2010/01/15

13 جنوری 1948ء - پاکستان کا مقصد کیا ۔۔۔ سیکولرزم یا اسلام ؟

پاکستان کا مطلب کیا
لا الٰه الا الله
یہ وہ نعرہ ہے جس نے قیامِ پاکستان کی تحریک کے دوران مسلمانوں میں جوش و خروش پیدا کیا تھا ۔

بانئ پاکستان محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان سے پہلے اور اس کے بعد بھی متعدد مواقع پر قیامِ پاکستان کے مقاصد کو نہایت واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بیان کیا ہے ۔
13۔ جنوری 1948ء کو اسلامیہ کالج ، پشاور کے جلسہ میں حصولِ پاکستان کا مقصد بیان کرتے ہوئے قائد پاکستان نے فرمایا تھا :
ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں ۔

we did not demanded Pakistan just for the sake of a piece of land. Instead, we wanted to obtain such a laboratory, where we can adopt the Principles of Islam.
Ref.: Link

آج اگر پاکستانی ذرائع ابلاغ میں سیکولرزم کی تازہ لہر چل نکلی ہے تو اس کے پسِ پشت عالمی منصوبہ بندی کا شبہ بھی ناممکن نہیں ۔ اور اس قسم کی منصوبہ بندی کا اہم ترین ہدف یہ ہے کہ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں اسلامی تحریکوں کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے ۔
بے شک پاکستان میں صحافت کو اور صحافیوں کو آزادئ رائے کی سہولت حاصل ہے ۔ اسی سبب اگر ... پاکستان کے سیکولر مزاج صحافی دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنے مضامین میں پاکستان کی نظریاتی اساس پر حملہ کرتے ہیں تو اس پر غصہ یا ناراضگی کا جذباتی اور غیر ضروری اظہار مناسب عمل نہیں ۔ بلکہ ایسے مواقع پر ہونا تو یہ چاہئے کہ وہ صحافتی طبقہ بھی کھل کر سامنے آئے جس کے نزدیک نظریۂ پاکستان کا دوسرا نام اسلام ہے ۔

* نظریۂ پاکستان . .. یعنی پاکستان آئیڈیالوجی کی اصطلاح کب اور کس سوچ کے تحت استعمال کی گئی ؟
* کیا پاکستان کا مطالبہ حقیقت میں محض زمین کے ایک ٹکڑے کے حصول کی خاطر کیا گیا تھا ؟
* جس ریاست کے دستور کے پیشِ نظر شریعتِ اسلامی رہی ہو کیا اس ریاست کو سیکولر ریاست کا درجہ دیا جا سکتا ہے ؟
* کیا قائد پاکستان نے نظریۂ پاکستان کا نعرہ کبھی استعمال ہی نہیں کیا تھا ؟
* کیا یہ حقیقت ہے کہ نظریۂ پاکستان کی اصطلاح جماعتِ اسلامی کی قائم کردہ ہے ؟

اِن تمام سوالات کے جوابات سے نئی نسل کو واقف کرانے کی خاطر آج یہ امر ضروری ہو گیا ہے کہ تاریخِ قیامِ پاکستان کے گمشدہ اوراق کو تلاش کیا جائے ۔

نظریۂ پاکستان یا پاکستان آئیڈیالوجی یا پاک آئیڈیالوجی کی اصطلاح ... سب سے پہلے لفظ "پاکستان" کے خالق چودھری رحمت علی نے 1934ء میں استعمال کی تھی ۔ ان کے اپنے الفاظ یوں ہیں :
The effect of Pak-Ideology on the myth of Indian unity has been devastating. It has destroyed the cult of uni-nationalism and uni-territorialism of India and created instead the creed of the multi-nationalism and multi-territorialism of "Dinia" (South Asia).
ہندوستانی وحدت کے موہوم راز پر پاک آئیڈیالوجی کے بہت تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ۔ اس نے وحدانی علاقائیت ، وحدانی قومیت کے عمومی تصور کو ختم کر دیا اور اس کے بجائے کثیر القومیت اور کثیر علاقائیت یعنی دینیہ (جنوبی ایشیا) کے تصور کو پروان چڑھایا ۔
Ref.: Pakistan - The Father Land of the Pak Nation. By: Ch. Rehmat Ali, P:205

