2005/12/13

پیسہ اور خوشی

جب پیسہ آتا ہے تو خوشیاں روٹھ جاتی ہیں۔
ہر چیز اپنے پاس ہو یا اپنی قوتِ خرید میں ہو تو وہ مسرت کہاں رہتی ہے جو بڑے ارمانوں اور انتظار کے بعد اور بہت جتن کر کے کسی چیز کے حصول سے ملتی ہے۔
اور پھر جھوٹی خوشیوں کے لئے تو سرکل بنانے پڑتے ہیں۔ وَن ڈِش پارٹیاں کرنی پڑتی ہیں ، ہر ہفتہ غیر ملکی کپڑے کے نت نئے فیشن اور ڈیزائن والے لباس سلوانے پڑتے ہیں، اپنی آمدنی اور ٹھاٹھ باٹھ کے اظہار میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے بہت جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔
دولت کے بل پر دوسروں سے اونچا نظر آنے کی خواہش کتنی بڑی مجبوری بن جاتی ہے اور خوشی پھر بھی نہیں ملتی۔
یہ وقت کی زنجیر ہے ۔ اس کی کڑیاں بڑھتی جاتی ہیں ، اور آدمی زیادہ سے زیادہ اپاہج اور معذور بنتا جاتا ہے۔ .........................................................
( تحریر : محی الدین نواب )

1 comment: