2012/02/07

حدیث تنقید : مجھے تہذیب حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی

محمد علی مکی - اردو بلاگنگ ہی نہیں اردو کمپیوٹنگ کے میدان کی ایک ماہر اور نامور شخصیت کا اسم گرامی ہے۔ ان سے چند نظریاتی اختلاف کے تحت ان کی صلاحیتوں اور خوبیوں کا انکار کرنا ناانصافی کے دائرے میں شمار ہوگا۔
آجکل محترم اپنے بلاگ پر جن موضوعات کو تختہ مشق بنا رہے ہیں اس سبب ہمارے علاوہ کچھ مزید اذہان میں مکی صاحب کی اس "مہم" سے متعلق شکوک و شبہات کا پیدا ہونا کوئی غیر فطری امر نہیں۔ لیکن ان متنازعہ تحریروں کے سہارے کسی شخصیت پر کوئی فتویٰ لگانے کے بجائے اگر ہم کچھ لوگوں کی اس بات پر بھروسہ کر لیں کہ ۔۔۔۔
ہو سکتا ہے مکی صاحب اردو زبان میں بھی وہ تمام مواد ایک جگہ اکٹھا کر رہے ہوں جو دیگر زبانوں میں اسلام ، مسلمان ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) ، قرآن ، حدیث وغیرہ کے ردود میں لکھا گیا ہے یا لکھا جا رہا ہے ۔۔۔۔
تو شاید کسی حد تک ہم کردار کشی یا "ردّ شخصیت" کے عمل سے رک جائیں ، کیونکہ جہاں تک راقم کو علم ہے مکی صاحب نے اپنی ایسی کسی بھی تحریر میں صاف صاف اور کھل کر یہ کہیں نہیں لکھا کہ
"مستند ہے میرا فرمایا ہوا"
یا "اس تحریر کے تمام نکات سے میرا 100 فیصد اتفاق ہے"
یا "جو عقائد و نظریات کے حوالے یہاں بیان ہو رہے ہیں اور جن کا دفاع بھی کیا جا رہا ہے ان سے میں خود بھی متفق ہوں" ۔۔۔ وغیرہ

خیر تو ایک دوست کی فرمائش کا خیال کرتے ہوئے مکی صاحب کی اس تازہ تحقیق :
حدیث کی مصداقیت
پر جواب آں غزل پیش خدمت ہے۔

سب سے پہلی بات تو یہی کہ ۔۔۔ محمد علی مکی جیسے محقق کے ذریعے یہ تحریر کچھ عجیب سی لگی۔ انگریزی اور عربی میں‌تو اس موضوع پر کافی مواد ہے (جیسا کہ مکی صاحب کی اسی تحریر کا بیشتر مواد قاری کو quran-islam ڈاٹ آرگ نامی سائیٹ سے مل جائے گا) بلکہ ذرا سی گوگلنگ پر اس کے ردّ میں زیادہ اور بیش قیمت مواد بھی مل جاتا ہے (بالخصوص عربی میں)۔۔۔ مگر اردو میں بھی یقیناً کوئی کمی نہیں۔ سرسید یا طلوع اسلام سے لے کر آج کا غامدی گروہ تک وہی کچھ کہتا آیا ہے جس کا خلاصہ مکی صاحب نے اپنے بلاگ کی اس پوسٹ میں درج فرمایا ہے۔
مگر سولہ آنے کا سوال یہی ہے کہ :
کیا اس موضوع یا ان موضوعات کا کوئی جواب دیا نہیں گیا؟؟
ایک دو نہیں سینکڑوں اردو کتب لکھی گئیں اور لکھی جا رہی ہیں۔ لکھنے والوں کے لب و لہجے یا اسلوب یا پیشکشی کے انداز سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر "ردّ فتنہ انکار حدیث" پر مشتمل ان کتب کے قوت استدلال اور شرحِ مفید و معقول سے انکار کسی سلیم الطبع اور وسیع النظر فرد سے ممکن نہیں۔

ہمارے مکی بھائی نے جو 4 سوالات اٹھائے ہیں ۔۔۔ اپنے مطالعے کی بنیاد پر یقین سے کہنا چاہوں گا کہ ان سوالات کے جوابات نہ صرف یہ کہ قدیم اردو کتب میں دئے گئے تھے بلکہ "انکار حدیث" کے موضوع پر لکھی جانے والی آج کی کتب میں بھی ان سوالوں کے جواب نہایت مدلل طور سے موجود ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ راقم الحروف نے مختلف اردو/انگریزی فورمز پر "حدیث کی مصداقیت" پر شک کرنے والوں سے بیشمار مباحث/مناظرے کئے۔ دور کیوں جائیں ، اردو محفل پر ہی فاروق سرور خان صاحب کا اٹھایا گیا یہ ایشو تفصیل سے پڑھ لیجیے :
سنّت کیا ہے ؟

