2011/05/30

کند ہو کر رہ گئے مومن کے اخلاق و معاشرت

  • عقائد
  • عبادات
  • معاشرت
  • معاملات
  • اخلاقیات
شریعت اسلامی کے وہ پانچ شعبے ہیں جو عمل کے لحاظ سے مطلوب و مقصود ہیں۔
ایک مسلمان ان پانچوں شعبوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل کا پابند ہے۔

اسلامی شریعت کو اختیار کرنے کا آخر مطلب کیا ہے؟
صاف اور سیدھا مطلب تو قرآن کریم نے ہمیں یوں بتایا ہے :
اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔
( البقرہ : 208 )

"پورے کے پورے" داخل ہونے کا واضح مطلب یہ ہے کہ آدمی کل شریعت کو اختیار کرے اور زندگی کے تمام شعبوں میں دین کو لاگو کرے۔
ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی صرف "عقائد" و "عبادات" کو یہ سوچ کر اپنا لے کہ یہ دین کی بنیاد ہیں اور دیگر شعبوں کو نظرانداز کر دے اور خود کو "اہل حق" باور کر لے ۔۔۔ خود کو جنت اور دیگران کو جہنم کا حقدار سمجھ لے۔
دین کے کسی بھی شعبے کو کمتر سمجھنا یا زیادہ اہمیت کے قابل نہ سمجھنا ۔۔۔ ایمان و عمل کی کمزوری تو ہے ہی ، حدیث و سنت سے بھی دوری ہے۔

ہم میں سے اکثریت کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کچھ عقائد کو بنیاد کے طور پر سمجھ لینے اور کچھ عبادات کو عادات کے طور پر ادا کر لینے کو اپنا دین و ایمان باور کر لیا ہے۔
کسی دوست نے ایک جگہ نہایت اچھی بات لکھی تھی کہ :
ایک مسلمان بظاہر نمازوں کا بڑا اہتمام کرتا نظر آتا ہے ، ذکر و تلاوت کا بھی اہتمام ہے ، عقائد و ایمان کی پختگی ہے ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضہ پر بھرپور عمل ہے ، اسلامی وضع قطع کو بھی ملحوظ رکھتا ہے ، لیکن اس کی معاشرت و معاملات درست نہیں ہوتے ، اپنے اہل و عیال ، دوست احباب ، رشتہ دار پڑوسی اس سے نالاں رہتے ہیں ، وہ جب معاملہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی اور دھوکہ دہی سے کام لیتا ہے۔
ظاہر ہے کہ ایسے شخص نے دین کے صرف ایک حصہ کو "کل دین" سمجھ رکھا ہے۔ دین اس کے نزدیک صرف عقیدہ و عبادت کا نام ہے۔ حالانکہ دیکھا جائے تو وہ "عبادات" میں سب سے بڑا ناقص ہے ، اس لیے کہ عبادات میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی تاثیر رکھی ہے کہ اگر کوئی انہیں صحیح ڈھنگ اور روح کے ساتھ ادا کرنے لگے تو اس سے اس کی معاشرت اور اخلاق درست ہو جاتے ہیں۔

آج اگر ہم اپنی اپنی آن لائن اور آف لائن زندگیوں کا مشاہدہ کر لیں تو جابجا ایسی ہی صورتحال نظر آتی ہے۔
کتنے ہی ایسے لوگ اور ایسے گروہ ہیں جنہیں اپنے پختہ عقائد یا کامل دینداری پر اصرار ہوتا ہے ، وہ خود کو جنت کے اولین مستحق سمجھتے ہیں ۔۔۔
مگر جب ان کی زندگیوں اور روزمرہ کے معمولات کا جائزہ لیا جائے تو انکشاف ہوتا ہے کہ فلاں کی معاشرت غیر اسلامی ہے ، یا اگر معاشرت درست ہے تو معاملات و اخلاقیات کے شعبہ میں وہ کمزور ہے ۔۔۔۔

حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تو فرمایا ہے :
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ (صحيح بخاري)
کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان اور انسان محفوظ رہے۔
اور فرمایا :
الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَايِقَهُ (صحيح بخاري)
بخدا وہ شخص مومن نہیں ہو سکتا (سہ مرتبہ عرض فرمایا) جس کی تکلیفوں سے اس کا کوئی پڑوسی محفوظ نہ ہو۔

اور ۔۔۔۔
قرآن تو اہل ایمان کو مخاطب کر کے تاکید کرتا ہے کہ وہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں۔
ياأيها الذين آمنوا ادخلوا في السلم كآفة ولا تتبعوا خطوات الشيطان إنه لكم عدو مبين
اے ایمان والو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو ، بلاشبہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

صاحبِ "معارف القرآن" مولانا مفتی محمد شفیع صاحب علیہ الرحمۃ اس آیب کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اس آیت میں ان لوگوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے جنہوں نے اسلام کو صرف مسجد اور عبادات کے ساتھ مخصوص کر رکھا ہے ، معاملات اور معاشرت کے احکام کو گویا دین کا جز ہی نہیں سمجھتے۔ اصطلاحی دین داروں میں یہ غفلت عام ہے ، حقوق و معاملات اور خصوصاً معاشرت سے بیگانہ ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان احکام کو وہ اسلام کے احکام ہی یقین نہیں کرتے ، نہ ان کو معلوم کرنے اور سیکھنے کا اہتمام کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر عمل کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ اور پھر اس پر صدق دلی سے عمل کی توفیق عطا فرمائے ، آمین یا رب العالمین۔

2011/05/26

نعرۂ جاہلیت بھی ، نصرتِ اللہ کی امید بھی ؟

کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ۔۔۔
ایک انسان تلوار ہاتھ میں رکھتا ہے، لیکن ذہنى طور پر اتنا بزدل ہے کہ اس کے بازو دشمن کے مقابلہ میں تلوار اُٹھا نہیں پاتے تو ایسى تلوار کس کام کى؟
اسی طرح مسلمانوں کے پاس جدید سے جدید ٹیکنالوجى موجود ہو لیکن دشمن کى ایک بڑھک ان کے اوسان خطا کردے تو پھر ایسى ٹیکنالوجى کا کیا حاصل؟
بقولِ شاعر :
أسد عکى وفى الحروب نعامة
هیفاء تصفر من صفیر الصافر

(بیوى اپنے شوہر سے مخاطب ہے: ) میرے اوپر تو شیر بنا پھرتا ہے لیکن جنگ میں شتر مرغ ، کہ ذرا سى آہٹ سے کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔

ٹیکنالوجى علم سے وابستہ ہے۔ عالم اسلام میں جدید علوم کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ جامعات قائم ہونى چاہئیں لیکن ان جامعات میں سیرت اور اعجازِ علمى سلیبس (syllabus) کا لازمى جزو ہونا چاہئے تاکہ مادّى علوم کے ساتھ ایمان کو بھى جلا ملتى رہے۔

اعجازِ علمى سے ہمارى مراد ہے کہ قرآن و حدیث میں ایسے بہت سے اشارات ملتے ہیں جو سائنسى حقائق کا پتہ دے رہے ہیں۔ رابطہ عالم اسلامى کے صدر دفتر مکہ مکرمہ میں اعجازِ علمى کا مستقل شعبہ قائم ہے جس میں اس موضوع پر سیرحاصل کام ہوچکا ہے۔ ان کے اس کام سے رہنمائى حاصل کى جائے۔ مزید برآں ایسے اساتذہ کا انتخاب ہونا چاہئے جو سائنس کى تعلیم کے ساتھ طلبہ کے سینوں میں ایمان کى مشعلیں بھى فروزاں رکھیں۔
آج ہمارے کتنے عالى دماغ جوہر مغرب میں سائنس کى تعلیم حاصل کررہے ہیں اور کتنے ہى علم کے اعلىٰ مدارج حاصل کرچکے ہیں لیکن دیارِ مغرب کے ملحد ذہنوں سے تربیت پانے کى بنا پر حب ِعاجلہ کا شکار ہیں اور بجائے اوطانِ اسلام کو مضبوط کرنے کے اغیار کى خدمت کررہے ہیں۔ ہمارے کتنے جرنیل مغرب کى عسکرى تربیت گاہوں میں ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد معرکہ کفر و ایمان میں اپنى بے اعتقادى، ضعف ایمانى اور کم ہمتى کى بنا پر دشمنوں کے سامنے سپر ڈال چکے ہیں۔ سقوطِ بیت المقدس، سقوطِ ڈھاکہ اور اب سقوطِ بغداد انہى جرنیلوں کى سیہ کاریوں کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئے۔

