2011/01/06

احکامِ شریعت : کیا قانون عوام کے ہاتھ ہے؟

آج کی ایک فکر انگیز خبر پر انٹرنیٹ کی اردو دنیا میں کافی شور و غل ہے۔
اس حوالے سے بلاگر تانیہ رحمان نے ایک سوال کچھ یوں کیا ہے :
سلمان تاثیر کو قتل کرنا جائز تھا؟
اگرچیکہ اس سوال کے یک لفظی جواب پر راقم الحروف کے کچھ دوست احباب کی بھویں چڑھ جائیں گی مگر حقیقت یہی ہے کہ اس سوال کا کڑوا جواب "نہیں" کی صورت میں ہے !!

براہ مہربانی یاد رکھئے کہ اس "نہیں" کے پیچھے ان احادیثِ صحیحہ کا انکار نہیں ہے جن میں توہینِ رسالت کی سزا "موت" بیان کی گئی ہے۔ احادیثِ صحیحہ سے یقیناً یہ ثابت ہے کہ شاتمِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سزا موت ہے اور ان احادیث کی شرح میں موقر و معتبر علمائے و ائمہ دین کے اقوال موجود ہیں جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔

مگر ۔۔۔۔
سوال یہ ہے کہ کسی فرد کو توہینِ رسالت کا موجب یا "شاتمِ رسول" کون قرار دے گا؟
اور شریعت میں قائم "شاتمِ رسول" کی سزا پر عمل درآمد کون کرے گا؟
کیا ایک عام آدمی کو یہ حق دیا گیا ہے؟ اگر ہاں تو یہ میری کم علمی ہے کہ اس ضمن میں کسی مضبوط شرعی دلیل سے میں ناواقف ہوں۔

علامہ البانی رحمة اللہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا : ۔۔۔ اور یقیناً یاد دہانی ایمان والوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔
ممکن ہے جب ہماری قوم جذباتیت کے بھنور سے نکلے تو ایسی یاددہانی اس کو فائدہ پہنچائے۔ ان شاءاللہ۔
اور وہ یاد دہانی بس اتنی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔

قتل جیسے سفاکانہ فعل پر تاویلات کے ذریعہ قاتل کی طرفداری مت کیجئے کہ :
اسلام اور دنیا کا کوئی بھی مہذب معاشرہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا !!
اگر کسی کو یہ بات ناپسند ہو کہ فلاں فلاں حکمراں فلاں فلاں شرعی قانون کے خلاف بولتا یا اس پر اعتراض کرتا ہے تب بھی شریعت نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا حق عوام کو نہیں دیا ہے !!
علاوہ ازیں ، اگر قانون کے حکمران خود قانون کو ہاتھ میں لے کر اسے کھیل تماشا بنا دیں تب بھی یہ اس بات کا جواز نہیں کہ عوام کو بھی اسی طرح کا "حق" حاصل ہو جائے گا۔

حکمراں سے ہمیں چاہے لاکھ اختلاف ہو ، اس کی (مشروط) اطاعت کا حکم ہمیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ) نے یوں دیا ہے :
السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ
مسلمان کے لیے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے ۔ ان چیزوں میں بھی جنہیں وہ پسند کرے اور ان میں بھی جنہیں وہ ناپسند کرے ، جب تک اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے۔ پھر جب اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو نہ سننا باقی رہتا ہے اور نہ اطاعت کرنا۔
صحيح البخاري , كِتَاب الْأَحْكَامِ , بَاب السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلْإِمَامِ مَا لَمْ تَكُنْ

اور مقتول کو برا مت کہئے کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ
مُردوں کو گالی مت دو کیونکہ ایسا کرنے سے تم زندوں کو ایذاء دو گے ۔
جامع الترمذي , كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ , بَاب مَا جَاءَ فِي الشَّتْمِ