نظریۂ پاکستان کا تعلق یقینی طور پر تحریکِ پاکستان سے مربوط ہے ۔ خود قائد پاکستان نے بھی نظریۂ پاکستان کے الفاظ اپنی تقریروں میں ارشاد فرمائے تھے ۔

It is by our own dint of arduous and sustained efforts that we can create strength and support our people not only to achieve our freedom and independance but to be able to maintain it and live according to Islamic ideals and principles.
Pakistan not only means freedom and independance but the Muslim Ideology which has to be preserved, which has come to us as a precious gift and treasure and which we hope other will share with us.

ہم اپنی سخت اور پیہم جدوجہد کے ذریعے قوت بہم پہنچا سکتے ہیں ، ہم نہ صرف آزادی کے حصول کے لیے اپنے لوگوں کی معاونت کر سکتے ہیں ، بلکہ ہم انہیں اس قابل بھی بنا سکتے ہیں کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اسلامی آدرش اور اصولوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کر سکیں ۔
پاکستان کا مطلب محض آزادی نہیں ہے ، اس کا مطلب مسلم آئیڈیالوجی بھی ہے جس کا تحفظ کیا جانا باقی ہے ، جو ہم تک ایک قیمتی تحفے اور خزانے کے طور پر پہنچا ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دوسری (اقوام) بھی اس میں حصہ دار بن سکتی ہے ۔
Ref.: Some recent speeches and writing of Mr.Jinnah. Published By: Sh. Muhammad Ashraf, Lahore, 1947. Page:89.
اسلام دشمن طبقہ نے جب قائد پاکستان کی ایک تقریر کا من چاہا مفہوم اخذ کرتے ہوئے یہ منفی پروپیگنڈا شروع کیا تھا کہ پاکستان کا دستور اسلامی شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا ... تب قائد پاکستان نے بھرپور انداز میں اس شرانگیزی کی مذمت کی تھی ۔
25۔ جنوری 1948ء کو کراچی بار اسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے قائد پاکستان نے فرمایا تھا :
میں ان لوگوں کی بات نہیں سمجھ سکتا ، جو دیدہ و دانستہ اور شرارت سے پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا ۔ اسلام کے اصول عام زندگی میں آج بھی اسی طرح قابل اطلاق ہیں ، جس طرح تیرہ سو سال پہلے تھے ۔
میں ایسے لوگوں کو جو بدقسمتی سے گمراہ ہو چکے ہیں ، یہ صاف صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ یہاں غیر مسلمانوں کو بھی کوئی خوف نہیں ہونا چاہئے ۔
Why this feeling of nervousness that the future constitution of Pakistan is going to be in conflict with Shariat Laws? Islamic principles today are as applicable to life as they were 1,300 years ago.
I would like to tell those who are misled by propaganda that not only the Muslims but Non Muslims have nothing to fear.
Ref. : Link1 / Link2


علاوہ ازیں قائد پاکستان نے 4۔ فبروری 1948ء کو سبی میں خطاب کے دوران یہ واضح ترین الفاظ بھی ارشاد فرمائے :
میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ حیات پر ہے جو ہمارے عظیم واضعِ قانون پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے قائم کر رکھا ہے ۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اسلامی اصولوں اور تصورات پر رکھنی چاہئیں ۔ اسلام کا سبق یہ ہے کہ مملکت کے امور و مسائل کے بارے میں یہ فیصلے باہمی بحث و تمحیص اور مشوروں سے کیا کرو
It is my belief that our salvation lies in following the golden rules of conduct set for us by ou great law-giver, the Holy Prophet of Islam (peace be upon him). Let us lay the foundation of our democracy on the basis of truly Islamic ideals and principles. Our Almighty has taught us that "our decisions in the affairs of the State shall be guided by discussions and consultations".
Tribal Politics in Baluchistan - Ch.-III:Tribal attitude towards Pakistan, P:56


