2011/05/26

نعرۂ جاہلیت بھی ، نصرتِ اللہ کی امید بھی ؟

کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ۔۔۔
ایک انسان تلوار ہاتھ میں رکھتا ہے، لیکن ذہنى طور پر اتنا بزدل ہے کہ اس کے بازو دشمن کے مقابلہ میں تلوار اُٹھا نہیں پاتے تو ایسى تلوار کس کام کى؟
اسی طرح مسلمانوں کے پاس جدید سے جدید ٹیکنالوجى موجود ہو لیکن دشمن کى ایک بڑھک ان کے اوسان خطا کردے تو پھر ایسى ٹیکنالوجى کا کیا حاصل؟
بقولِ شاعر :
أسد عکى وفى الحروب نعامة
هیفاء تصفر من صفیر الصافر

(بیوى اپنے شوہر سے مخاطب ہے: ) میرے اوپر تو شیر بنا پھرتا ہے لیکن جنگ میں شتر مرغ ، کہ ذرا سى آہٹ سے کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔

ٹیکنالوجى علم سے وابستہ ہے۔ عالم اسلام میں جدید علوم کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ جامعات قائم ہونى چاہئیں لیکن ان جامعات میں سیرت اور اعجازِ علمى سلیبس (syllabus) کا لازمى جزو ہونا چاہئے تاکہ مادّى علوم کے ساتھ ایمان کو بھى جلا ملتى رہے۔

اعجازِ علمى سے ہمارى مراد ہے کہ قرآن و حدیث میں ایسے بہت سے اشارات ملتے ہیں جو سائنسى حقائق کا پتہ دے رہے ہیں۔ رابطہ عالم اسلامى کے صدر دفتر مکہ مکرمہ میں اعجازِ علمى کا مستقل شعبہ قائم ہے جس میں اس موضوع پر سیرحاصل کام ہوچکا ہے۔ ان کے اس کام سے رہنمائى حاصل کى جائے۔ مزید برآں ایسے اساتذہ کا انتخاب ہونا چاہئے جو سائنس کى تعلیم کے ساتھ طلبہ کے سینوں میں ایمان کى مشعلیں بھى فروزاں رکھیں۔
آج ہمارے کتنے عالى دماغ جوہر مغرب میں سائنس کى تعلیم حاصل کررہے ہیں اور کتنے ہى علم کے اعلىٰ مدارج حاصل کرچکے ہیں لیکن دیارِ مغرب کے ملحد ذہنوں سے تربیت پانے کى بنا پر حب ِعاجلہ کا شکار ہیں اور بجائے اوطانِ اسلام کو مضبوط کرنے کے اغیار کى خدمت کررہے ہیں۔ ہمارے کتنے جرنیل مغرب کى عسکرى تربیت گاہوں میں ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد معرکہ کفر و ایمان میں اپنى بے اعتقادى، ضعف ایمانى اور کم ہمتى کى بنا پر دشمنوں کے سامنے سپر ڈال چکے ہیں۔ سقوطِ بیت المقدس، سقوطِ ڈھاکہ اور اب سقوطِ بغداد انہى جرنیلوں کى سیہ کاریوں کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئے۔

اس وقت اُمت ِمسلمہ ستاون (57) ممالک میں سیاسى برترى اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اپنا ایک مستقل وجود رکھتى ہے، ہر مسلم ملک ایک اکائى کى حیثیت رکھتا ہے جو دوسرى اکائیوں کے ساتھ مل کر ایک عظیم اتحاد کى شکل اختیارکر سکتا ہے، لیکن سب سے پہلے ہر اکائى کو مضبوط کرنے کى ضرورت ہے۔
ان تمام عوامل کى بیخ کنى لازمى ہے جو ایک وحدت کو پارہ پارہ کرنے کى کوشش میں لگے ہوں، ان میں سرفہرست برادرى ازم، قبائلى عصبیت، علاقائیت، قومیت اور فرقہ واریت ہیں۔ کسى بھى اسلامى ملک کو دیکھ لیجئے، علاقائیت کا عفریت بھائى بھائى کے درمیان نفرت اور عداوت کے بیج بوتا نظر آئے گا۔
صومالیہ میں شمال و جنوب کى کشمکش، پاکستان میں شیعہ و سنى اور صوبائیت پر مبنى تعصبات کى آویزش، بنگلہ دیش میں سلہٹ اور غیر سلہٹى افراد کے درمیان تفاخر کى کیفیت، عراق میں تمام تر مصائب کے باوجود اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان اور پھر عربوں اور کردوں کے درمیان محاذ آرائى، افغانستان میں پختون، ازبک اور تاجک قوموں کے مابین تنافس جو امریکہ کے حملہ کے وقت کھل کر ظاہر ہوچکا، اس امر کى چند نمایاں مثالیں ہیں۔

