2008/06/18

دین کی ترویج اور صحابہ (رض) کے اختلافات ؟‫!

ابھی حال میں ہوئے "قادیانی طلباء" کے ایک واقعے کے پس منظر میں ایک معروف اردو فورم پر مذاکرہ درج ذیل موضوع پر شروع ہوا ہے ‫:
مسلمان معاشرے میں اقلیتوں کے حقوق کیا ہیں ؟

عموماً ہمارے ہاں بحث و مباحثہ میں ہوتا یوں ہے کہ موضوع سے ہٹ کر غیر متعلق باتیں دانستہ یا غیردانستہ چھیڑ دی جاتی ہیں۔
جیسا کہ ایک صاحبِ محترم نے یوں عرض فرمایا‫:
میرا سوال ہے کہ ان احکام کا تعین کون کرے گا جو نافذ ہونے پر آپ ایک معاشرہ کو اسلامی معاشرہ قرار دیں گے؟ کیا کوئی ایسا مکمل ضابطہ ہے جس پر اگر کوئی معاشرہ یا حکومت مکمل طور پر عمل پیرا ہو تو آپ اسے اسلامی معاشرہ کہیں گے؟ اور اگر ایسا ہے تو صحابہ کبار کے امور مملکت میں سنگین اختلافات جن میں بعض اوقات خانہ جنگی کی بھی نوبت آئی انہیں آپ کس شمار میں رکھیں گے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ اصحاب کبار اور بالخصوص عشرہ مبشرہ کا فہمِ دین اس قدر ناقص تھا کہ ان میں سے چند کو اسلام اور اسلامی معاشرہ کی شرائط کے متعلق ہی کچھ معلوم نہ تھا؟ اور اگر ایسا تھا تو صحیح حدیث پاک کہ میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں جس کی پیروی کروگے فلاح پاؤ گے کی پیروی کیسے ممکن ہوگی؟

مزید آگے چل کر یوں گوہر فشانی کی گئی ‫:
آپ نے خلافت راشدہ کے دور کا حوالہ دیا ہے لیکن اس دور میں بھی صحابہ کرام کے مابین شدید اختلافات موجود تھے

سوال یہ ہے کہ مشاجراتِ صحابہ کی آڑ میں صحابہ کرام پر انگلی اٹھانے کی جراءت کس نظریے کی آبیاری ہے آخر؟؟
کبارِ صحابہ کے امور مملکت میں سنگین اختلافات ۔۔۔ جیسے فقروں کا استعمال شانِ صحابیت کو بڑھاتا ہے یا گھٹاتا ہے ؟؟

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ ‫:
فاقبلوا من محسنهم وتجاوزوا عن مسيئهم
ان نیک آدمیوں (انصار صحابہ) کی نیکیوں اور خوبیوں کا اعتراف کرو اور خطا کاروں کی خطاؤں اور لغزشوں سے صرف نظر کرو۔
(متفق علیہ)

اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ‫:
لا تسبوا أصحاب محمد فإن الله قد أمر بالإستغفار لهم وهو يعلم أنهم سيقتتلون
صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کو برا مت کہو ، بےشک اللہ تبارک تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ عنقریب قتل و قتال میں مبتلا ہوں گے ہمیں ان کے بارے میں استغفار کا حکم فرمایا ہے۔
بحوالہ : منهاج السنة النبوية ، ج:1 ، ص:154

امورِ مملکت میں سنگین اختلافات ۔۔۔ کیا آج کے حکمرانوں کی طرح کے اختلافات تھے؟ استغفراللہ۔
کیا اس طرزِ فکر کی تبلیغ سے کہیں یہ مقصود تو نہیں کہ اس طریق سے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ہی مشکوک بنا دی جائے؟؟
کیونکہ ۔۔۔ آخر یہ وہ عظیم ہستیاں ہی تو تھیں جنہوں نے اس بات کی گواہی دی تھی کہ حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے پیغامات کو اس کے بندوں تک پہنچایا اور اپنے سپرد کی گئی امانت کو کماحقہ ادا کیا اور امت کی خیرخواہی کی سرتوڑ کوشش کی اور کفر و شرک کی تاریکی دور کر کے اسلام کے نور کو جگمگا دیا۔ سبحان اللہ والحمدللہ۔

اور جب "امورِ مملکت میں سنگین اختلافات" کے بہانے سے ان شاہدوں اور گواہوں (رضی اللہ عنہم اجمعین) کی دیانتداری ہی چیلنج کر دی جائے تو ان کی گواہی اور شہادت بھی مسترد ہو جائے گی اور یوں شریعتِ اسلامی اور منہجِ نبوت کا خاتمہ ہو جائے گا ، کیونکہ ۔۔۔ قرآن کے ناقل اور راوی اور جامع بھی تو وہی صحابہ ہیں اور سنتِ رسول کے مدوّن بھی وہی ہیں۔
جب (نعوذباللہ) وہ عادل نہ ہوئے تو اس دین کے دامن میں کیا باقی رہ جائے گا؟

صحابہ کرام کے "اجتہاد" کو آپسی اختلافات یا "امورِ مملکت میں سنگین اختلافات" سے تعبیر کرنے والوں کو ہوش کی دوا کرنی چاہئے اور اس حدیث کو یاد کر لینا چاہئے جس میں اجتہاد کی درستگی یا غلطی دونوں صورتوں میں اجر کی نوید سنائی گئی ہے۔

باقی جہاں تک اس روایت "میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں" کا ذکر کیا گیا ہے تو یہ ایک موضوع روایت ہے جس کی تفصیل یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