2010/05/26

فیس بک [Facebook] ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟!

فیس بک کو 31-مارچ-2010ء تک کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے بین کر دیا گیا ہے۔
سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے فیس بک کے صرف اُس خاص صفحہ کو بین کیا ہے جس سے تنازعہ پھیلا ہے۔ یہ متنازعہ صفحہ آج بھی فیس بک پر موجود ہے اور لگتا تو یہی ہے کہ فیس بک کی جانب سے اسے حذف نہیں کیا جائے گا۔

دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو ، ایک مسلمان اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخی یقیناً برداشت نہیں کر سکتا۔ کیا یہ چیز بھی دنیا کے کسی انسان کو ، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ، سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے مذہب کی اعلیٰ اور مقتدر ہستی پر کی جانے والی تضحیک و استہزاء کو صرف اس لیے برداشت کرے کہ "آزادئ اظہارِ رائے" فرد کا بنیادی حق ہے؟
آج کے گلوبل ولیج میں کس کا بنیادی حق کیا ہے اور کس قدر ہے اور کتنی حد میں ہے ۔۔۔۔ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟
کیا اس کا فیصلہ انکل سام کریں گے؟ یا فیس بک انتظامیہ ؟ یا وہ صیہونی لابی جو دنیا کے تمام مالی معاملات پر غاصبانہ قبضہ رکھتی ہے؟

بےشک ! مانا کہ آج مسلمان اس حالت میں نہیں ہیں کہ اپنا فیصلہ یا اپنے اصول و ضوابط دنیا سے قبول کرا سکیں یا کم سے کم انہیں قائل ہی کر سکیں۔ مگر کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ "بنیادی انسانی حقوق" پر صرف کسی ایک طبقہ کی اجارہ داری قائم ہو جائے؟
نسلِ انسانی کا ایک بنیادی حق جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے ، وہ ہے : جیو اور جینے دو !
خود جینے اور دوسروں کو جینے دینے کے لیے ایک دوسرے کے تئیں عزت و احترام لازمی امر ہے۔

اڈولف ہٹلر ۔۔۔۔ تاریخ کی وہ شخصیت ہے جس کے کردار کے کسی ایک "اچھے" پہلو کی بھی سادہ انداز میں تعریف کی جائے تو ایک "خاص طبقہ" کو گویا آگ لگ جاتی ہے اور تعریف کرنے والے فرد یا گروہ کو الزام دیا جاتا ہے کہ "جیو اور جینے دو" کے اصول کے برخلاف اس طرح کی تعریف کے ذریعے "ایک قوم" کے جذبات کو مشتعل کیا جا رہا ہے۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ ایسا الزام لگاتے وقت "اس قوم" کو اپنے ہی ایک زریں اصول "آزادئ اظہارِ رائے" کی بالکل بھی یاد نہیں آتی ! اور یوں جنگ چھیڑ دی جاتی ہے کہ قومِ یہود کو پریشان کیا جا رہا ہے ، ان کی توہین و ملامت کی جا رہی ہے۔

اس کی مثال دیکھنی ہو تو اس صفحہ کو وزٹ کیجئے :
One Facebook, Two Faces [One is Real Ugly‪]

فیس بک انتظامیہ کے تضاد یا دہرے معیار کی یہ اعلیٰ مثال بلکہ ثبوت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔
فیس بک کو Adolf Hitler Fan Page اس لیے برداشت نہیں کہ اس سے کسی قوم / مذہب کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
مگر۔۔۔۔
فیس بک کو Draw Muhammad Day Page اس لیے قبول ہے کہ یہ "آزادئ اظہارِ رائے" کے زمرے میں آتا ہے (چاہے اس صفحہ کے ذریعے کسی قوم یا مذہب کے ماننے والوں کو کتنی ہی دلی تکلیف کیوں نہ پہنچتی ہو )۔

صاف بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔
گلوبل ولیج پر اپنا من چاہا فیصلہ مسلط کرنے والوں کو "بنیادی انسانی حقوق" کی پاسداری سے کوئی سروکار نہیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا صرف ان ہی کے تخلیق کردہ خودساختہ اور متضاد اصول و ضوابط کو قبول کرے اور اس پر عمل پیرا ہو ۔۔۔ اب چاہے ان اصولوں سے کسی نسل ، قوم ، قبیلہ ، مذہب ، زبان ، ثقافت ، جنس ، جسمانی معذوری وغیرہ کی کتنی ہی خلاف ورزی کیوں نہ ہوتی ہو۔

یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ ان حالات میں فیس بک کا استعمال کیا جانا چاہئے یا نہیں؟
کیا تمام مسلمانوں کو فیس بک پر سے اپنا اکاؤنٹ مستقلاً ختم کر لینا چاہئے؟