یہ ایک عبرت انگیز واقعہ ہے۔ پس اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ نہ کہ فریقین کو برا یا بھلا کہنے میں وقت اور قوت ضائع کی جائے۔

updated : ضمیمہ
بشکریہ : فرخ علی قاضی
عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ سے کچھ سوال جواب یوں ہوئے ہیں :
سوال :
کیا اہانتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مرتکب کو کوئی بھی عام مسلمان قتل کر سکتا ہے؟
جواب :
یہ بات صحیح ہے کہ اہانت رسول کرنے والے کی سزا موت ہے
لیکن اس کا حق صرف حکمران کو یا اس کے نائب کو ہے ہر کسی کو نہیں
سوال :
بعض لوگ دلیل دیتے ہیں کہ ایک صحابی نے بغیر حکومت کے بھی خود سے اپنی لونڈی کو قتل کر دیا کہ جب اس نے اہانت رسول کی
جواب :
یہ تو ایک واقعہ ہے کہ جب کوئی جذبات میں مغلوب ہوکر ایسا اقدام کرلے تو قدراللہ وماشاء فعل دلائل سے ثابت ہونے کے بعد اس کا مواخذہ پھر نہیں ہونا چاہیے مگر عمومی قاعدہ یہ نہیں کہ ہر کوئی خود سے قتل کر دے
سوال:
مرنے والے پر اظہار افسوس ؟؟
جواب :
نہیں افسوس تو نہیں ہوسکتا۔
سوال:
خوشیاں منانا اور مٹھائیاں تقسیم کرنا کیسا ہے؟؟
جواب:
یہ صحیح نہیں اس کی کوئی دلیل نہیں شریعت میں۔

18 comments:

  1. اچھا ہوتا اگر آپ اس سارے جھگڑے کی بنیاد توہین رسالت ایکٹ پر بھی کچھ لکھ دیتے۔ عباس اطہر جو ایکسپریس مین لکھتے ہین، آج کل اتنے غم و غصے میں لکھ رہے ہیں کہ مجھے ڈر لگتا ہے وہ اپنی روشن خیالی کی وجہ سے پاگل نہ ہوجائیں۔

    کیا یہ قانون واقعی کالا قانون ہے؟ کیا س قانون کو نہین ہونا چاہئے؟ کیا آسیہ بی بی کہ حمایت کی وجہ سے سلمان تاثیر مرحوم کو شہید کہا جا سکتا ہے؟
    کیا آسیہ بی بی واقعتا مظلوم ہے جب کہ اس پر دو برس مقدمہ بھی چلا؟
    کوئی تو غیر جانبداری اور ہوش کا دامن تھام کر ان سوالوں کے جواب دے۔

    کوئی ہے؟

    ReplyDelete
  2. ہمارا نقطعہ نظر اتنا سا ہے کہ اگر حکومت اور گورنر پاکستانی عوام کے جذبات سے نہ کھیلتے یا پھر گورنر کے متواتر متنازع بیانات اور اقدامات کے نتیجے میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو پنجاب کی گورنری سے ھٹا دیا جاتا تو یہ حادثہ پیش نہ آتا۔

    توہین رسالت کی مجرمہ آسیہ بی بی سے غیر ضروری اور غیر معمولی ہمدردی۔ اور ایک شاتمہ رسول کی طرفداری میں توہین رسالت نامی قانون کو کالا قانون کہنا ۔ شاتمہ کو مظلوم اور بے چاری قرار دیا۔ جیل میں بمع اپنی فیلی اس سے ملاقات کی ۔ صدر کی طرف سے معافی دلوانے کی درخواست تک خود ٹائپ کروائی وغیرہ ایسے غیر معمولی اقدامات تھے جو گورنر پنجاب نے توھین رسالت کی مجرمہ آسیہ کساتھ غیر ضروری طور پہ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کئیے۔ جبکہ اسی ملک میں ہزاروں بے گناہ قیدی ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں ۔ مگر ان کے لئیے گورنر کے دل میں کبھی ہمدردری اور رحم کا جذبہ نہیں تڑپا ۔ توہن رسالت کو محض اسلئیے کالا قانون کہہ دینا کیونکہ اس قانون کے تحت مجرمہ آسیہ کو سزا دی گئی تھی۔ اور اس توہین رسالت نامی قانون کو یہ کہہ کر ختم کر دینے پہ زور دیا کہ اس سے بے گناہ افراد کے خلاف مقدمات بنائے جاتے ہیں۔ کیا پاکستان میں تعزیزات پاکستان کی دفعہ تین سو دو کے تحت ملک کے طول عرض میں قتل کے جھوٹے مقدمات نہیں قائم کئیے جاتے؟ تعزیزات پاکستان کی دیگر کئی ایسی دفعات کے تحت پولیس یا آپس کی چیپقلش کی وجہ سے جھوٹے مقدمات بے گناہ لوگوں پہ قائم نہیں کرتے۔ کیا گورنر پنجاب نے کبھی تعزیزات پاکستان یا پاکستان کے پینل کوڈ کو جو انگریزوں کے دور کا قانون ہے۔ کیا اسے بھی کبھی کالا قانون کہا یا اسے ختم کرنے کی بات کی ؟۔ تو پھر گورنر پنجاب اور دیگران کی صرف توہین رسالت کے قانون کے ساتھ بغض عام عوام کے لئیے انکی توہین کے برابر نہیں؟۔

