2009/01/06

غزہ پر قبضہ اور اس کی حقیقت - اسرائیلی تجزیہ نگار

معروف اسرائیلی تجزیہ نگار لیری ڈرفنر (‫LARRY DERFNER) ، یروشلم پوسٹ میں لکھتے ہیں ‫:
Rattling the Cage: Clueless in Gaza

غزہ کے متعلق ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا ، ہمیں اپنی راہِ عمل کو بھی بدلنا ہوگا ، بے رحمی اور خودکار طریقے سے غزہ کے باشندوں کا صفایا کرنے سے ہمیں رک جانا ہوگا۔
غزہ کے ساتھ اسرائیل کی جنگ، زمین پر یقینی یکطرفہ جنگ ہے اور یہ جنگ باشندگانِ غزہ کے لئے غیرضروری اور ہولناک نتائج لا رہی ہے۔ یہ جنگ اسرائیل کے عوام اور فوجیوں کو ایک ناحق خطرے سے دوچار کر رہی ہے اور ایک ایسے عظیم خونی غلبے اور تصرف کی سمت بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں دونوں طرف کے عوام بلا کسی سبب کے مارے جائیں گے ‫!

اسرائیل کا یہ محاصرہ حماس یا اسلامی جہاد کو کمزور نہیں کر سکتا ، یہ محاصرہ باشندگانِ غزہ کو حماس کے خلاف نہیں کر سکتا اور نہ ہی دہشت گردی کو ختم کر سکتا ہے۔ غزہ کا محاصرہ ، اسرائیل کی سیکوریٹی کو مضبوط کرنا تو دور کی بات ، مزید شدت پسندوں کی تخلیق کا سبب بن رہا ہے۔

اور سب سے بڑی مضحکہ خیز بات تو اسرائیل کا یہ فرمان ہے کہ ‫:
اسرائیل نے غزہ کا کوئی محاصرہ نہیں کیا ہوا ہے ، انسانیت کی کوئی تذلیل نہیں ہو رہی ، یہ سب جھوٹ ہے ، ‫‫Pallywood ہے۔
فلسطینی جھوٹ بول رہے ہیں ، اقوام متحدہ جھوٹ بول رہا ہے ، حقوقِ انسانی کی تنظیمیں جھوٹی ہیں۔
فلسطینی نہایت آرام سے ہیں ، ہم خود انہیں دیکھ رہے ہیں۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ہم دیدہ و دانستہ معصوم بچوں کو ضرر پہنچا رہے ہیں تو دراصل ایسا کہنے والا مخالف یہودی ذہنیت کا شکار ہے۔

کیا واقعی میں ایسا ہی ہے؟
اگر سچ مچ کوئی محاصرہ نہیں ہے اور فسطینی مقامی عوام تکالیف و مظالم نہیں سہہ رہے تو پھر حمل و نقل کی بھی آزادی دیں۔
اور اگر ہم ایسا نہیں کرتے ، اور نہ ہی کریں گے ، تو پھر کم سے کم دیانت داری سے اس کی وجہ کو بھی قبول کریں۔
کیوں ؟ کیونکہ غزہ میں اشیائے ضروریہ پر ہماری یہ روک ٹوک دراصل منطقی لحاظ سے غزہ کے دیڑھ ملین عوام کو مفلوج بنا رہی ہے‫!

اور ہم نے غزہ کی بحری پٹی کی ناکہ بندی کس لیے کر رکھی ہے؟
کیا ہتھیاروں کے حمل و نقل کو روکنے کے لیے؟ کہ وہ لوگ ٹنوں کی تعداد میں مصر کے زیر زمین راستوں سے ہتھیار درآمد کر رہے ہیں؟
مگر ۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل ہتھیاروں کو امپورٹ نہیں کرتا؟
اگر کوئی یہ سوچ کر کہ ہم ہتھیاروں کو درآمد کریں گے، ہمارے اُس راستے پر پابندی لگا دے جو سمندر تک ہمیں رسائی دیتا ہو تو یقیناً ہم ایسی حرکت کو خود پر حملہ قرار دیں گے۔ جیسا کہ ماضی میں ایسا ہی الزام ہم نے لگایا تھا جب مصر نے طیران کا وہ بحری راستہ بند کر دیا تھا جس کے سبب ہی ایلت پورٹ تک ہماری رسائی ممکن تھی۔

یہ ایک الگ بات ہے، جب ہم کہیں کہ ہم کسی ایسے دشمن کو برداشت نہیں کریں گے جو ہمارے خلاف مسلح جدوجہد کرے اور یہ ایک بالکل مختلف بات ہوگی جب ہم یہ کہیں کہ کسی دشمن کو مسلح قوت جمع نہیں رکھنی چاہئے۔
ہم یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ فلسطینی اس بات کو قبول کر لیں گے کہ ان کے پڑوس میں اسرائیل کو اپنی فوجی طاقت بزور قوت قائم رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
امن اس طرح حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

سارے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے بہت سے دشمن ہیں اور یہ تمام دشمن جتنی مرضی چاہے اتنا اسلحہ خریدتے ہیں اور یقیناً یہ اس تعداد یا مقدار سے بےتحاشا ہوتی ہے جتنا کہ حماس بذریعہ فضائی ، سمندری یا زمینی راستے سے خریدتی ہے۔
اس کے باوجود اسرائیل کے یہ دشمن کیوں حملہ کی ہمت نہیں کر پاتے تو اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ان دشمنوں کی مسلح قوت سے سینکڑوں گنا قوت خود اسرائیل کے پاس موجود ہے۔ اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جس سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔

تو پھر آخر کار ہمیں یہی کرنا ہوگا کہ غزہ پر معتبر طریقے سے اپنا قبضہ قطعیت کے ساتھ ختم کر دیں۔
عوام کو آمد و رفت کی ویسی ہی آزادی دی جائے جیسا کہ ایک آزاد ملک کے بااختیار باشندوں کو حاصل ہوتی ہے۔ ایسی آزادی ہو کہ اسرائیل سے گاڑیاں جب غزہ میں داخل ہوں تو سرحد پر ان کی جانچ پڑتال محض عمومی نوعیت کی رہے۔

آخر میں ایک بار پھر دہراؤں گا ‫:
غزہ میں اسرائیل جو جنگ لڑ رہا ہے وہ زمین پر یقیناً یکطرفہ جنگ ہے۔ اگر اسے روکنا ہے یا کم سے کم اختتام کی طرف ہی لے جانا ہو ، تو یاد رہے کہ گیند حماس کے کورٹ میں نہیں بلکہ ہمارے کورٹ میں ہے‫!

- اردو ترجمانی : باذوق