ونیز میں نے ایک وعدہ یہاں کیا تھا کہ
"حجیت حدیث" کے موضوع پر بھی بہت سارے مختلف فورمز پر انگریزی اور اردو میں میرے مباحث موجود ہیں۔ فی الحال کوشش ہے کہ جلد سے جلد اس موضوع پر علیحدہ اردو بلاگ قائم کیا جائے۔
افسوس کہ کچھ دیگر پراجکٹس کی مصروفیات کے سبب یہ معاملہ ہنوز التوا کا شکار ہے۔

بہرحال بات ہو رہی تھی "حدیث کی مصداقیت" پر ۔۔۔۔
اور میں ایک بار پھر دہراؤں گا کہ اردو زبان میں ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں ایسی مفید کتب تحریر کی جا چکی ہیں کہ ۔۔۔ کھلے دل و دماغ سے جن کا مطالعہ "حدیث کی مصداقیت" پر بڑے سے بڑا شک کرنے والے کو بھی مائل بہ اقرارِ حجیت حدیث کر دے گا ان شاءاللہ۔
چند کتب کے نام اور پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ لنک پیش ہیں : (حجم میگا بائٹس میں ہے)

1 : آئینہ پرویزیت - عبدالرحمٰن کیلانی
(صفحات:915 // حجم:13)
تقریباً 1000 صفحات پر مشتمل یہ کتاب فتنہ انکار حدیث کے جواب میں ایک انسائیکلوپیڈیا قرار دی جا سکتی ہے۔

2 : حجیت حدیث - علامہ ناصر الدین البانی
(صفحات:166 // حجم:7)
ایک گروہ ایسا ہے جو حدیث کو قابل اعتماد تسلیم کرتا ہے لیکن تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے ۔عالم اسلام کے عظیم محدث اور جلیل القدر عالم علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی زیر نظر کتاب میں اسی دوسرے گروہ کے افکار کی تردید کی گئی ہے۔

3 : سنت کی آئینی حیثیت - مولانا مودودی (اردو یونیکوڈ ورڈ فائل بھی موجود ہے)
(صفحات:368 // حجم:37)

4 : حجیت حدیث - جسٹس تقی عثمانی
(صفحات:163 // حجم:17)

5 : انکار حدیث حق یا باطل؟ - صفی الرحمٰن مبارکپوری
(صفحات:111 // حجم:2)

6 : احادیث صحیح بخاری و مسلم میں پرویزی تشکیک کا علمی محاسبہ - ارشاد الحق اثری
(صفحات:224 // حجم:5)

7 : صحیح بخاری پر اعتراضات کا علمی جائزہ - حافظ زبیر علی زئی
(صفحات:125 // حجم:3)

8 : صحیح بخاری پر منکرین حدیث کے حملے اور ان کا مدلل جواب - حافظ زبیر علی زئی
(صفحات:33 // حجم:1)

9 : صحیح بخاری کا مطالعہ اور فتنہ انکار حدیث - حافظ ابو یحیٰ نور پوری
(صفحات:530 // حجم:18)

10 : تفسیر مطالب الفرقان کا علمی و تحقیقی جائزہ (جلد:1)- پروفیسر حافظ محمد دین قاسمی
(صفحات:625 // حجم:-)

11 : تفسیر مطالب الفرقان کا علمی و تحقیقی جائزہ (جلد:2) - پروفیسر حافظ محمد دین قاسمی
(صفحات:737 // حجم:15)

12 : اصولِ اصلاحی اور اصولِ غامدی کا تحقیقی جائزہ - عبدالوکیل ناصر
(صفحات:140 // حجم:2)

13 : فتنہ غامدیت کا علمی محاسبہ - پروفیسر مولانا محمد رفیق
(صفحات:450 // حجم:9)

14 : ماہنامہ محدث کا فتتہ انکار حدیث نمبر
(صفحات:280 // حجم:12)

15 : الاعتصام ۔حجیت حدیث نمبر
(صفحات:306 // حجم:8)

-- تفہیم اسلام بجواب دو اسلام

اس موضوع (فتنہ انکار حدیث) پر کتاب و سنت لائیبریری میں موجود اردو پی۔ڈی۔ایف کتب کی ایک مکمل فہرست یہاں ملاحظہ فرمائیں۔