اس وقت اُمت ِمسلمہ ستاون (57) ممالک میں سیاسى برترى اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اپنا ایک مستقل وجود رکھتى ہے، ہر مسلم ملک ایک اکائى کى حیثیت رکھتا ہے جو دوسرى اکائیوں کے ساتھ مل کر ایک عظیم اتحاد کى شکل اختیارکر سکتا ہے، لیکن سب سے پہلے ہر اکائى کو مضبوط کرنے کى ضرورت ہے۔
ان تمام عوامل کى بیخ کنى لازمى ہے جو ایک وحدت کو پارہ پارہ کرنے کى کوشش میں لگے ہوں، ان میں سرفہرست برادرى ازم، قبائلى عصبیت، علاقائیت، قومیت اور فرقہ واریت ہیں۔ کسى بھى اسلامى ملک کو دیکھ لیجئے، علاقائیت کا عفریت بھائى بھائى کے درمیان نفرت اور عداوت کے بیج بوتا نظر آئے گا۔
صومالیہ میں شمال و جنوب کى کشمکش، پاکستان میں شیعہ و سنى اور صوبائیت پر مبنى تعصبات کى آویزش، بنگلہ دیش میں سلہٹ اور غیر سلہٹى افراد کے درمیان تفاخر کى کیفیت، عراق میں تمام تر مصائب کے باوجود اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان اور پھر عربوں اور کردوں کے درمیان محاذ آرائى، افغانستان میں پختون، ازبک اور تاجک قوموں کے مابین تنافس جو امریکہ کے حملہ کے وقت کھل کر ظاہر ہوچکا، اس امر کى چند نمایاں مثالیں ہیں۔

نبى کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جو معاشرہ قائم کیا تھا، اس کى بنیاد مہاجرین و انصار کے درمیان اُخوت، محبت اور یگانگت پر رکھى گئى تھى۔مہاجر اور انصار کے دونوں معزز لقب اپنے اپنے اوصافِ حمیدہ کى بنا پر وحى الٰہى میں جگہ پاگئے :
والسابقون الأولون من المهاجرين والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان رضي الله عنهم ورضوا عنه وأعد لهم جنات تجري تحتها الأنهار خالدين فيها أبدا ذلك الفوز العظيم
( التوبة:9 - آيت:100 )

اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور متقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ ان سب سے راضى ہوا اور وہ سب اس سے راضى ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جارى ہوں گى اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بہت بڑى کامیابى ہے۔

لیکن جب انہى دونوں جماعتوں کے دو افراد ایک کنویں سے پانى نکالنے پرجھگڑ پڑے اور مہاجر نے مہاجرین کى دہائى دى اور انصارى نے انصار کى تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سب کام چھوڑ چھاڑ کر موقع نزاع پرپہنچے اور ببانگ ِدُہل ارشاد فرمایا:
أَبِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ
جاہلیت کا نعرہ لگاتے ہو، حالانکہ میں ابھى تمہارے درمیان ہوں۔
(حوالہ : جامع البيان عن تأويل آي القرآن ، أسد الغابة)
یعنى وہ معزز لقب جو "ہجرت" اور "نصرت" کے اعتبار سے انتہائى معزز اور قابل صد افتخار تھا، جب دو جماعتوں کو لڑانے کے لئے استعمال کیا گیا تو "جاہلیت کا نعرہ" کہلایا گیا، وہ جاہلیت جسے قبل از اسلام کفریہ دور سے تعبیر کیا جاتا تھا۔