اسلام نے سائینس اور جدید تکنالوجی کے ذرائع سے استفادہ اور ان کے ذریعے تبلیغِ دین کو شائد کہیں بھی منع نہیں کیا بلکہ اس کی ترغیب ہی دلائی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا مخصوص ذریعہ بھی استعمال کیا جانا درست ہے جس کے کسی حصہ سے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل اہانت کی جاتی ہو؟ کیا "امر بالمعروف نھی عن المنکر" کی خاطر حمیتِ دین یا غیرتِ ملی سے دامن چھڑا لینا چاہئے؟

وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ اسلامی ممالک کے سربراہان اور معتبر و مقتدر علمائے کرام حفظہم اللہ اس موضوع پر اپنی مشترکہ رائے اور اپنے عملی اقدام سے دنیا کو آگاہ کریں۔

اس کا فیصلہ عوام کے جذبات پر چھوڑا جانا بہرحال درست عمل نہیں ہوگا !!

6 comments:

  1. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    واقعی یہ اظہارآزادی خیال ہےکہ ایک فریق کودبایاجائےدوسرےفریق کےساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالاجائے۔ تف ہےایسےعناصرپربھی جوابھی تک اس تفریق کونہیں سمجھ سکیں۔ اللہ تعالی ہم پررحم کرے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

    ReplyDelete
  2. ایک فیس بک، لیکن دو چہرے، ایک انتہائی بد صورت
    کیا خوبصورت ٹائٹل چنا ہے کسی نے
    میں تو ایسی کمیونٹی کا حصہ نہیں بننا چاہوں گا۔
    شکریہ

    ReplyDelete
  3. ویسے تو سوشلنیٹورکنگ کی کوئی صرورت ہی نہیں، اور اگر کسی کو ہو تو :
    www.millatfacebook.com

    ReplyDelete
  4. عبداللہ حیدر5/26/2010 6:44 PM

    السلام علیکم، بجا فرمایا کہ اسلامی ممالک کے سربراہان اور معتبر و مقتدر علمائے کرام اس مسئلے کے حل کے لیے پیش رفت کرنی چاہیے۔
    والسلام علیکم

    ReplyDelete
  5. "آج کے گلوبل ولیج میں کس کا بنیادی حق کیا ہے اور کس قدر ہے اور کتنی حد میں ہے ۔۔۔۔ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟
    "

    کيا خيال ہے پاکستان کے حوالہ نہ کرديا جائے يہ کام؟

    Pakistan blasphemy laws used to justify 'murder': EU parliament

    (STRASBOURG, 20 May) - The EU parliament on Thursday called on Pakistan to guarantee minority rights, claiming that its blasphemy laws could be used to murder members of political, racial and religious minorities.

    In a resolution adopted in Strasbourg, the assembled Euro MPs expressed "deep concern" at the Pakistani blasphemy laws, calling for a "thoroughgoing review" of the legislation which is "open to misuse."

    The laws can carry the death sentence and are "often used to justify censorship, criminalisation, persecution and, in certain cases, the murder of members of political, racial and religious minorities," the parliament said in a strongly-worded statement.

    The texts in question "are misused by extremist groups and those wishing to settle personal scores," the EU deputies said.

    They had also "led to an increase of violence against members of religious minorities, particularly Ahmadis, but also Christians, Hindus, Sikhs, Shiites, Buddhists, Parsis, Bahais and critical citizens who dare to raise their voice against injustice," they added.

    The parliament did recognise recent "measures taken in the interest of religious minorities," by the Pakistan government, such as establishing a quota of five per cent for minorities in the federal jobs sector, recognising non-Muslim public holidays and declaring a National Minorities Day.

    The chamber also welcomed the commitment made by Prime Minister Yousuf Raza Gilani to grant property rights to minority slum dwellers in Islamabad and the government's undertaking to provide minority seats in the Senate.

    However such initiatives cannot mask the reports and surveys by independent agencies which "reveal that minorities in Pakistan are deprived of basic civil liberties and equal opportunities in jobs, education and political representation," the parliament underlined.

    The resolution also criticised the practice of including religious details on citizens' passports, a practice which the MEPs argued could lead to "discriminatory practices..

    Present in Strasbourg was Pakistan's minorities minister Shahbaz Bhatti.

    He told AFP that his country was "trying to improve the situation and many steps have been taken."

    He said the Pakistani authorities had made a "commitment to amend these laws."

    "These laws will be changed in such a way which could not be harmful. I'm working on that, this will be done by the end of this year," he said.

    Pakistan, founded in 1947 as a Muslim homeland during the bloody partition of British India, is overwhelmingly Muslim. Religious minorities however form some five percent of the population, according to government figures.

    In June last year, blasphemy allegations led to mob violence against Christians in Punjab that caused hundreds to flee, according to the US State Department's annual report on religious freedom around the world.

    The report said there was particular discrimination against the Ahmadiya community, which Pakistan considers non-Muslim as adherents do not believe Mohammed was the last prophet.

    ReplyDelete
    Replies
    1. آج کا مسلمان ڈالر کا پوجاری ھے.اس لیے گڑ بڑ ساری ھے.

      Delete