    گورنر پنجاب کے بیانات۔ شاتمہ آسیہ سے بے جا ہمدردی۔ جیل میں ملاقات۔ اسے بے قصورر اور مظلوم قرار دینا جبکہ اسے پاکستان کی ایک عدالت مجرمہ قرار دے چکی ہو۔ ان سب اقدامات کے کیا معانی نکلتے ہیں؟ ۔ پاکستان کے عوام جانتے ہیں ۔ کہ یہ تمام ڈرامہ محض مغربی طاقتوں کی نظر میں اپنے آپ کو چمکانے کے لئیے کیا جارہا ہے ۔ جوں جوں عوام کا اصرار اور احتجاج بڑھتا گیا ۔ گورنر کا لہجہ حرمت رسالت کا مطالبہ کرنے والے عوام کے خلاف استہزائیہ ہوتا چلا گیا۔ جو اپنی جگہ پہ جمہور کی ایک توہین ہے۔

    یہ وہ وقت تھا کہ حکومت گورنر کو برطرف کرتے ہوئے نیا گورنر مقرر کرتی ۔ عوام کے اشتعال کو ٹھندا کرتی۔ مگر حکومت نے مزید پے در پے ایسے اقدامات کئیے ۔ جس نے جلتی پہ تیل کا کام کیا۔ جب لوگ انصاف ہوتا نہ دیکھیں۔ اپنے مذھبی جذبات مجروح ہوتے دیکھیں ۔اور بے بسی محسوس کریں تو ایسے میں قانون کو ہاتھ لینے کے واقعات پیش آتے ہیں۔ اگر حکومت چاہتی تو عرصہ قبل گورنر کو معطل و معزول کر کے اس قتل کی نوبت نہ آنے دیتی۔

    حکومت کی طرف سے متواتر ایسے اقدامات کئیے جارہے ہیں جو عام اور بے بس عوام کو مشتعل کر رہے ہیں۔ جس میں ایک غیر مسلم وزیر کو توہین رسالت قانون کے بارے میں کمیٹی کا چئرمین بنا دینا ۔ پیپلزپارٹی کی سابقہ خاتون وزیر سنیٹر شیری رحمان نے پاکستان کی قانون ساز اسمبلی میں توہین رسالت میں رد و بدل کے بارے ایک عدد قرادار بھی جمع کرارکھی ہے۔

    توہین رسالت نامی قانون میں ردو بدل جسے پاکستان کے مسلمان عوام۔ اسیکولر حکومت اور ریاست پاکستان کی اسلامی شناخت کے درمیان ایک ٹیسٹ کیس قرار دیتے ہیں ۔ اور اس قانون میں کسی ردوبدل کو ریاست پاکستان کے اسلامی تشخص کے خاتمے کی ابتداء قرار دیتے ہیں۔ اور چند دن پہلے جس کے بارے میں اکتیس دسمبر کو پاکستانی عوام ایک کامیاب اور پر امن ہڑتال کے زریعیے اپنا ووٹ دے چکے ہیں کہ عوام کم ازکم موجودہ حکومت اور اسلام سے غیر متوازی رویہ رکھنے والے اس حکومت کے عہدیداران کے ہاتھوں توہین رسالت قانون میں کسی قسم کی ترمیم اور تخفیف نہیں چاہتے اور اکتیس دسمبر کی ہڑتال میں عوام نے یہ فیصلہ بھی دیا ہے کہ حکومت نے یوں کرنا چاہا تو بزور بازو اسے روکیں گے۔ تو کیا حکومت ہوش کے ناخن لیتے ہوئے ایسے کسی ممکنہ یا مبینہ فیصلے کو پس پشت ڈالتے ہوئے قوم کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کرتی۔ عوام کے مُوڈ کو دیکھتی۔ مگر نںیے صاحب ادھر اسقدر کامیاب ہڑتال ہوئی ادھر پاکستان کے نام نہاد روشن خیالوں نے حکومت کے عہدیداروں نے۔ گورنر سلمان تاثیر ، عاصمہ جہانگیر۔ (عاصمہ جہانگیر جس کے انیس سو اسی میں توہین رسالت پہ مبنی ایک بیان پہ موجودہ توہین رسالت کا قانون بنانے کی ضروت پیش آئی) نے توہین رسالت نامی قانون پہ تنقید کی ۔ مسلمان علماء کو گالی کے انداز میں مولوی کہتے ہوئے ۔ عوام کو مولویوں کی زبان کینچھنے کی ترغیب دی۔