کیا پاکستانى مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ نہیں کہ یہاں بھى صوبائیت اور مہاجرت کے نام پر بھائى بھائى کى گردن کاٹى گئى ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جارى ہے اور پھر بھى الله کى نصرت کى اُمید کى جاتى ہے!!
عرب ممالک میں قومیت کا نعرہ بڑى شان سے بلند کیا گیا، لیکن یہ نعرہ یہودیوں کى چھوٹى سى ریاست کا مقابلہ کرنے یا اہل فلسطین کو ان کى سرزمین واپس لوٹانے میں عربوں کى کوئى مدد نہیں کرسکا، عرب لیگ آج ایک بے جان لاشہ ہے جو تجہیز و تکفین کا منتظر ہے۔ صدام اور حافظ الاسد کى بعث پارٹى کے نام سے ایک بے خدا تحریک آپس میں جنگ وجدال، قتل و غارت اور سفاکى و درندگى کا ننگا ناچ ناچنے کے بعد خود بھى ڈوبى اور اپنى قوم کو بھى لے ڈوبى۔ کیا اب بھى اس کى باقیاتِ سیئہ سے خیر کى توقع کى جا سکتى ہے؟

(اقتباس بشکریہ مقالہ "دورِ حاضر ميں اُمت ِمسلمہ كے مسائل اور ان کا حل" از : ڈاکٹر صہیب حسن)

2011/05/16

عالِم بےعمل کو تبلیغ کا حق ۔۔۔؟

یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ : عالم بے عمل، کیا تبلیغ کا حق رکھتے ہیں؟

قرآن میں امت مسلمہ کو "خیر الامۃ" کا لقب دیا گیا ہے اور اس کے ذمہ "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" کا عظیم الشان فرض عائد کیا گیا ہے ، قطع نظر اس کے کہ کون مسلمان عمل والا ہے اور کون بےعمل؟ "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" کی ذمہ داری دونوں طبقوں پر برابر عائد ہے۔
بےشک یہ بات درست نہیں کہ خود سراسر بےعمل ہو کر دوسروں کو نصیحتیں کرتے جائیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" کا فریضہ اسلیے چھوڑ دیا جائے کہ خود ہم "بےعمل" ہیں۔

ویسے تو میں نے اس موضوع پر کچھ عرصہ قبل ایک تحریر یوں پیش کی تھی :
نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنا ۔۔۔؟

اس کے مطالعے کا اعادہ بہتر ہوگا۔
علم و عمل میں نمایاں فرق اور اس جیسی منافقت پر یہ ایک بہترین اقتباس ہے :
حضرت حسن بصری، تاریخ اسلام کی ایک بڑی شخصیت اکثر اپنے نفس پہ خفا ہوتے اور اپنے آپکو جھڑک کر کہتے حسن بصری، تو پرہیز گاروں اور اطاعت گذاروں جیسی باتیں کرتا ہے مگر تیرے کام تو جھوٹوں ، منافقوں اور دکھاوا کرنے والوں کے سے ہیں۔ سن لے اور خوب اچھی طرح سن لے کہ یہ اللہ سے محبت رکھنے والوں کی صفت نہیں کہ وہ سراپا اخلاص اور تمام تر ایثار نہ ہوں۔

لیکن ۔۔۔۔۔
اس اقتباس سے یہ ہرگز بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ اگر کوئی بےعمل ہے تو اس پر سے "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" کا فریضہ ساقط ہو جائے گا۔ اگر کوئی شرابی یا جواری ہو تو کیا ہم اس کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن کی اس آیت کو نہ تو خود ہرگز بھی پڑھے اور نہ دوسروں کو پڑھ کر ہی سنائے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون
اے ایمان والو! بےشک شراب اور جوا اور بُت اور (قسمت کا حال معلوم کرنے) فال کے تیر (سب) ناپاک شیطانی کام ہیں۔ سو تم ان سے پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ
( المائدة:5 - آيت:90 )

