2008/01/28

اسلام اور مذہبی رواداری

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اسلام نے ضمیر اور اعتقاد کی آزادی کا حق دیا ہے۔ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ کفر و ایمان میں سے جو راہ چاہے اختیار کر لے۔
اور بےشک اسلام نے مذہبی دلآزاری سے منع کیا ہے۔

ان کو برا بھلا نہ کہو جنہیں یہ لوگ اللہ کے ماسوا معبود بنا کر پکارتے ہیں۔
( سورة الانعام : 6 ، آیت : 108 )

لیکن ۔۔۔۔
یہ خیال رکھا جانا چاہئے کہ اسلام میں جہاں مذہبی دلآزاری سے منع کیا گیا ہے وہیں برہان ، دلیل اور معقول طریقے سے مذہب پر تنقید کرنا اور اختلاف کرنا ، آزادیِ اظہار کے حق میں شامل ہے۔
خود مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اہلِ کتاب اور دیگر مذاہب کے حاملین سے اگر گفتگو کی جائے تو تحمل اور رواداری کا مظاہرہ کیا جائے اور احسن انداز اپنایا جائے ‫:
اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو مگر احسن طریقے سے۔
( سورة العنکبوت : 29 ، آیت : 46 )

مگر ۔۔۔۔
اسلام میں "رواداری" کا تصور یہ نہیں ہے کہ مختلف اور متضاد خیالات کو درست قرار دیا جائے۔ اس ضمن میں مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ نے بہت عمدہ فکر پیش کی ہے ، ملاحظہ فرمائیں ‫:

"رواداری" کے معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں کے عقائد یا اعمال ہمارے نزدیک غلط ہیں ، ان کو ہم برداشت کریں ، ان کے جذبات کا لحاظ کر کے ان پر ایسی نکتہ چینی نہ کریں جو ان کو رنج پہنچانے والی ہو ، اور انہیں ان کے اعتقاد سے پھیرنے یا ان کے عمل سے روکنے کے لیے زبردستی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔
اس قسم کے تحمل اور اس طریقے سے لوگوں کو اعتقاد و عمل کی آزادی دینا نہ صرف ایک مستحسن فعل ہے ، بلکہ مختلف الخیال جماعتوں میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
لیکن اگر ہم خود ایک عقیدہ رکھنے کے باوجود محض دوسرے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ان کے مختلف عقائد کی تصدیق کریں ، اور خود ایک دستور العمل کے پیرو ہوتے ہوئے دوسرے مختلف دستوروں کا اتباع کرنے والوں سے کہیں کہ : آپ سب حضرات برحق ہیں ، تو اس منافقانہ اظہارِ رائے کو کسی طرح "رواداری" سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔
مصلحتاً سکوت اختیار کرنے اور عمداً جھوٹ بولنے میں آخر کچھ تو فرق ہونا چاہئے ‫!!

بحوالہ : تفہیمات ، جلد اول ، صفحہ : 114-115

2008/01/19

مروجہ معاشرتی مسائل

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ایک معاشرتی مسئلہ یہ ہے کہ ہم دو مختلف باتوں کو ایک ساتھ جوڑ رہے ہوتے ہیں ۔
کسی کا گناہ کرنا ہم کو یہ حق نہیں دیتا کہ ہم اس سے یوں پوچھیں کہ : اس نے داڑھی رکھ کر کیوں گناہ کیا؟
فرض کیجئے کہ ہمارا چھوٹا بھائی حساب کے امتحان میں فیل ہو جاتا ہے مگر تاریخ کے امتحان میں پاس ہو جاتا ہے۔ کیا ہم اس سے ایسا پوچھ سکتے ہیں کہ : تاریخ کے امتحان میں کامیاب ہو کر وہ حساب کے امتحان میں کیوں کر ناکام ہوا ؟
نہیں ناں ۔ سوال تو ہم صرف اتنا کریں گے کہ حساب کے امتحان میں وہ کیوں ناکام ہوا ؟
جو بات غلط ہے بس وہی بات غلط ہے ، اور اُس ہی غلط بات کی نشاندہی کی جانی چاہئے ۔ کسی اچھی بات کو اس سے جوڑ کر طعنہ دینا مناسب نہیں۔
کس نے داڑھی کا سہارا لیا ہوا ہے اور کس نے نہیں ؟
یہ ہمارا ، اُن کا یا دوسروں کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ تو صرف اُس شخص کی دلی نیت کا اور اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے ، جو ہم نہیں جانتے۔