    ReplyDelete
  3. ایسے حالات مین کیا ایک حکومت کا یہ فرض نہیں بنتا کہ وزیر اعظم اس بارے اپنا واضح ، دوٹوک اور قطعی پالیسی بیان دیں کہ توہین رسالت نامی قانون سے چھڑ چھار نہیں کی جائے گی تانکہ لوگوں کے جذبات ٹھنڈے ہوں۔ اور امن امان قائم ہو۔ ایسا تو کبھی نہیں ہوتا کہ حکومت ہی امان امان خراب کرنے پہ تل جائے۔ ابھی تک حکومت کی طرف سے کسی ایسے قدم کے کوئی آثار نظر نہیں آتے ۔ جسے پاکستان کے عوام حکومت پاکستان کو مغرب کے سامنے بے بسی پہ معمور کرتے ہیں۔ جس سے عوام کے جزبات مزید بھڑکتے ہیں۔

    جہاں تک تعلق کسی کے مرنے کے بعد اسے برا مت کہنے کے حکم کا ہے۔ تو گزارش ہے یہ حکم خدا کے بتائے ہوئے رستے پہ چلنے والے لوگوں کے لئیے ہیں۔ جو گنہگار ہوں انکے گناہ بیان کرنے کا حکم ہے تانکہ لوگ عبرت پکڑیں۔

    ReplyDelete
  4. مجھے اس بات سے قطعی طور پر اتفاق نہیں کہ توہین رسالت کہ مجرم کو عدالت کے حوالے کیا جائے. کیونکہ یہ بات تو یقینی ہے کہ عدالت چاہے اسے سزا دے بھی دے لیکن ہمارے حکمران چاہے وہ رائے ونڈ کا سابقہ ٹکلا نوازشریف ہی کیوں نہ ہو اسے سزا ہونے دے گا....توہین رسالت کے مجرم کو پاکستان میں اسی وقت مار دینا چاہیے جب تک کہ الله سبحانه تعالیٰ سے ڈرنے والے لوگ اس ملک کے حکمران نہ بن جائیں. یہ محض ایک مفرد رائے نہیں بلکہ سنن ابو داود کی حدیث ٤٣٤٨ (٣٨) سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ کس طرح ایک نابینا صحابی نے اپنی محبوب لونڈی کو جو کہ اسکے دو بچوں کی ماں بھی تھی صرف توہین رسالت پر قتل کر دیا تھا . بعد میں جب وہ نابینا صحابی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوۓ اور سارا ماجرا سنایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "گواہ رہو اس قتل کا کوئی خون بہا نہیں ہے ""

    ReplyDelete
  5. بلا شُبہ ہمارا دين کسی فرد کو کسی قضيئے کا فيصلہ کرنے کا اختيار نہيں ديتا سوائ اس کے کہ اُسے اميرالمؤمنين نے اس کام کيلئے مقرر کيا ہو ۔
    ہمارے ہاں نہ تو اسلامی شريعت نافذ ہے اور نہ ہمارے قوانين شرع اسلام کے مطابق ہيں ۔ اسلئے ہمارے ملک ميں معاملہ بہت پيچيدہ ہے ۔

    ReplyDelete
  6. یہ نابینا صحابی والی حدیث کی صحت کے بارہ میں کیا رائے ہے؟

    ReplyDelete
  7. @ khokhar976

    نابینا صحابی والی متذکرہ روایت "خبر واحد" ہے جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی جانب سے روایت کی گئی ہے۔
    اس روایت کی تحقیق عربی میں یہاں تفصیل سے دیکھ لیجئے گا :
    بیوی کی طرف سے توہینِ رسالت پر نابینا صحابی کا اقدامِ قتل : کیا صحیح روایت ہے؟

