2012/09/22

اسلام مخالف فلم - شر کے پہلو سے خیر

I protest against disrespect of our beloved prophet Mohammad s.a.w
اس واقعہ کے نتیجے میں خود اہل مغرب کی توجہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حالات معلوم کرنے کی طرف ہو گئی ہے۔ وہ سیرت النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی کتابوں کا مطالعہ کرنے لگے ہیں جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ ان میں سے بہت سارے سلیم الفطرت لوگوں کے ایمان لانے کی شکل میں ظاہر ہوگا۔
مغرب کی منافقت و دہری پالیسیوں کی فہرست طویل ہے ، تاہم ان میں سے ہی یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص جرمنی میں ہٹلر کے ہاتھوں گیس چیمبرز میں 60 لاکھ یہودیوں کے قتل عام کو مبالغہ و افسانہ کہے تو یہ بات یورپی ممالک میں جرم ہے۔ اسرائیل میں باقاعدہ یہ قانون ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی شخص "ہولوکاسٹ" کو چیلنج کرے تو اسرائیل کو حق ہے کہ اسے اغوا کر کے لے آئے اور اسے سزا دے۔
یورپ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین جرم ہے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ یورپ میں ایک عام آدمی کی توہین کرنا بھی جرم ہے لیکن آزادئ اظہارِ رائے اور آزادئ صحافت کے نام سے اسلام کو تختۂ مشق بنانے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ آج یورپی ممالک میں بلند آواز سے میوزک سننا منع ہے کہ اس سے پڑوسیوں کی سمع خراشی ہوتی ہے۔ سڑک پر ہارن بجانا خلافِ قانون ہے اور گاڑی میں زور سے گانا نہیں سنا جا سکتا مگر دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں کے جذبات پر نشتر چلانے کی آزادی ہے۔
آزادئ اظہار ، آزادئ صحافت ، آزادئ فکر وغیرہ کی آڑ میں مغرب و امریکہ کی دوغلی پالیسیاں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ آزادی کا مطلب مادر پدر آزادی بھی نہیں ، آزادی تو صرف اسی وقت ممکن ہو سکتی ہے جس اس کی حدود کا واضح تعین ہو۔ ایک کی آزادی دوسروں کے لیے دست درازی اور غلامی کا طوق نہ بن جائے۔

یہود و نصاریٰ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخیاں کرتے آ رہے ہیں۔ حال ہی میں کفارِ مغرب نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں پھر گستاخی کی ہے جس سے مسلمانوں کی نہ صرف دلآزاری ہوئی ہے بلکہ وہ غم و غصہ سے آگ بگولا ہو گئے ہیں اور وہ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔
یہ سب اپنی جگہ بجا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بعض امور بظاہر شر سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان میں بھی مسلمانوں کے لیے خیر کے کئی پہلو چھپائے ہوئے ہوتا ہے۔
سورۃ النور کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس معروف واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے جس میں نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زوجۂ طاہرہ و مطہرہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) پر منافقین کے تہمت لگانے کا تذکرہ ہے اور اسی واقعہ کے ضمن میں آیت:11 میں ارشاد الٰہی ہے :
جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے ، تم ہی میں سے ایک جماعت ہے ، اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا بلکہ وہ تمہارے لیے اچھا ہے ، ان میں سے جس شخص نے گناہ کا جتنا حصہ لیا اس کے لیے اتنا وبال ہے اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا اس کو بڑا عذاب ہوگا۔