بات اگر حسن بصری رحمۃ اللہ کی نکلی ہے ہے تو یہی حسن بصری کہتے ہیں کہ :
ہم میں کون ایسا ہے جو وہ (سب کچھ) کرتا ہے ، جو وہ کہتا ہے؟ شیطان اسی بات کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، (تاکہ) پھر کوئی نیکی کا حکم نہ دے اور نہ ہی برائی سے روکے۔

حسن بصری نے یہ کیوں کہا ؟ تفسیر قرطبی (بہ تفسیر آیت : البقرہ-44) میں یہاں یہ واقعہ یوں درج ہے کہ ۔۔۔۔
حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) نے مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) سے کہا: "اپنے ساتھیوں کو نصیحت کیجئے"۔
مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) نے جواباً کہا : "میں ڈرتا ہوں کہ وہ بات کہہ نہ دوں جس کو میں خود نہیں کرتا"۔
یہ سن کر حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) کہنے لگے : "اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔ ہم میں کون ایسا ہے جو وہ (سب کچھ) کرتا ہے ، جو وہ کہتا ہے؟ شیطان اسی بات کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، (تاکہ) پھر کوئی نیکی کا حکم نہ دے اور نہ ہی برائی سے روکے"۔

ہمارے ساتھی بلاگر ڈاکٹر جواد نے اپنے ایک تبصرے میں یہ بات بالکل درست لکھی ہے کہ :
جو چیز آپکو بری لگ رہی ہے وہ رد عمل ہے جو قرآن و سنت کے خلاف کی جانے والی بات پر ہوتا ہے اور خاص طور پر اس وقت جب یہ بات اصلاح کے روپ میں کی جائے۔

مجھے نہیں معلوم کہ جب بھی قرآن و سنت کے حوالے سے کوئی اچھی بات کہی جاتی ہے تو لوگ اس کا رخ بدل کر پاکستان یا عالَمِ اسلام کے مسلمانوں کی دگرگوں حالاتِ زار کی طرف کیوں موڑ دیتے ہیں؟ کیا لوگوں کے حالات خراب ہوں تو اچھی بات کہنا روک دینا چاہئے اور بری باتوں سے منع کرنا ختم کر دینا چاہئے؟

اس موضوع پر امام ابوبکر الرازی الجصاص علیہ الرحمة نے بالکل بجا فرمایا ہے کہ :
(نیکی کا حکم دینے کے متعلق) لازم ہے کہ نیک اور فاسق پر اس کے واجب ہونے کے بارے میں کچھ فرق نہ ہو ، (بلکہ اس کا ادا کرنا دونوں پر واجب ہے) کیونکہ انسان کے بعض واجبات کے چھوڑنے سے دوسرے واجبات کا چھوڑنا لازم نہیں آتا !
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ نماز کا ترک کرنا ، انسان کے روزوں اور دوسری عبادات کے ترک کرنے کے لیے باعثِ جواز نہیں بن سکتا۔ اسی طرح جو شخص تمام نیکیاں بجا نہیں لا سکتا ، اور تمام برائیوں سے اجتناب نہیں کر سکتا ، اس پر سے بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا واجب ساقط نہیں ہوتا۔
بحوالہ : احکام القرآن ، امام ابی بکر الجصاص // آن لائن ربط

