2009/04/12

اردو کی ترقی و ترویج کے دعوے داروں کے کرتوت

السلام علیکم

مشتاق احمد یوسفی ، میرے پسندیدہ مصنفین میں شامل ہیں۔ ایک عرصہ سے خواہش تھی کہ ان کی تحریروں پر مبنی ایک موضوعاتی بلاگ بنایا جائے۔ بالآخر یہ مہم بھی سر کر لی ہم نے۔ بلاگ ذیل کے پتے پر ملاحظہ فرمایا جا سکتا ہے :
مشتاق احمد یوسفی - شہ پارے ‫!!

میں چاہ رہا تھا کہ یوسفی صاحب کی جتنی تحریریں میں نے کمپوز کر رکھی ہیں اور اِدھر اُدھر فورمز پر بھی پوسٹ کر رکھی ہیں ، انہیں اس ایک بلاگ پر جمع کر دوں۔ اسی کے لئے گوگل سرچ کیا۔
گوگل سرچ کی ضرورت بھی اس لئے پیش آئی کہ : ہمارے ایک دوست نے اردو مجلس پر شکایت کی تھی کہ میں جو اصل تحریر کا حوالہ دینے کا اکثر تقاضا کیا کرتا ہوں ، اپنے اس اصول پر خود میں نے ایک بار عمل نہیں کیا۔

اب مجھے گوگل سرچ سے معلوم ہوا کہ اصل قصہ کیا تھا۔ مشتاق احمد یوسفی کی کتاب "آبِ گُم" سے ایک اقتباس میں نے اپنے طریقے سے ترتیب دے کر کئی جگہ پوسٹ کیا تھا۔ مثلاً 17-اکتوبر-08ء کو اپنے بلاگ پر یہاں ، پاک نیٹ فورم پر یہاں ، اردو مجلس فورم پر یہاں اور 18-اکتوبر-08ء القلم فورم پر یہاں۔

30-اکتوبر-2008ء کو ہماری اردو پیاری اردو فورم پر کسی نعیم صاحب نے یہی اقتباس بنا حوالہ کاپی کر دیا۔
کاپی وہ کریں اور الزام مجھے ملے؟؟
لہذا میں نے ابھی کچھ دیر قبل ہماری اردو فورم کے اُس تھریڈ میں نہایت نرم لہجے میں ذکر کیا کہ حضور آپ کے بنا حوالہ کاپی کے سبب الزام مجھے سننا پڑا تھا۔

بڑی عجیب بات ہے بھئی ۔۔۔۔۔
اردو کی ترقی اور ترویج کے دعوے کرنے والوں کی اپنی نرالی منطق ہے !!
ان انصاف پسند دعوے داروں نے پہلے تو میرا شکایتی مراسلہ وہاں سے حذف کیا اور دوم یہ کہ میری آئی-ڈی ہی اپنے فورم پر بین کر دی !!

اِس قسم کی ذہنیت کو آپ کیا نام دیتے ہیں ۔۔۔۔ یہ میں آپ سب پر چھوڑتا ہوں۔