    1 : درجہ: موصول ، محدث: امام بیھقي ، مصدر: السنن الکبری للبیھقي
    2 : درجہ : ثقہ راویان ، محدث : حافظ ابن حجر العسقلانی ، مصدر : بلوغ المرام
    3 : درجہ : قابل حجت ، محدث : امام شوکانی ، مصدر : نیل الاوطار
    4 : درجہ : صحیح ، محدث : علامہ البانی ، مصدر : صحیح ابوداؤد
    5 : درجہ : صحیح ، محدث : علامہ البانی ، مصدر : صحیح النسائی
    6 : درجہ : حسن راویان صحیح راویان، محدث : الوداعی ، مصدر : الصحیح المسند

    ReplyDelete
  8. شکریہ باذوق صاحب۔ اسلام کے فرقوں میں ایک بحث اخبار احاد اور متواتر احادیث پر بھی ہے۔ خاص طور پر جہاں قرآن میں سند نہ ملتی ہو وہاں اخبار احاد کو بنیاد بنا کر زندگی موت کے فیصلے کرنے مناسب نہیں۔ کیا معلوم کہ حدیث کی درایت میں فرق ہو۔ راویان کو درست کہنے سے حدیث کا متن صحیح ثابت نہیں ہوتا۔
    یہاں ایسی حدیث کو آیات قرآنی اور دیگر صحیح احادیث سے مدد حاصل نہیں۔

    ReplyDelete
  9. دوسری حدیث بھی سنن ابو داود سے ہے ٤٣٤٦ (٣٨ ) جب عبدللہ ابن سعد حضرت عثمان رضی الله تعالیٰ عنہہ کو سفارشی بنا کر لائے اور نبی کریم صلی الله الہ وسلم سے بیعت کی درخواست کی . نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اس بات کو پسند نہیں فرمایا اور اپنا مہنہ موڑ لیا ٣ بار درخواست کی اور چوتھی بار قبول فرمالی. بعد میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے شکوہ کے انداز میں کہا کہ "کیا تم میں کوئی سمجھ دار نہیں تھا جو کھڑا ہوتا اور اسکو قتل کر دیتا" یہاں کسی حکم کے بغیر محض صحابہ کی صواب دید پر اتنے بڑے معاملے کو چھوڑ دیا گیا. براہ کرم تصیح فرمایے اگر میں نے حدیث کا مطلب اور منشا سمجھنے میں غلطی کی ہے تو ....

    ReplyDelete
  10. قرآن کریم میں ملعون کی سزا کا حکم سورہ احزاب کی ان آیت سے ثابت ہے...
    جو لوگ الله اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان پر الله نے دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر کھا ہے
    (سورہ ال احزاب - آیت ٥٧ )
    مگر بہت کم لعنت کیے گئے ہیں جہاں کہیں پائیں جائیں گے پکڑے جائیں گے اور قتل کیے جائیں گے
    (سورہ ال احزاب - آیت ٦١ )

    ReplyDelete
  11. @ khokhar976 :
    "" خاص طور پر جہاں قرآن میں سند نہ ملتی ہو وہاں اخبار احاد کو بنیاد بنا کر زندگی موت کے فیصلے کرنے مناسب نہیں۔ کیا معلوم کہ حدیث کی درایت میں فرق ہو۔ راویان کو درست کہنے سے حدیث کا متن صحیح ثابت نہیں ہوتا۔ ""
    اگر آپ کے درج بالا قول کو درست یا معقول مان لیا جائے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ ۔۔۔۔ اگر یہ سادہ اور آسان سی بات ہماری عقل میں سما سکتی ہے تو محدثین اور ائمہ عظام علیہ الرحمۃ دین سے اتنے گئے گزرے تو نہیں تھے کہ زندگی اور موت کے اتنے بڑے فیصلے (بقول آپ کے) یونہی رسان سے کر ڈالیں؟؟
    اگر آپ کا یہ دعویٰ ہو کہ : محدثین یا ائمہ نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں دیا تو پھر اپنے دعویٰ کی دلیل مضبوط حوالوں کیساتھ عنایت فرمائیے۔
    ہم تو کہتے ہیں کہ محدثین اور ائمہ دین نے توہینِ رسالت کی سزا احادیث اور آثار کے مستند حوالوں سے "موت" ہی قرار دی ہے اور اس کے ثبوت عربی، انگریزی اور اردو میں مدلل طور سے پیش کئے جا چکے ہیں۔
    ہمارا اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ : آیا "موت" کی سزا کا فیصلہ اور اس پر عمل درآمد امیر المومنین یا حکومت یا عدالت کا فرض ہے یا کسی بھی عام مسلمان کا؟

