2011/10/16

ڈاکٹر محمد حمید اللہ اور صحیفہ ہمام بن منبہ

ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیدائش: [حیدرآباد دکن] 9 فروری 1908ء ، انتقال : [امریکہ] 17 دسمبر 2002ء) معروف محدث، فقیہ، محقق، قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد حضرت ہمام ابن منبہ کے صحیفے کی دریافت اور اس کی تدوین کا کام ڈاکٹر حمید اللہ کا بہت بڑا کارنامہ تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ فرانسیسی زبان میں ان کے ترجمہ قرآن کی اہمیت بھی مسلم ہے۔

صحیفہ ہمام بن منبہ کے دو مخطوطے ڈاکٹر حمید اللہ کو دستیاب ہوئے تھے، جن میں بال برابر بھی فرق نہ تھا۔ ایک دمشق میں تھا اور دوسرا برلن میں۔ اس صحیفے میں کل 138 احادیث موجود ہیں۔
مولانا عبدالرحمٰن کیلانی (علیہ الرحمۃ) لکھتے ہیں :
صحیفہ ہمام بن منبہ ، جسے ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے حال ہی میں شائع کیا ہے ، یہ ہمام بن منبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں۔ جنہوں نے یہ صحیفہ (جس میں 138 حدیثیں درج ہیں) لکھ کر اپنے استاد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (وفات:58ھ) پر پیش کر کے اس کی تصحیح و تصویب کرائی تھی۔ گویا یہ صحیفہ سن 58 ھجری سے بہرحال پہلے ہی ضبط تحریر میں لایا گیا تھا۔ اس کی ایک قلمی نسخہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے سن 1933 عیسوی میں برلن کی کسی لائیبریری سے ڈھونڈ نکالا۔ اور دوسرا مخطوطہ دمشق کی کسی لائیبریری سے۔ پھر ان دونوں نسخوں کا تقابل کر کے 1955ء میں حیدرآباد دکن سے شائع کیا۔ اور جہاں کہیں الفاظ کا اختلاف ہے ، اسے بھی واضح کر دیا۔
ہمیں یہ دیکھ کر کمال حیرت ہوتی ہے کہ یہ صحیفہ پورے کا پورا مسند احمد بن حنبل میں مندرج ہے۔ اور بعینہ اسی طرح درج ہے جس طرح قلمی نسخوں میں ہے ماسوائے چند لفظی اختلافات کے ، جن کا ذکر ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے کر دیا ہے۔ لیکن جہاں تک زبانی روایات کی وجہ سے معنوی تحریف کے امکان کا تعلق ہے ، اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اب دیکھئے امام احمد بن حنبل (رحمۃ اللہ) کا سن 240 ھجری ہے۔ بعینہ صحیفہ مذکور اور مسند احمد بن حنبل میں تقریباً 200 سال کا عرصہ حائل ہے۔ اور دو سو سال کے عرصے میں صحیفہ ہمام بن منبہ کی روایات زیادہ تر زبانی روایات کے ذریعے ہی امام موصوف تک منتقل ہوتی رہیں۔ اب دونوں تحریروں میں کمال یکسانیت کا ہونا کیا اس بات کا واضح ثبوت نہیں کہ زبانی روایات کا سلسلہ مکمل طور پر قابل اعتماد تھا۔
صحیفہ کی اشاعت اور تقابل کے بعد دو باتوں میں ایک بات بہرحال تسلیم کرنا پڑتی ہے :
1 : زبانی روایات ، خواہ ان پر دو سو سال گزر چکے ہوں ، قابل اعتماد ہو سکتی ہیں۔
2 : یہ کہ کتابتِ حدیث کا سلسلہ کسی بھی وقت منقطع نہیں ہوا۔
(بحوالہ : آئینۂ پرویزیت ، ص:533-534)

