول روشن خیال یا وسیع الذہن انسان (مسلم یا غیر مسلم) کو جذباتیت یا اشتعال انگیز اندازِ تقابل ادیان سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ یہ کتاب ایسے ہی "روشن خیال" طبقے کیلئے تحریر کی گئی ہے۔ خطیبانہ ، جذباتی اور روایتی مذہبی برہم آمیز انداز میں ایسے طبقے کو متاثر کرنے کی کوشش کرنا کارعبث ہے۔
بڑی عجیب بات ہے کہ اس کتاب کا تعارف کرواتے ہوئے پروفیسر حافظ محمد سعید نے لکھا کہ : اس کتاب سے خاص طور پر وہ مسلمان زیادہ فائدہ اٹھا سکیں گے جو مغرب سے بہت متاثر ہیں۔
حالانکہ حافظ صاحب کو یہ بھی پتا ہوگا کہ جو مسلمان مغرب سے مرعوب و متاثر ہے وہ کبھی ایسے جذباتی اور مقابل کو کمتر و حقیر و غاصب و ظالم جتانے والے لب و لہجے کو ہرگز پسند نہیں کرتا ، اور اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جب وہ ایسے جذباتی جملے یا فقرے یا القاب پڑھتا ہے ۔۔۔۔۔
ارے نادانو ۔۔۔ ارے ظالمو ۔۔۔ اپنی ننگی ذہنیت کو تہذیب کا لباس پہناؤ ۔۔۔ کیا تجھے ابھی تک پتا نہیں چلا کہ گولی مار کر وہ اپنے مذہب پر عمل کر رہا تھا ۔۔۔ ظالمو تم جانوروں سے بدتر ہو ۔۔۔۔۔
تو بیزاری سے کتاب کو بازو رکھ دیتا ہے !

بہرحال ۔۔۔۔۔
اس قدر نہایت اچھی ، قابل قدر اور علمی و تحقیقی کتاب کی اشاعت سے قبل دیگر معاصر علمائے کرام (مثلاً : حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ ، جنہوں نے بہترین علمی و غیرجذباتی انداز میں مولانا مودودی علیہ الرحمۃ کی "خلافت و ملوکیت" کا جواب دیا تھا) سے رائے و مشورہ کر لیا جاتا اور کتاب کے لب و لہجے میں روایتی خطابت کے بجائے مکمل علمی سنجیدگی کو بروئے کار لایا جاتا تو اس کی افادیت میں مزید دو چند بلکہ چہار چند اضافہ ہوجانا ناممکن نہیں تھا۔

کتاب کے لب و لہجے سے قطع نظر ، جو لوگ تقابل ادیان میں دلچسپی رکھتے ہیں ، یا جو لوگ اپنے غیرمسلم ساتھیوں کو قرآن کریم کی حقانیت اور اس میں موجود انبیاء و رسل کی عزت و توقیر کے واقعات و حکایات سے واقف کروانا چاہتے ہوں ، ان کے لیے یہ ایک قابل مطالعہ اور نہایت ہی معلوماتی کتاب ہے۔

***
کتاب کا عنوان : میں نے بائبل سے پوچھا قرآن کیوں جلے؟
مولف : مولانا امیر حمزہ
ناشر : دار الاندلس
صفحات : 162
پی۔ڈی۔ایف فائل سائز : 3.1 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ لنک : me-ne-bible-se-pocha-quraan-qiyo-jale

2011/02/28

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

ابھی کل کی بات ہے ، ہمارے ایک اچھے سے دوست کے دو صاحبزادے فیض کا کلام لے آئے۔ اپنے اسکول کے مقابلے "نظم خوانی" میں یہ کلام انہیں سنانا تھا۔ کہنے لگے :
انکل ، یہ ذرا سمجھا دیں ہمیں۔ اگر سمجھ میں آ جائے تو یاد بھی جلد ہو جائے گا۔