ویسے ایک سوال میرے ذہن میں اکثر و بیشتر گونجتا ہے کہ ۔۔۔۔
آپ کو کسی حدیث کے متعلق کچھ اشکالات پیدا ہوتے ہیں تو آپ انہیں دور کرنے یا ان کی تفصیلات یا توضیحات جاننے کے لیے فن حدیث کے ماہرین یا شارحینِ حدیث کی طرف کیونکر رجوع نہیں ہوتے؟
یہ بڑی ستم ظریفی ہے کہ کسی دنیاوی ایجاد یا فلسفے یا نظریے کی منطق ہمیں سمجھ میں نہ آئے تو سمجھانے کے لیے متعلقہ فن کے ماہرین سے رجوع کرایا جاتا ہے ، ان کی کتب سے روشن اقتباسات کشید کر کے بطور دلیل پیش کیے جاتے ہیں ۔۔۔۔ مگر جب بات کسی حدیث کی "مصداقیت" پر آئے تو وہاں صرف اتنا کہہ کر جان چھڑا لی جاتی ہے کہ یہ چیز ہماری سمجھ میں نہیں آتی یا اس پر یہ یہ عقلی اعتراضات وارد ہوتے ہیں !!
یہ رویہ موجودہ دور میں کس فکر کی غمازی کہلایا جائے؟ کیا یہ فن حدیث کی ناقدری نہیں؟ کیا ہم غیروں کے اس قدر مطیع و فرمانبردار ہو گئے ہیں کہ اپنے اسلاف کے علمی ذخیرے سے ہیرے جواہرات کو ڈھونڈ نکالنا ہمارے نزدیک اب محض کار زیاں قرار پا گیا ہے؟

کہیں اقبال نے اسی کا رونا تو نہیں رویا ۔۔۔۔۔؟؟

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

آخر میں ۔۔۔ مکی بھائی سے ایک مطالبہ یہ کرنے کا سوچا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔ مگر پھر خیال آ گیا کہ اگر مکی نے کھل کر وضاحت کر دی (جو کہ خیر سے ناممکن بات ہے) تو پھر ان کی ساری "مہم" ٹائیں ٹائیں فش ہو کر رہ جائے گی ۔۔۔۔ لہذا جانے دیجیے۔

2012/01/18

ہجرت بھی اک زخم ہے ۔۔۔

مولانا اعظم ہاشمی کی داستانِ ہجرت (ترکستان تا پاکستان) بعنوان "سمرقند و بخارا کی خونیں سرگذشت" کتابی شکل میں سن 1969ء میں شائع ہوئی تھی جس کا تعارف مولانا مرحوم کے پوتے کفایت ہاشمی نے اردو محفل فورم پر یہاں کروایا ہے۔
یہ دلچسپ کتاب جو کہ دراصل تاریخ کا ایک باب بھی ہے ، archive.org پر پی۔ڈی۔ایف شکل میں موجود ہے۔ ڈاؤن لوڈ لنک نیچے دیا جا رہا ہے۔

کتاب کے شروعاتی صفحات ہی سے طرز تحریر کا سحر طاری ہونے لگتا ہے۔ جبکہ اس کتاب کے سال اشاعت (1969ء) سے اندازہ ہوا تھا کہ قدیم اردو ہوگی مگر بہرحال اتنی قدیم تو نہیں ہے۔
آباد شاہ پوری نے اپنے "دیباچہ" میں جو یہ باتیں لکھی ہیں ۔۔۔ زائد از 40 سال بعد والی موجودہ صورتحال بھی کم و بیش اتنی ہی محسوس ہوتی ہے ۔۔۔ ملاحظہ فرمائیں کہ وہ لکھتے ہیں :
اس داستاں کے مخاطب یوں تو وہ نام نہاد "مولانا" اور "مفتی" بھی ہیں جو سوشلزم کے گماشتوں کے ہاتھوں میں دانستہ یا نادانستہ کھیل رہے ہیں۔ اگر ان کے دل میں رائی برابر بھی ایمان موجود ہے تو خدارا سوچیں کہ وہ کیسا خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں اور کن لوگوں کا آلۂ کار بنے ہوئے ہیں؟
تاہم اس داستان کے اصل مخاطب پاکستان کے مسلمان عوام ہیں جنہوں نے اپنے دین ، اپنی تہذیب ، اپنی روایات کو ہندوؤں کے چنگل سے بچانے اور اسلام کے سایے میں زندگی بسر کرنے کے لیے جنگ لڑی اور آگ اور خون کے وسیع اور ہولناک سمندر سے گزر کر پاکستان کے ساحلِ مراد پر پہنچے۔
یہ خونیں سرگذشت انہی کے لیے لکھی گئی ہے تاکہ وہ اس سے عبرت حاصل کریں ، پاکستان کو سمرقند و بخارا بنانے کی تگ و دو میں جو لوگ مصروف ہیں ، ان کے نعروں اور شرعی وضع قطع سے دھوکا نہ کھائیں اور کفر و الحاد کے ان علمبرداروں کے خلاف اسی جوش و جذبے کے ساتھ بنیانِ مرصوص بن کر کھڑے ہو جائیں جس جذبے کے ساتھ وہ ہندوؤں کے عزائم کے خلاف کھڑے ہوئے تھے۔ اس وقت جو خطرہ مسلمانانِ ہند کو ہندوؤں سے تھا آج وہی خطرہ پاکستان کی اسلامی مملکت کو سوشلزم کے گماشتوں اور ان کے نام نہاد شرعی رکابداروں سے ہے۔