پسِ نوشت :
کچھ سال قبل یہ تحریر ایک ویب سائیٹ پر میں نے لگائی تھی جو اب بند ہو چکی ہے۔ پھر یہی اقتباسات اردو مجلس فورم پر یہاں پیش کئے تھے۔ اور اب ابوشامل کی اس تحریر : قائد اعظم – ایک سیکولر رہنما؟ سے متاثر ہو کر اس بلاگ پر بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔

2009/12/27

I love you

بڑا عجیب زمانہ آ گیا ہے۔ زندگی خاصی تیز رفتار ہو گئی ہے۔
ایک طرف نوجوان نسل مغربی تہذیب ، مغربی رسم و رواج سے متاثر ہو رہی ہے تو دوسری طرف جب متنازعہ کارٹون شائع ہوتے ہیں تو ہنگامہ مچ جاتا ہے ، جگہ جگہ مظاہرے کئے جاتے ہیں۔ نوجوان اسلام کی طرف لوٹنا بھی چاہتے ہیں اور وہ آزادی بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے لالچ کا لالی پاپ مغربی تہذیب دکھا رہی ہے۔

I love you
نہایت عام سا محاورہ بن چکا ہے۔ مگر کیا یہ "محبت" ہے؟؟
نہیں۔ یہ تو نوعمری ، نوجوانی کا محض ایک جذباتی لگاؤ ہے۔ جو انسانی نفسیات کے مطابق عمر کے ایک مخصوص عرصہ میں دل و دماغ پر چھا جاتا ہے۔
ایسے ہی مواقع پر نوجوان نوعمر نسل کو ناصحانہ ہمدردی کی ضرورت لاحق ہوتی ہے۔ مگر یہ بات وہ کسی سے نہیں کہتے۔ اپنے والدین سے بھی نہیں!
ہم میں سے کتنے ہیں جو یہ بات خود سمجھتے ہوں اور آگے بڑھ کر اپنی نسل کو ٹوٹنے بکھرنے سے بچاتے ہوں ۔۔۔۔۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو ایسا سوچتے ہیں ؟؟!!

ہمارے دوست رفی صاحب کہتے ہیں :
ہمارے ہاں قرآن و سنت میں کسی بھی معاشرتی پہلو بشمول جنسی امور پر بات کرنے سے ہچکچاہٹ نہیں کی گئی تو پھر کیا وجہ ہے کہ والدین و اساتذہ نئی نسل کو اس کے بارے میں بتانے سے نہ صرف گریز کرتے ہیں بلکہ شروع سے ہی ان کے ذہنوں میں بھر دیا جاتا ہے کہ یہ ایک ناپاک فعل ہے جس پر بات کرنا انتہائی معیوب ہے نتیجتاً معصوم بچے اور بچیاں حیوانیت کا شکار ہو کر بھی اپنے اوپر ہونے والے ظلم و زیادتی کی فریاد اپنے گھروالوں تک نہیں کر پاتے۔

جنس (سیکس) انسانی زندگی کی ایک ناگزیر اور اہم حقیقت ہے، اسے ہوّا سمجھنا ایک فاش غلطی ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں آج تک اسے وہ مقام حاصل نہ ہو سکا جو اس کا حق تھا ، وہ اہمیت نہ مل سکی جو اسے ملنی چاہئے تھی۔

