2006/06/11

پسندیدہ اشعار


اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہہ رہا ہے موجِ دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سورج بھی بسا اوقات کارآمد نہیں ہوتا
اندھیروں سے نکلنے کے لئے بینائی کافی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاند کا کردار اپنایا ہے ہم نے دوستو
داغ اپنے پاس رکھے روشنی بانٹا کئے

2006/06/06

تقویٰ

گو زندگی کے سینکڑوں رنگ اور ہزاروں موڑ ہیں مگر صرف دو راستے ایسے ہیں ، جن میں سے ایک راستہ تقوے کی طرف جاتا ہے اور
دوسرا راستہ ۔۔۔
دوسرا راستہ دنیاوی چکا چوند کا ایسا راستہ ہے جس پر کہکشاں جیسی بھول بھلیاں بنی ہوئی ہیں ، جگمگاتی ہوئی ، مسکراتی ہوئی ، نور لٹاتی ہوئی ، دل کو لبھاتی ہوئی ، قریب بلاتی ہوئی ، جنوں کو تیز تر کرتی ہوئی ۔
جب زیست کا ہر عیش و آرام میسر ہو ۔ دنیا ایک مکمل چاند کی طرح اپنی چاندنی سستے مول لٹاتی نظر آ رہی ہو تو پھر تقوے کا راستہ اختیار کرنا بڑا کٹھن کام ہے ۔ مرد و زن دونوں کے لئے ۔ لیکن نفس جگمگاتی روشنیوں کی طرف دبے پاؤں دوڑتا ہے ۔
نفس کو سرکشی سے باز رکھنا تقویٰ کہلاتا ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور تقوے کا راستہ جنت کا راستہ ہے ۔
.................................................
اقتباس : بشریٰ رحمان

2006/06/05

نیکی کا ارادہ

انسان کی زندگی میں ایسے کتنے ہی لمحات آتے ہیں جب وہ مقصدِ حیات کے بارے میں کچھ نہ کچھ سوچتا ضرور ہے۔
لیکن ایسا کتنی بار ہوتا ہے جب ہم اپنی مثبت سوچ کو عملی جامہ بھی پہنائیں؟
ہم سرراہ کسی ضرورت مند یا مصیبت زدہ کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ کل اس کے لئے ضرور کچھ کریں گے ، لیکن زندگی کی مصروفیت میں الجھ کر اپنے آپ سے کیا گیا یہ وعدہ ہم بھول جاتے ہیں ۔
کبھی ضعیف الاعتقاد لوگوں کو مزاروں کی مٹی پر خواہ مخواہ چادریں چڑھاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ ان لوگوں کو جا کر سمجھانا چاہئے کہ وہ بھوکے ننگے لوگوں کو جسم ڈھانپنے کے لئے یہ چادریں دے دیں توزیادہ بہتر ہوگا ۔ مگر مصروفیت یا مصلحت کو دیکھ کر ہم یہ نیک کام بھی فراموش کر جاتے ہیں۔
اگر ہر انسان کو اپنی طبعی زندگی کے آخری لمحے کا علم ہو تو اپنے آپ سے کئے وعدوں کو وہ ایک خاص مدت تک ٹال بھی سکتا ہے۔ لیکن سنگین بات یہ ہے کہ انسان اپنی حیات کے آخری لمحے کا تعین نہیں کر سکتا
پھر ۔۔۔ ؟
نیکی کا ایک ایسا ارادہ، ایک ایسا وعدہ ۔۔۔ جس سے ہماری روح مطمئن ہوتی ہو ، ہم کیوں اسے وفا نہیں کر پاتے؟