صاحب۔ ہم نے بہت کوشش کی۔ عرصہ ہوا ادبِ لطیف (اور وہ بھی ترقی پسندانہ) سے دوری اختیار کئے۔ مگر پھر بھی جیسے تیسے کر کے سمجھا دیا۔
اس تشریح پر فیض کی روح تڑپ اٹھی ہو کہ پھڑک اٹھی ہو ، یہ تو نہیں پتا ۔۔۔ لیکن مداحینِ فیض سے معذرت خواہ ہیں اگر کچھ اونچ نیچ محسوس ہو۔
لیجئے ۔۔۔ شرحِ فیض ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔

موتی ہو کہ شیشہ ، جام کہ دُر
جو ٹوٹ گیا، سو ٹوٹ گیا
کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے
جو ٹوٹ گیا ، سو چھوٹ گیا

پیارے بچو ! شاعر کہتا ہے کہ جو تم نے ابھی ابھی اپنے ابو کو پانی پلانے کے لیے گلاس اٹھایا تھا تو دراصل ذرا بےدھیانی میں ہاتھ بڑھایا تھا لہذا شیشہ کا گلاس اگر نیچے گر کر ٹوٹ گیا ہے تو سمجھو کہ وہ گیا بس گیا۔ کراکری کی رفاقت چھوڑ گیا۔ تم چاہو تو انا للہ پڑھ سکتے ہو۔ مگر تمہارا رونا بےفائدہ ہے کیونکہ دانا کہتے ہیں کہ آنسو بہانے سے ٹوٹے گلاس ہی نہیں جڑتے بلکہ ٹوٹے دل بھی نہیں جڑتے۔

تم ناحق ٹکڑے چن چن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو

دیکھو بچو ! ویسے تو ٹوٹے ہوئے گلاس کے ٹکڑے چننا نوکر کا کام ہوتا۔ پیارے پچوں اور معصوم بالغوں کا یہ کام نہیں۔ ہاں کبھی کبھی بچوں کو کھیل کے لیے کانچ کے رنگین ٹکڑے چاہئے ہوتے ہیں تو ذرا دیکھ سنبھال کر چننا چاہئے مبادا کہیں مزید کوئی اور گلاس نہ توڑ بیٹھیں۔ تیسرے مصرعے میں جو "مسیحا" کا ذکر ہے یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں۔ اصل میں یہ شاعر لوگوں کے ایک مرغوب اور پسندیدہ آدمی کا نام ہے۔ جہاں ردیف قافیہ فٹ بیٹھتا ہے تو اسے بلا لیتے ہیں۔

ناداری، دفتر، بھوک اور غم
ان سپنوں سے ٹکراتے رہے
بے رحم تھا چومکھ پتھراؤ
یہ کانچ کے ڈھانچے کیا کرتے

میرے بہادر بچو ! دیکھو کبھی کبھی تم نے غور کیا ہوگا کہ جب کسی مہینے کی آٹھ تاریخ کو بھی ابو دفتر سے تھکے ماندے شانے ڈھلکائے آتے ہیں اور تمہاری ممی ان کی صورت دیکھتے ہی پوچھتی ہیں:
"آج بھی نہیں ملی؟"
تو یہ اصل میں بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہوتی ہیں۔ جب تم بڑے ہو جاؤ گے اور فیروزاللغات دیکھنا کھوجنا جان جاؤ گے تو ناداری ، بھوک ، غم ، پتھراؤ ، ڈھانچے جیسے الفاظ کے معانی تمہیں بھی اچھی طرح سمجھ میں آ جائیں گے۔ اس وقت تمہارا کام تو صرف یہ ہے کہ مہینے کے پہلے اور آخری ہفتہ میں کوئی گلاس نہ توڑنا۔

اس مال کی دھن میں پھرتے تھے
تاجر بھی بہت ، رہزن بھی کئی
ہے چور نگر، یا مفلس کی
گر جان بچی تو آن گئی

بچو ! یہ دراصل سیاسی شعر ہے۔ سیاست ابھی تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گی۔ اس کے لیے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ یہ ایسا مال ہے کہ تاجر ، رہزن ، چور اچکے سب اسی کی چاہ میں دیوانے ہوئے جاتے ہیں۔ عوام بچارے چونکہ مفلس ہوتے ہیں لہذا بڑی مشکل سے زندگی گزارتے ہیں کبھی جان پر بن جائے تو آن قربان کر دیتے ہیں۔ ویسے بھی آن کی قربانی ہماری مجبوری ہے۔ ہم جس اسلامی ملک میں رہتے ہیں وہاں جان بچانے کے لیے وقتاً فوقتاً ایسی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ اسے قومی مجبوری بھی کہا جا سکتا ہے۔