جامعہ الازہر کے معروف عالم ڈاکٹر رفعت فوزی عبدالمطلب اس مطبوعہ صحیفے کی تحقیق ، تخریج اور شرح کا کام کر رہے تھے اور وہ آدھا کام مکمل کر چکے تھے ، حسن اتفاق ایسا ہوا کہ "دارالکتب المصریہ" سے ایک اور مخطوطہ ان کے ہاتھ لگ گیا جو سن 557 ھجری کا مکتوب تھا۔
اس مخطوطے میں ان دونوں کے مقابلے میں ایک حدیث زائد ہے اور یہ زائد حدیث مسند احمد میں شامل صحیفے کی احادیث میں بھی موجود ہے۔ اب ڈاکٹر رفعت فوزی نے اسی مصری مخطوطے کو بنیاد بنا کر کام مکمل کیا۔ اسے "المکتبہ الخانجی" نے پہلی مرتبہ ستمبر 1985ء (بمطابق محرم الحرام 1406ھ) میں قاہرہ سے شائع کیا۔

صحیفہ ہمام بن منبہ کی 139 احادیث کی تفصیل کچھ یوں ہے :
61 - عقائد و ایمانیات
46 - عبادات
9 - معاملات
17 - اخلاقیات
9 - متفرقات
12 - احادیث قدسیہ

***
صحیفہ ہمام بن منبہ (عربی) ، ویکی سورس پر : الصحيفة الصحيحة - همام بن منبه
///
عربی پی۔ڈی۔ایف (12 میگابائٹس) ، المحقق: رفعت فوزي عبد المطلب - ڈاؤن لوڈ
///
صحیفہ ہمام بن منبہ (اردو ترجمہ) ، کتاب و سنت لائیبریری پر : ۔۔۔۔۔۔۔
اردو ترجمہ و شرح : حافظ عبداللہ شمیم
صفحات : 490
پی۔ڈی۔ایف فائل سائز : قریب 11 میگابائٹس
ڈاؤن لوڈ لنک : صحیفہ ہمام بن منبہ

2011/10/14

غرورِ زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو ۔۔۔۔

ابھی کچھ دن پہلے ایمیل سے کسی کا ایک سوال یوں موصول ہوا کہ :
کیا امر بالمعروف و نھی عن المنکر کا فریضہ ہر مسلمان پر لاگو ہوتا ہے؟ اور اگر ہاں تو اس کے شرعی آداب و شرائط کیا ہیں؟

اس موضوع پر ہر چند کہ ایک طویل عرصہ سے راقم الحروف نے مراسلات تحریر کئے ہیں۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں :

نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنے کا فرض
بےشک یہ بات درست نہیں کہ خود سراسر بےعمل ہو کر دوسروں کو نصیحتیں کرتے جائیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ "امر بالمعروف و نھی عن المنکر" کا فریضہ اسلیے چھوڑ دیا جائے کہ خود ہم "بےعمل" ہیں۔
امام ابوبکر الرازی الجصاص علیہ الرحمة فرماتے ہیں : ۔۔۔ جو شخص تمام نیکیاں بجا نہیں لا سکتا ، اور تمام برائیوں سے اجتناب نہیں کر سکتا ، اس پر سے بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا واجب ساقط نہیں ہوتا۔
کیا عالم بےعمل کو تبلیغ کا حق حاصل نہیں ہے؟
حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) نے مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) سے کہا: "اپنے ساتھیوں کو نصیحت کیجئے"۔
مطرف بن عبداللہ (رحمة اللہ علیہ) نے جواباً کہا : "میں ڈرتا ہوں کہ وہ بات کہہ نہ دوں جس کو میں خود نہیں کرتا"۔
یہ سن کر حضرت حسن (رحمة اللہ علیہ) کہنے لگے : "اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔ ہم میں کون ایسا ہے جو وہ (سب کچھ) کرتا ہے ، جو وہ کہتا ہے؟ شیطان اسی بات کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے ، (تاکہ) پھر کوئی نیکی کا حکم نہ دے اور نہ ہی برائی سے روکے"۔
جب بھی قرآن و سنت کے حوالے سے کوئی اچھی بات کہی جاتی ہے تو لوگ اس کا رخ بدل کر پاکستان یا عالَمِ اسلام کے مسلمانوں کی دگرگوں حالاتِ زار کی طرف موڑ دیتے ہیں یا پھر کہنے والے کی دیگر برائیوں کا اظہار شروع کر دیتے ہیں تاکہ قاری یا سامع کا ذہن بٹ جائے۔۔
اب یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس طرح کے طرزِ عمل کا حقیقی سبب کیا ہے؟
ویسے کسی نے یہ بات شاید بہت اچھی اور معقول کہی ہو کہ ۔۔۔۔
جو لوگ افراد ، ممالک یا گروہ و طبقہ جات کی انفرادی برائیوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں اور ان برائیوں کا برسرعام اظہار کر کے ان کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ تبلیغ دین کے اہم فریضے کو پورا کر رہے ہیں ۔۔۔ تو دراصل وہ تبلیغ کے پردے میں اپنے انتقامی جذبے کو تسکین پہنچانا چاہتے ہیں۔
ورنہ تو اسوۂ حسنہ سے ایسی تعلیمات ہمیں کہیں نہیں ملتیں کہ "نھی عن المنکر" کے بہانے کرید کرید کر مخالفین کی کمزوریاں تلاش کی جائیں اور انہیں اس حوالے سے ذاتی طور پر رسوا کیا جائے۔
ہر ناقص بات جو ذہن میں آئے ، ہر منفی سوچ جس پر نفس اکسائے ، ہر برا رویہ جو مشتعل کرے ۔۔۔۔ ضروری نہیں ہے کہ اسے بیان بھی کیا جائے چاہے "نھی عن المنکر" کے نام پر یا چاہے مظلومیت کے ناتے سہی۔
اگر ہر خرابی بیان کرنے والی ہوتی تو خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اللہ عز و جل کی طرف سے اُس وقت ٹوکا نہ جاتا (آل عمران : 128) جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کفار پر لعنت کر رہے تھے۔ جب کفار پر لعنت کرنے سے رب عظیم نے منع کیا تو ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہئے کہ ہم کیسے مسلمان ہیں کہ اپنے ہی بھائی کا گوشت نوچنے سے باز نہیں آتے!

