2006/07/23

ضمیر کی عدالت

اگر انسان ضمیر کی عدالت کے فیصلے تسلیم کرتا رہتا تو آج دنیا میں کسی اور عدالت کی ضرورت پیش نہ آتی۔
صاحبو ! تم سب ایسی عدالت میں کھڑے ہوئے ہو جہاں کسی گواہ کی ، کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
یہاں انسان کا دل خود ہی جھوٹ اور سچ کی گواہی دیتا ہے۔
اے لوگو ! تم اپنے دلوں میں جھانک کر دیکھو۔
اگر تم کسی کا حق تسلیم نہیں کر رہے ہو تو تسلیم کر لو۔
اکثر لوگ اپنی ایک غلطی کو درست ثابت کرنے کے لیے دوسری غلطی کرتے ہیں ۔ تم نہ کرو۔
اکثر بزرگ چھوٹوں کے حقوق دینے میں اپنی توہین محسوس کرتے ہیں۔
تم محسوس نہ کرو۔ چھوٹوں کے حقوق ادا کرتے رہنے ہی میں بزرگوں کی عظمت ہے۔
.........................................................
( تحریر : محی الدین نواب )

2006/07/01

زندگی کی کہانی

‫زندگی ۔۔۔
ایک طویل اکتا دینے والی کہانی ہے ۔
اِس کہانی کو صرف وہی شخص کامیابی کے ساتھ پڑھ سکتا ہے جس کی توجہ ہمیشہ کہانی کے اگلے پیراگراف پر لگی رہے۔
زندگی ۔۔۔
ایک تلخ تجربے کا نام ہے ۔
کھوئے ہوئے مواقع کا افسوس
گزرے ہوئے حادثات کی تلخیاں
لوگوں کی طرف سے پیش آنے والے برے سلوک کی یاد
اپنی کمیوں اور تنگیوں کی شکایت ۔۔۔
غرض بے شمار چیزیں ہیں جو آدمی کی سوچ کو منفی رُخ کی طرف لے جاتی ہیں۔
آدمی اگر ان باتوں کا اثر لے تو اس کی زندگی ٹھٹھر کر رہ جائے گی۔
.................................................
اقتباس : مولانا وحید الدین خاں