2011/04/12

www.jihad.com ۔۔۔ حقیقت کیا ہے؟

تشدد ، دہشت گردی اور مذہبی جنونیت ۔۔۔۔
کیا اس کے خلاف مسلم دنیا میں کچھ کہا گیا ہے؟ اور کیا مسلم دنیا کے ایسے خیالات کو انگریزی میڈیا میں پیش کیا گیا ہے؟ کیا ہمارے نامور اور معتبر علماء نے واقعتاً اسلام پر لگائے جانے والے دہشت گردی کے الزام کا مدلل رد کیا ہے؟
اس موضوع پر نیٹ گردی کے دوران امریکن مسلم ویب سائیٹ کا یہ تحقیقی مقالہ مطالعے سے گزرا ۔۔۔۔
Muslim Voices Against Extremism and Terrorism - Fatwas & Formal Statements by Muslim Scholars & Organizations

یہ تحقیق بلاشبہ ایک انتہائی قابل قدر کوشش ہے جس کو زیادہ سے زیادہ کشادہ ذہن علمی و دینی حلقوں تک پہنچایا جانا چاہئے۔

اسی ضمن میں جب منفی نقطہ نظر کی تلاش ہوئی تو ایک معروف مغربی کالم نگار کا تجزیہ مطالعے سے گزرا۔
تھامس فرائیڈمن ، نیویارک ٹائمز (امریکہ) کے مشہور کالم نویس ہیں۔
آپ جناب نے کوئی سال دیڑھ سال قبل ایک آرٹیکل لکھا تھا بعنوان :
www.jihad.com
خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
مسلم ممالک میں ایک پرتشدد اور جہاد پرست اقلیت ایسی ہے جو اپنے وجود کو جائز ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ مسلم ممالک کے سیاسی اور مذہبی قائدین میں سے چند ہی عوام کے آگے جہاد اور تشدد کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مسلم ممالک کی اہم مذہبی شخصیات میں سے کتنوں نے اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے خلاف فتوے جاری کئے ہیں ؟؟

فرائیڈمن مسلم دنیا کے معاملات کے تعلق سے اس قدر باخبر صحافی ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ اور اس کے وسائل کے بارے میں ایک کتاب (From Beirut to Jerusalem) بھی شائع کر چکے ہیں جسے غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔
لیکن جب یہی فرائیڈمن اپنے آرٹیکل (www.jihad.com) میں ایک ناقابل فہم بات لکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ دانستہ طور پر ناواقفیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

تھامس فرائیڈمن کی اس متنازعہ تحریر (www.jihad.com) کے ہفتہ بھر بعد ہی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے شعبہ مذہب و بین الاقوامی امور کے پروفیسر جان ایل اسپازیٹو نے فرائیڈمن کے نظریات کا رد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ تھامس فرائیڈمن نے غیرحقیقی اور غیرمنطقی گفتگو کی ہے۔ پروفیسر جان اسپازیٹو کا مکمل مقالہ یہاں ملاحظہ فرمائیں :
Tom Friedman on Muslims and Terrorism: Getting it Wrong Again

پروفیسر اسپازیٹو کے غیرجانبدارانہ اور منصفانہ تجزیے کے مطابق ۔۔۔۔۔
گیلپ عالمی پول (Gallup World Poll) کے مطابق تو 35 مسلم ممالک ، جو شمالی افریقہ سے جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلے ہوئے ہیں ، میں کئی مسلم افراد اور امریکیوں نے شہریوں کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنانے جانے کی کھل کر مذمت کی ہے اور انہیں اخلاقی طور پر ناجائز قرار دیا ہے۔
11 ستمبر کے حملوں کے بعد سعودی عرب سے لے کر ملیشیا اور امریکہ میں تک کئی اہم بااثر اور مختلف الخیال مذہبی قائدین نے عمومی طور پر دہشت گردی اور خصوصاً اسامہ بن لادن کی سرگرمیوں کی مذمت کی ہے۔ ان قائدین میں شیخ طنطاوی (جامعہ الازہر کے مرحوم چانسلر) اور ایران کے آیت اللہ کاشانی تک شامل ہیں۔
بطور ثبوت یہ مقالہ دیکھیں ۔۔۔۔
Muslim Voices Against Extremism and Terrorism

تھامس فرائیڈمن اگر یہ کہتے ہیں کہ :
مسلمانوں میں ایک عجیب و غریب ذہنیت گھر کر چکی ہے جس کے تحت عربوں اور مسلمانوں کو محض ایک ایسا محرک سمجھا جانے لگا ہے جو دنیا میں ہونے والے کسی بھی واقعہ کے لیے ذمہ دار نہیں۔ جبکہ ہم دنیا کے کسی بھی واقعے سے متاثر ہونے والے افراد ہیں جو دنیا میں کہیں بھی ہونے والے کسی بھی واقعہ کیلئے ذمہ دار ہیں۔

تو ان کے لیے میرا ناقص مشورہ یہ ہے کہ :
اگر عربوں اور مسلمانوں کی ذمہ داری کو ابھارنے کے لیے فرائیڈمن اس قدر تعلق خاطر رکھتے ہیں اور ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف زیادہ سے زیادہ مزاحمت کریں تو پھر انہیں اور نیویارک ٹائمز جیسے معتبر اخبار کو ایک مثبت قدم اٹھانا ضروری ہے۔ اور وہ یہی کہ وہ مسلم قائدین اور مسلمانوں کی بھاری اکثریت کی نمائیندگی کرنے والے افراد کے بیانات کو نظر انداز نہ کریں بلکہ ان کو زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچائیں !
اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ گویا ایک طرح کی غیرذمہ دارانہ صحافت ہوگی اور اس کا مقصد یہ قرار پائے گا کہ وہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو یکا و تنہا کر کے ان کے جائز مقاصد کی تکمیل کے متعلق پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں !!

4 comments:

  1. یہ جو جوتا اٹھا کے لایا ہوں
    یہ نہ سمجھو چرا کے لایا ہوں
    اس کو مولا کی دین ہی سمجھو
    اس کے گھر سے اٹھا کے لایا ہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جہاں گائے تھے خوشیوں کے ترانے
    مقدر دیکھئیے ۔۔۔ روئے وہیں پر
    ہوئے مسجد میں گم جوتے ہمارے
    جہاں سے پائے، اب کھوئے وہیں پہ
    —————————————
    میں جو جوتے چھپا کے لایا ہوں
    یہ نہ سمجھو چرا کے لایا ہوں
    اس کو مولا کی ہی دین سمجھو
    اس کے گھر سے اٹھا کے لایا ہو
    ////////////////////////////////////////////////////
    کہا اک مولوی صاحب نے مسجد میں نمازی سے
    اگر ہو سامنے جوتا تو سجدہ ہی نہیں ہوتا
    جواباً یہ کہا اس نے بجا ارشاد ہے لیکن
    جو میں پیچھے رکھوں جوتا تو جوتا ہی نہیں ہوتا
    ///////////////////////////////////

    ReplyDelete
  2. جاوید گوندل صاحب
    اس مرتبہ آپ کا تبصرہ تحریر کے موضوع سے کس قدر تعلق رکھتا ہے ، یہ سمجھنے سے قاصر رہا ہوں۔

    ReplyDelete
  3. bohat umda, bohat shukria, (kia aap PHD hen)

    hamza

    ReplyDelete
  4. شکریہ hamza صاحب
    بدقسمتی ہے کہ میں نے ڈاکٹریٹ نہیں کیا
    :)

    ReplyDelete