2011/05/11

دل تو ہے دل

کچھ ہفتہ قبل ہمارے ایک دوست کے دو صاحبزادے فیض کے کلام کی شرح پوچھنے آئے تھے۔ اس دفعہ دوبارہ تشریف لائے تو شرماتے مسکراتے۔ بلکہ آپس میں ایک دوسرے کو کہنی مارتے ہنستے کھلکھلاتے۔
بدقت تمام ایک بھتیجہ گویا ہوا : "انکل، دل والے محاورے چاہئے ، معنوں کے ساتھ"۔
دوسرے نے ہنسنا شروع کر دیا۔ استفہامیہ نظر اس پر ڈالی تو اسی طرح ہنستے ہوئے اپنے بھائی کی طرف اشارہ کرتے بولا :
"انکل ، اردو ٹیچر نے آج جب پوچھا تو جواب میں انہوں نے گننا شروع کر دیا یوں ۔۔۔۔
دل سے ، دل ہیکہ مانتا نہیں ، دل چاہتا ہے ، دل بولے ہڑپا ، دل تو پاگل ہے ، دل تو بچہ ہے جی ۔۔۔۔"
قصور بچارے بچوں کا نہیں۔ ماحول ہی کچھ ایسا بن گیا ہے کہ ڈش انٹینا کلچر یا مادر پدر آزادانٹرنیٹ سے ایسی ہی کچھ معلومات آجکل حاصل ہوتی ہیں۔ مطالعہ کم ہو گیا ہے۔ لغت دیکھنے کی کسی کو فرصت نہیں۔ انٹرنیٹ پر معلومات اردو زبان کی تہذیب و قواعد سے متعلق موجود نہیں بلکہ فلم ، تفریح اور دیگر لغویات پر مشتمل ہیں۔ ایسے میں چند ہی لوگ ہیں جو خدمتِ اردو کی خاطر فی سبیل للہ کام کئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر کو بیکار کے مباحث ، مسلکی مذہبی نظریاتی جھگڑوں ، سیاسی و ملکی حالات پر غیرضروری اور لٹھ بردار تبصروں سے فرصت نہیں۔ کاش کہ ہم سب اردو کی نئی نسل کی ہی خاطر کچھ نہ کچھ تعمیری کاموں کی طرف راغب ہوں۔
بہرحال گوگلنگ کرنے پر "دل" سے متعلق محاورے اردو یونیکوڈ تحریر میں کہیں نظر نہیں آئے۔ لہذا فیروز اللغات کی مدد سے یہ کچھ معروف و مقبول محاورے معانی کے ساتھ پیش خدمت ہیں۔