ان تمام کاموں سے بہتر کام تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سنت ہے جو واشگاف الفاظ میں یوں بیان ہوئی ہے :
من ستر مسلما ستره الله في الدنيا والآخرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه
جو شخص کسی مسلم پر پردہ ڈالے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں پردہ ڈالے گا اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں (رہتا) ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں (رہتا) ہے۔
صحیح مسلم ، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ

نیتوں کا اخلاص صرف یہ نہیں ہوتا کہ قرآن و سنت کی باتیں زبانی کلامی قلمی کہہ دی جائیں یا آگے فارورڈ کر دی جائیں یا ایمیل سرکلر بھیج دیا جائے یا بلک ایس۔ایم۔ایس سے استفادہ کر لیا جائے ۔۔۔ بلکہ کم از کم تحریر کی حد تک عمل بھی یوں ہو کہ کسی لفظ / فقرے سے کسی پڑھنے والے کا دل نہ دکھے اور وہ یہ نہ سمجھے کہ بھری محفل میں اشارے کنایے سے اس کو مذاق کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

صحیح بخاری سے ایک سبق آموز واقعہ پڑھئے۔ ہرچند کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمومی طور پر شرابیوں پر لعنت بھیجی ہے۔ لیکن جب ۔۔۔۔۔۔
ایک شرابی کو کئی بار پکڑ کر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سامنے لایا گیا تو ایک شخص بالآخر بول اٹھا کہ :
اس پر اللہ کی لعنت کہ بار بار پکڑ کر دربارِ رسالت میں پیش کیا جاتا ہے ۔
رسولِ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ سنتے ہی فرمایا :
اسے لعنت نہ کرو۔ کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت کرتا ہے۔

اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) تو "ام الخبائث" کے شکار فرد کو اس کی برائی کے باوجود اسے ملعون کہنے سے منع فرماتے ہیں اور ایک ادھر ہم ہیں کہ معمولی معمولی سی ذاتی رنجشوں یا کچھ مسلکی نظریاتی اختلافات کے سہارے ایک دوسرے کی بےمحابا توہین و تضحیک سے باز نہیں آتے۔

ملت کا درد رکھنے والے علامہ اقبال نے شاید ایسے ہی واعظ و مبلغ کے لیے فرمایا تھا کہ :
کوئی یہ پوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہے
جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے
غرور زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو
کہ بندگان خدا پر زباں دراز کرے

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اعلیٰ ظرفی ، کشادہ دلی اور وسیع الذہنی عطا فرمائے اور قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات کے علم و عمل سے نوازے ، آمین۔