سورہ البقرہ کی آیت 208 کے مفہوم کے مطابق ، اللہ کا حکم ہے کہ : مسلمان اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں ، ایسا نہ کریں کہ بعض احکام کو لے لیں اور بعض کو چھوڑ دیں بلکہ مکمل اسلام کو اختیار کریں۔
اگر ہم مکمل اسلام اختیار نہیں کر سکتے تو ہم کو یہ حق بھی حاصل نہیں کہ کسی اسلامی حکم کو یہ کہہ کر کہ اس پر ثواب ہے ، اس پر گناہ نہیں ۔۔۔ ایزی لے لیں۔
یاد رکھا جانا چاہئے کہ خود رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا حکم ، اللہ کا حکم ہوتا ہے ، رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) خود اپنی مرضی سے کوئی حکم جاری نہیں کرتے۔
رسول اپنی مرضی سے نہیں بولتے بلکہ وہ اللہ کی طرف سے وحی ہے جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے۔
( سورة النجم : 53 ، آیت : 3-4 )

اور جو کچھ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) حکم دیں ، اس پر عمل آوری ہر مسلمان کا فرض ہے ۔
جو کچھ تمھیں رسول دیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں اس سے رک جاؤ
( سورة الحشر : 59 ، آیت : 7 )

ہم یا کوئی اور ۔۔۔ کسی اسلامی حکم پر بوجہ عمل نہ کر پاتے ہیں تو اس معاملے میں خاموش ہی رہنا چاہئے یہ دعا کرتے ہوئے کہ اللہ ہمیں اس پر عمل کی توفیق جلد سے جلد نصیب فرمائے۔
لیکن کسی مسلمان کا یہ رویہ قابلِ اعتراض ہے کہ ثواب گناہ کے درجے متعین کرتے ہوئے دانستہ یا نادانستہ طور پر ایک تو عام مسلمان کو اسلامی احکام سے برگشتہ کرے اور جو لوگ عمل کرتے ہوں اُن کو دوسروں کی نظروں میں کمتر دکھائے۔

ویسے یہ ہمارے معاشرے میں ایک غلط رویہ سا پھیل گیا ہے کہ کسی کو دین کی کوئی بات بتائیں اور عمل کرنے کو کہیں تو فوراََ پلٹ کر جواب دیا جاتا ہے کہ جاؤ پہلے نماز پابندی سے ادا کرو یا زکوٰۃ کی پابندی کرو یا حقوق العباد پورے کرو وغیرہ وغیرہ ۔
ارے بھائی ، جہاں دین میں نماز روزہ زکوٰۃ ہے وہیں داڑھی بھی ہے اور ٹخنوں سے اونچا لباس بھی ۔ دین چار پانچ مخصوص عبادتوں کا نام نہیں۔ دین تو مکمل اور بالکل وہی ہے جس کی وضاحت قرآن اور احادیث میں درج ہے۔
ہر بات کو قرآن اور حدیث سے پرکھ کر دیکھئے ، اگر حق ہے تو قبول کیجئے اور اقرار کیجئے کہ حق بات ہے ۔ اور اگر آپ کا عمل اس بات پر نہیں ہے تو پلٹ کر اعتراض مت کیجئے کہ جاؤ آپ پہلے یہ کرو اور وہ کرو۔