یہ ساغر، شیشے، لعل و گہر
سالم ہوں تو قیمت پاتے ہیں
یوں ٹکڑے ٹکڑے ہوں، تو فقط
چبھتے ہیں، لہو رلواتے ہیں

عزیر بچو ! اس شعر میں شاعر اتحاد امت کا درس دے رہا ہے۔ اس نے تشبیہات اور مثالوں کے ذریعے اپنی بات سمجھائی ہے۔ جیسا کہ دیکھو کچن میں کراکری کتنی خوبصورت نظر آتی ہے اگر ہر چیز اپنی جگہ موزونیت اور مناسبت سے سجائی جائے۔ ورنہ کوئی گلاس بستر پر ، کوئی پیالی صوفے پر ، کوئی پلیٹ کمپیوٹر ٹیبل پر ہو تو ذرا سی لاپروائی پر نیچے گر کر ٹوٹتی ، ہاتھ پاؤں میں چبھتی اور خون بہاتی ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی یہ کہے کہ میں فلاں مسلک کا ہوں تو فلاں طبقہ کا ہے ، تیرا فرقہ یہ ہے میرا فرقہ یہ ہے ، تو یہ ہے میں وہ ہوں ۔۔۔۔ یہ میری جگہ ہے ، تو وہاں جا یہاں مت رہ ۔۔۔۔ تو آپس میں دنگا فساد ہوتا ہے خون کی ندیاں بہتی ہیں اور اتحاد امت پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔

2011/02/14

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے ۔۔۔

ہاں ! محبت مجھے ان جوانوں سے ہے !

کیا پتا کہ ۔۔۔۔۔ آج کے دن ان جوانوں کے ہاتھوں یہ جو سرخ گلاب نظر آتے ہیں ، کل یہی ہاتھ قلم اور کتاب تھام لیں
کیا پتا کہ ۔۔۔۔۔ آج کی-بورڈ پر ان کی انگلیاں صنف مخالف کو مخاطب کرتی ہیں ، کل یہی انگلیاں علم و تحقیق کے سمندروں کو کھنگالیں
کیا پتا کہ ۔۔۔۔۔ آج جن کے ہاتھوں میں زبردستی کے کلاشنکوف تھمائے گئے ہیں ، کل مسیحا بن کے زخمیوں اور بیماروں کی نبض ٹٹولیں
کیا پتا کہ ۔۔۔۔۔ آج جنہیں فرقہ ، مسلک ، جماعت ، گروہ کے ٹکڑوں میں بانٹا گیا ہے ، کل وحدتِ امت کا نشان بن کے جگمگائیں
کیا پتا کہ ۔۔۔۔۔ آج جو سوالی بن کے در بہ در بھٹک رہے ، کل اپنے در سے سوغات لٹائیں ۔۔۔

ہر سال ایک یہ دن آتا ہے۔ ایک نئی امید ایک نئی صبح روشن ہوتی ہے تو مفکر اسلام یاد آتے ہیں۔ روح کی تڑپ تھی کہ بول اٹھے تھے ۔۔۔۔

یارب دِل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے

پھر وادئ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے
پھر شوقِ تماشا دے، پھر ذوقِ تقاضا دے

اس دور کی ظلمت میں ہر قلبِ پریشاں کو
وہ داغ محبت دے، جو چاند کو شرما دے

بے لوث محبت ہو، بیباک صداقت ہو
سینوں میں اجالا کر، دل صورتِ مینا دے

اے نوجوان ! کہ تری شان کے بارے میں علامہ نے تو فرمایا تھا :

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان

قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے‘ حقیقت میں ہے قرآن!