اہل مغرب کے گستاخان کی اس موجودہ حرکتِ شنیعہ سے بھی مسلمانوں کے دل بہت دکھے ہیں، انہیں بہت رنج پہنچا ہے لیکن اس کے نتیجے میں بھی کئی اعتبار سے خیر کے بہت سارے پہلو اور بھلائی کے بکثرت مناظر سامنے آئیں گے۔
لوگوں کو اس بات کا پتا چل گیا ہے کہ ان نصاریٰ کے دل و دماغ میں مسلمانوں ، ان کے دین اور ان کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف کس قدر بغض و کینہ اور حسد کا زہر بھرا ہوا ہے؟ حالیہ واقعہ سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) پر مسلمانوں کے ایمان میں مزید رسوخ و پختگی آئے گی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) جنہیں زندگی بھر قوائے کفر نے اذیت رسانی کا نشانہ بنائے رکھا ، وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی باز نہیں آ رہے۔
اس واقعہ کے نتیجے میں خود اہل مغرب کی توجہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حالات معلوم کرنے کی طرف ہو گئی ہے۔ وہ سیرت النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی کتابوں کا مطالعہ کرنے لگے ہیں جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ ان میں سے بہت سارے سلیم الفطرت لوگوں کے ایمان لانے کی شکل میں ظاہر ہوگا۔
توہینِ رسالت و استہزاءِ مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک ایسا فعل ہے کہ جب کبھی بھی دشمنانِ اسلام نے اس کا ارتکاب کیا انہیں اس کے نتیجہ میں کسی نہ کسی طرح شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رحمۃ اللہ) نے اپنی کتاب "الصارم المسلول" میں لکھا ہے:
"اللہ ہر اس شخص سے انتقام لے لیتا ہے جو بھی اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذاتِ گرامی کو ہدفِ طعن و تشنیع بنائے۔ اگر مسلمان ایسے شخص پر شرعی حد قائم نہ کر سکیں تو اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب اور جھوٹے کے جھوٹ کو طشت از بام کر دیتا ہے۔ ہمیں متعدد ثقہ قسم کے فقہاء اور اہل علم و معرفت لوگوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے بارہا اس بات کا مشاہدہ و تجربہ کیا ہے کہ شام کے ساحلی علاقوں پر واقع شہروں اور قلعوں کے محاصروں میں ایسے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جیسے ہی کفار کی طرف سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخیاں کی گئیں تو مسلمانوں کو یقین ہو گیا کہ اب ہماری فتح کا وقت قریب آ گیا ہے چنانچہ ہمارے زمانے میں جب مسلمانوں نے بنی اصفر (رومیوں) کا محاصرہ کیا اور ایک قلعے یا شہر کے محاصرے پر ایک ماہ یا اس سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا مگر وہ فتح نہیں ہو رہا تھا حتیٰ کہ ہم مایوسی کی حدود کے قریب پہنچ گئے کہ اندر سے محاصرہ شدہ لوگوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو سب و شتم کیا ۔۔ تو ہمیں بہت آسانی سے اور جلد فتح نصیب ہو گئی۔ صرف ایک یا دو ہی دن میں محاصرہ کامیاب ہو گیا۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر ایسے مواقع پر ہمیں پتا چلتا کہ اندر سے کسی نے شانِ عالی میں گستاخی کرنا شروع کر دیا ہے تو ہم ان کے خلاف دلوں کے غم و غصہ سے بھر جانے کے ساتھ ہی اسے اپنی فتح کی بشارت بھی سمجھتے تھے"۔

شان عالی میں گستاخی کرنے اور ناموس رسالت پر کیچڑ اچھالنے والوں کو قرآن کریم ، سنت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ، اجماع صحابہ (رضوان اللہ عنہم اجمعین) ، اجماع امت اور قیاسِ صحیح کی رو سے کافر قرار دیا گیا ہے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اذیت پہنچانے والوں کی سزا "قتل" طے پائی ہے۔ شان عالی میں گستاخی کرنے والوں میں سے کتنے لوگ ہیں جنہیں ایک ایک کر کے قتل کروا دیا گیا۔
یہ بھی قانونِ قدرت ہے کہ جسے اہل ایمان اس کی اہانت و گستاخی کی سزا نہ دے سکیں تو اس سے خود اللہ تعالیٰ اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا انتقام لیتا ہے اور وہ ہی کافی ہو جاتا ہے۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ (رحمۃ اللہ) نے "الصارم المسلول" میں لکھا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے شاتم و گستاخ اور دریدہ دہن کی سزا "قتل" ہے اور اس پر تمام صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کا اجماع و اتفاق ہے۔ اور پھر آپ نے متعدد واقعات سے اس اجماع کو ثابت بھی کیا ہے اور لکھا ہے کہ کسی مسئلہ میں اس سے زیادہ بلیغ اجماع کا دعویٰ ممکن ہی نہیں۔ اس مسئلہ میں صحابہ کرام (رضوان اللہ عنہم اجمعین) اور تابعین (رحمہم اللہ عنہم) کے اس اجماع کے خلاف کسی ایک بھی صحابی یا تابعی کا کوئی اختلاف قطعاً ثابت نہیں۔

///
مضمون : اسلام مخالف فلم ، لاتحسبوہ شراً لکم
مضمون نگار : محمد منیر قمر (الخبر ، سعودی عرب)
بشکریہ : روشنی سپلیمنٹ ، روزنامہ اردو نیوز (سعودی عرب) ، 21/ستمبر/2012ء

2012/04/23

اشفاق احمد کا 'سچ'۔۔۔

نامور قلمکار اشفاق احمد مرحوم کی کتاب "صبحانے فسانے" کا ایک اقتباس ہے :
اماں کو میری بات ٹھیک سے سمجھ آگئی. اس نے اپنا چہرہ میری طرف کئے بغیر نئی روٹی بیلتے ہوئے پوچھا
" تو اپنی کتابوں میں کیا پیش کرے گا؟"
میں نے تڑپ کر کہا : " میں سچ لکھوں گا اماں اور سچ کا پرچار کروں گا. لوگ سچ کہنے سے ڈرتے ہیں اور سچ سننے سے گھبراتے ہیں. میں انھیں سچ سناؤں گا اور سچ کی تلقین کروں گا."
میری ماں فکر مند سی ہو گئی. اس نے بڑی دردمندی سے مجھے غور سے دیکھا اور کوئیلوں پر پڑی ہوئی روٹی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہا : " اگر تو نے سچ بولنا ہے تو اپنے بارے میں بولنا ' دوسرے لوگوں کی بابت سچ بول کر ان کی زندگی عذاب میں نہ ڈال دینا. ایسا فعل جھوٹ سے بھی برا ہوتا ہے."