    یہ بات تو کبھی بھی میرے حلق سے نہیں اتر سکے گی کہ تقویٰ اور علمِ دین میں کمترین درجہ رکھنے والے مجھ جیسے عامی کی سمجھ میں تو ایک بات آ جائے اور یہی بات صحابہ کرام ، تابعین و تبع تابعین عظام ، ائمہ دین اور محدثین کرام علیہ الرحمۃ کی سمجھ میں نہ آ سکے؟
    استغفراللہ ! میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔
    اگر آپ ایسا سوچ اور سمجھ سکتے ہیں تو پھر میرا آپ سے مطالبہ رہے گا کہ براہ مہربانی درج ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیں :
    1: محدثین یا ائمہ یا علماء کے کس گروہ سے ایسا قول منقول ہے کہ : جہاں قرآن میں سند نہ ملتی ہو وہاں اخبار احاد کو بنیاد بنا کر زندگی موت کے فیصلے کرنے مناسب نہیں؟
    2: توہینِ رسالت سے متعلق احادیث و آثار کی درایت میں فرق ہے ! ایسا کس کس محدث نے دعویٰ کیا ہے؟
    3: اصولِ حدیث کی کس کتاب میں ایسا قول درج ہے کہ : راویان کو درست کہنے سے حدیث کا متن صحیح ثابت نہیں ہوتا؟

    امید ہے کہ آپ ان سوالات کے مدلل جوابات عنایت فرمائیں گے۔
    بصورتِ دیگر مجھے کہنے دیجئے کہ ۔۔۔۔۔۔ یہ اچھی بات نہیں کہ اپنی "ناقص" عقل کے سہارے دین کو کھیل سمجھ لیا جائے اور غیروں کے کہنے میں آ کر علمائے دین کی تحقیق و کاوشوں پر یکسر پانی پھیر دیا جائے۔

    ReplyDelete
  12. Assalam o Alaikuim
    salman taseer saheb ke case men bazouq bhai ke istedlal se main ittefaq karonga..our filwaqt sukut bahter hai.
    jazakAllah

    ReplyDelete
  13. مکرمی، یہ مسئلہ تو امام ابو حنیفہ نے حل کر دیا ہے۔ معاہد غیر مسلم کو توہین رسالت پر قتل نہیں کیا جا سکتا۔ہاں مسلمان کو اس معاملہ میں جرم بغاوت پر سزائے موت ہو سکتی ہے۔
    توہین رسالت کا مسئلہ کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی اہانت کہ کر سزائے موت کی حمایت کرتے ہیں۔ ایسا ہو تو پھر اللہ کے کسی بھی نبی کی توہین کی سزا قتل ہونی چاہیئے۔ پھر سوال یہ بھی اٹھے گا کہ صرف قرآن میں موسوم انبیاء ہوں، یا بائبل کے۔ اور اگر کوئی اور قوم بدھ، کرشن، زرتشت کو نبی مانے تو کیا ان کی توہین بھی سزائے موت کا حقدار بنا سکتی ہے؟

    اخبار احاد کے معتلق حنفی مسلک یہی ہے کہ ان کو آیات قرآنی اور صحیح احادیث سے تقویت نہ ملے تو اجماع اور قیاس استعمال کیا چائے۔

    مزید یہ کہ تمام ائما نے اللہ تعالیٰ کی توہین کو بھی اس مضمون کے ساتھ باندھا ہے۔ اور پھر سزا تو ارتداد بنی نہ کہ اہانت۔ اور اسلاف کے دور میں ارتداد کو حکومت سے بغاوت تصور کیا جاتا تھا۔

    ابن ختل اور کعب ابن اشرف کا قتل بھی توہین کی وجہ سے نہ تھا بلکہ بغاوت اور فساد کی وجہ سے تھا۔

    اسوہ رسول (ص) میں کوئی تضاد نہیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایسے شاتم کو معاف کر دیں جس کو قرآن شاتم قرار دیتا ہے اور باقیوں کو قتل کرا دیں۔