24/دسمبر 1969ء
آباد شاہ پوری

اس کتاب کا پہلا باب میں نے ابھی ابھی کمپوز کیا ہے۔ اسے بھی ذیل میں ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔
***
وہ رات مجھے مرتے دم تک نہ بھولے گی۔
38 برس گزر چکے ہیں ، لیکن آج بھی اس رات کا ایک ایک لمحہ میرے ذہن کی تختی پر نقش ہے۔ شب و روز کی ہزاروں گردشوں کے باوجود اس رات کی یادوں کی چمک دمک میں کوئی کمی نہیں آئی۔ بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے امی جان احاطے کی دیوار کے پاس کھڑیں مجھے رخصت کر رہی ہیں اور فرما رہی ہیں :
"بیٹے ، اللہ تمہارا حافظ و نگراں ہو ، میری نصیحتوں کو مت بھولنا ، ورنہ میں تم سے خوش نہ ہوں گی۔"

یہ 1931ء کا ذکر ہے۔ آخر فروری یا شروع مارچ کی کوئی تاریخ تھی ، میں اپنے گھر میں کھلاوت (ترکی پلنگ) پر پڑا سو رہا تھا کہ امی جان نے مجھے آہستہ سے جھنجھوڑ کر جگایا۔ میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ فوراً ہی سارا معاملہ میری سمجھ میں آ گیا۔ وہ گھڑی آ پہنچی تھی جس کے لیے ہم ماں بیٹا کئی دنوں سے صلاح مشورہ کر رہے تھے۔
"بیٹا ، اٹھو وضو کرو۔" امی جان نے کہا۔
یہ کہہ کر وہ مڑیں اور کوزے میں پانی بھرنے لگیں۔ میں نے طہارت سے فارغ ہر کر وضو کیا، پھر خود امی جان نے بھی وضو کیا۔ اب ہم دونوں ماں بیٹا بارگاہ ایزدی میں جھک گئے ، دوگانہ ادا کیا ، امی جان نے اوراد و وضائف پڑھ کر مجھ پر پھونکا ، پھر باورچی خانے میں چلی گئیں۔ کوئی پندرہ بیس منٹ کے بعد دسترخوان اٹھائے تشریف لائیں۔ ایک ہاتھ میں بٹیر کے سیخ کباب تھے۔ ایک کباب اپنے ہاتھ سے کھلایا۔ کھانا کھا چکا ، تو کہنے لگیں :
"میرے جگر گوشے ، اٹھو اور اپنے معصوم بھائی بہنوں کا آخری زندہ دیدار کر لو۔"
میں بڑھ کر ان کی چارپائی کے قریب پہنچا۔ کم سن معصوم فرشتے دنیا جہاں سے بےخبر پڑے سو رہے تھے۔ معصومیت کی لو ان کے چہروں پر دمک رہی تھی۔ میں نے باری باری ان کی پیشانی پر ہاتھ رکھا اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے خیر و عافیت کی دعا مانگی۔ وہ وقت میرے لیے بےحد صبر آزما تھا۔ محبت اور شفقت کے سوتے میرے دل کی گہرائیوں سے ابلنے لگے۔
"اب میں اپنے بھائی بہنوں کو شاید کبھی نہ دیکھ سکوں گا۔" میں نے سوچا۔
معاً میری آنکھوں میں آنسو امڈ آئے جنہیں میں نے پلکوں ہی پلکوں میں خشک کرنے کی کوشش کی۔ امی جان تھیں تو 65 برس کی، لیکن جوانوں سے زیادہ باہمت تھیں۔ کچھ دیر تک دم سادھے میری طرف دیکھتی رہیں، پھر بولیں :
"آؤ بیٹا"۔۔۔
ان کی آواز میں ہلکا سا ارتعاش تھا ، ایسا معلوم ہوتا تھا وہ اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے ایک چھوٹا سا تکیہ نما بستر اٹھایا اور چل پڑیں۔ میں ان کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ کمرے سے نکل کر ہم صحن میں پہنچے ، صحن سے باغیچے کا رخ کیا، باغیچے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئے۔ اب ہم کھلے آسمان کے نیچے درختوں اور پودوں کے درمیان کھڑے تھے۔ امی جان نے میری پیشانی چومی اور فرمایا :
"بیٹے ، تم میرے بڑھاپے کا سہارا اور امیدوں کا مرکز ہو ، مگر جیسا کہ دیکھ رہے ہو ، تم وطن عزیز میں رہ کر ایک مسلمان کی حیثیت سے میری خدمت نہیں کر سکتے ، چنانچہ میں تمہیں دین و ایمان اور وطن عزیز کی خاطر کسی آزاد ملک میں چلے جانے کی اجازت دیتی ہوں ، البتہ ایک شرط ہے ، وہ یہ کہ جہاں تک ممکن ہو ، ترکستان کے مسلمانوں کی بےبسی اور دین کی بےحرمتی کی خبر تمام مسلمانوں اور آزاد قوموں تک پہنچا دو۔ بیٹے ، میں نے وضو کیے بغیر تمہیں کبھی دودھ نہیں پلایا۔ اگر تم نے اس مقصد کو فراموش کر دیا ، تو میں کبھی راضی نہ ہوں گی۔ انسان کا مجدد شرف یہ ہے کہ وہ اپنے قول و قرار کا پابند رہے۔"
پھر امی جان نے مجھے وہ چھوٹا سا تکیہ نما بستر دیا، کوئی دو سیر وزن ہوگا، کہنے لگیں :
"اس کی حفاظت کرنا۔ بالخصوص اس کے اندر جو قرآن کریم ہے ، اسے حرز جاں بنا کر رکھنا۔ منزل مقصود پر پہنچ جاؤ ، تو اس کی موجودہ جلد اتار کر نئی بنوا لینا۔ پرانے گتے کو اپنے ہاتھ سے توڑنا اور پھر اسے جلا ڈالنا اور راکھ کسی دریا یا کنویں میں ڈال دینا۔"
مزید تاکید کے طور پر فرمایا :
"دیکھو ، تمہیں کوئی چیز اپنے پیدائشی وطن سے غافل نہ کرے ، ہمدردوں کی ہمدردی فراموش نہ کرنا۔ جو تمہارے خدا کا دشمن اور ملک کا غاصب ہے وہ کبھی تمہارا دوست اور بہی خواہ نہیں ہو سکتا۔ بزدل انسان اپنی منزل مقصود سے محروم رہتا ہے۔ موت ایک بار آئے گی۔ ایمان سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں۔ مرد اپنے قول سے نہیں پھرتے۔ جو شخص ان تین باتوں کو نظرانداز کر دیتا ہے ، اس کا وجود کوڑی کا نہیں رہتا۔"

