2011/01/29

کیا آج اجماعی و اتفاقی مسائل کے تعمیرِ نو کی ضرورت ہے؟

ہمارے ایک دوست نے یہاں پر اپنا خیال کچھ یوں پیش کیا ہے۔ موضوعِ بحث ، وہی آج کا ہاٹ ٹاپک یعنی "قانونِ ناموسِ رسالت" رہا ہے۔
اقتباس ملاحظہ فرمائیں :
ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دین پر پھر سے غور کرنے سے ڈرتے ہیں۔ شش شش کہہ کر، ان کے رتبے اور فضیلت، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے قریب ہونے کا ڈراوا دے کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔ دین کے ذرائع ان کے پاس بھی وہی تھے جو آج ہمارے پاس ہیں۔ عقل و علم ان کے پاس بھی تھا جو آج ہمارے پاس بھی ہے۔ زمانہ ان کا وہ نہیں تھا جو آج ہمارا ہے۔ اس دور کے تقاضے اور تھے، آج کے تقاضے نئے اجماع اور اجتہاد کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ جو کہ ہو نہیں سکتا، چونکہ جو بندہ پچھلوں کے استدلال سے مختلف بات کرے گا وہ روشن خیال (روشن خیال کو گالی سمجھا جائے)، ناقص القعل، ناقص الایمان اور دشمن اسلام ہے۔
"نئے اجماع" کی مثال بھی خوب ہے۔ دوست محترم نے یہ نہیں بتایا کہ : یہ "نیا اجماع" پرانے اجماع کو توڑ کر بنایا جائے گا یا اس میں append ہوگا؟ اور مزید یہ کہ جب "اجماع" قابل تبدیل چیز ہے تو پھر ہر دَور کا اجماع علیحدہ علیحدہ ہونا چاہئے۔ اور وہ کون لوگ ہیں جو اس قسم کے زمانہ وار اجماع کو مرتب کریں گے؟

دراصل یہ افکار موجودہ دور کے ایک اسکول آف تھاٹ سے جاری ہو رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اسی موضوع پر ایک جگہ بحث ہوئی تو اس کے جواب میں ، میں نے اپنا جو کچھ مطالعہ نقل کیا تھا ، وہ اب یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
***
احادیثِ صحیحہ اور متقدم مفسرین و محدثین و ائمہ دین کے حوالے سے جب کوئی اجماعی و اتفاقی بات پیش کی جائے تو آج کے فہم کو قبول نہ ہونے کے سبب اس کا انکار کر دیا جاتا ہے۔ تو پھر ہم بھی کیونکر اس "فکر" پر اعتراض نہ کریں جو اہل علم کی متفقہ رائے کے خلاف نظر آتی ہو؟

فقہاء و علماء و محدثین کی کورانہ تقلید کی دعوت قطعاً نہیں دی جا رہی بلکہ ہمارے نزدیک تو تجدید و اجتہاد ، اور تحقیق و اکتشاف ، وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔
لیکن استدعا صرف یہ ہے کہ بحث و نظر کا دائرہ کار ، اجماعی و اتفاقی مسائل کے بجائے وہ امور ہونے چاہئے جو واقعتاً حل طلب ہیں۔
امت کے مابین ہمیشہ سے طے شدہ امور میں "اجتہاد" کا نتیجہ سوائے انتشار و افتراق کے کچھ نہیں جو امت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔

فکرِ غامدی یا انڈراسٹینڈنگ اسلام کی تحریروں کا مطالعہ کیا جائے تو جا بجا یہ جملے ملتے ہیں:
  • اس مسئلہ میں تمام فقہاء کی بالاتفاق یہی رائے ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ ۔۔۔۔
  • ہمارے علماء کا نقطہ نظر یہی ہے مگر ہمارا موقف یہ ہے کہ ۔۔۔۔
  • عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ۔۔۔۔ مگر ہمارے نزدیک یہ بالکل غلط ہے ۔۔۔
جبکہ درست رویہ یہ ہونا چاہئے کہ ۔۔۔۔۔۔
اہل علم کی متفقہ رائے کے بالمقابل کوئی نیا نقطہ نظر پیش کرنے کے بجائے ان کے دلائل پر غور و فکر کیا جائے اور گہرائی میں اتر کر اس کی معنویت تک پہنچنے کی کوشش کی جائے ، اس سے یقیناً صحیح نتیجے تک رسائی ہو جاتی ہے اور انسان شذوذ و تفرد سے محفوظ رہتا ہے !!

صاحبانِ انڈراسٹینڈنگ اسلام / اہل "المورد" کے تفردات اور شذوذات کی کچھ وجوہات تو ضرور ہوں گی مگر بنیادی سبب یہ ہے کہ انہوں نے "اجماع" کی اہمیت اور "اجماع" کی مسلمہ حیثیت کو نظر انداز کر دیا ہے۔ جس کی بنا پر وہ امت مسلمہ کے اجتماعی دھارے سے الگ تھلگ نظر آتے ہیں۔
یہ ایک غیرمناسب رحجان ہے اور مطالعۂ شریعت کے اس طریقہ کے منافی ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور سلف الصالحین رحمہم اللہ عنہم نے امت کے سامنے پیش کیا ہے۔
کسی استفسار کے بارے میں ایک عالم دین یا فقیہہ کو کیا رویہ اپنانا چاہئے ؟ اس کے متعلق عظیم المرتبت صحابئ رسول عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) کا قول ذیل میں ملاحظہ فرمائیں :
" إذا سئل أحدكم فلينظر في كتاب الله فإن لم يجده ففي سنة رسول الله فإن لم يجده فيها فلينظر فيما اجتمع عليه المسلمون وإلا فليجتهد "
جب تم میں سے کسی سے کوئی سوال کیا جائے تو اسے چاہئے کہ قرآن مجید سے اس کا حل تلاش کرے ، اگر وہاں نہ پائے تو سنتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں دیکھے ، اگر وہاں بھی نہ ملے تو پھر ان مسائل کو دیکھے جن پر مسلمانوں کا اتفاق ہے ، اور اگر یہاں بھی اس کا حل میسر نہ ہو تو پھر اجتہاد کرے ۔۔۔
بحوالہ : المقاصد الحسنة ، امام سخاوی

2011/01/06

احکامِ شریعت : کیا قانون عوام کے ہاتھ ہے؟

آج کی ایک فکر انگیز خبر پر انٹرنیٹ کی اردو دنیا میں کافی شور و غل ہے۔
اس حوالے سے بلاگر تانیہ رحمان نے ایک سوال کچھ یوں کیا ہے :
سلمان تاثیر کو قتل کرنا جائز تھا؟
اگرچیکہ اس سوال کے یک لفظی جواب پر راقم الحروف کے کچھ دوست احباب کی بھویں چڑھ جائیں گی مگر حقیقت یہی ہے کہ اس سوال کا کڑوا جواب "نہیں" کی صورت میں ہے !!

براہ مہربانی یاد رکھئے کہ اس "نہیں" کے پیچھے ان احادیثِ صحیحہ کا انکار نہیں ہے جن میں توہینِ رسالت کی سزا "موت" بیان کی گئی ہے۔ احادیثِ صحیحہ سے یقیناً یہ ثابت ہے کہ شاتمِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سزا موت ہے اور ان احادیث کی شرح میں موقر و معتبر علمائے و ائمہ دین کے اقوال موجود ہیں جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔

مگر ۔۔۔۔
سوال یہ ہے کہ کسی فرد کو توہینِ رسالت کا موجب یا "شاتمِ رسول" کون قرار دے گا؟
اور شریعت میں قائم "شاتمِ رسول" کی سزا پر عمل درآمد کون کرے گا؟
کیا ایک عام آدمی کو یہ حق دیا گیا ہے؟ اگر ہاں تو یہ میری کم علمی ہے کہ اس ضمن میں کسی مضبوط شرعی دلیل سے میں ناواقف ہوں۔