اشفاق صاحب کے ادبی قد کا احترام سر آنکھوں پر ۔۔ مگر وہ کیا ہے کہ ایک دفعہ مقبول مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی نے عرض فرمایا تھا :
مزاح نگار اس لحاظ سے بھی فائدے میں رہتا ہے کہ اس کی فاش سے فاش غلطی کے بارے میں بھی پڑھنے والے کو یہ اندیشہ لگا رہتا ہے کہ ممکن ہے ، اس میں بھی تفنن کا کوئی لطیف پہلو پوشیدہ ہو ، جو غالباً موسم کی خرابی کے باعث اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا۔
ہم بھی اسی طرح کچھ کہنے کی جراءت کرنا چاہیں گے کہ کبھی کبھی کوئی نامور اور مقبول قلمکار بھی لکھتے لکھتے کوئی ایسی فاش غلطی بھی کر جاتا ہے جو اتفاقاً اس کے قلم کے رواں دواں موسم کی سنگینی کے سبب خود اس کی سمجھ سے دور ہو جاتی ہے۔ ورنہ ایک بندہ آخر اپنے بارے میں کتنا سچ بولے گا؟ اکیلی ذات کے سچ اور معاشرے کے کروڑوں نفوس کے سچ میں تعداد کا بھی فرق ہے کہ نہیں؟ اور اگر "اپنے ہی سچ" کے اس چکر میں یا دوسروں کے عیوب کی پردہ داری کی فکر میں ان کی غلطیوں کو بھی اپنے سر مونڈھ کر بیان کرنا درست ہے تو پھر یہ سچ نہیں بلکہ "جھوٹ" ہوا جبکہ جھوٹ جیسے فعل کی مذمت بھی اسی فقرے میں موجود ہے!

اسی طرح متذکرہ بالا اقتباس کے ایک فقرے پر تبصرہ کرتے ہوئے ہمارے قلمکار دوست یوسف ثانی صاحب لکھتے ہیں :
میرا خیال ہے کہ یہاں "دوسرے لوگوں" سے "عوام الناس" مراد ہیں، جو "انفرادی زندگی" جیتے ہیں۔ جن کے عیوب کی پرداہ داری کا حکم ہے۔
اس کے برعکس "عوامی حیثیت" کے حامل لوگ جو دوسروں پر کسی طرح بھی "اثر انداز" ہونے کی "اہلیت" رکھتے ہیں، ان سے متعلق سچ بولنا نہ صرف جائز اور ضروری بلکہ بسا اوقات فرض بن جاتا ہے۔ جابر سلطان کے سامنے "کلمہ حق" کہنا تو جہاد کے برابر ہے۔ یہ کلمہ حق ظاہر ہے، حکمران کی ذات سے متعلق وہ " بدنما سچ" ہوتا ہے، جسے حکمران اپنی رعایا سے چھپانا چاہتے ہیں۔ معاشرے میں پھیلی جملہ خامیوں کا تعلق ایسے ہی "سچ" سے ہوتا، جسے سب کو بتلانا ضروری ہوتا ہے۔ اگر کوئی سرکاری اہلکار رشوت لیتا ہے، کوئی پولس والا مجرموں کی پشت پناہی کرتا ہے، کوئی وزیر قومی راز دشمنوں کو فروخت کرتا ہے، کوئی "دینی رہنما" دین کی غلط تشریح کرکے ملت کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، کوئی پروڈیوسر، رائٹر شیاطین کے کاز کو پروموٹ کرنے والے ڈرامے تخلیق کرتا ہے، کوئی این جی او خد مت خلق کی آڑ میں اسلام دشمنی یا ملک دشمنی سے متعلق کسی خفیہ ایجنڈا کو دانستہ یا نادانستہ قوت فراہم کرتی ہے ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ تو ایسے لوگوں سے متعلق اس"سچ" سے قوم کو آگاہ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

بلا کسی استثنیٰ کہ عوام کو یہ تلقین کرنا کہ "دوسرے لوگوں کی بابت سچ بول کر ان کی زندگی عذاب میں نہ ڈال دینا" درحقیقت متذکرہ بالا اقسام کے سماج دشمنوں کو دانستہ یا نا دانستہ "پروٹیکشن" فراہم کرنا ہے۔

2012/02/07

حدیث تنقید : مجھے تہذیب حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی

محمد علی مکی - اردو بلاگنگ ہی نہیں اردو کمپیوٹنگ کے میدان کی ایک ماہر اور نامور شخصیت کا اسم گرامی ہے۔ ان سے چند نظریاتی اختلاف کے تحت ان کی صلاحیتوں اور خوبیوں کا انکار کرنا ناانصافی کے دائرے میں شمار ہوگا۔
آجکل محترم اپنے بلاگ پر جن موضوعات کو تختہ مشق بنا رہے ہیں اس سبب ہمارے علاوہ کچھ مزید اذہان میں مکی صاحب کی اس "مہم" سے متعلق شکوک و شبہات کا پیدا ہونا کوئی غیر فطری امر نہیں۔ لیکن ان متنازعہ تحریروں کے سہارے کسی شخصیت پر کوئی فتویٰ لگانے کے بجائے اگر ہم کچھ لوگوں کی اس بات پر بھروسہ کر لیں کہ ۔۔۔۔
ہو سکتا ہے مکی صاحب اردو زبان میں بھی وہ تمام مواد ایک جگہ اکٹھا کر رہے ہوں جو دیگر زبانوں میں اسلام ، مسلمان ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) ، قرآن ، حدیث وغیرہ کے ردود میں لکھا گیا ہے یا لکھا جا رہا ہے ۔۔۔۔
تو شاید کسی حد تک ہم کردار کشی یا "ردّ شخصیت" کے عمل سے رک جائیں ، کیونکہ جہاں تک راقم کو علم ہے مکی صاحب نے اپنی ایسی کسی بھی تحریر میں صاف صاف اور کھل کر یہ کہیں نہیں لکھا کہ
"مستند ہے میرا فرمایا ہوا"
یا "اس تحریر کے تمام نکات سے میرا 100 فیصد اتفاق ہے"
یا "جو عقائد و نظریات کے حوالے یہاں بیان ہو رہے ہیں اور جن کا دفاع بھی کیا جا رہا ہے ان سے میں خود بھی متفق ہوں" ۔۔۔ وغیرہ

