2012/09/22

اسلام مخالف فلم - شر کے پہلو سے خیر

I protest against disrespect of our beloved prophet Mohammad s.a.w
اس واقعہ کے نتیجے میں خود اہل مغرب کی توجہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حالات معلوم کرنے کی طرف ہو گئی ہے۔ وہ سیرت النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی کتابوں کا مطالعہ کرنے لگے ہیں جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ ان میں سے بہت سارے سلیم الفطرت لوگوں کے ایمان لانے کی شکل میں ظاہر ہوگا۔
مغرب کی منافقت و دہری پالیسیوں کی فہرست طویل ہے ، تاہم ان میں سے ہی یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص جرمنی میں ہٹلر کے ہاتھوں گیس چیمبرز میں 60 لاکھ یہودیوں کے قتل عام کو مبالغہ و افسانہ کہے تو یہ بات یورپی ممالک میں جرم ہے۔ اسرائیل میں باقاعدہ یہ قانون ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی شخص "ہولوکاسٹ" کو چیلنج کرے تو اسرائیل کو حق ہے کہ اسے اغوا کر کے لے آئے اور اسے سزا دے۔
یورپ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین جرم ہے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ یورپ میں ایک عام آدمی کی توہین کرنا بھی جرم ہے لیکن آزادئ اظہارِ رائے اور آزادئ صحافت کے نام سے اسلام کو تختۂ مشق بنانے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ آج یورپی ممالک میں بلند آواز سے میوزک سننا منع ہے کہ اس سے پڑوسیوں کی سمع خراشی ہوتی ہے۔ سڑک پر ہارن بجانا خلافِ قانون ہے اور گاڑی میں زور سے گانا نہیں سنا جا سکتا مگر دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کے جذبات پر نشتر چلانے کی آزادی ہے۔
آزادئ اظہار ، آزادئ صحافت ، آزادئ فکر وغیرہ کی آڑ میں مغرب و امریکہ کی دوغلی پالیسیاں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ آزادی کا مطلب مادر پدر آزادی بھی نہیں ، آزادی تو صرف اسی وقت ممکن ہو سکتی ہے جس اس کی حدود کا واضح تعین ہو۔ ایک کی آزادی دوسروں کے لیے دست درازی اور غلامی کا طوق نہ بن جائے۔

یہود و نصاریٰ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخیاں کرتے آ رہے ہیں۔ حال ہی میں کفارِ مغرب نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں پھر گستاخی کی ہے جس سے مسلمانوں کی نہ صرف دلآزاری ہوئی ہے بلکہ وہ غم و غصہ سے آگ بگولا ہو گئے ہیں اور وہ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔
یہ سب اپنی جگہ بجا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بعض امور بظاہر شر سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان میں بھی مسلمانوں کے لیے خیر کے کئی پہلو چھپائے ہوئے ہوتا ہے۔
سورۃ النور کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس معروف واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زوجۂ طاہرہ و مطہرہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) پر منافقین کے تہمت لگانے کا تذکرہ ہے اور اسی واقعہ کے ضمن میں آیت:11 میں ارشاد الٰہی ہے :
جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے ، تم ہی میں سے ایک جماعت ہے ، اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا بلکہ وہ تمہارے لیے اچھا ہے ، ان میں سے جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا اس کے لیے اتنا وبال ہے اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا اس کو بڑا عذاب ہوگا۔