درحقیقت جنس کا راز ، زندگی اور افزائش نسل کا راز ہے جسے صحت مند طریقے سے سمجھنے اور معلومات حاصل کرنے میں ہماری فلاح و بہبود مضمر ہے۔
نیٹ کی تیز رفتار زندگی کے باوجود آج بھی صحت مند اور مفید جنسی معلومات کے دروازے بند ہیں, خصوصاً ہماری زبان اردو میں۔ جو کچھ انگلیوں کی ٹپ پر گوگلنگ سے سامنے آتا ہے وہ مہذب و مفید معلومات نہیں بلکہ بیشتر اوقات فحاشی کی ترغیب پر مشتمل مواد ہوتا ہے۔ دوسری طرف ۔۔۔۔ والدین خاموش ، اسکول اور کالج کے اساتذہ چپ ، مذہبی پیشوائیان منہ بند کئے ہوئے ۔۔۔۔
لے دے کے کوئی ہمت بھی کرتا ہے تو وہ بھی صرف بےتکلف دوستوں کی محفل میں سرگوشی کی حد تک۔ اور یہ کون "دوست" ہیں؟ وہ خود بھی اس گھٹے ہوئے ماحول کے تربیت یافتہ ہیں جو "جنس" کا واضح ، صحت مند اور اَپ ڈیٹیڈ تصور نہیں رکھتے بلکہ صدیوں سے چلے آ رہے غلط تصورات ، نظریات اور توہمات کو "جنسی علم" سمجھتے رہے ہیں۔

اور بڑے مزے کی بات تو یہ ہے کہ جب نونہالانِ قوم پڑھ کر جوان ہوتے ہیں تو ان سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ اسکول اور کالج کے امتحانات کی طرح ازدواجی زندگی میں بھی کامیابی کا ثبوت دیں گے۔

اگر انسانوں کو اپنے جبلی تقاضوں اور فطری خواہشات کی تکمیل کے لیے علم و فن کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا زندگی کے دیگر تقاضوں کی طرح جنس بھی ایک تقاضا نہیں ہے؟ کیا اس تقاضے کی موثر تکمیل کے لیے علم کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں کہ ہم اس معاملے میں علم کی ضرورت کو نظرانداز کر دیں کہ افزائش نسل میں تو جانور بھی مصروف ہیں اور وہ اس کا کوئی علم حاصل نہیں کیا کرتے!

اولاد کے جوان ہوتے وقت جنسی تبدیلیوں/تقاضوں کو مذہب و تہذیب کے دائرے میں رہ کر انہیں سمجھانا اور اس علم کے سہارے انہیں اپنے جسمانی و ذہنی تحفظ کا خیال دلانا ، والدین اور سرپرستوں کا یقینی فرض بنتا ہے۔

ہمارے سماج نے جنسی مسائل سے متعلق نئی نسل میں صحیح شعور پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ، جس پر نوجوان نسل کی شخصیت کی تعمیر کا انحصار ہے۔ جنسی جبلت کو اتنی اہمیت بھی نہیں دی گئی جس کی عقلِ سلیم متقاضی ہے بلکہ اسے غیرفطری میلان سمجھ کر دبایا گیا یا پھر موسمی چیز سمجھ کر سرپرستوں / والدین نے نوجوانوں کو اس "موسمی چیز" کے چکھنے سے باز رکھا۔
نتیجہ ؟
ظاہر ہے کہ ان کوتاہیوں/نادانیوں کے سبب سلگتے شباب بھڑک اٹھے اور دہکتی جوانیاں اپنی ہی آگ میں جل کر ڈھیر ہو گئیں اور خاکستر میں بسی کچھ چنگاریاں نفسی امراض کے چنگل میں دم توڑ رہی ہیں۔

2009/12/26

ہجرت کا سبق - ' امید '

ہجرت کے تمام واقعات کا سب سے بڑا سبق "امید" ہے۔
امت ، جو مایوسیوں کے اندھیروں میں ٹھوکریں کھا رہی ہے اس کے لیے ہجرت کا واقعہ "امید کی نئی کرن" دکھاتا ہے۔

