2010/01/15

13 جنوری 1948ء - پاکستان کا مقصد کیا ۔۔۔ سیکولرزم یا اسلام ؟

پاکستان کا مطلب کیا
لا الٰه الا الله
یہ وہ نعرہ ہے جس نے قیامِ پاکستان کی تحریک کے دوران مسلمانوں میں جوش و خروش پیدا کیا تھا ۔

بانئ پاکستان محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان سے پہلے اور اس کے بعد بھی متعدد مواقع پر قیامِ پاکستان کے مقاصد کو نہایت واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بیان کیا ہے ۔
13۔ جنوری 1948ء کو اسلامیہ کالج ، پشاور کے جلسہ میں حصولِ پاکستان کا مقصد بیان کرتے ہوئے قائد پاکستان نے فرمایا تھا :
ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں ۔

we did not demanded Pakistan just for the sake of a piece of land. Instead, we wanted to obtain such a laboratory, where we can adopt the Principles of Islam.
Ref.: Link

آج اگر پاکستانی ذرائع ابلاغ میں سیکولرزم کی تازہ لہر چل نکلی ہے تو اس کے پسِ پشت عالمی منصوبہ بندی کا شبہ بھی ناممکن نہیں ۔ اور اس قسم کی منصوبہ بندی کا اہم ترین ہدف یہ ہے کہ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں اسلامی تحریکوں کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے ۔
بے شک پاکستان میں صحافت کو اور صحافیوں کو آزادئ رائے کی سہولت حاصل ہے ۔ اسی سبب اگر ... پاکستان کے سیکولر مزاج صحافی دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنے مضامین میں پاکستان کی نظریاتی اساس پر حملہ کرتے ہیں تو اس پر غصہ یا ناراضگی کا جذباتی اور غیر ضروری اظہار مناسب عمل نہیں ۔ بلکہ ایسے مواقع پر ہونا تو یہ چاہئے کہ وہ صحافتی طبقہ بھی کھل کر سامنے آئے جس کے نزدیک نظریۂ پاکستان کا دوسرا نام اسلام ہے ۔

* نظریۂ پاکستان . .. یعنی پاکستان آئیڈیالوجی کی اصطلاح کب اور کس سوچ کے تحت استعمال کی گئی ؟
* کیا پاکستان کا مطالبہ حقیقت میں محض زمین کے ایک ٹکڑے کے حصول کی خاطر کیا گیا تھا ؟
* جس ریاست کے دستور کے پیشِ نظر شریعتِ اسلامی رہی ہو کیا اس ریاست کو سیکولر ریاست کا درجہ دیا جا سکتا ہے ؟
* کیا قائد پاکستان نے نظریۂ پاکستان کا نعرہ کبھی استعمال ہی نہیں کیا تھا ؟
* کیا یہ حقیقت ہے کہ نظریۂ پاکستان کی اصطلاح جماعتِ اسلامی کی قائم کردہ ہے ؟

اِن تمام سوالات کے جوابات سے نئی نسل کو واقف کرانے کی خاطر آج یہ امر ضروری ہو گیا ہے کہ تاریخِ قیامِ پاکستان کے گمشدہ اوراق کو تلاش کیا جائے ۔

نظریۂ پاکستان یا پاکستان آئیڈیالوجی یا پاک آئیڈیالوجی کی اصطلاح ... سب سے پہلے لفظ "پاکستان" کے خالق چودھری رحمت علی نے 1934ء میں استعمال کی تھی ۔ ان کے اپنے الفاظ یوں ہیں :
The effect of Pak-Ideology on the myth of Indian unity has been devastating. It has destroyed the cult of uni-nationalism and uni-territorialism of India and created instead the creed of the multi-nationalism and multi-territorialism of "Dinia" (South Asia).
ہندوستانی وحدت کے موہوم راز پر پاک آئیڈیالوجی کے بہت تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ۔ اس نے وحدانی علاقائیت ، وحدانی قومیت کے عمومی تصور کو ختم کر دیا اور اس کے بجائے کثیر القومیت اور کثیر علاقائیت یعنی دینیہ (جنوبی ایشیا) کے تصور کو پروان چڑھایا ۔
Ref.: Pakistan - The Father Land of the Pak Nation. By: Ch. Rehmat Ali, P:205

نظریۂ پاکستان کا تعلق یقینی طور پر تحریکِ پاکستان سے مربوط ہے ۔ خود قائد پاکستان نے بھی نظریۂ پاکستان کے الفاظ اپنی تقریروں میں ارشاد فرمائے تھے ۔

It is by our own dint of arduous and sustained efforts that we can create strength and support our people not only to achieve our freedom and independance but to be able to maintain it and live according to Islamic ideals and principles.
Pakistan not only means freedom and independance but the Muslim Ideology which has to be preserved, which has come to us as a precious gift and treasure and which we hope other will share with us.