خیر تو ایک دوست کی فرمائش کا خیال کرتے ہوئے مکی صاحب کی اس تازہ تحقیق :
حدیث کی مصداقیت
پر جواب آں غزل پیش خدمت ہے۔

سب سے پہلی بات تو یہی کہ ۔۔۔ محمد علی مکی جیسے محقق کے ذریعے یہ تحریر کچھ عجیب سی لگی۔ انگریزی اور عربی میں‌تو اس موضوع پر کافی مواد ہے (جیسا کہ مکی صاحب کی اسی تحریر کا بیشتر مواد قاری کو quran-islam ڈاٹ آرگ نامی سائیٹ سے مل جائے گا) بلکہ ذرا سی گوگلنگ پر اس کے ردّ میں زیادہ اور بیش قیمت مواد بھی مل جاتا ہے (بالخصوص عربی میں)۔۔۔ مگر اردو میں بھی یقیناً کوئی کمی نہیں۔ سرسید یا طلوع اسلام سے لے کر آج کا غامدی گروہ تک وہی کچھ کہتا آیا ہے جس کا خلاصہ مکی صاحب نے اپنے بلاگ کی اس پوسٹ میں درج فرمایا ہے۔
مگر سولہ آنے کا سوال یہی ہے کہ :
کیا اس موضوع یا ان موضوعات کا کوئی جواب دیا نہیں گیا؟؟
ایک دو نہیں سینکڑوں اردو کتب لکھی گئیں اور لکھی جا رہی ہیں۔ لکھنے والوں کے لب و لہجے یا اسلوب یا پیشکشی کے انداز سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر "ردّ فتنہ انکار حدیث" پر مشتمل ان کتب کے قوت استدلال اور شرحِ مفید و معقول سے انکار کسی سلیم الطبع اور وسیع النظر فرد سے ممکن نہیں۔

ہمارے مکی بھائی نے جو 4 سوالات اٹھائے ہیں ۔۔۔ اپنے مطالعے کی بنیاد پر یقین سے کہنا چاہوں گا کہ ان سوالات کے جوابات نہ صرف یہ کہ قدیم اردو کتب میں دئے گئے تھے بلکہ "انکار حدیث" کے موضوع پر لکھی جانے والی آج کی کتب میں بھی ان سوالوں کے جواب نہایت مدلل طور سے موجود ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ راقم الحروف نے مختلف اردو/انگریزی فورمز پر "حدیث کی مصداقیت" پر شک کرنے والوں سے بیشمار مباحث/مناظرے کئے۔ دور کیوں جائیں ، اردو محفل پر ہی فاروق سرور خان صاحب کا اٹھایا گیا یہ ایشو تفصیل سے پڑھ لیجیے :
سنّت کیا ہے ؟

ونیز میں نے ایک وعدہ یہاں کیا تھا کہ
"حجیت حدیث" کے موضوع پر بھی بہت سارے مختلف فورمز پر انگریزی اور اردو میں میرے مباحث موجود ہیں۔ فی الحال کوشش ہے کہ جلد سے جلد اس موضوع پر علیحدہ اردو بلاگ قائم کیا جائے۔
افسوس کہ کچھ دیگر پراجکٹس کی مصروفیات کے سبب یہ معاملہ ہنوز التوا کا شکار ہے۔

بہرحال بات ہو رہی تھی "حدیث کی مصداقیت" پر ۔۔۔۔
اور میں ایک بار پھر دہراؤں گا کہ اردو زبان میں ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں ایسی مفید کتب تحریر کی جا چکی ہیں کہ ۔۔۔ کھلے دل و دماغ سے جن کا مطالعہ "حدیث کی مصداقیت" پر بڑے سے بڑا شک کرنے والے کو بھی مائل بہ اقرارِ حجیت حدیث کر دے گا ان شاءاللہ۔
چند کتب کے نام اور پی۔ڈی۔ایف ڈاؤن لوڈ لنک پیش ہیں : (حجم میگا بائٹس میں ہے)

1 : آئینہ پرویزیت - عبدالرحمٰن کیلانی
(صفحات:915 // حجم:13)
تقریباً 1000 صفحات پر مشتمل یہ کتاب فتنہ انکار حدیث کے جواب میں ایک انسائیکلوپیڈیا قرار دی جا سکتی ہے۔

