2007/09/02

اِظہارِ رائے کی آزادی یا ۔۔۔ ؟‫!

السلام علیکم ‫!

اپنے اس ادبی بلاگ پر میں نے ذاتی خیالات کی تشہیر نہیں کی ۔ صرف ایک بار یہاں کچھ لکھا تو وہ بھی دوسروں کے کہنے پر ۔ لیکن آج کی یہ پوسٹ ، میں اپنے اُس خیال کے اظہار کی خاطر کر رہا ہوں جس کا بیان کرنا میری نظر میں ضروری ہو گیا ہے ۔

بلاگرز کمیونیٹی میں محترمی و مکرمی افتخار اجمل صاحب کو کون نہیں جانتا ۔ آپ اردو بلاگرز کمیونیٹی کے وہ فعال رکن ہیں جن کی تحریریں اگر ایک طرف اصلاح معاشرہ کا کام انجام دیتی ہیں تو دوسری جانب قارئین کی ذہنی و فکری تربیت کے ساتھ شریعتِ اسلامی کی روشنی میں دینی و دنیاوی امور میں غور و تدبر کی رحجان ساز تحریک کو آگے بڑھا رہی ہیں ۔ جزاک اللہ خیراََ کثیراََ ۔
محبی و محترمی اجمل صاحب ، اردو فورمز پر اپنی تحریریں شئر کرنے یا بحث و مباحثہ کرنے سے عموماََ گریز کرتے ہیں ۔ پھر بھی ہمارے چند ساتھیوں نے بصد اصرار و بصد شوق آپ کو اردو محفل جیسے معروف فورم پر دعوت دی اور جہاں آپ کا انٹرویو بھی لیا گیا ۔
میرے اندازے کے مطابق اجمل صاحب محترم نے غالباََ صرف تین ماہ اردو محفل پر گزارے اور پھر دل گرفتہ ہو کر رخصت ہو گئے ، یہ کہتے ہوئے ‫:
الوداع اے اُردو محفل میں تیرے قابل نہ تھا
( تازہ ترین اطلاع کے مطابق ، محبی اجمل صاحب نے مضامین کا سلسلہ محفل پر جاری رکھا ہے )

کس کی غلطی ہے یا کس کی نہیں ، اس سے باذوق کو کوئی مطلب نہیں ہے اور نہ ہی میں کبھی شخصیت پرستی کے مرض میں اس حد تک مبتلا ہوا کہ کسی کی غیر ضروری طرفداری میں تمام افکار و اشکال کو پسِ پشت ڈال دیا جائے ۔
جو متنازعہ تحریریں ایک صاحبِ محترم آج کل خوب زور و شور سے حُبِّ قرآن کی آڑ میں مجموعہ ہائے احادیث کو مشکوک ثابت کرنے کی کوششوں کے زیرِ اثر پیش فرما رہے ہیں ، اس کی تائید کرتے ہوئے اردو محفل کے محترم منتظمِ اعلٰی فرماتے ہیں کہ : یہ آزادیء اظہارِ رائے ہے اور پھر اِس آزادی کا تقابل اجمل صاحب کی اُس آزادی سے کرتے ہیں جو اُن کو ان کے اپنے بلاگ پر حاصل ہے ۔
حیرت ہوتی ہے جب ایک مقبول و معروف فورم کا ایک باشعور منتظمِ اعلیٰ ایسے بےتکے تقابل کی آڑ لیتا ہے۔ کیا بلاگ کی آزادی اور فورم کی آزادی کے درمیان موجود فرق کو کوئی نہیں جانتا؟ فورم پر مختلف طبقات کے لوگ آتے ہیں ، کیا ہر ایک کے ہاتھ میں کھلا ڈنڈا تھما دیا جائے گا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے محاورے پر عمل کر لیا جائے؟

اگر معاملہ سچ مچ اظہارِ رائے کی آزادی کا ہے تو ذرا رسان سے بتا دیجئے کہ : کیا اردو محفل پر دہرے معیار (‫double standard) کا چلن ہے؟ صرف چند ماہ قبل ایک صاحب نے یہاں خیال ظاہر کرنے کی اپنی آزادی سے استفادہ کرنا چاہا تھا تو محترم منتظم اعلیٰ کو گویا آگ سی لگ گئی اور تنبیہ کی گئی کہ یہ فورم ان کاموں کے لیے نہیں ہے ۔
اگر یہ فورم شیعیت کے خلاف اظہارِ خیال کے لیے نہیں ہے تو کیا انکارِ حدیث کی تائید کرنے کے لیے ہے؟

کیا کسی طبقے کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے کہ وہ خیر القرون سے چلی آ رہی امت مسلمہ کی مشترکہ میراث مجموعہ ہائے احادیث پر یوں دن دھاڑے ڈاکے ڈالے تو اسے صرف ’آزادیء اظہارِ رائے‘ کا خوبصورت استعارہ عطا کر کے اس غلاظت سے نظراندازی اختیار کر لی جائے؟ اور یہ آزادیء اظہارِ رائے بھی آپ کو یہاں کیوں یاد نہیں آتا؟ اور اس طرح کے جملے ‫:
باذوق ، مناظرہ کے فن کا ماہر ہے ، علمی و مذہبی یا تبلیغی گفتگو کرنے کے بجائے محض دوسرے کو زچ کیا جاتا ہے۔
آپ کی کس ذہنیت کی نشاندہی کرتے ہیں ؟

جناب عالی ، جس چیز کو آپ ’آزادیء اظہارِ رائے‘ کا نام دینے پر تلے ہیں وہ آزادی نہیں بلکہ مفسدانہ انتشار ہے جس کا بجا اظہار اجمل صاحب کر چکے ہیں ۔ کس منہ سے آپ ’اتحاد بین المسلمین‘ کا دعویٰ کر سکتے ہیں جبکہ آپ ایسی تحریروں پر تک روک نہیں لگا سکتے جن سے محفل کے پرسکون ماحول میں بدامنی اور لادینی پھیلتی ہے اور ایک دوسرے کے بیچ شکوک و شبہات کے سائے لہراتے ہیں ؟
آج آپ نے انکارِ حدیث کو راہ دی ہے ، تو کیا کل ۔۔۔ شیعیت ، بریلویت ، وہابیت ، دیوبندیت ، بہائیت ، قادیانیت وغیرہ وغیرہ کے لیے بھی ایسی ’آزادیء اظہارِ رائے‘ دینے کے لیے تیار ہیں؟؟

برادرِ محترم منتظمِ اعلٰی اردو محفل ! بصد خلوص ، ہمارا مشورہ یہی ہے کہ : جو چیز جہاں مناسب ہے اس کو وہیں رہنے دیں ، جیسا کہ خود آپ نے بھی یہاں اقبال کیا تھا کہ جس کسی کو جس نظریے یا طبقے کے خلاف جو زہر اگلنا ہے وہ اپنی پسندیدہ بلاگز یا سائیٹس پر یہ کام انجام دے لے مگر اردو محفل ان کاموں کے لیے نہیں ہے ۔

زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھئے برادر ‫!!