ہم اپنی سخت اور پیہم جدوجہد کے ذریعے قوت بہم پہنچا سکتے ہیں ، ہم نہ صرف آزادی کے حصول کے لیے اپنے لوگوں کی معاونت کر سکتے ہیں ، بلکہ ہم انہیں اس قابل بھی بنا سکتے ہیں کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اسلامی آدرش اور اصولوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کر سکیں ۔
پاکستان کا مطلب محض آزادی نہیں ہے ، اس کا مطلب مسلم آئیڈیالوجی بھی ہے جس کا تحفظ کیا جانا باقی ہے ، جو ہم تک ایک قیمتی تحفے اور خزانے کے طور پر پہنچا ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دوسری (اقوام) بھی اس میں حصہ دار بن سکتی ہے ۔
Ref.: Some recent speeches and writing of Mr.Jinnah. Published By: Sh. Muhammad Ashraf, Lahore, 1947. Page:89.
اسلام دشمن طبقہ نے جب قائد پاکستان کی ایک تقریر کا من چاہا مفہوم اخذ کرتے ہوئے یہ منفی پروپیگنڈا شروع کیا تھا کہ پاکستان کا دستور اسلامی شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا ... تب قائد پاکستان نے بھرپور انداز میں اس شرانگیزی کی مذمت کی تھی ۔
25۔ جنوری 1948ء کو کراچی بار اسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے قائد پاکستان نے فرمایا تھا :
میں ان لوگوں کی بات نہیں سمجھ سکتا ، جو دیدہ و دانستہ اور شرارت سے پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا ۔ اسلام کے اصول عام زندگی میں آج بھی اسی طرح قابل اطلاق ہیں ، جس طرح تیرہ سو سال پہلے تھے ۔
میں ایسے لوگوں کو جو بدقسمتی سے گمراہ ہو چکے ہیں ، یہ صاف صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ یہاں غیر مسلمانوں کو بھی کوئی خوف نہیں ہونا چاہئے ۔
Why this feeling of nervousness that the future constitution of Pakistan is going to be in conflict with Shariat Laws? Islamic principles today are as applicable to life as they were 1,300 years ago.
I would like to tell those who are misled by propaganda that not only the Muslims but Non Muslims have nothing to fear.
Ref. : Link1 / Link2


علاوہ ازیں قائد پاکستان نے 4۔ فبروری 1948ء کو سبی میں خطاب کے دوران یہ واضح ترین الفاظ بھی ارشاد فرمائے :
میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ حیات پر ہے جو ہمارے عظیم واضعِ قانون پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے قائم کر رکھا ہے ۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اسلامی اصولوں اور تصورات پر رکھنی چاہئیں ۔ اسلام کا سبق یہ ہے کہ مملکت کے امور و مسائل کے بارے میں یہ فیصلے باہمی بحث و تمحیص اور مشوروں سے کیا کرو
It is my belief that our salvation lies in following the golden rules of conduct set for us by ou great law-giver, the Holy Prophet of Islam (peace be upon him). Let us lay the foundation of our democracy on the basis of truly Islamic ideals and principles. Our Almighty has taught us that "our decisions in the affairs of the State shall be guided by discussions and consultations".
Tribal Politics in Baluchistan - Ch.-III:Tribal attitude towards Pakistan, P:56


پسِ نوشت :
کچھ سال قبل یہ تحریر ایک ویب سائیٹ پر میں نے لگائی تھی جو اب بند ہو چکی ہے۔ پھر یہی اقتباسات اردو مجلس فورم پر یہاں پیش کئے تھے۔ اور اب ابوشامل کی اس تحریر : قائد اعظم – ایک سیکولر رہنما؟ سے متاثر ہو کر اس بلاگ پر بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔

6 comments:

  1. آپ نے مزید اقتباسات پیش کر کے اس موضوع کو مزید تقویت بخش دی ہے۔ اللہ آپ کو اجر دے۔

    ReplyDelete
  2. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،

    جزاک اللہ خیر۔ اللہ آپ کواورہمت و حوصلہ دےآمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

    ReplyDelete
  3. Salam

    A very good Blog with very good contents. May Allah give you more strength and resources to spread your massege as much as possible.

    Thanks.

    Saj

    ReplyDelete
  4. ابوشامل بھائی اور جاوید اقبال بھائی
    آپ دونوں کی حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ۔
    @ MarkTheTruth
    Thanks for all your good wishes

    ReplyDelete
  5. آپکی آج کی فیس بک والی پوسٹ کھولنے جاو تو یہ میسیج آتا ہے:
    BLOCKED
    The following error was encountered while trying to retrieve the URL: http://baazauq.blogspot.com/2010/05/facebook-controversy.html
    This page has been blocked by WorldCall Telecom Limited as per the directives of Pakistan Telecommunication Authority.

    اگر آپ اس پوسٹ کے یو آر ایل میں سے فیس بک کا لفظ نکال دیں تو یہ مسئلہ حل ہو جائے

    ReplyDelete