اہل مغرب کے گستاخان کی اس موجودہ حرکتِ شنیعہ سے بھی مسلمانوں کے دل بہت دکھے ہیں، انہیں بہت رنج پہنچا ہے لیکن اس کے نتیجے میں بھی کئی اعتبار سے خیر کے بہت سارے پہلو اور بھلائی کے بکثرت مناظر سامنے آئیں گے۔
لوگوں کو اس بات کا پتا چل گیا ہے کہ ان نصاریٰ کے دل و دماغ میں مسلمانوں ، ان کے دین اور ان کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف کس قدر بغض و کینہ اور حسد کا زہر بھرا ہوا ہے؟ حالیہ واقعہ سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) پر مسلمانوں کے ایمان میں مزید رسوخ و پختگی آئے گی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) جنہیں زندگی بھر قوائے کفر نے اذیت رسانی کا نشانہ بنائے رکھا ، وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی باز نہیں آ رہے۔
اس واقعہ کے نتیجے میں خود اہل مغرب کی توجہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حالات معلوم کرنے کی طرف ہو گئی ہے۔ وہ سیرت النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی کتابوں کا مطالعہ کرنے لگے ہیں جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ ان میں سے بہت سارے سلیم الفطرت لوگوں کے ایمان لانے کی شکل میں ظاہر ہوگا۔
توہینِ رسالت و استہزاءِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک ایسا فعل ہے کہ جب کبھی بھی دشمنانِ اسلام نے اس کا ارتکاب کیا انہیں اس کے نتیجہ میں کسی نہ کسی طرح شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رحمۃ اللہ) نے اپنی کتاب "الصارم المسلول" میں لکھا ہے:
"اللہ ہر اس شخص سے انتقام لے لیتا ہے جو بھی اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذاتِ گرامی کو ہدفِ طعن و تشنیع بنائے۔ اگر مسلمان ایسے شخص پر شرعی حد قائم نہ کر سکیں تو اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب اور جھوٹے کے جھوٹ کو طشت از بام کر دیتا ہے۔ ہمیں متعدد ثقہ قسم کے فقہاء اور اہل علم و معرفت لوگوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے بارہا اس بات کا مشاہدہ و تجربہ کیا ہے کہ شام کے ساحلی علاقوں پر واقع شہروں اور قلعوں کے محاصروں میں ایسے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جیسے ہی کفار کی طرف سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخیاں کی گئیں تو مسلمانوں کو یقین ہو گیا کہ اب ہماری فتح کا وقت قریب آ گیا ہے چنانچہ ہمارے زمانے میں جب مسلمانوں نے بنی اصفر (رومیوں) کا محاصرہ کیا اور ایک قلعے یا شہر کے محاصرے پر ایک ماہ یا اس سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا مگر وہ فتح نہیں ہو رہا تھا حتیٰ کہ ہم مایوسی کی حدود کے قریب پہنچ گئے کہ اندر سے محاصرہ شدہ لوگوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو سب و شتم کیا ۔۔ تو ہمیں بہت آسانی سے اور جلد فتح نصیب ہو گئی۔ صرف ایک یا دو ہی دن میں محاصرہ کامیاب ہو گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر ایسے مواقع پر ہمیں پتا چلتا کہ اندر سے کسی نے شانِ عالی میں گستاخی کرنا شروع کر دیا ہے تو ہم ان کے خلاف دلوں کے غم و غصہ سے بھر جانے کے ساتھ ہی اسے اپنی فتح کی بشارت بھی سمجھتے تھے"۔

شان عالی میں گستاخی کرنے اور ناموس رسالت پر کیچڑ اچھالنے والوں کو قرآن کریم ، سنت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ، اجماع صحابہ (رضوان اللہ عنہم اجمعین) ، اجماع امت اور قیاسِ صحیح کی رو سے کافر قرار دیا گیا ہے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اذیت پہنچانے والوں کی سزا "قتل" طے پائی ہے۔ شان عالی میں گستاخی کرنے والوں میں سے کتنے لوگ ہیں جنہیں ایک ایک کر کے قتل کروا دیا گیا۔
یہ بھی قانونِ قدرت ہے کہ جسے اہل ایمان اس کی اہانت و گستاخی کی سزا نہ دے سکیں تو اس سے خود اللہ تعالیٰ اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا انتقام لیتا ہے اور وہ ہی کافی ہو جاتا ہے۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ (رحمۃ اللہ) نے "الصارم المسلول" میں لکھا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے شاتم و گستاخ اور دریدہ دہن کی سزا "قتل" ہے اور اس پر تمام صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کا اجماع و اتفاق ہے۔ اور پھر آپ نے متعدد واقعات سے اس اجماع کو ثابت بھی کیا ہے اور لکھا ہے کہ کسی مسئلہ میں اس سے زیادہ بلیغ اجماع کا دعویٰ ممکن ہی نہیں۔ اس مسئلہ میں صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) اور تابعین (رحمہم اللہ عنہم) کے اس اجماع کے خلاف کسی ایک بھی صحابی یا تابعی کا کوئی اختلاف قطعاً ثابت نہیں۔

///
مضمون : اسلام مخالف فلم ، لاتحسبوہ شراً لکم
مضمون نگار : محمد منیر قمر (الخبر ، سعودی عرب)
بشکریہ : روشنی سپلیمنٹ ، روزنامہ اردو نیوز (سعودی عرب) ، 21/ستمبر/2012ء

4 comments:

  1. Mera Tan man Dhan mere Nabi (S.A.W.W) per qurban

    ReplyDelete
  2. جزاک اللہ خیرا

    ReplyDelete
  3. NICE ARTICLE
    MUST READ THIS ARTICLE.
    http://bit.ly/2xFAXv2

    ReplyDelete