2 : حجیت حدیث - علامہ ناصر الدین البانی
(صفحات:166 // حجم:7)
ایک گروہ ایسا ہے جو حدیث کو قابل اعتماد تسلیم کرتا ہے لیکن تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے ۔عالم اسلام کے عظیم محدث اور جلیل القدر عالم علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی زیر نظر کتاب میں اسی دوسرے گروہ کے افکار کی تردید کی گئی ہے۔

3 : سنت کی آئینی حیثیت - مولانا مودودی (اردو یونیکوڈ ورڈ فائل بھی موجود ہے)
(صفحات:368 // حجم:37)

4 : حجیت حدیث - جسٹس تقی عثمانی
(صفحات:163 // حجم:17)

5 : انکار حدیث حق یا باطل؟ - صفی الرحمٰن مبارکپوری
(صفحات:111 // حجم:2)

6 : احادیث صحیح بخاری و مسلم میں پرویزی تشکیک کا علمی محاسبہ - ارشاد الحق اثری
(صفحات:224 // حجم:5)

7 : صحیح بخاری پر اعتراضات کا علمی جائزہ - حافظ زبیر علی زئی
(صفحات:125 // حجم:3)

8 : صحیح بخاری پر منکرین حدیث کے حملے اور ان کا مدلل جواب - حافظ زبیر علی زئی
(صفحات:33 // حجم:1)

9 : صحیح بخاری کا مطالعہ اور فتنہ انکار حدیث - حافظ ابو یحیٰ نور پوری
(صفحات:530 // حجم:18)

10 : تفسیر مطالب الفرقان کا علمی و تحقیقی جائزہ (جلد:1)- پروفیسر حافظ محمد دین قاسمی
(صفحات:625 // حجم:-)

11 : تفسیر مطالب الفرقان کا علمی و تحقیقی جائزہ (جلد:2) - پروفیسر حافظ محمد دین قاسمی
(صفحات:737 // حجم:15)

12 : اصولِ اصلاحی اور اصولِ غامدی کا تحقیقی جائزہ - عبدالوکیل ناصر
(صفحات:140 // حجم:2)

13 : فتنہ غامدیت کا علمی محاسبہ - پروفیسر مولانا محمد رفیق
(صفحات:450 // حجم:9)

14 : ماہنامہ محدث کا فتتہ انکار حدیث نمبر
(صفحات:280 // حجم:12)

15 : الاعتصام ۔حجیت حدیث نمبر
(صفحات:306 // حجم:8)

-- تفہیم اسلام بجواب دو اسلام

اس موضوع (فتنہ انکار حدیث) پر کتاب و سنت لائیبریری میں موجود اردو پی۔ڈی۔ایف کتب کی ایک مکمل فہرست یہاں ملاحظہ فرمائیں۔

ویسے ایک سوال میرے ذہن میں اکثر و بیشتر گونجتا ہے کہ ۔۔۔۔
آپ کو کسی حدیث کے متعلق کچھ اشکالات پیدا ہوتے ہیں تو آپ انہیں دور کرنے یا ان کی تفصیلات یا توضیحات جاننے کے لیے فن حدیث کے ماہرین یا شارحینِ حدیث کی طرف کیونکر رجوع نہیں ہوتے؟
یہ بڑی ستم ظریفی ہے کہ کسی دنیاوی ایجاد یا فلسفے یا نظریے کی منطق ہمیں سمجھ میں نہ آئے تو سمجھانے کے لیے متعلقہ فن کے ماہرین سے رجوع کرایا جاتا ہے ، ان کی کتب سے روشن اقتباسات کشید کر کے بطور دلیل پیش کیے جاتے ہیں ۔۔۔۔ مگر جب بات کسی حدیث کی "مصداقیت" پر آئے تو وہاں صرف اتنا کہہ کر جان چھڑا لی جاتی ہے کہ یہ چیز ہماری سمجھ میں نہیں آتی یا اس پر یہ یہ عقلی اعتراضات وارد ہوتے ہیں !!
یہ رویہ موجودہ دور میں کس فکر کی غمازی کہلایا جائے؟ کیا یہ فن حدیث کی ناقدری نہیں؟ کیا ہم غیروں کے اس قدر مطیع و فرمانبردار ہو گئے ہیں کہ اپنے اسلاف کے علمی ذخیرے سے ہیرے جواہرات کو ڈھونڈ نکالنا ہمارے نزدیک اب محض کار زیاں قرار پا گیا ہے؟

کہیں اقبال نے اسی کا رونا تو نہیں رویا ۔۔۔۔۔؟؟

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

آخر میں ۔۔۔ مکی بھائی سے ایک مطالبہ یہ کرنے کا سوچا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔ مگر پھر خیال آ گیا کہ اگر مکی نے کھل کر وضاحت کر دی (جو کہ خیر سے ناممکن بات ہے) تو پھر ان کی ساری "مہم" ٹائیں ٹائیں فش ہو کر رہ جائے گی ۔۔۔۔ لہذا جانے دیجیے۔