امی جان دیر تک پند و نصیحت کرتی رہیں۔ کوئی تین سوا تین کا عمل ہوگا ، پچھلے پہر کے سناٹے میں کبھی کبھار کسی مرغ کی بانگ سنائی دیتی۔ چاندنی چٹکی ہوئی تھی ، درختوں کے سائے پھیلتے جا رہے تھے۔ باغیچے سے گزر کر ہم احاطے کی دیوار کے نیچے پہنچے۔ امی جان نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی ، پھر میرے سر پر دست شفقت پھیرا اور کندھے کو تھپکتے ہوئے کہا :
"جاؤ بیٹا ، اللہ تمہارا ساتھی اور مددگار ہے"۔

میں نے ایک آخری نظر اپنے باغ اور گھر پر ڈالی۔ اس باغ میں کتنے ہی پودے میں نے اپنے ہاتھ سے لگائے تھے اور انہیں خون اور پسینے سے سینچا تھا۔ اس گھر میں میں پیدا ہوا ، پلا ، بڑھا اور پروان چڑھا ، وہ گھر جو ہماری صدیوں کی خاندانی روایات کا امین تھا ، جس کے ایک ایک پتھر سے ماضی کی داستانیں اور میرے اپنے بچپن کی یادیں وابستہ تھیں۔ میں نے ٹھنڈی سانس بھری۔ امی جان کو سلام عرض کیا ، دیوار پر چڑھا اور باہر کود گیا۔ ہمارے باغیچے اور بڑی سڑک کے درمیان قبرستان تھا۔ قبرستان میں ہو کا عالم تھا۔ شکستہ قبریں اور اونچے نیچے مٹی کے ڈھیر دیکھ کر ہول سا طاری ہو گیا ، تاہم دل کڑا کر کے قبرستان میں داخل ہوا۔ ہاتھ میں امی جان کا دیا ہوا عطیہ تھا۔ ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ باغیچے میں سے ایک لمبی "ہو" کی آواز آئی۔ فوراً پلٹا اور باغ میں آیا۔ امی جان دیوار کے نیچے بےہوش پڑی تھیں۔ منہ پر پانی چھڑکا ، تو آنکھیں کھول دیں۔ مجھے اپنے پاس دیکھ کر کہا :
"تم واپس کیوں آ گئے؟ اپنی منزل کھوٹی نہ کرو ، ہمارا نگہان وہ قادر و توانا ہے جس کے وجود پر یقین ہر ذی علم کا سرمایۂ زندگی ہے۔"
میں باغ سے نکلا اور نامعلوم منزل کی طرف چل پڑا۔

***

سمرقند و بخارا کی خونیں سرگذشت
از : اعظم ہاشمی
صفحات : 62
پ۔ڈ۔ف فائل سائز : 2.9 ایم۔بی
ڈاؤن لوڈ لنک : Samarkand O Bukhara Ki Khuni Sarguzasht

2011/11/26

نیا ہجری سال 1433 مبارک ہو

نئے ہجری سال 1433 کی آمد آپ سب کو مبارک ہو۔
آج بمطابق عیسوی تقویم ، 26/نومبر 2011 کو سعودی عرب میں یکم محرم الحرام قرار پائی ہے۔

