2009/09/12

افطار : تاخیر ۔۔۔؟ / افطار : وقت سے پہلے ۔۔۔؟

افطار میں تاخیر ۔۔۔ خلافِ سنت ہے !

امت مسلمہ کو اس بات کی خوش خبری دی گئی ہے کہ وہ جب تک روزہ افطار کرنے میں جلدی (مغرب کی اذاں کے ساتھ ہی روزہ افطار) کریں گے ، خیریت سے رہیں گے ۔
حضرت سہل بن سعد (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :
اس وقت تک لوگ خیر و عافیت سے رہیں گے جب تک وہ روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے ۔
(بخاری، مسلم ، جامع ترمذی ، سنن ابی نسائی)

روزہ جلدی افطار کرنا اس بات کی علامت ہے کہ دین کی بالادستی قائم ہے ۔ کیونکہ روزہ کا دیر سے افطار کرنا یہودیوں اور نصاریٰ کے ہاں رائج ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:
دین اسلام اس وقت تک بلند رہے گا جب تک لوگ روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے ، کیونکہ یہودی اور نصاریٰ (اپنے مذہب کے مطابق) دیر سے روزہ افطار کرتے ہیں۔
(مسند احمد ، جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ)
لہذا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ ہر بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے ۔

سحری اور افطاری میں سنت نبوی یہ ہے کہ سحری دیر سے تناول کی جائے جبکہ روزہ افطار کرنے میں جلدی کی جائے۔
امام نسائی (رحمة اللہ) ، حضرت ابو عطیہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے سوال کیا کہ ہم میں دو آدمی ایسے ہیں جن میں سے ایک روزہ افطار کرنے میں جلدی اور سحری کرنے میں تاخیر کرتا ہے ۔۔۔ جبکہ دوسرا شخص روزہ افطار کرنے میں تاخیر اور سحری کرنے میں جلدی کرتا ہے ؟ حضرت عائشہ(رضی اللہ عنہا) جواب میں فرماتی ہیں :
"جو شخص روزہ افطار کرنے میں جلدی اور سحری کرنے میں تاخیر کرتا ہے ، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل کرتا ہے ۔ "


وقت سے پہلے افطار

جو شخص رمضان کے مہینے میں روزہ رکھ کر کسی شرعی عذر کے بغیر قبل از وقت روزہ توڑ دے تو یہ بڑ ا سنگین جرم ہے، اور اس کی سزا بھی بڑی عبرت ناک ہے ۔
ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
" میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو اُلٹے لٹکائے گئے تھے ، اُن کے جبڑے پھٹے ہوئے تھے اور اُن سے خون رس رہا تھا ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟
مجھے بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے روزہ افطار کر لیا کرتے تھے ۔ یعنی افطاری سے پہلے ہی روزہ توڑ لیا کرتے تھے ۔ "
(صحیح ابن خزیمہ / صحیح ابن حبان)

اس کے علاوہ ، کسی شرعی عذر کے بغیر عمداً روزہ توڑ دینے کی دنیاوی سزا بھی شریعت نے سخت رکھی ہے کہ ایسے شخص کو قضا کے ساتھ کفارہ میں لگاتار ساٹھ دن کے روزے رکھنا ضروری قرار دیا گیا !