2011/10/14

غرورِ زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو ۔۔۔۔

ابھی کچھ دن پہلے ایمیل سے کسی کا ایک سوال یوں موصول ہوا کہ :
کیا امر بالمعروف و نھی عن المنکر کا فریضہ ہر مسلمان پر لاگو ہوتا ہے؟ اور اگر ہاں تو اس کے شرعی آداب و شرائط کیا ہیں؟

اس موضوع پر ہر چند کہ ایک طویل عرصہ سے راقم الحروف نے مراسلات تحریر کئے ہیں۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں :

نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنے کا فرض
بےشک یہ بات درست نہیں کہ خود سراسر بےعمل ہو کر دوسروں کو نصیحتیں کرتے جائیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" کا فریضہ اسلیے چھوڑ دیا جائے کہ خود ہم "بےعمل" ہیں۔
امام ابوبکر الرازی الجصاص علیہ الرحمة فرماتے ہیں : ۔۔۔ جو شخص تمام نیکیاں بجا نہیں لا سکتا ، اور تمام برائیوں سے اجتناب نہیں کر سکتا ، اس پر سے بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا واجب ساقط نہیں ہوتا۔
کیا عالم بےعمل کو تبلیغ کا حق حاصل نہیں ہے؟
حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) نے مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) سے کہا: "اپنے ساتھیوں کو نصیحت کیجئے"۔
مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) نے جواباً کہا : "میں ڈرتا ہوں کہ وہ بات کہہ نہ دوں جس کو میں خود نہیں کرتا"۔
یہ سن کر حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) کہنے لگے : "اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔ ہم میں کون ایسا ہے جو وہ (سب کچھ) کرتا ہے ، جو وہ کہتا ہے؟ شیطان اسی بات کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، (تاکہ) پھر کوئی نیکی کا حکم نہ دے اور نہ ہی برائی سے روکے"۔
جب بھی قرآن و سنت کے حوالے سے کوئی اچھی بات کہی جاتی ہے تو لوگ اس کا رخ بدل کر پاکستان یا عالَمِ اسلام کے مسلمانوں کی دگرگوں حالاتِ زار کی طرف موڑ دیتے ہیں یا پھر کہنے والے کی دیگر برائیوں کا اظہار شروع کر دیتے ہیں تاکہ قاری یا سامع کا ذہن بٹ جائے۔۔
اب یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس طرح کے طرزِ عمل کا حقیقی سبب کیا ہے؟
ویسے کسی نے یہ بات شاید بہت اچھی اور معقول کہی ہو کہ ۔۔۔۔
جو لوگ افراد ، ممالک یا گروہ و طبقہ جات کی انفرادی برائیوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں اور ان برائیوں کا برسرعام اظہار کر کے ان کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ تبلیغ دین کے اہم فریضے کو پورا کر رہے ہیں ۔۔۔ تو دراصل وہ تبلیغ کے پردے میں اپنے انتقامی جذبے کو تسکین پہنچانا چاہتے ہیں۔
ورنہ تو اسوۂ حسنہ سے ایسی تعلیمات ہمیں کہیں نہیں ملتیں کہ "نھی عن المنکر" کے بہانے کرید کرید کر مخالفین کی کمزوریاں تلاش کی جائیں اور انہیں اس حوالے سے ذاتی طور پر رسوا کیا جائے۔
ہر ناقص بات جو ذہن میں آئے ، ہر منفی سوچ جس پر نفس اکسائے ، ہر برا رویہ جو مشتعل کرے ۔۔۔۔ ضروری نہیں ہے کہ اسے بیان بھی کیا جائے چاہے "نھی عن المنکر" کے نام پر یا چاہے مظلومیت کے ناتے سہی۔
اگر ہر خرابی بیان کرنے والی ہوتی تو خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اللہ عز و جل کی طرف سے اُس وقت ٹوکا نہ جاتا (آل عمران : 128) جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کفار پر لعنت کر رہے تھے۔ جب کفار پر لعنت کرنے سے رب عظیم نے منع کیا تو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ ہم کیسے مسلمان ہیں کہ اپنے ہی بھائی کا گوشت نوچنے سے باز نہیں آتے!

ان تمام کاموں سے بہتر کام تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سنت ہے جو واشگاف الفاظ میں یوں بیان ہوئی ہے :
من ستر مسلما ستره الله في الدنيا والآخرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه
جو شخص کسی مسلم پر پردہ ڈالے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں پردہ ڈالے گا اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں (رہتا) ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں (رہتا) ہے۔
صحیح مسلم ، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ

نیتوں کا اخلاص صرف یہ نہیں ہوتا کہ قرآن و سنت کی باتیں زبانی کلامی قلمی کہہ دی جائیں یا آگے فارورڈ کر دی جائیں یا ایمیل سرکلر بھیج دیا جائے یا بلک ایس۔ایم۔ایس سے استفادہ کر لیا جائے ۔۔۔ بلکہ کم از کم تحریر کی حد تک عمل بھی یوں ہو کہ کسی لفظ / فقرے سے کسی پڑھنے والے کا دل نہ دکھے اور وہ یہ نہ سمجھے کہ بھری محفل میں اشارے کنایے سے اس کو مذاق کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