اک روشن صبح کی امید میں دعا کی تھی علامہ نے ۔۔۔۔۔ آج پھر وہی دعا دہرانے کو جی چاہتا ہے :

اپنے پروانوں کو پھر ذوقِ خود افروزی دے
برقِ دیرینہ کو فرمانِ جگر سوزی دے

آنکھ کو بيدار کر دے وعدۂ ديدار سے
زندہ کر دے دل کو سوز جوہر گفتار سے

عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے
نگاہ مسلماں کو تلوار کر دے

دلوں کو مرکز مہر و وفا کر
حریم کبریا سے آشنا کر
جسے نان جویں بخشی ہے تو نے
اسے بازوئے حیدر بھی عطا کر

ضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دے
چمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دے

2011/01/29

کیا آج اجماعی و اتفاقی مسائل کے تعمیرِ نو کی ضرورت ہے؟

ہمارے ایک دوست نے یہاں پر اپنا خیال کچھ یوں پیش کیا ہے۔ موضوعِ بحث ، وہی آج کا ہاٹ ٹاپک یعنی "قانونِ ناموسِ رسالت" رہا ہے۔
اقتباس ملاحظہ فرمائیں :
ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دین پر پھر سے غور کرنے سے ڈرتے ہیں۔ شش شش کہہ کر، ان کے رتبے اور فضیلت، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے قریب ہونے کا ڈراوا دے کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔ دین کے ذرائع ان کے پاس بھی وہی تھے جو آج ہمارے پاس ہیں۔ عقل و علم ان کے پاس بھی تھا جو آج ہمارے پاس بھی ہے۔ زمانہ ان کا وہ نہیں تھا جو آج ہمارا ہے۔ اس دور کے تقاضے اور تھے، آج کے تقاضے نئے اجماع اور اجتہاد کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ جو کہ ہو نہیں سکتا، چونکہ جو بندہ پچھلوں کے استدلال سے مختلف بات کرے گا وہ روشن خیال (روشن خیال کو گالی سمجھا جائے)، ناقص القعل، ناقص الایمان اور دشمن اسلام ہے۔
"نئے اجماع" کی مثال بھی خوب ہے۔ دوست محترم نے یہ نہیں بتایا کہ : یہ "نیا اجماع" پرانے اجماع کو توڑ کر بنایا جائے گا یا اس میں append ہوگا؟ اور مزید یہ کہ جب "اجماع" قابل تبدیل چیز ہے تو پھر ہر دَور کا اجماع علیحدہ علیحدہ ہونا چاہئے۔ اور وہ کون لوگ ہیں جو اس قسم کے زمانہ وار اجماع کو مرتب کریں گے؟

دراصل یہ افکار موجودہ دور کے ایک اسکول آف تھاٹ سے جاری ہو رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اسی موضوع پر ایک جگہ بحث ہوئی تو اس کے جواب میں ، میں نے اپنا جو کچھ مطالعہ نقل کیا تھا ، وہ اب یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
***
احادیثِ صحیحہ اور متقدم مفسرین و محدثین و ائمہ دین کے حوالے سے جب کوئی اجماعی و اتفاقی بات پیش کی جائے تو آج کے فہم کو قبول نہ ہونے کے سبب اس کا انکار کر دیا جاتا ہے۔ تو پھر ہم بھی کیونکر اس "فکر" پر اعتراض نہ کریں جو اہل علم کی متفقہ رائے کے خلاف نظر آتی ہو؟

فقہاء و علماء و محدثین کی کورانہ تقلید کی دعوت قطعاً نہیں دی جا رہی بلکہ ہمارے نزدیک تو تجدید و اجتہاد ، اور تحقیق و اکتشاف ، وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔
لیکن استدعا صرف یہ ہے کہ بحث و نظر کا دائرہ کار ، اجماعی و اتفاقی مسائل کے بجائے وہ امور ہونے چاہئے جو واقعتاً حل طلب ہیں۔
امت کے مابین ہمیشہ سے طے شدہ امور میں "اجتہاد" کا نتیجہ سوائے انتشار و افتراق کے کچھ نہیں جو امت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔

فکرِ غامدی یا انڈراسٹینڈنگ اسلام کی تحریروں کا مطالعہ کیا جائے تو جا بجا یہ جملے ملتے ہیں:
  • اس مسئلہ میں تمام فقہاء کی بالاتفاق یہی رائے ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ ۔۔۔۔
  • ہمارے علماء کا نقطہ نظر یہی ہے مگر ہمارا موقف یہ ہے کہ ۔۔۔۔
  • عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ۔۔۔۔ مگر ہمارے نزدیک یہ بالکل غلط ہے ۔۔۔
جبکہ درست رویہ یہ ہونا چاہئے کہ ۔۔۔۔۔۔
اہل علم کی متفقہ رائے کے بالمقابل کوئی نیا نقطہ نظر پیش کرنے کے بجائے ان کے دلائل پر غور و فکر کیا جائے اور گہرائی میں اتر کر اس کی معنویت تک پہنچنے کی کوشش کی جائے ، اس سے یقیناً صحیح نتیجے تک رسائی ہو جاتی ہے اور انسان شذوذ و تفرد سے محفوظ رہتا ہے !!

صاحبانِ انڈراسٹینڈنگ اسلام / اہل "المورد" کے تفردات اور شذوذات کی کچھ وجوہات تو ضرور ہوں گی مگر بنیادی سبب یہ ہے کہ انہوں نے "اجماع" کی اہمیت اور "اجماع" کی مسلمہ حیثیت کو نظر انداز کر دیا ہے۔ جس کی بنا پر وہ امت مسلمہ کے اجتماعی دھارے سے الگ تھلگ نظر آتے ہیں۔
یہ ایک غیرمناسب رحجان ہے اور مطالعۂ شریعت کے اس طریقہ کے منافی ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور سلف الصالحین رحمہم اللہ عنہم نے امت کے سامنے پیش کیا ہے۔
کسی استفسار کے بارے میں ایک عالم دین یا فقیہہ کو کیا رویہ اپنانا چاہئے ؟ اس کے متعلق عظیم المرتبت صحابئ رسول عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) کا قول ذیل میں ملاحظہ فرمائیں :
" إذا سئل أحدكم فلينظر في كتاب الله فإن لم يجده ففي سنة رسول الله فإن لم يجده فيها فلينظر فيما اجتمع عليه المسلمون وإلا فليجتهد "
جب تم میں سے کسی سے کوئی سوال کیا جائے تو اسے چاہئے کہ قرآن مجید سے اس کا حل تلاش کرے ، اگر وہاں نہ پائے تو سنتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں دیکھے ، اگر وہاں بھی نہ ملے تو پھر ان مسائل کو دیکھے جن پر مسلمانوں کا اتفاق ہے ، اور اگر یہاں بھی اس کا حل میسر نہ ہو تو پھر اجتہاد کرے ۔۔۔
بحوالہ : المقاصد الحسنة ، امام سخاوی

2011/01/06

احکامِ شریعت : کیا قانون عوام کے ہاتھ ہے؟

آج کی ایک فکر انگیز خبر پر انٹرنیٹ کی اردو دنیا میں کافی شور و غل ہے۔
اس حوالے سے بلاگر تانیہ رحمان نے ایک سوال کچھ یوں کیا ہے :
سلمان تاثیر کو قتل کرنا جائز تھا؟
اگرچیکہ اس سوال کے یک لفظی جواب پر راقم الحروف کے کچھ دوست احباب کی بھویں چڑھ جائیں گی مگر حقیقت یہی ہے کہ اس سوال کا کڑوا جواب "نہیں" کی صورت میں ہے !!

براہ مہربانی یاد رکھئے کہ اس "نہیں" کے پیچھے ان احادیثِ صحیحہ کا انکار نہیں ہے جن میں توہینِ رسالت کی سزا "موت" بیان کی گئی ہے۔ احادیثِ صحیحہ سے یقیناً یہ ثابت ہے کہ شاتمِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سزا موت ہے اور ان احادیث کی شرح میں موقر و معتبر علمائے و ائمہ دین کے اقوال موجود ہیں جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔

