2008/07/26

ظالم / مظلوم

انسان دوسروں پر ظلم کرتا ہے اور خود ہی مظلوم بن کر دعا مانگتا ہے۔ دعا قبول نہ ہو تو اللہ کی رحمت سے انکار کرتا ہے۔
بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی غلطیوں کو سمجھتے ہیں اور خود ہی اپنی غلطیوں کی تلافی کرتے ہیں۔

2008/07/07

صحابی کسے کہتے ہیں ؟

حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنی مشہور کتاب "الإصابة في تمييز الصحابة" میں "صحابی" کی تعریف یوں کی ہے ‫:
الصحابي من لقي النبي صلى الله عليه وسلم مؤمنا به ، ومات على الإسلام
صحابی اسے کہتے ہیں جس نے حالتِ ایمان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اسلام پر ہی فوت ہوا۔

پھر درج بالا تعریف کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمة اللہ مزید کہتے ہیں ‫:
فيدخل فيمن لقيه من طالت مجالسته له أو قصرت ، ومن روى عنه أو لم يرو ، ومن غزا معه أو لم يغز ، ومن رآه رؤية ولو لم يجالسه ، ومن لم يره لعارض كالعمى . ويخرج بقيد الإيمان من لقيه كافرا ولو أسلم بعد ذلك إذا لم يجتمع به مرة أخرى
اردو ترجمہ : ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
اس تعریف کے مطابق ہر وہ شخص صحابی شمار ہوگا جو ۔۔۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حال میں ملا کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی رسالت کو مانتا تھا
پھر وہ اسلام پر ہی قائم رہا یہاں تک کہ اس کی موت آ گئی
خواہ وہ زیادہ عرصہ تک رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبت میں رہا یا کچھ عرصہ کے لیے
خواہ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی احادیث کو روایت کیا ہو یا نہ کیا ہو
خواہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہوا ہو یا نہ ہوا ہو
خواہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو یا (بصارت نہ ہونے کے سبب) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دیدار نہ کر سکا ہو

ہر دو صورت میں وہ "صحابئ رسول" شمار ہوگا۔
اور ایسا شخص "صحابی" متصور نہیں ہوگا جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لانے کے بعد مرتد ہو گیا ہو۔

بحوالہ ‫:
الإصابة في تمييز الصحابة : أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي ، ج:1 ، ص:7-8


فضائل اصحاب النبی (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کے ضمن میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ‫:
عن عبد الله بن عمر، قال: من كان مستناً فليسن. ممن قد مات، أولئك أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا خير هذه الأمة، أبرها قلوباً، وأعمقها علماً، وأقلها تكلفاً، قوم أختارهم الله لصحبة نبيه صلى الله عليه وسلم ونقل دينه، فتشبهوا بأخلاقهم وطرائقهم فهم أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا على الهدى المستقيم
اردو ترجمہ : ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
اگر کوئی شخص اقتداء کرنا چاہتا ہو تو وہ اصحابِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سنت پر چلے جو وفات پا چکے ہیں ، وہ امت کے سب سے بہتر لوگ تھے ، وہ سب سے زیادہ پاکیزہ دل والے ، سب سے زیادہ گہرے علم والے اور سب سے کم تکلف کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبت کے لیے ، اور آنے والی نسلوں تک اپنا دین پہنچانے کے لیے چُن لیا تھا ، اس لیے تم انہی کے طور طریقوں کو اپناؤ ، کیونکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھی تھے ، اور صراط مستقیم پر گامزن تھے۔

بحوالہ ‫:
حلية الأولياء لأبي نعيم ، ج:1 ، ص:162