صحیح بخاری سے ایک سبق آموز واقعہ پڑھئے۔ ہرچند کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی طور پر شرابیوں پر لعنت بھیجی ہے۔ لیکن جب ۔۔۔۔۔۔
ایک شرابی کو کئی بار پکڑ کر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سامنے لایا گیا تو ایک شخص بالآخر بول اٹھا کہ :
اس پر اللہ کی لعنت کہ بار بار پکڑ کر دربارِ رسالت میں پیش کیا جاتا ہے ۔
رسولِ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ سنتے ہی فرمایا :
اسے لعنت نہ کرو۔ کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت کرتا ہے۔

اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) تو "ام الخبائث" کے شکار فرد کو اس کی برائی کے باوجود اسے ملعون کہنے سے منع فرماتے ہیں اور ایک ادھر ہم ہیں کہ معمولی معمولی سی ذاتی رنجشوں یا کچھ مسلکی نظریاتی اختلافات کے سہارے ایک دوسرے کی بےمحابا توہین و تضحیک سے باز نہیں آتے۔

ملت کا درد رکھنے والے علامہ اقبال نے شاید ایسے ہی واعظ و مبلغ کے لیے فرمایا تھا کہ :
کوئی یہ پوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہے
جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے
غرور زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو
کہ بندگان خدا پر زباں دراز کرے

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اعلیٰ ظرفی ، کشادہ دلی اور وسیع الذہنی عطا فرمائے اور قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات کے علم و عمل سے نوازے ، آمین۔

5 comments:

  1. ميرے علم اور مشاہدے کے مطابق بات دونوں طرح ہے
    ايک ۔ دوسرے کو اُس بات کی دعوت دی جائے جس پر ترغيب دينے والا خود کاربند ہو تو اثر دکھاتی ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا فرمان بھی ہے " اور تم وہ بات کہتے ہو جو خود نہيں کرتے ہو"

    دو ۔ اگر دوسرے کو ايسی اچھی بات کی ترغيب دی جائے عملی طور پر جس کی اُس وقت تک نفی کی ہو تو ترغيب دينے کے بعد آدمی خود اس بات پر عمل کرنے کی طرف راغب ہوتا ہے

    ReplyDelete
  2. سلام!
    قبلہ، بات تو آپ کی بالکل بجا ہے لیکن ایک چھوٹی سی عرض اس ضمن میں ضروری سمجھتا ہوں۔ امید ہے اسے اختلافِ رائے پر محمول نہ کیا جائے گا۔
    اعلیٰ ظرفی اور وسیع المشربی اگر کسی صاحبِ کردار شخص میں ہو تو بالکل فطری اور راست معلوم ہوتی ہے اور یقیناً معاشرے اور فردِ موصوف دونوں کو نہایت فوائد پہنچاتی ہے۔لیکن اگر کوئی بے کردار شخص وسیع الذہنی کا دعویٰ کرے تو یہ بات تقریباً قطعی ہے کہ اس کا یہ رویہ خطرناک نتائج کا موجب ہو گا۔ اقبال کا ایک اور فرمان یوں ہے:
    آزادی افکار سے ہے ان کی تباہی
    رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ
    ہو فکر اگر خام تو آزادی افکار
    انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ
    اور ہماری ناقص رائے میں فکر کا پختہ ہونا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر تو نہیں، لیکن محاسبہءِ نفس اور تقویٰ پر ضرور منحصر ہے۔ باقی رہی بشریت، تو "ایں درگہِ ما درگہِ نومیدی نیست!"
    افتخار اجمل صاحب کو دعا!

    ReplyDelete
  3. اسلام علیکم
    بہت عمدہ تحریر ہے،عقل و خرد کی کھڑکیاں کھل گئیں- جزاک اللہ خیراً کثیراً

    ReplyDelete
  4. بہرحال نیکی کی ترغیب تو دینی ہی چاہیئے

    ReplyDelete


  5. مگر اصلاحی ترتیب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اپنے قریب کرکے انکی
    اصلاح کی مئوثر کوشش
    کریں ۔۔۔نہ کہ کڑوی باتیں کرکے لوگوں کی دل آزاری ۔۔۔ نفرتیں دوریاں پیدا کرتی ہیں۔ اللہ پاک
    نے نرم گوئی کی تلقین سیدنا موسی و ہارون علیہم السلام کو فرمائی جو کہ فرعون جیسے جابر

    کے سامنے کلمۃ الحق رکہنے چلے تہے۔۔۔۔مختصر بات یہ ہے۔۔۔مسلم کا ہر کام خوف خدا اور
    نہج نبوت پر ہونا ضروری ہے

    ReplyDelete