ہر نیا ہجری سال ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم ہجرت کی یاد دلاتا ہے!
وہ ہجرت جس کے باعث اسلام کا غلبہ اور اقتدار ہوا اور جس کی وجہ سے مدینہ منورہ کی پہلی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا ، یہی وہ ہجرت تھی جس کے باعث بدر و حنین اور باقی فتوحات حاصل ہوئیں۔
سفرِ ہجرت ہمیں ان واقعات میں پوشیدہ اسباق پر روشنی ڈالنے اور تجدیدِ عہد کی بھی دعوت دیتا ہے۔ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کا سفرِ ہجرت گوکہ اسلامی تاریخ کا روشن باب ہے تاہم یہ وقت کے ساتھ قید ہے مگر مسلمان کے لیے قیامت تک کے لیے ہجرت کا دروازہ کھلا ہے۔

نیا ہجری سال دعوتِ غور و فکر دے رہا ہے۔ ہم نے اپنی عمر عزیز کا ایک قیمتی سال مکمل کر لیا بلکہ شاید یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ ہماری عمر عزیز کا ایک سال کم ہوا۔
نیا سال دعوتِ محاسبۂ نفس بھی دے رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا ہر گزرنے والا لمحہ اگر ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کر رہا تو دور کرنے کا سبب بن رہا ہے اسلیے کہ انسان وقت کے ہاتھوں محکوم و مجبور ہے۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ہم گذشہ سال کے شب و روز کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ آیا ہم اللہ کے قریب ہوئے ہیں یا گذشتہ سال کے ایام نے ہمیں اللہ تعالیٰ سے مزید دور کر دیا ہے؟
ایک حوالے سے ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے دین نے ہمارے لیے توبہ کا نظام متعارف کروایا ہے۔ سال گذشتہ میں ہوئیں اپنی کوتاہیوں ، نادانیوں اور غلطیوں پر نادم و شرمسار ہو کر آئیے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کریں اور آئیندہ عمل صالح کا عزم کریں ۔۔۔ امید ہے کہ اللہ رب العزت اپنے فضل و کرم سے سابقہ گناہوں کو معاف فرما دے گا بلکہ اپنے خاص لطف و کرم سے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دے گا۔ ان شاءاللہ۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو واقعۂ ہجرت سے صحیح سبق سیکھنے اور غلبۂ دین کی خاطر اللہ کی رضا کے لیے پہلے اپنے اخلاق و کردار کو سنوارنے پھر تبلیغ دین کی سعئ پیہم کی توفیق عطا فرمائے ، آمین یارب العالمین۔

2011/10/16

ڈاکٹر محمد حمید اللہ اور صحیفہ ہمام بن منبہ

ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیدائش: [حیدرآباد دکن] 9 فروری 1908ء ، انتقال : [امریکہ] 17 دسمبر 2002ء) معروف محدث، فقیہ، محقق، قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد حضرت ہمام ابن منبہ کے صحیفے کی دریافت اور اس کی تدوین کا کام ڈاکٹر حمید اللہ کا بہت بڑا کارنامہ تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ فرانسیسی زبان میں ان کے ترجمہ قرآن کی اہمیت بھی مسلم ہے۔

صحیفہ ہمام بن منبہ کے دو مخطوطے ڈاکٹر حمید اللہ کو دستیاب ہوئے تھے، جن میں بال برابر بھی فرق نہ تھا۔ ایک دمشق میں تھا اور دوسرا برلن میں۔ اس صحیفے میں کل 138 احادیث موجود ہیں۔
مولانا عبدالرحمٰن کیلانی (علیہ الرحمۃ) لکھتے ہیں :
صحیفہ ہمام بن منبہ ، جسے ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے حال ہی میں شائع کیا ہے ، یہ ہمام بن منبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں۔ جنہوں نے یہ صحیفہ (جس میں 138 حدیثیں درج ہیں) لکھ کر اپنے استاد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (وفات:58ھ) پر پیش کر کے اس کی تصحیح و تصویب کرائی تھی۔ گویا یہ صحیفہ سن 58 ھجری سے بہرحال پہلے ہی ضبط تحریر میں لایا گیا تھا۔ اس کی ایک قلمی نسخہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے سن 1933 عیسوی میں برلن کی کسی لائیبریری سے ڈھونڈ نکالا۔ اور دوسرا مخطوطہ دمشق کی کسی لائیبریری سے۔ پھر ان دونوں نسخوں کا تقابل کر کے 1955ء میں حیدرآباد دکن سے شائع کیا۔ اور جہاں کہیں الفاظ کا اختلاف ہے ، اسے بھی واضح کر دیا۔
ہمیں یہ دیکھ کر کمال حیرت ہوتی ہے کہ یہ صحیفہ پورے کا پورا مسند احمد بن حنبل میں مندرج ہے۔ اور بعینہ اسی طرح درج ہے جس طرح قلمی نسخوں میں ہے ماسوائے چند لفظی اختلافات کے ، جن کا ذکر ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے کر دیا ہے۔ لیکن جہاں تک زبانی روایات کی وجہ سے معنوی تحریف کے امکان کا تعلق ہے ، اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اب دیکھئے امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ) کا سن 240 ھجری ہے۔ بعینہ صحیفہ مذکور اور مسند احمد بن حنبل میں تقریباً 200 سال کا عرصہ حائل ہے۔ اور دو سو سال کے عرصے میں صحیفہ ہمام بن منبہ کی روایات زیادہ تر زبانی روایات کے ذریعے ہی امام موصوف تک منتقل ہوتی رہیں۔ اب دونوں تحریروں میں کمال یکسانیت کا ہونا کیا اس بات کا واضح ثبوت نہیں کہ زبانی روایات کا سلسلہ مکمل طور پر قابل اعتماد تھا۔
صحیفہ کی اشاعت اور تقابل کے بعد دو باتوں میں ایک بات بہرحال تسلیم کرنا پڑتی ہے :
1 : زبانی روایات ، خواہ ان پر دو سو سال گزر چکے ہوں ، قابل اعتماد ہو سکتی ہیں۔
2 : یہ کہ کتابتِ حدیث کا سلسلہ کسی بھی وقت منقطع نہیں ہوا۔
(بحوالہ : آئینۂ پرویزیت ، ص:533-534)