مگر ۔۔۔۔
سوال یہ ہے کہ کسی فرد کو توہینِ رسالت کا موجب یا "شاتمِ رسول" کون قرار دے گا؟
اور شریعت میں قائم "شاتمِ رسول" کی سزا پر عمل درآمد کون کرے گا؟
کیا ایک عام آدمی کو یہ حق دیا گیا ہے؟ اگر ہاں تو یہ میری کم علمی ہے کہ اس ضمن میں کسی مضبوط شرعی دلیل سے میں ناواقف ہوں۔

علامہ البانی رحمة اللہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا : ۔۔۔ اور یقیناً یاد دہانی ایمان والوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔
ممکن ہے جب ہماری قوم جذباتیت کے بھنور سے نکلے تو ایسی یاددہانی اس کو فائدہ پہنچائے۔ ان شاءاللہ۔
اور وہ یاد دہانی بس اتنی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔

قتل جیسے سفاکانہ فعل پر تاویلات کے ذریعہ قاتل کی طرفداری مت کیجئے کہ :
اسلام اور دنیا کا کوئی بھی مہذب معاشرہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا !!
اگر کسی کو یہ بات ناپسند ہو کہ فلاں فلاں حکمراں فلاں فلاں شرعی قانون کے خلاف بولتا یا اس پر اعتراض کرتا ہے تب بھی شریعت نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا حق عوام کو نہیں دیا ہے !!
علاوہ ازیں ، اگر قانون کے حکمران خود قانون کو ہاتھ میں لے کر اسے کھیل تماشا بنا دیں تب بھی یہ اس بات کا جواز نہیں کہ عوام کو بھی اسی طرح کا "حق" حاصل ہو جائے گا۔

حکمراں سے ہمیں چاہے لاکھ اختلاف ہو ، اس کی (مشروط) اطاعت کا حکم ہمیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ) نے یوں دیا ہے :
السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ
مسلمان کے لیے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے ۔ ان چیزوں میں بھی جنہیں وہ پسند کرے اور ان میں بھی جنہیں وہ ناپسند کرے ، جب تک اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے۔ پھر جب اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو نہ سننا باقی رہتا ہے اور نہ اطاعت کرنا۔
صحيح البخاري , كِتَاب الْأَحْكَامِ , بَاب السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلْإِمَامِ مَا لَمْ تَكُنْ

اور مقتول کو برا مت کہئے کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ
مُردوں کو گالی مت دو کیونکہ ایسا کرنے سے تم زندوں کو ایذاء دو گے ۔
جامع الترمذي , كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ , بَاب مَا جَاءَ فِي الشَّتْمِ

یہ ایک عبرت انگیز واقعہ ہے۔ پس اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ نہ کہ فریقین کو برا یا بھلا کہنے میں وقت اور قوت ضائع کی جائے۔

updated : ضمیمہ
بشکریہ : فرخ علی قاضی
عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ سے کچھ سوال جواب یوں ہوئے ہیں :
سوال :
کیا اہانتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مرتکب کو کوئی بھی عام مسلمان قتل کر سکتا ہے؟
جواب :
یہ بات صحیح ہے کہ اہانت رسول کرنے والے کی سزا موت ہے
لیکن اس کا حق صرف حکمران کو یا اس کے نائب کو ہے ہر کسی کو نہیں
سوال :
بعض لوگ دلیل دیتے ہیں کہ ایک صحابی نے بغیر حکومت کے بھی خود سے اپنی لونڈی کو قتل کر دیا کہ جب اس نے اہانت رسول کی
جواب :
یہ تو ایک واقعہ ہے کہ جب کوئی جذبات میں مغلوب ہوکر ایسا اقدام کرلے تو قدراللہ وماشاء فعل دلائل سے ثابت ہونے کے بعد اس کا مواخذہ پھر نہیں ہونا چاہیے مگر عمومی قاعدہ یہ نہیں کہ ہر کوئی خود سے قتل کر دے
سوال:
مرنے والے پر اظہار افسوس ؟؟
جواب :
نہیں افسوس تو نہیں ہوسکتا۔
سوال:
خوشیاں منانا اور مٹھائیاں تقسیم کرنا کیسا ہے؟؟
جواب:
یہ صحیح نہیں اس کی کوئی دلیل نہیں شریعت میں۔