نبى کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جو معاشرہ قائم کیا تھا، اس کى بنیاد مہاجرین و انصار کے درمیان اُخوت، محبت اور یگانگت پر رکھى گئى تھى۔مہاجر اور انصار کے دونوں معزز لقب اپنے اپنے اوصافِ حمیدہ کى بنا پر وحى الٰہى میں جگہ پاگئے :
والسابقون الأولون من المهاجرين والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان رضي الله عنهم ورضوا عنه وأعد لهم جنات تجري تحتها الأنهار خالدين فيها أبدا ذلك الفوز العظيم
( التوبة:9 - آيت:100 )

اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور متقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ ان سب سے راضى ہوا اور وہ سب اس سے راضى ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جارى ہوں گى اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بہت بڑى کامیابى ہے۔

لیکن جب انہى دونوں جماعتوں کے دو افراد ایک کنویں سے پانى نکالنے پرجھگڑ پڑے اور مہاجر نے مہاجرین کى دہائى دى اور انصارى نے انصار کى تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سب کام چھوڑ چھاڑ کر موقع نزاع پرپہنچے اور ببانگ ِدُہل ارشاد فرمایا:
أَبِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ
جاہلیت کا نعرہ لگاتے ہو، حالانکہ میں ابھى تمہارے درمیان ہوں۔
(حوالہ : جامع البيان عن تأويل آي القرآن ، أسد الغابة)
یعنى وہ معزز لقب جو "ہجرت" اور "نصرت" کے اعتبار سے انتہائى معزز اور قابل صد افتخار تھا، جب دو جماعتوں کو لڑانے کے لئے استعمال کیا گیا تو "جاہلیت کا نعرہ" کہلایا گیا، وہ جاہلیت جسے قبل از اسلام کفریہ دور سے تعبیر کیا جاتا تھا۔

کیا پاکستانى مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ نہیں کہ یہاں بھى صوبائیت اور مہاجرت کے نام پر بھائى بھائى کى گردن کاٹى گئى ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جارى ہے اور پھر بھى الله کى نصرت کى اُمید کى جاتى ہے!!
عرب ممالک میں قومیت کا نعرہ بڑى شان سے بلند کیا گیا، لیکن یہ نعرہ یہودیوں کى چھوٹى سى ریاست کا مقابلہ کرنے یا اہل فلسطین کو ان کى سرزمین واپس لوٹانے میں عربوں کى کوئى مدد نہیں کرسکا، عرب لیگ آج ایک بے جان لاشہ ہے جو تجہیز و تکفین کا منتظر ہے۔ صدام اور حافظ الاسد کى بعث پارٹى کے نام سے ایک بے خدا تحریک آپس میں جنگ وجدال، قتل و غارت اور سفاکى و درندگى کا ننگا ناچ ناچنے کے بعد خود بھى ڈوبى اور اپنى قوم کو بھى لے ڈوبى۔ کیا اب بھى اس کى باقیاتِ سیئہ سے خیر کى توقع کى جا سکتى ہے؟

(اقتباس بشکریہ مقالہ "دورِ حاضر ميں اُمت ِمسلمہ كے مسائل اور ان کا حل" از : ڈاکٹر صہیب حسن)

4 comments:

  1. بہت اعلی اقتباس شیئر کیا باذوق صاحب۔ میرے خیال میں اگر کوئی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے تو اس کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قوم پرستی کے نعرے کو "جہالت کی صدا" کہا ہے۔

    ReplyDelete
  2. بہت عمدہ اور پر مغز تحریر ہے. مضمون میں اٹھایا جانے والا نکتہ لائق تحسین ہے. جب دل و دماغ ہی مغلوب اور مسخر ہوں تو ٹیکنالوجی کا فائدہ کیا... ایک ایٹمی پاور ١٠٠ کے قریب جوہری ہتھیاروں کے باوجود بہترین فوج ، آلات حرب اور جنگجو قوم رکھنے کے باوجود جس طرح سے بےبس ہے وہ لائق عبرت ہے.

    ReplyDelete
  3. اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔

    اور ہم سب مسلمانوں کو مسلمان بننے کی توفیق عطا کرے۔

    ReplyDelete