علامہ البانی رحمة اللہ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا : ۔۔۔ اور یقیناً یاد دہانی ایمان والوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔
ممکن ہے جب ہماری قوم جذباتیت کے بھنور سے نکلے تو ایسی یاددہانی اس کو فائدہ پہنچائے۔ ان شاءاللہ۔
اور وہ یاد دہانی بس اتنی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔

قتل جیسے سفاکانہ فعل پر تاویلات کے ذریعہ قاتل کی طرفداری مت کیجئے کہ :
اسلام اور دنیا کا کوئی بھی مہذب معاشرہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا !!
اگر کسی کو یہ بات ناپسند ہو کہ فلاں فلاں حکمراں فلاں فلاں شرعی قانون کے خلاف بولتا یا اس پر اعتراض کرتا ہے تب بھی شریعت نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا حق عوام کو نہیں دیا ہے !!
علاوہ ازیں ، اگر قانون کے حکمران خود قانون کو ہاتھ میں لے کر اسے کھیل تماشا بنا دیں تب بھی یہ اس بات کا جواز نہیں کہ عوام کو بھی اسی طرح کا "حق" حاصل ہو جائے گا۔

حکمراں سے ہمیں چاہے لاکھ اختلاف ہو ، اس کی (مشروط) اطاعت کا حکم ہمیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ) نے یوں دیا ہے :
السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ
مسلمان کے لیے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے ۔ ان چیزوں میں بھی جنہیں وہ پسند کرے اور ان میں بھی جنہیں وہ ناپسند کرے ، جب تک اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے۔ پھر جب اسے گناہ کا حکم دیا جائے تو نہ سننا باقی رہتا ہے اور نہ اطاعت کرنا۔
صحيح البخاري , كِتَاب الْأَحْكَامِ , بَاب السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلْإِمَامِ مَا لَمْ تَكُنْ

اور مقتول کو برا مت کہئے کہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ
مُردوں کو گالی مت دو کیونکہ ایسا کرنے سے تم زندوں کو ایذاء دو گے ۔
جامع الترمذي , كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ , بَاب مَا جَاءَ فِي الشَّتْمِ

یہ ایک عبرت انگیز واقعہ ہے۔ پس اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ نہ کہ فریقین کو برا یا بھلا کہنے میں وقت اور قوت ضائع کی جائے۔

updated : ضمیمہ
بشکریہ : فرخ علی قاضی
عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ سے کچھ سوال جواب یوں ہوئے ہیں :
سوال :
کیا اہانتِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مرتکب کو کوئی بھی عام مسلمان قتل کر سکتا ہے؟
جواب :
یہ بات صحیح ہے کہ اہانت رسول کرنے والے کی سزا موت ہے
لیکن اس کا حق صرف حکمران کو یا اس کے نائب کو ہے ہر کسی کو نہیں
سوال :
بعض لوگ دلیل دیتے ہیں کہ ایک صحابی نے بغیر حکومت کے بھی خود سے اپنی لونڈی کو قتل کر دیا کہ جب اس نے اہانت رسول کی
جواب :
یہ تو ایک واقعہ ہے کہ جب کوئی جذبات میں مغلوب ہوکر ایسا اقدام کرلے تو قدراللہ وماشاء فعل دلائل سے ثابت ہونے کے بعد اس کا مواخذہ پھر نہیں ہونا چاہیے مگر عمومی قاعدہ یہ نہیں کہ ہر کوئی خود سے قتل کر دے
سوال:
مرنے والے پر اظہار افسوس ؟؟
جواب :
نہیں افسوس تو نہیں ہوسکتا۔
سوال:
خوشیاں منانا اور مٹھائیاں تقسیم کرنا کیسا ہے؟؟
جواب:
یہ صحیح نہیں اس کی کوئی دلیل نہیں شریعت میں۔