جامعہ الازہر کے معروف عالم ڈاکٹر رفعت فوزی عبدالمطلب اس مطبوعہ صحیفے کی تحقیق ، تخریج اور شرح کا کام کر رہے تھے اور وہ آدھا کام مکمل کر چکے تھے ، حسن اتفاق ایسا ہوا کہ "دارالکتب المصریہ" سے ایک اور مخطوطہ ان کے ہاتھ لگ گیا جو سن 557 ھجری کا مکتوب تھا۔
اس مخطوطے میں ان دونوں کے مقابلے میں ایک حدیث زائد ہے اور یہ زائد حدیث مسند احمد میں شامل صحیفے کی احادیث میں بھی موجود ہے۔ اب ڈاکٹر رفعت فوزی نے اسی مصری مخطوطے کو بنیاد بنا کر کام مکمل کیا۔ اسے "المکتبہ الخانجی" نے پہلی مرتبہ ستمبر 1985ء (بمطابق محرم الحرام 1406ھ) میں قاہرہ سے شائع کیا۔

صحیفہ ہمام بن منبہ کی 139 احادیث کی تفصیل کچھ یوں ہے :
61 - عقائد و ایمانیات
46 - عبادات
9 - معاملات
17 - اخلاقیات
9 - متفرقات
12 - احادیث قدسیہ

***
صحیفہ ہمام بن منبہ (عربی) ، ویکی سورس پر : الصحيفة الصحيحة - همام بن منبه
///
عربی پی۔ڈی۔ایف (12 میگابائٹس) ، المحقق: رفعت فوزي عبد المطلب - ڈاؤن لوڈ
///
صحیفہ ہمام بن منبہ (اردو ترجمہ) ، کتاب و سنت لائیبریری پر : ۔۔۔۔۔۔۔
اردو ترجمہ و شرح : حافظ عبداللہ شمیم
صفحات : 490
پی۔ڈی۔ایف فائل سائز : قریب 11 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ لنک : صحیفہ ہمام بن منبہ

2011/10/14

غرورِ زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو ۔۔۔۔

ابھی کچھ دن پہلے ایمیل سے کسی کا ایک سوال یوں موصول ہوا کہ :
کیا امر بالمعروف و نھی عن المنکر کا فریضہ ہر مسلمان پر لاگو ہوتا ہے؟ اور اگر ہاں تو اس کے شرعی آداب و شرائط کیا ہیں؟

اس موضوع پر ہر چند کہ ایک طویل عرصہ سے راقم الحروف نے مراسلات تحریر کئے ہیں۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں :

نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنے کا فرض
بےشک یہ بات درست نہیں کہ خود سراسر بےعمل ہو کر دوسروں کو نصیحتیں کرتے جائیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" کا فریضہ اسلیے چھوڑ دیا جائے کہ خود ہم "بےعمل" ہیں۔
امام ابوبکر الرازی الجصاص علیہ الرحمة فرماتے ہیں : ۔۔۔ جو شخص تمام نیکیاں بجا نہیں لا سکتا ، اور تمام برائیوں سے اجتناب نہیں کر سکتا ، اس پر سے بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا واجب ساقط نہیں ہوتا۔
کیا عالم بےعمل کو تبلیغ کا حق حاصل نہیں ہے؟
حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) نے مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) سے کہا: "اپنے ساتھیوں کو نصیحت کیجئے"۔
مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) نے جواباً کہا : "میں ڈرتا ہوں کہ وہ بات کہہ نہ دوں جس کو میں خود نہیں کرتا"۔
یہ سن کر حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) کہنے لگے : "اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔ ہم میں کون ایسا ہے جو وہ (سب کچھ) کرتا ہے ، جو وہ کہتا ہے؟ شیطان اسی بات کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، (تاکہ) پھر کوئی نیکی کا حکم نہ دے اور نہ ہی برائی سے روکے"۔
جب بھی قرآن و سنت کے حوالے سے کوئی اچھی بات کہی جاتی ہے تو لوگ اس کا رخ بدل کر پاکستان یا عالَمِ اسلام کے مسلمانوں کی دگرگوں حالاتِ زار کی طرف موڑ دیتے ہیں یا پھر کہنے والے کی دیگر برائیوں کا اظہار شروع کر دیتے ہیں تاکہ قاری یا سامع کا ذہن بٹ جائے۔۔
اب یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس طرح کے طرزِ عمل کا حقیقی سبب کیا ہے؟
ویسے کسی نے یہ بات شاید بہت اچھی اور معقول کہی ہو کہ ۔۔۔۔
جو لوگ افراد ، ممالک یا گروہ و طبقہ جات کی انفرادی برائیوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں اور ان برائیوں کا برسرعام اظہار کر کے ان کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ تبلیغ دین کے اہم فریضے کو پورا کر رہے ہیں ۔۔۔ تو دراصل وہ تبلیغ کے پردے میں اپنے انتقامی جذبے کو تسکین پہنچانا چاہتے ہیں۔
ورنہ تو اسوۂ حسنہ سے ایسی تعلیمات ہمیں کہیں نہیں ملتیں کہ "نھی عن المنکر" کے بہانے کرید کرید کر مخالفین کی کمزوریاں تلاش کی جائیں اور انہیں اس حوالے سے ذاتی طور پر رسوا کیا جائے۔
ہر ناقص بات جو ذہن میں آئے ، ہر منفی سوچ جس پر نفس اکسائے ، ہر برا رویہ جو مشتعل کرے ۔۔۔۔ ضروری نہیں ہے کہ اسے بیان بھی کیا جائے چاہے "نھی عن المنکر" کے نام پر یا چاہے مظلومیت کے ناتے سہی۔
اگر ہر خرابی بیان کرنے والی ہوتی تو خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اللہ عز و جل کی طرف سے اُس وقت ٹوکا نہ جاتا (آل عمران : 128) جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کفار پر لعنت کر رہے تھے۔ جب کفار پر لعنت کرنے سے رب عظیم نے منع کیا تو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ ہم کیسے مسلمان ہیں کہ اپنے ہی بھائی کا گوشت نوچنے سے باز نہیں آتے!

ان تمام کاموں سے بہتر کام تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سنت ہے جو واشگاف الفاظ میں یوں بیان ہوئی ہے :
من ستر مسلما ستره الله في الدنيا والآخرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه
جو شخص کسی مسلم پر پردہ ڈالے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں پردہ ڈالے گا اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں (رہتا) ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں (رہتا) ہے۔
صحیح مسلم ، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ

نیتوں کا اخلاص صرف یہ نہیں ہوتا کہ قرآن و سنت کی باتیں زبانی کلامی قلمی کہہ دی جائیں یا آگے فارورڈ کر دی جائیں یا ایمیل سرکلر بھیج دیا جائے یا بلک ایس۔ایم۔ایس سے استفادہ کر لیا جائے ۔۔۔ بلکہ کم از کم تحریر کی حد تک عمل بھی یوں ہو کہ کسی لفظ / فقرے سے کسی پڑھنے والے کا دل نہ دکھے اور وہ یہ نہ سمجھے کہ بھری محفل میں اشارے کنایے سے اس کو مذاق کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

صحیح بخاری سے ایک سبق آموز واقعہ پڑھئے۔ ہرچند کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی طور پر شرابیوں پر لعنت بھیجی ہے۔ لیکن جب ۔۔۔۔۔۔
ایک شرابی کو کئی بار پکڑ کر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سامنے لایا گیا تو ایک شخص بالآخر بول اٹھا کہ :
اس پر اللہ کی لعنت کہ بار بار پکڑ کر دربارِ رسالت میں پیش کیا جاتا ہے ۔
رسولِ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ سنتے ہی فرمایا :
اسے لعنت نہ کرو۔ کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت کرتا ہے۔

اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) تو "ام الخبائث" کے شکار فرد کو اس کی برائی کے باوجود اسے ملعون کہنے سے منع فرماتے ہیں اور ایک ادھر ہم ہیں کہ معمولی معمولی سی ذاتی رنجشوں یا کچھ مسلکی نظریاتی اختلافات کے سہارے ایک دوسرے کی بےمحابا توہین و تضحیک سے باز نہیں آتے۔

ملت کا درد رکھنے والے علامہ اقبال نے شاید ایسے ہی واعظ و مبلغ کے لیے فرمایا تھا کہ :
کوئی یہ پوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہے
جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے
غرور زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو
کہ بندگان خدا پر زباں دراز کرے

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اعلیٰ ظرفی ، کشادہ دلی اور وسیع الذہنی عطا فرمائے اور قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات کے علم و عمل سے نوازے ، آمین۔