    ReplyDelete
  14. محترمی khokhar976 صاحب
    شائد پہلے ہی کسی جگہ میں کہہ چکا ہوں کہ عقل اور منطق کے سہارے دن کو رات اور دودھ کو کالا ثابت کیا جا سکتا ہے۔
    آپ سے جو سوالات میں نے عرض کئے تھے ، اس کا جواب یہ نہیں ہے کہ آپ حنفی مسلک کی باتوں کو کاٹ چھانٹ کر پیش فرمائیں۔
    آپ نے لکھا کہ : ""اخبار احاد کے معتلق حنفی مسلک یہی ہے کہ ان کو آیات قرآنی اور صحیح احادیث سے تقویت نہ ملے تو اجماع اور قیاس استعمال کیا چائے۔""
    ذرا یہ بھی عرض فرما دیں کہ حنفی مسلک کی کس اصول کی کتاب میں ایسا قول درج ہے؟ اور اگر درج بھی ہے تو کس کا "اجماع" اور کس کا "قیاس" استعمال کیا جائے گا؟
    آیا ائمہ کرام و محدثینِ عظام کے "اجماع" و "قیاس" کو استعمال کیا جائے گا یا آج کے روشن خیال مغرب نواز عقل پرست دانشوران کے "اجماع" و "قیاس" کو؟؟
    ونیز ۔۔۔۔ آپ نے نہایت خوش گمانی سے یہ تو بتا دیا کہ : "" توہینِ رسالت کا مسئلہ امام ابو حنیفہ نے حل کر دیا ہے۔""
    مگر یہ کہنا بھول گئے کہ انہی امام ابوحنیفہ (رحمۃ اللہ علیہ) سے یہ قول بھی منسوب ہے کہ وہ اپنے قیاس پر "ضعیف حدیث" کو ترجیح دینا بہتر سمجھتے تھے۔ یہاں تو "خبر واحد" کا معاملہ ہے جو "ضعیف حدیث" پر واضح برتری رکھتی ہے۔ فرمائیے ، آپ اس معاملے پر کیا عرض کریں گے؟

    ReplyDelete
  15. @ بازوق !
    امام ابو حنیفہ کی رائے میں جو رعایت توہین رسالت کے معاملے میں تھی وہ صرف زمی کو حاصل تھی . کیا بہتر نہیں کہ یہاں زمی اور معاہد کے فرق کو واضح کیا جائے؟ کیا پاکستان میں رہنے والے غیر مسلم زمی کہے جاسکتے ہیں؟

    ReplyDelete
  16. معافی چاہتا ہوں سوال میں غلطی ہو گئی سوال یہ تھا کہ " کیا یہ بہتر نہ کہ زمی اور شہری کے فرق کو واضح کیا جاے؟

    ReplyDelete
  17. ذمی اور معاہد میں کیا فرق ہواپھر؟ مسلمان جو یورپ وغیرہ میں رہتے ہوئے بھی باغیانہ خیالات رکھتے ہیں ، خود کو کافر حکومتوں کا معاہد کہلواتے ہیں۔ اور اسی کو ایک آفاقی اصول بناتے ہیں کہ ساری انسانی تہذیب اسی سہارے قائم ہے۔
    معاہد بھی شہری ہوتا ہے۔ اس کو بھی تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں۔بس فرق یہ ہے کہ اس پر بعض اسلامی قوانین کی پابندی ضروری نہیں۔

    اگر امام ابو حنیفہ نے معاہدین کو قتل سے مستثنیٰ قرار دیا ہے تو اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ مسلمان شاتم کو باغی قرار دے کر حد لگائی جا سکتی ہے۔

    ReplyDelete
  18. میری رائے یہ ہے کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے ،اس پر بغیر علم کے گفتگو نہ کی جائے ۔جنہیں اس معاملے میں قرآن و سنت کے احکام جاننے ہوں وہ برائے مہربانی امام ابن تیمہ کی کتاب الصارم المسلول خرید کر پڑھ لے اردو بازار کراچی میں دستیاب ہے 335روپے میں۔امام ابن تیمیہ کے زمانے میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ رونما ہوا تھا ،جس پر انہوں نے یہ کتاب مرتب کی ہے۔بغیر علم کے روشن خیالوں کی ہاں میں ہاں ملانا ایمان کو ضایع بھی کر سکتا ہے۔جن صاحب نے یہ لکھا ہے کہ اطہر عباس روشن خیالی میں پاگل ہورہے ہیں ،یہ ان کی رائے سے متفق ہوں۔اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔آمین
    نذیر الحسن،کراچی

    ReplyDelete