2011/06/06

دیوقامت جناح [بمقابلہ] بونے سیاستداں

جاوید اقبال کے ایک پرانے کالم سے ۔۔۔۔۔

مجھے مکہ مکرمہ کے ایک دوست نے فون کر کے قصہ سنایا۔ کہانی یوں ہے کہ رمضان المبارک (2008ء) کے آغاز پر مکہ مکرمہ میں کام کرنے والی بجلی کی ایک کمپنی کو حکم ملا کہ پاکستان کے ایک عالیجناب وزیر 21 تا 23 رمضان عمرہ کے خواہشمند ہیں اس لئے ان کیلئے کسی ہوٹل میں کمرے مخصوص کرائے جائیں۔ ان دنوں خاصا اژدھام تھا اسلئے ایک فور اسٹار ہوٹل میں ہی کمرے ملے۔ پاکستان میں وزارتی حکام یہ سنتے ہی سیخ پا ہو گئے۔ چنانچہ دوبارہ بھاگ دوڑ کر کے ہوٹل تبدیل کیا گیا اور فائیو اسٹار صفا ٹاور میں چار ہزار ریال فی کمرہ روزانہ کے نرخ پر کمرے حاصل کئے گئے۔ اب بہتر تھا کیونکہ "پاکستان ہاؤز" یقیناً عالیجناب اور ان کے اسٹاف کے قابل نہ تھا اگرچہ ماضی میں وزراء وہاں ٹھہرتے رہے تھے۔
لیکن ۔۔۔ ایک مسئلہ ہو گیا۔ ملک میں بجلی کے بحران نے عالی جناب کو انتہائی مشغول کر دیا چنانچہ وہ خود تشریف نہ لا سکے البتہ ان کی بیگم صاحبہ اپنے 16 عدد اعزاء و اقارب کے ہمراہ پہنچ گئیں۔ ہوٹل کی ریزرویشن ضائع نہ گئی۔ معزز مہمانوں نے تین دن اور تین راتیں نہایت خضوع و خشوع سے نوافل ادا کئے۔ ملک کی سلامتی کیلئے گریہ و زاری کی۔ مداحوں سے تحائف وغیرہ وصول کئے اور طوعاً و کرہاً شاپنگ بھی کی۔ 24/ رمضان کی صبح باون (52) ہزار ریال کا کمروں کا کرایہ اور تقریباً پچپن (55) ہزار ریال متفرق اخراجات حکومت پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر روزہ داروں کا یہ قافلہ عازم وطن ہوا اور ابھی اس میں وہ رقم شامل نہیں ہے جو اس کاروانِ حجاز کے ٹکٹوں کی مد میں قومی ہوائی کمپنی کو وزارت پاکستان ادا کرے گی۔

اب آئیے ، تصویری البم کے کچھ اوراق پیچھے پلٹائیں ۔۔۔۔۔

گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جب محمد علی جناح مشرقی پاکستان کے دورے پر تشریف لے جانے لگے تو ان کے پاس وہی پرانا دقیانوسی ڈکوٹا جہاز تھا جو تقسیم ہند کے وقت گورنر جنرل پاکستان کے حصے میں آیا تھا۔ ڈھاکہ کے سفر کے لئے اسے راستہ میں تیل لینے کے لئے دہلی میں پالم پور کے ہوائی اڈے پر لازماً اترنا تھا مگر قائد اعظم نے سرزمین ہند پر قدم رکھنا گوارا نہ کیا اور فرمایا کہ ایسا انتظام ہو کہ جہاز بغیر اترے سیدھا چلا جائے۔
اب سیدھی پرواز کے۔ایل۔ایم کی جاتی تھی۔ اور معلوم ہوا کہ مخصوص پرواز پر تقریباً سات لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔ سرکاری خزانہ اس وقت خالی تھا۔ کسی سے اس ضرورت کیلئے روپیہ مانگنا ویسے ہی قائد اعظم کی غیرت خودداری نے گوارا نہ کیا۔ نہ ہی انہوں نے آرام و آسائش پر ٹیکس دہندگان کے گاڑھے پسینے کے کمائی کا ایک پیسہ خرچ کرنا مناسب سمجھا۔
آخر سوچ بچار کے بعد قائد اعظم نے تجویز کیا کہ ڈکوٹا جہاز میں پٹرول کی ایک مزید ٹنکی لگا دی جائے تاکہ اسے راستے میں تیل لینے کی ضرورت نہ پڑے اور وہ ایک ہی پرواز میں منزل مقصود پر پہنچ جائے۔ ماہرین چیختے اور سر پیٹتے ہی رہے۔ لیاقت علی خان کی بھی ایک نہ چلی۔ قائد اعظم پروگرام کے مطابق کراچی سے لاہور تشریف لے گئے۔ وہ اسی فرسودہ ڈکوٹا پر انتہائی خطرہ مول لے کر مشرقی پاکستان کے پہلے اور آخری دورے پر گئے اور بخیریت واپس لوٹے۔

3 comments:

  1. حضور یہ تو کچھ بھی نہیں۔ مجھے اپنی قوم کے نام نہاد یں نمائیندوں، افسر شاہی ۔ حتٰی کہ بیرون ملک سی کیٹگری میں سی کیٹیگری میں آنے والے سفارتخانوں کے سفیروں کے دادودہش اور گلچھڑے اراتے دیکھنے کا بارہا اتفاق ہوا ہے۔ ان کی محلات جسی رہائیشیں۔ جن میں ایکڑوں کے حساب سے باغات فل سائز سوئمنگ پول۔ مکمل سنگ مر مر سے مزین محل جیسی ریزیڈینسیز۔ سفارتی و سماجی پارٹیز۔ اللہ جانتا اس کار شر میں جس سے پاکستان کا بیرا غرق ہورہا ہے۔ ہر دور کے امیر المومنین اور روشن خیال حکومتیں شامل رہی ہیں۔ اگر وہ سب جزئیات بیان کروں تو طلسم ہوشرباء کی کوئی بھول بسری داستان کا گمان ہو۔

    ایک بات پکی ہے۔ کہ مجودہ طرز حکومت سے پاکستان کے عوام کا خون کشید کرکے یونہی گلچھرے اڑاے جائیں گے۔ کیونکہ اس نظام میں کسی کو اس بات سے غرض نہیں کہ اس پہ اٹھنے والے اخراجات کسیے پورے ہوئے۔

    ReplyDelete
  2. عجیب زندگیاں تھیں اکابرین کی . . . آج کے لوگ ان لوگوں کےنقش قدم پر ذرا سابھی عمل کریں گیں تو بہت بڑا انقلاب آ سکتا ہے

    jazakallah

    ReplyDelete
  3. اصل میں جیسی قوم ہوتی ہے ویسے ہی حکمران مسلط کیے جاتے ہیں ۔
    دور حاضر میں ہم سب کا ہی یہ حال ہے ۔
    ہم بھی اپنی اپنی جگہ میں ناجائز فائدے اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
    من حیث القوم انقلاب کی ضرورت ہے۔

    ReplyDelete