2012/01/18

ہجرت بھی اک زخم ہے ۔۔۔

مولانا اعظم ہاشمی کی داستانِ ہجرت (ترکستان تا پاکستان) بعنوان "سمرقند و بخارا کی خونیں سرگذشت" کتابی شکل میں سن 1969ء میں شائع ہوئی تھی جس کا تعارف مولانا مرحوم کے پوتے کفایت ہاشمی نے اردو محفل فورم پر یہاں کروایا ہے۔
یہ دلچسپ کتاب جو کہ دراصل تاریخ کا ایک باب بھی ہے ، archive.org پر پی۔ڈی۔ایف شکل میں موجود ہے۔ ڈاؤن لوڈ لنک نیچے دیا جا رہا ہے۔

کتاب کے شروعاتی صفحات ہی سے طرز تحریر کا سحر طاری ہونے لگتا ہے۔ جبکہ اس کتاب کے سال اشاعت (1969ء) سے اندازہ ہوا تھا کہ قدیم اردو ہوگی مگر بہرحال اتنی قدیم تو نہیں ہے۔
آباد شاہ پوری نے اپنے "دیباچہ" میں جو یہ باتیں لکھی ہیں ۔۔۔ زائد از 40 سال بعد والی موجودہ صورتحال بھی کم و بیش اتنی ہی محسوس ہوتی ہے ۔۔۔ ملاحظہ فرمائیں کہ وہ لکھتے ہیں :
اس داستاں کے مخاطب یوں تو وہ نام نہاد "مولانا" اور "مفتی" بھی ہیں جو سوشلزم کے گماشتوں کے ہاتھوں میں دانستہ یا نادانستہ کھیل رہے ہیں۔ اگر ان کے دل میں رائی برابر بھی ایمان موجود ہے تو خدارا سوچیں کہ وہ کیسا خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں اور کن لوگوں کا آلۂ کار بنے ہوئے ہیں؟
تاہم اس داستان کے اصل مخاطب پاکستان کے مسلمان عوام ہیں جنہوں نے اپنے دین ، اپنی تہذیب ، اپنی روایات کو ہندوؤں کے چنگل سے بچانے اور اسلام کے سایے میں زندگی بسر کرنے کے لیے جنگ لڑی اور آگ اور خون کے وسیع اور ہولناک سمندر سے گزر کر پاکستان کے ساحلِ مراد پر پہنچے۔
یہ خونیں سرگذشت انہی کے لیے لکھی گئی ہے تاکہ وہ اس سے عبرت حاصل کریں ، پاکستان کو سمرقند و بخارا بنانے کی تگ و دو میں جو لوگ مصروف ہیں ، ان کے نعروں اور شرعی وضع قطع سے دھوکا نہ کھائیں اور کفر و الحاد کے ان علمبرداروں کے خلاف اسی جوش و جذبے کے ساتھ بنیانِ مرصوص بن کر کھڑے ہو جائیں جس جذبے کے ساتھ وہ ہندوؤں کے عزائم کے خلاف کھڑے ہوئے تھے۔ اس وقت جو خطرہ مسلمانانِ ہند کو ہندوؤں سے تھا آج وہی خطرہ پاکستان کی اسلامی مملکت کو سوشلزم کے گماشتوں اور ان کے نام نہاد شرعی رکابداروں سے ہے۔

24/دسمبر 1969ء
آباد شاہ پوری

اس کتاب کا پہلا باب میں نے ابھی ابھی کمپوز کیا ہے۔ اسے بھی ذیل میں ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔
***
وہ رات مجھے مرتے دم تک نہ بھولے گی۔
38 برس گزر چکے ہیں ، لیکن آج بھی اس رات کا ایک ایک لمحہ میرے ذہن کی تختی پر نقش ہے۔ شب و روز کی ہزاروں گردشوں کے باوجود اس رات کی یادوں کی چمک دمک میں کوئی کمی نہیں آئی۔ بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے امی جان احاطے کی دیوار کے پاس کھڑیں مجھے رخصت کر رہی ہیں اور فرما رہی ہیں :
"بیٹے ، اللہ تمہارا حافظ و نگراں ہو ، میری نصیحتوں کو مت بھولنا ، ورنہ میں تم سے خوش نہ ہوں گی۔"

