2007/10/30

مطالعۂ کتب

کتب بینی ۔۔۔ ایک نہایت مفید مشغلہ ہے ۔
یہ علم میں اضافے اور پریشانیوں سے چھٹکارے کے لیے نہایت موثر نسخہ ہے ۔ صدیوں پہلے کے ایک عرب مصنف ’الجاحظ‘ نے ایک پریشان حال شخص کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا ‫:
کتاب ایک ایسا دوست ہے جو آپ کی خوشامندانہ تعریف نہیں کرتا اور نہ آپ کو برائی کے راستے پر ڈالتا ہے ۔ یہ دوست آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا ہونے نہیں دیتا ۔ یہ ایک ایسا پڑوسی ہے جو آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ یہ ایک ایسا واقف کار ہے جو جھوٹ اور منافقت سے آپ سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کرے گا ۔

جب آپ پڑھتے ہوئے کتاب کے ورق پر ورق الٹتے جائیں گے تو آپ کی ذہانت بڑھتی رہے گی اور کئی مفید باتیں آپ کے ذہن میں اپنے لیے جگہ بناتی رہیں گی ۔ سوانحِ حیات پر لکھی ہوئی کتابوں سے آپ کو عام لوگوں کی پسند کی باتیں بھی معلوم ہوتی رہیں گی اور بادشاہوں کے طور طریقوں کا بھی پتا چلتا رہے گا۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بعض اوقات آپ ایک ماہ کی کتب بینی سے اتنا کچھ سیکھ جاتے ہیں کہ وہ لوگوں کی زبانی صدی بھر میں سنی ہوئی باتوں سے بڑھ کر ہوتا ہے ۔

پڑھنے کے بیشمار فائدے ہیں ۔ لیکن نقصان ذرا بھی نہیں ہوتا ۔ آپ کو کسی استاد کے دروازے پر انتظار کی زحمت بھی نہیں اٹھانا پڑتی جو آپ کی فیس کا منتظر رہتا ہے ۔ اور ایسے شخص سے بھی نہیں سیکھنا پڑتا جو جانتا تو بہت کچھ ہے مگر اس کی عادات و اطوار بڑے ناپسندیدہ ہوتے ہیں ۔ کتاب رات کو بھی آپ کا حکم اسی طرح مانتی ہے جیسے دن کو ، خواہ آپ سفر میں ہوں یا گھر میں بیٹھے ہوں ۔
سفر کے دوران میں ہونے والی اکتاہٹ سے نجات کے لیے کتاب سے بڑھ کر کوئی چیز کارآمد نہیں ہوتی ۔ کتاب ایک ایسے استاد کی مانند ہے کہ آپ کو جب بھی ضرورت پڑے ، آپ اسے اپنے پاس پائیں گے ۔
یہ ایسا ’استاد‘ ہے کہ آپ خواہ اسے کچھ نہ دیں ، یہ آپ کو دیتا رہے گا ۔ اس کے پاس جتنا کچھ ہے ، یہ سب کھول کر آپ کے سامنے رکھ دے گا ۔ اگر آپ اس سے لاپروائی کریں تب بھی یہ آپ کی فرمانبرداری کرتا رہے گا ۔ سب لوگ آپ کی مخالفت پر کمربستہ ہو جائیں تو بھی یہ بدستور آپ کے دوش بدوش کھڑا رہے گا ۔

پڑھنے کے فوائد ‫:

پڑھنے سے غم اور بےچینی دور ہو جاتی ہے ۔
پڑھنے کے دوران میں انسان جھوٹ بولنے اور فریب کرنے سے بچا رہتا ہے ۔
پڑھنے کی عادت کی وجہ سے انسان کتاب میں اتنا منہمک رہتا ہے کہ سستی اور کاہلی سے مغلوب نہیں ہونے پاتا ۔
پڑھنے سے فصاحت و بلاغت کی صفت پیدا ہو جاتی ہے ۔
پڑھنے سے ذہن کھلتا ہے اور خیالات میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے ۔
پڑھنے سے علم میں اضافہ ، یادداشت میں وسعت اور معاملہ فہمی میں تیزی آتی ہے ۔
پڑھنے والا دوسروں کے تجربات سے مستفید ہوتا ہے اور بلند پایہ مصنفین کا ذہنی طور پر ہمسفر بن جاتا ہے ۔
پڑھنے والا اوقات کے ضیاع سے محفوظ رہتا ہے ۔
پڑھنے والے کا زخیرۂ الفاظ ، دوسروں کی بہ نسبت کئی گنا زیادہ ہوتا ہے ۔
پڑھتے رہنے سے لکھنا بھی آ جاتا ہے اور جو لوگ پہلے سے لکھنا جانتے ہیں ان کی تحریر میں مزید شگفتگی پیدا ہو جاتی ہے ۔


اقتباسات ‫:
کتاب : آبِ حیات
مصنف : محمد یحیٰی خان (معروف صحافی‫)