چشم فلک نے وہ وقت دیکھا ہے جب اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنی محبوب سرزمین چھوڑنی پڑی۔ نعیم صدیقی اپنی معروف تصنیف "محسنِ انسانیت" میں واقعہ کی عکاسی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
آج مکہ کے پیکر سے اس کی روح نکل گئی تھی۔ آج اس چمن کے پھولوں سے خوشبو اڑی جا رہی تھی، آج یہ چشمہ سوکھ رہا تھا، آج اس کے اندر سے بااصول اور صاحبِ کردار ہستیوں کا آخری قافلہ روانہ ہو رہا تھا۔ دعوتِ حق کا پودا مکہ کی سرزمین سے اُگا لیکن اس کے پھلوں سے دامن بھرنا مکہ والوں کے نصیب میں نہ تھا ، پھر مدینہ والوں کے حصے میں آئے۔ آج دنیا کا سب سے بڑا محسن و خیرخواہ (صلی اللہ علیہ وسلم) بغیر کسی قصور کے بےگھر ہو رہا ہے۔ کلیجہ کٹا ہوگا، آنکھیں ڈبڈبائی ہوں گی، جذبات امڈے ہوں گے مگر خدا کی رضا اور زندگی کا مشن چونکہ اس قربانی کا بھی طالب ہوا، اس لیے انسانِ کامل نے یہ قربانی بھی دے دی۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مکہ کے پہاڑوں ، گلیوں اور وادیوں پر آخری نگاہ ڈالی ، یہی وہ گلیاں، یہی وہ پہاڑ اور وادیاں ہیں جہاں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بچپن گزرا، جہاں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) جوان ہوئے۔ الوداعی نگاہ ڈالتے ہوئے مکہ سے خطاب فرمایا :
خدا کی قسم ! تو اللہ کی سب سے بہتر زمین ہے اور اللہ کی نگاہ میں سب سے بڑھ کر محبوب ہے۔ اگر یہاں سے مجھے نہ نکالا جاتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔
(ترمذی ، مسند احمد)

اللہ تعالیٰ کی رضا اور مشن کی تکمیل کے لیے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ قربانی بھی دینی پڑی مگر رہتی دنیا تک امت کے لیے ہجرت کا راستہ کھلا چھوڑا۔
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے فرمان کا مفہوم ہے :
ہجرت کا دروازہ اس وقت تک کھلا رہے گا جب تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور توبہ کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہوگا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۔
(ابوداؤد)
گویا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہجرت کو "تزکیہ" کا ہم معنی قرار دیا ہے۔

ایک اور جگہ پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہجرت کے حقیقی مفہوم کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
حقیقی ہجرت کرنے والا وہ ہے جس نے ان امور سے ہجرت کی (یعنی: ترک کیا) جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
(مسند احمد)

ہجرت کے ایک ایک واقعے میں "امید" کا سبق دہرایا جاتا ہے۔ مایوسیوں کے گرداب میں ڈوبتی اس امت کے دلوں میں امید کے جوت جگانے کی ضرورت ہے کہ ۔۔۔ کس طرح گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نور کی کرن پھوٹتی ہے ، شر کے قلب سے خیر کا پہلو نکلتا ہے اور غموں کے بطن سے خوشی پیدا ہوتی ہے؟
تاریخ کا وہ کون سا دَور ہے جس میں امت کو امتحانوں سے گزارا نہ گیا ہو؟
آج ایک مرتبہ پھر امید کا سبق دہرایا جانا ہے !!
زمینی حقائق کا کہنا ہے کہ چاروں طرف موت منڈلا رہی ہے مگر آسمانی حقیقت کہتی ہے کہ جو اللہ پر بھروسہ کرے گا وہی اس کے لیے کافی ہوگا۔
آج امت چہار سو خطرات کی زد میں ہے۔ امت کے افراد میں سے جو دین پر عمل پیرا ہیں ان کا حال اس شخص سے مختلف نہیں جس نے انگارہ مٹھی میں اٹھا رکھا ہو۔

اس امت کو شروع دن سے سمجھایا گیا ہے کہ ۔۔۔۔۔
تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے، بےشک تنگی کے بعد فراخی بھی ہے۔
(الم نشرح : 5-6)
اس امت کے دین میں مایوسی کفر ہے ۔۔۔
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، اللہ کی رحمت سے مایوس کافر ہی ہوا کرتے ہیں۔
(یوسف : 87)

اللہ کی رحمت ایک مرتبہ پھر ہماری طرف متوجہ ہوگی ، یقیناً اللہ کی رحمت ہم سے قریب ہے۔
ہجرت کا بھولا ہوا سبق ہمیں یاد دلا رہا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔
تاریکی کے بعد روشنی ہے ،
اندھیرا چھٹنے والا ہے اور
مومنین صادقین صبح صادق کو دیکھ کر خوش ہوں گے۔

یہی ہجرت کا سبق ہے !!


