2011/07/26

طواف کیا ہے ؟

اس موضوع پر پروفیسر اختر الواسع (صدر شعبہ علوم اسلامی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی) کے ایک طویل مضمون کا مفید اقتباس ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔

طواف کے لغوی معنی گھومنے اور چکر لگانے کے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں اس سے مراد وہ رسم ہے جس میں خانہ کعبہ کے چاروں طرف گھوم کر دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کو نماز قرار دیا ہے اس فرق کے ساتھ کہ جناب رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وسلم) کے الفاظ میں :
الطواف حول البيت مثل الصلاة إلا أنكم تتكلمون فيه ، فمن تكلم فيه ، فلا يتكلمن إلا بخير
جامع الترمذي , كتاب الحج , باب ما جاء في الكلام في الطواف
(علامہ البانی نے صحیح قرار دیا)

{الاسلام سوال و جواب کے اس فتویٰ کا مطالعہ بھی مفید ثابت ہوگا -- کیا طواف اورسعی کے لیے طہارت شرط ہے؟}

خانہ کعبہ کے طواف کا حکم خود اللہ رب العزت نے سورہ حج میں اس طرح دیا ہے کہ :
وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيق
اس بیت عتیق یعنی پرانے گھر کا طواف کرو
( الحج:22 - آيت:29 )

طواف وہ خاص اور نرالی عبادت ہے جو صرف اور صرف خانہ کعبہ کے اطراف ہی ادا کی جا سکتی ہے۔ دن اور رات کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جس میں طواف جاری نہ رہتا ہو۔ کسی موسم کی سختی اور شدت مشتاقانِ دید کے جذبۂ طواف کو ماند نہیں کر پاتیں۔ جب توحید الٰہی کے پرستار انتہائی وارفتگی اور شوق کے ساتھ سیاہ غلاف میں ملفوف اس گھر کا دیوانہ وار چکر کاٹتے ہیں تو ایسا کرتے وقت رنگ ، نسل ، زبان ، علاقے ، معاشی ثروت و عسرت ، سماجی برتری و کمتری انتہا یہ کہ جنس کی تفریق و تمیز سب اٹھ جاتی ہے۔

طواف انتہائی اہم عبادت ہے۔
طواف ایک علامت بھی ہے اور ایک پیغام بھی۔
طواف اس بات کی علامت ہے کہ بندہ جس طرح پروانہ وار ایک مکعب کا طواف کر رہا ہے ، اس کے گرد چکر لگا رہا ہے اس کی ہر گردش کا مرکز و محور وہ ایک گھر ہے۔
اسی طرح اس کی پوری زندگی ، اس کی نیت ، اس کے ارادے ، اس کی خواہشات ، اس کی توقعات ، اس کے سہارے اور اس کی ہر فکر ہمہ وقت اس احکم الحاکمین کی مرضی اور رضا کے گرد چکر لگائے ، جس کے حکم پر وہ ظاہری طور پر اس گھر کے چکر لگا رہا ہے۔ یہ علامتی چکر اس کی زندگی کی حقیقت کو تبدیل کر کے اللہ واحد کی مرضی کا تابع فرمان ہو جائے۔

طواف جس طرح ظاہری و باطنی ہر اعتبار سے کامل خود سپردگی اور اطاعت شعاری کی علامت ہے اسی طرح اس میں اقوام عالم کے لیے ایک پیغام بھی چھپا ہے۔ یہ مرکز عالم دنیا کا واحد نکتہ ہے جہاں توحیدِ ربانی کا ایک عملی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے ، جہاں دنیا و جہاں سے گورے ، کالے ، مرد و عورت جمع ہوتے ہیں اور اپنے تمام فرق کو مٹا کر ایک ہی گھر کے گرد دیوانہ وار گھومتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسانوں کا سمندر ہے جو ایک خاص دائرے میں بھنور بنائے ہوئے ہے۔ یہ اقوام عالم کے لیے ایک پیغام ہے کہ :
آؤ ! توحیدِ خالص کے اس عملی مظاہرے کو دیکھو کہ کس طرح لاکھوں انسان ایک ہی مرکز کے گرد گھوم رہے ہیں۔

طواف دراصل کامل اطاعت الٰہی اور اس کے سامنے باطنی خود سپردگی کا ایک عملی اظہار ہے۔ بندہ کے قدم مطاف کے راستے پر ایک ہی دائرے میں گامزن رہتے ہیں۔ اس کا دل جذبۂ اطاعت و انقیاد سے سرشار رہتا ہے اور زبانِ حال و زبانِ قال دونوں سے وہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ :

اے پروردگارِ پاک ! تمام تعریفیں تجھ کو ہی سزاوار ہیں ، تو ہی عبادت کے لائق ہے ، تو سب سے بڑا ہے ، تیرے سوا کسی کو کوئی طاقت و قدرت حاصل نہیں ، میں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں ، تیری کتاب کی تصدیق کرتا ہوں ، تیرے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت کا اتباع کرتا ہوں۔
اے اللہ تعالیٰ ! بےشک یہ تیرا گھر ہے یہ تیرا حرم ہے اور یہاں تیری طرف سے امن و سلامتی قائم ہے ، یہاں تیرے بندے تیرے دربار میں حاضر ہیں۔ اے اللہ تعالیٰ ! میں بھی تیرا بندہ ہوں ، یہ مقام جہنم کی آگ سے پناہ مانگنے والوں کا مقام ہے۔ اے اللہ تعالیٰ ! تو ہمارے جسم کو جہنم کے لیے حرام کر دے اور ہمارے دلوں کو ایمان کی محبت سے مالا مال کر دے ، ہمارے دلوں کو ایمان سے مزین فرما اورکفر ، فسق اور نافرمانی کو ہمارے لیے قابل نفرت بنا دے اور ہم کو نیک لوگوں میں سے بنا دے !!

0 تبصرہ جات:

تبصرہ فرمائیں