2011/05/30

کند ہو کر رہ گئے مومن کے اخلاق و معاشرت

  • عقائد
  • عبادات
  • معاشرت
  • معاملات
  • اخلاقیات
شریعت اسلامی کے وہ پانچ شعبے ہیں جو عمل کے لحاظ سے مطلوب و مقصود ہیں۔
ایک مسلمان ان پانچوں شعبوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل کا پابند ہے۔

اسلامی شریعت کو اختیار کرنے کا آخر مطلب کیا ہے؟
صاف اور سیدھا مطلب تو قرآن کریم نے ہمیں یوں بتایا ہے :
اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔
( البقرہ : 208 )

"پورے کے پورے" داخل ہونے کا واضح مطلب یہ ہے کہ آدمی کل شریعت کو اختیار کرے اور زندگی کے تمام شعبوں میں دین کو لاگو کرے۔
ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی صرف "عقائد" و "عبادات" کو یہ سوچ کر اپنا لے کہ یہ دین کی بنیاد ہیں اور دیگر شعبوں کو نظرانداز کر دے اور خود کو "اہل حق" باور کر لے ۔۔۔ خود کو جنت اور دیگران کو جہنم کا حقدار سمجھ لے۔
دین کے کسی بھی شعبے کو کمتر سمجھنا یا زیادہ اہمیت کے قابل نہ سمجھنا ۔۔۔ ایمان و عمل کی کمزوری تو ہے ہی ، حدیث و سنت سے بھی دوری ہے۔

ہم میں سے اکثریت کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کچھ عقائد کو بنیاد کے طور پر سمجھ لینے اور کچھ عبادات کو عادات کے طور پر ادا کر لینے کو اپنا دین و ایمان باور کر لیا ہے۔
کسی دوست نے ایک جگہ نہایت اچھی بات لکھی تھی کہ :
ایک مسلمان بظاہر نمازوں کا بڑا اہتمام کرتا نظر آتا ہے ، ذکر و تلاوت کا بھی اہتمام ہے ، عقائد و ایمان کی پختگی ہے ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضہ پر بھرپور عمل ہے ، اسلامی وضع قطع کو بھی ملحوظ رکھتا ہے ، لیکن اس کی معاشرت و معاملات درست نہیں ہوتے ، اپنے اہل و عیال ، دوست احباب ، رشتہ دار پڑوسی اس سے نالاں رہتے ہیں ، وہ جب معاملہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی اور دھوکہ دہی سے کام لیتا ہے۔
ظاہر ہے کہ ایسے شخص نے دین کے صرف ایک حصہ کو "کل دین" سمجھ رکھا ہے۔ دین اس کے نزدیک صرف عقیدہ و عبادت کا نام ہے۔ حالانکہ دیکھا جائے تو وہ "عبادات" میں سب سے بڑا ناقص ہے ، اس لیے کہ عبادات میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی تاثیر رکھی ہے کہ اگر کوئی انہیں صحیح ڈھنگ اور روح کے ساتھ ادا کرنے لگے تو اس سے اس کی معاشرت اور اخلاق درست ہو جاتے ہیں۔

آج اگر ہم اپنی اپنی آن لائن اور آف لائن زندگیوں کا مشاہدہ کر لیں تو جابجا ایسی ہی صورتحال نظر آتی ہے۔
کتنے ہی ایسے لوگ اور ایسے گروہ ہیں جنہیں اپنے پختہ عقائد یا کامل دینداری پر اصرار ہوتا ہے ، وہ خود کو جنت کے اولین مستحق سمجھتے ہیں ۔۔۔
مگر جب ان کی زندگیوں اور روزمرہ کے معمولات کا جائزہ لیا جائے تو انکشاف ہوتا ہے کہ فلاں کی معاشرت غیر اسلامی ہے ، یا اگر معاشرت درست ہے تو معاملات و اخلاقیات کے شعبہ میں وہ کمزور ہے ۔۔۔۔

حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تو فرمایا ہے :
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ (صحيح بخاري)
کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان اور انسان محفوظ رہے۔
اور فرمایا :
الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَايِقَهُ (صحيح بخاري)
بخدا وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا (سہ مرتبہ عرض فرمایا) جس کی تکلیفوں سے اس کا کوئی پڑوسی محفوظ نہ ہو۔

اور ۔۔۔۔
قرآن تو اہل ایمان کو مخاطب کر کے تاکید کرتا ہے کہ وہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں۔
ياأيها الذين آمنوا ادخلوا في السلم كآفة ولا تتبعوا خطوات الشيطان إنه لكم عدو مبين
اے ایمان والو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو ، بلاشبہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

صاحبِ "معارف القرآن" مولانا مفتی محمد شفیع صاحب علیہ الرحمۃ اس آیب کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اس آیت میں ان لوگوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے جنہوں نے اسلام کو صرف مسجد اور عبادات کے ساتھ مخصوص کر رکھا ہے ، معاملات اور معاشرت کے احکام کو گویا دین کا جز ہی نہیں سمجھتے۔ اصطلاحی دین داروں میں یہ غفلت عام ہے ، حقوق و معاملات اور خصوصاً معاشرت سے بیگانہ ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان احکام کو وہ اسلام کے احکام ہی یقین نہیں کرتے ، نہ ان کو معلوم کرنے اور سیکھنے کا اہتمام کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر عمل کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور پھر اس پر صدق دلی سے عمل کی توفیق عطا فرمائے ، آمین یا رب العالمین۔

2 comments:

  1. جزاک اللہ خيراٌ ۔ اللہ کرے لوگ اسے پڑھيں اور سمجھنے کی کوشش کريں

    ReplyDelete
  2. سبہان اللہ ۔۔محترم بازوق صاحب ماشااللہ آپ کو دیکھ کر دل خوش ہو گیا کہ آپ ابھی تک اردو بلاگنگ میں تبلیغ سے جڑے ہوئے ہیں۔اللہ سبہان و تعالی آپ کو اس کا اجر عطا فرمائے اور ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے آمین

    ReplyDelete