یہ 1931ء کا ذکر ہے۔ آخر فروری یا شروع مارچ کی کوئی تاریخ تھی ، میں اپنے گھر میں کھلاوت (ترکی پلنگ) پر پڑا سو رہا تھا کہ امی جان نے مجھے آہستہ سے جھنجھوڑ کر جگایا۔ میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ فوراً ہی سارا معاملہ میری سمجھ میں آ گیا۔ وہ گھڑی آ پہنچی تھی جس کے لیے ہم ماں بیٹا کئی دنوں سے صلاح مشورہ کر رہے تھے۔
"بیٹا ، اٹھو وضو کرو۔" امی جان نے کہا۔
یہ کہہ کر وہ مڑیں اور کوزے میں پانی بھرنے لگیں۔ میں نے طہارت سے فارغ ہر کر وضو کیا، پھر خود امی جان نے بھی وضو کیا۔ اب ہم دونوں ماں بیٹا بارگاہ ایزدی میں جھک گئے ، دوگانہ ادا کیا ، امی جان نے اوراد و وضائف پڑھ کر مجھ پر پھونکا ، پھر باورچی خانے میں چلی گئیں۔ کوئی پندرہ بیس منٹ کے بعد دسترخوان اٹھائے تشریف لائیں۔ ایک ہاتھ میں بٹیر کے سیخ کباب تھے۔ ایک کباب اپنے ہاتھ سے کھلایا۔ کھانا کھا چکا ، تو کہنے لگیں :
"میرے جگر گوشے ، اٹھو اور اپنے معصوم بھائی بہنوں کا آخری زندہ دیدار کر لو۔"
میں بڑھ کر ان کی چارپائی کے قریب پہنچا۔ کم سن معصوم فرشتے دنیا جہاں سے بےخبر پڑے سو رہے تھے۔ معصومیت کی لو ان کے چہروں پر دمک رہی تھی۔ میں نے باری باری ان کی پیشانی پر ہاتھ رکھا اور ان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے خیر و عافیت کی دعا مانگی۔ وہ وقت میرے لیے بےحد صبر آزما تھا۔ محبت اور شفقت کے سوتے میرے دل کی گہرائیوں سے ابلنے لگے۔
"اب میں اپنے بھائی بہنوں کو شاید کبھی نہ دیکھ سکوں گا۔" میں نے سوچا۔
معاً میری آنکھوں میں آنسو امڈ آئے جنہیں میں نے پلکوں ہی پلکوں میں خشک کرنے کی کوشش کی۔ امی جان تھیں تو 65 برس کی، لیکن جوانوں سے زیادہ باہمت تھیں۔ کچھ دیر تک دم سادھے میری طرف دیکھتی رہیں، پھر بولیں :
"آؤ بیٹا"۔۔۔
ان کی آواز میں ہلکا سا ارتعاش تھا ، ایسا معلوم ہوتا تھا وہ اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے ایک چھوٹا سا تکیہ نما بستر اٹھایا اور چل پڑیں۔ میں ان کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ کمرے سے نکل کر ہم صحن میں پہنچے ، صحن سے باغیچے کا رخ کیا، باغیچے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئے۔ اب ہم کھلے آسمان کے نیچے درختوں اور پودوں کے درمیان کھڑے تھے۔ امی جان نے میری پیشانی چومی اور فرمایا :
"بیٹے ، تم میرے بڑھاپے کا سہارا اور امیدوں کا مرکز ہو ، مگر جیسا کہ دیکھ رہے ہو ، تم وطن عزیز میں رہ کر ایک مسلمان کی حیثیت سے میری خدمت نہیں کر سکتے ، چنانچہ میں تمہیں دین و ایمان اور وطن عزیز کی خاطر کسی آزاد ملک میں چلے جانے کی اجازت دیتی ہوں ، البتہ ایک شرط ہے ، وہ یہ کہ جہاں تک ممکن ہو ، ترکستان کے مسلمانوں کی بےبسی اور دین کی بےحرمتی کی خبر تمام مسلمانوں اور آزاد قوموں تک پہنچا دو۔ بیٹے ، میں نے وضو کیے بغیر تمہیں کبھی دودھ نہیں پلایا۔ اگر تم نے اس مقصد کو فراموش کر دیا ، تو میں کبھی راضی نہ ہوں گی۔ انسان کا مجدد شرف یہ ہے کہ وہ اپنے قول و قرار کا پابند رہے۔"
پھر امی جان نے مجھے وہ چھوٹا سا تکیہ نما بستر دیا، کوئی دو سیر وزن ہوگا، کہنے لگیں :
"اس کی حفاظت کرنا۔ بالخصوص اس کے اندر جو قرآن کریم ہے ، اسے حرز جاں بنا کر رکھنا۔ منزل مقصود پر پہنچ جاؤ ، تو اس کی موجودہ جلد اتار کر نئی بنوا لینا۔ پرانے گتے کو اپنے ہاتھ سے توڑنا اور پھر اسے جلا ڈالنا اور راکھ کسی دریا یا کنویں میں ڈال دینا۔"
مزید تاکید کے طور پر فرمایا :
"دیکھو ، تمہیں کوئی چیز اپنے پیدائشی وطن سے غافل نہ کرے ، ہمدردوں کی ہمدردی فراموش نہ کرنا۔ جو تمہارے خدا کا دشمن اور ملک کا غاصب ہے وہ کبھی تمہارا دوست اور بہی خواہ نہیں ہو سکتا۔ بزدل انسان اپنی منزل مقصود سے محروم رہتا ہے۔ موت ایک بار آئے گی۔ ایمان سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں۔ مرد اپنے قول سے نہیں پھرتے۔ جو شخص ان تین باتوں کو نظرانداز کر دیتا ہے ، اس کا وجود کوڑی کا نہیں رہتا۔"

امی جان دیر تک پند و نصیحت کرتی رہیں۔ کوئی تین سوا تین کا عمل ہوگا ، پچھلے پہر کے سناٹے میں کبھی کبھار کسی مرغ کی بانگ سنائی دیتی۔ چاندنی چٹکی ہوئی تھی ، درختوں کے سائے پھیلتے جا رہے تھے۔ باغیچے سے گزر کر ہم احاطے کی دیوار کے نیچے پہنچے۔ امی جان نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی ، پھر میرے سر پر دست شفقت پھیرا اور کندھے کو تھپکتے ہوئے کہا :
"جاؤ بیٹا ، اللہ تمہارا ساتھی اور مددگار ہے"۔