محاورہ | معنی
  1. دل آب آب ہونا | دل کا نرم ہونا
  2. دل آزردہ ہونا | افسردہ ہونا
  3. دل اُچاٹ ہونا | جی نہ لگنا ، جی اکتانا
  4. دل اُچٹ جانا | گھبرا جانا
  5. دل الٹ پلٹ ہونا | دل کا گبھرانا ، بےچین ہونا
  6. دل امڈ آنا | دل کا بھر آنا ، رونے کے قریب ہونا
  7. دل باغ باغ ہونا | بہت خوش ہونا
  8. دل بحال ہونا | دل کو چین آنا
  9. دل بدست آور کہ حج اکبر است | دلجوئی کرنا حج اکبر کے برابر ہے
  10. دل بَلیوں اچھلنا | بہت بےتاب ہونا
  11. دل بیٹھ جانا | ہمت نہ رہنا ، افسردہ ہونا
  12. دل پارہ پارہ ہونا | روحانی صدمہ ہونا
  13. دل پتھر ہو جانا | مصیبتیں جھیل جھیل کر دل کا سخت ہو جانا
  14. دل پر پتھر رکھ لینا | صبر کر لینا ، دل سخت کر لینا
  15. دل پر چھریاں چلنا | اندرونی صدمہ پہنچنا
  16. دل پر سانپ لوٹنا | افسوس ہونا ، پچھتاوا ہونا ، رشک ہونا ، حسد ہونا
  17. دل پر گھونسا پڑنا | اچانک کوئی صدمہ پہنچنا
  18. دل پر ہاتھ رکھ کے دیکھو | اپنی حالت کا اندازہ کر کے دوسرے کی نسبت کچھ کہو
  19. دل پکڑ کر بیٹھ جانا | صدمہ کی وجہ سے بول نہ سکنا یا گھبرا جانا
  20. دل ٹکڑے ٹکڑے ہونا | سخت صدمہ ہونا
  21. دل جگر دیکھنا | حوصلہ یا ہمت دیکھنا
  22. دل جل کر کباب ہونا | سخت رنج یا صدمہ ہونا ، رشک سے جلنا
  23. دل چیر کر دیکھنا | دل کا حال معلوم کرنا
  24. دل چیر کر دکھانا | راز ظاہر کرنا
  25. دل خون کرنا | بےحد محنت و مشقت کرنا
  26. دل دریا ہونا | بہت سخی یا فیاض ہونا
  27. دل دھک دھک کرنا | بیماری ، ڈر یا اضطراب سے دل کی حرکت تیز ہو جانا
  28. دل ڈانواں ڈول ہونا | دل بےاختیار ہونا ، دل قابو میں نہ ہونا
  29. دل ڈوبنا | غشی طاری ہونا
  30. دل سے اُتر جانا | بےوقعت ہو جانا ، بھول جانا
  31. دل سے کانٹا نکلنا | دل کی خلش جاتی رہنا
  32. دل کا ارمان نکلنا | آرزو پوری ہونا
  33. دل کا بخار | غصہ ، رنج ، کدورت ، ملال
  34. دل کا دو دو ہاتھ اچھلنا | بہت بےقرار ہونا ، مضطرب ہونا
  35. دل کا کنول کھلنا | خوش ہونا ، شگفتہ خاطر ہونا
  36. دل کباب ہونا | جلنا ، رنجیدہ ہونا ، غمگین ہونا
  37. دل کو دل سے راہ ہوتی ہے | محبت دونوں طرف سے ہوتی ہے
  38. دل کھول کے | بےدھڑک ، خاطر خواہ
  39. دل کی کلی کھلنا | آرزو پوری ہونا
  40. دل کی گانٹھ کھولنا | عداوت دور کرنا ، چھپے ہوئے کینہ کو دفع کرنا
  41. دل کی گرہ کھولنا | رنجش دور ہونا ، عقدہ کشائی ہونا ، راز ظاہر ہونا
  42. دل کے پھپھولے پھوڑنا | برا بھلا کہہ کر دل کا غصہ نکالنا، رنج و غم کے باعث جلی کٹی باتیں کرنا ، بدلہ لینا ، زہر اگلنا ، دردِ دل ظاہر کرنا
  43. دل گواہی دیتا ہے | دل تائید کرتا ہے
  44. دل لٹو ہونا | فریفتہ ہونا
  45. دل لگ جانا | جی بہلنا ، کسی کام میں مشغول ہو جانا ، محبت ہونا
  46. دل لوٹ پوٹ ہونا | فریفتہ ہونا ، شیدا ہونا ، عاشق ہونا
  47. دل مارنا | خواہشوں کو روکنا، ضبط کرنا
  48. دل مٹھی میں لینا | کسی کو قابو کرنا ، گرویدہ کر لینا
  49. دل مر جانا | دل میں کوئی خواہش نہ رہنا
  50. دل میں چٹکیاں لینا | طعنے دینا ، دل دکھانا ، درپردہ آزار پہنچانا
  51. دل میں چور بیٹھنا | بدگمانی ہونا ، بدظنی ہونا
  52. دل میں زہر بھرا ہونا | دل میں کسی کے متعلق دشمنی یا بدی ہونا
  53. دل میں غبار آنا | کدورت رکھنا
  54. دل میں کانٹا سا کھٹکنا | ناگوار گزرنا ، بار خاطر ہونا
  55. دل میں گرہ پڑنا | رنج و ملال ہونا
  56. دل میں گڑ جانا | پسند آنا ، اثر ہونا
  57. دل میں گھر کر جانا | دوستی پیدا کرنا ، محبت کرنا
  58. دل میں گھونسا لگنا | اچانک کوئی صدمہ پہنچنا
  59. دل میں لڈو پھوٹنا | بہت خوش ہونا
  60. دل میں ہُوک اٹھنا | رنج و غم کی بات یاد آنا
  61. دل ہارنا | ہمت ہار دینا ، گھبرا جانا
  62. دل ہلکا ہونا | رونے دھونے سے غم کا ہلکا ہونا
  63. دل ہوا ہو جانا | ڈر سے گھبرا جانا
  64. دل ہی دل میں | اندر ہی اندر ، چپکے چپکے