(ماخوذ از مضمون : نظر حجازی)

2009/12/19

لایعنی باتیں اور ہمارا رویہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ لایعنی (غیر مفید) چیز کو ترک کر دے۔

اس ارشادِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو پڑھنے کے بعد خیال ہوتا ہے کہ یہ کون سی خاص ضرورت کی بات ہے ، نہ اس میں کسی ثواب کا ذکر ہے نہ عذاب کا وعدہ اور نہ ہی کسی کام کا حکم ہے۔
لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں یہی خوبی ہے کہ بڑے بڑے مہلک امراض کا علاج نہایت معمولی باتوں میں کر دیتے ہیں۔
یہ بظاہر معمولی بات ہے لیکن اس کو بجا لانے میں جو منافع ہیں اور ترک میں جو نقصان ہیں ان کو معلوم کر کے اس کی ضرورت و اہمیت واضح ہوگی۔
اس تعلیم سے بڑی غفلت ہے اور عوام و خواص سب کو ہے۔ گناہ سے تو سب کو ندامت ہوتی ہے لیکن "لایعنی امور" کا ارتکاب کر کے کسی کو ندامت نہیں ہوتی۔ چنانچہ غیبت کر کے پچھتاوا ہوتا ہے مگر ہنسی دل لگی کر کے کوئی نہیں پچھتاتا کہ اے اللہ ! میں نے فضول وقت ضائع کیا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
کثرتِ کلام دل کو سخت کر دیتا ہے اور زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ "لایعنی باتوں" سے دل مردہ ہو جاتا ہے اور نور جاتا رہتا ہے۔ نورِ قلب زائل ہونے سے طاعت کا شوق کم ہوتا ہے اور ہمت میں پستی آ جاتی ہے۔ اور جہاں شوق و ہمت میں کمی آئی وہیں گناہ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کیونکہ گناہوں سے بچنے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے : ایک شوق و محبت دوسرے ہمت۔

آخر کچھ تو وجہ ہے کہ ہمارے ہاں عمل میں بہت کوتاہی ہے۔ نمازیں بھی پڑھتے ہیں ، وضو بھی کرتے ہیں لیکن گناہ بھی کثرت سے کرتے ہیں۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ نماز اور وضو سے قلب میں جو نور پیدا ہوتا ہے وہ "لایعنی امور" سے زائل ہو جاتا ہے۔

اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کبھی کبھی "لایعنی امور" بھی ضروری ہو جاتے ہیں۔
مثلاَ : حدیث میں ہے کہ جب نماز پڑھتے پڑھتے نیند آنے لگے تو سو جاؤ۔
مثلاَ : امام غزالی (علیہ الرحمة) نے لکھا ہے کہ جب ذکر سے دل اکتا جائے تو ذاکر پر تھوڑی دیر ہنسنا بولنا واجب ہے۔

مختصر یہ کہ ہر پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے اس حدیث پر عمل کیا جائے تو دل میں ایسا نور اور اطمینان رہے گا کہ اس دولت کے سامنے سلطنت بھی ہیچ معلوم ہو جائے گی کیونکہ اصل راحت اسی کا نام ہے کہ دل کو چین و سکون ہو !!


(مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمة کے مضمون سے مفید اقتباس)

2009/12/11

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن ۔۔۔

25 نومبر 2009ء کو جدہ میں ہونے والی طوفانی بارش نے جہاں جدہ (سعودی عرب) کے شہریوں کو بے شمار غم اور دردناک سانحوں سے دوچار کیا ہے وہیں انسانیت نواز واقعات نے تمام فرزندانِ اسلام خصوصاً پاکستانی کمیونٹی کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
32 سالہ پاکستانی نوجوان فرمان علی خان نے 14 افراد کی جان بچا کر 15 ویں شخص کو بچاتے ہوئے موت کو گلے لگا لیا۔
انا للہ وانا الیہ راجعون

سعودی عرب کے اخبارات نے فرمان علی خان کی جراتمندانہ شہادت کو بہترین الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ جدہ کے شہری اس کی ہمت، انسانیت نوازی اور ایثار کے جذبے کا تذکرہ بڑے فخر و ناز اور انتہائی ممنونیت سے کر رہے ہیں۔
فرمان علی خان کے بڑے بھائی رحمٰن علی خان نے الحیاۃ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنے بھائی کی موت کا دکھ بےشک ہے لیکن جس انداز سے اس نے جامِ شہادت نوش کیا اس پر ہم سب پہلے تو رب کریم کے حضور سجدہ شکر ادا کرتے ہیں اور پھر بھائی کے کارنامے پر نازاں بھی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کے فرمان علی خان کراٹے کا چیمپیئن تھا۔اس نے جدہ میں آنے والے تاریخی سیلاب سے ٹکر لینے کی کوشش کی اور سیلاب کے جبڑوں سے 14 افراد کو نکالنے میں کامیاب ہوا، تاہم سیلاب نے اسے آخرت کے سفر پر روانہ کر دیا۔
یونیورسٹی گریجوایٹ فرمان علی دیگر رضاکارانہ سرگرمیوں کی توصیفی اسناد سے بھی اپنے سینے کو سجائے ہوئے تھا۔ ابھی وہ 16 برس کا ہی تھا کہ اس نے ایک آتشزدہ مکان میں داخل ہو کر گیس سیلنڈر نکال کر پورے محلے کو خوفناک المیے سے بچا لیا تھا۔ فرمان علی 6 برس قبل مملکت آیا تھا، اس کی تین بیٹیاں، زبیدہ (7 برس)، مدیحہ (6) برس اور جریرہ (4 برس) ہیں۔ 6 سالہ قیام کے دوران صرف دو مرتبہ ہی پاکستان گیا تھا اور سب سے چھوٹی بیٹی کو دیکھ بھی نہیں پایا تھا۔

اللہ اسے جنت الفردوس میں اعلٰی مقام سے سرفراز کرے۔ آمین !

فرمان علی کو جمعرات 10-ڈسمبر-2009ء کی دوپہر ان کے آبائی علاقے سوات میں سپردخاک کر دیا گیا۔

اس موقع پر فرمان علی کے بھائی محمد عزیز اور ان کے والد عمررحمان نے بتایا کہ خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ کی جانب سے بھی ہمارے بھائی کے کارہائے نمایاں پر انہیں تعریفی سند سے بھی نوازا گیا ہے۔

دریں اثنا فیس بک پر سعودی نوجوانوں نے متعلقہ سعودی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فرمان علی کے خاندان کو مالی امداد فراہم کی جائے اور جدہ کی ایک سڑک کو اس کے نام سے موسوم کیا جانا چاہئے۔

(خبر بشکریہ : اردو نیوز ، سعودی عرب)

ہمارے دوست رفی بھائی نے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بالکل بجا فرمایا ہے کہ :
جہاں یہ واقعہ اسلام میں انسانیت کی قدروں میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے وہیں پاکستان میں ہونے والے آئے روز کے خودکش دھماکوں نے پاکستان اور اسلام کو سرنگوں کرنے کی مکروہ سازش جاری رکھی ہوئی ہے۔
اللہ سب مسلمانوں کو ایسا جذبہ عطا کرے کہ مشرق سے مغرب تک کہیں بھی نہ صرف مسلمان بلکہ کوئی بھی انسان دکھ درد میں مبتلا ہو تو ان کی مدد اپنی جان پر کھیل کر کی جائے نہ کہ مساجد میں مشغولِ عبادت افراد کی جانیں لے کر اسلام کو بدنام کیا جائے!