میں نے ایک آخری نظر اپنے باغ اور گھر پر ڈالی۔ اس باغ میں کتنے ہی پودے میں نے اپنے ہاتھ سے لگائے تھے اور انہیں خون اور پسینے سے سینچا تھا۔ اس گھر میں میں پیدا ہوا ، پلا ، بڑھا اور پروان چڑھا ، وہ گھر جو ہماری صدیوں کی خاندانی روایات کا امین تھا ، جس کے ایک ایک پتھر سے ماضی کی داستانیں اور میرے اپنے بچپن کی یادیں وابستہ تھیں۔ میں نے ٹھنڈی سانس بھری۔ امی جان کو سلام عرض کیا ، دیوار پر چڑھا اور باہر کود گیا۔ ہمارے باغیچے اور بڑی سڑک کے درمیان قبرستان تھا۔ قبرستان میں ہو کا عالم تھا۔ شکستہ قبریں اور اونچے نیچے مٹی کے ڈھیر دیکھ کر ہول سا طاری ہو گیا ، تاہم دل کڑا کر کے قبرستان میں داخل ہوا۔ ہاتھ میں امی جان کا دیا ہوا عطیہ تھا۔ ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ باغیچے میں سے ایک لمبی "ہو" کی آواز آئی۔ فوراً پلٹا اور باغ میں آیا۔ امی جان دیوار کے نیچے بےہوش پڑی تھیں۔ منہ پر پانی چھڑکا ، تو آنکھیں کھول دیں۔ مجھے اپنے پاس دیکھ کر کہا :
"تم واپس کیوں آ گئے؟ اپنی منزل کھوٹی نہ کرو ، ہمارا نگہان وہ قادر و توانا ہے جس کے وجود پر یقین ہر ذی علم کا سرمایۂ زندگی ہے۔"
میں باغ سے نکلا اور نامعلوم منزل کی طرف چل پڑا۔

***

سمرقند و بخارا کی خونیں سرگذشت
از : اعظم ہاشمی
صفحات : 62
پ۔ڈ۔ف فائل سائز : 2.9 ایم۔بی
ڈاؤن لوڈ لنک : Samarkand O Bukhara Ki Khuni Sarguzasht

2011/11/26

نیا ہجری سال 1433 مبارک ہو

نئے ہجری سال 1433 کی آمد آپ سب کو مبارک ہو۔
آج بمطابق عیسوی تقویم ، 26/نومبر 2011 کو سعودی عرب میں یکم محرم الحرام قرار پائی ہے۔

ہر نیا ہجری سال ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم ہجرت کی یاد دلاتا ہے!
وہ ہجرت جس کے باعث اسلام کا غلبہ اور اقتدار ہوا اور جس کی وجہ سے مدینہ منورہ کی پہلی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا ، یہی وہ ہجرت تھی جس کے باعث بدر و حنین اور باقی فتوحات حاصل ہوئیں۔
سفرِ ہجرت ہمیں ان واقعات میں پوشیدہ اسباق پر روشنی ڈالنے اور تجدیدِ عہد کی بھی دعوت دیتا ہے۔ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کا سفرِ ہجرت گوکہ اسلامی تاریخ کا روشن باب ہے تاہم یہ وقت کے ساتھ قید ہے مگر مسلمان کے لیے قیامت تک کے لیے ہجرت کا دروازہ کھلا ہے۔

نیا ہجری سال دعوتِ غور و فکر دے رہا ہے۔ ہم نے اپنی عمر عزیز کا ایک قیمتی سال مکمل کر لیا بلکہ شاید یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ ہماری عمر عزیز کا ایک سال کم ہوا۔
نیا سال دعوتِ محاسبۂ نفس بھی دے رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا ہر گزرنے والا لمحہ اگر ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کر رہا تو دور کرنے کا سبب بن رہا ہے اسلیے کہ انسان وقت کے ہاتھوں محکوم و مجبور ہے۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ہم گذشہ سال کے شب و روز کا جائزہ لے کر دیکھیں کہ آیا ہم اللہ کے قریب ہوئے ہیں یا گذشتہ سال کے ایام نے ہمیں اللہ تعالیٰ سے مزید دور کر دیا ہے؟
ایک حوالے سے ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے دین نے ہمارے لیے توبہ کا نظام متعارف کروایا ہے۔ سال گذشتہ میں ہوئیں اپنی کوتاہیوں ، نادانیوں اور غلطیوں پر نادم و شرمسار ہو کر آئیے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کریں اور آئیندہ عمل صالح کا عزم کریں ۔۔۔ امید ہے کہ اللہ رب العزت اپنے فضل و کرم سے سابقہ گناہوں کو معاف فرما دے گا بلکہ اپنے خاص لطف و کرم سے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دے گا۔ ان شاءاللہ۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو واقعۂ ہجرت سے صحیح سبق سیکھنے اور غلبۂ دین کی خاطر اللہ کی رضا کے لیے پہلے اپنے اخلاق و کردار کو سنوارنے پھر تبلیغ دین کی سعئ پیہم کی توفیق عطا فرمائے ، آمین یارب العالمین۔