2009/05/26

یہ عشق نہیں آساں ۔۔۔

عشق یا عشقِ رسول کے موضوع پر یہاں اور یہاں کافی گفتگو چل نکلی تھی۔ پھر سرچنگ میں ایک عمدہ مضمون نظر سے گزرا جو سعودی عرب میں مقیم ایک معروف قلمکار کے قلم سے تحریر کردہ ہے۔
اسی مضمون سے چند مفید اقتباسات ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

***

نزولِ قرآن کے وقت دنیا کی نئی صورتگری کرنے کے لئے صاحبِ مہبطِ وحی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جو مطلوبہ ایثار کی ضرورت ان کے چاہنے والوں سے تھی ، یعنی صحابہ (رضوان اللہ عنہم اجمعین) کو جو درسِ فنا دیا جانا مطلوب تھا ، اس کے لیے قرآن اور صاحبِ قرآن نے اس لفظ "عشق" کو اپنی پوری توانائی کے علی الرغم ردّ کیا۔
اور کہیں بھی اپنے نصابِ دانش میں قربانیوں اور محبتوں کے ہزاروں واقعات کی ترسیل کے لیے اس لفظ کو نہیں برتا۔
کیونکہ اس لفظ نے اپنی ایک پوری دنیا تعمیر کر لی تھی۔ جہاں اس کے چشمہ صافی میں دیگر غیر محترم و مشکوک موضوعات کی گدلاہٹ شامل ہو چکی تھی۔
قرآن نے اپنے تمدنی تقاضے "محبت" کے لفظ سے پورے کئے ! جبکہ اس لفظ "عشق" کی دلکشی سے کم کشش لفظ "محبت" میں ہے۔ لیکن یہ موضوع کی ترسیل میں آبِ زمزم میں شراب کی آمیزش ہونے نہیں دیتا۔

علامہ اقبال نے اپنی فکر سے اپنی آرزوؤں کی ایک الگ دنیا تعمیر کی ہے۔ اس لیے اقبال کے ہاں عشق کا تصور بالکل مختلف ہے۔ جہاں خیال کی قوت اپنی شوکت کی جلوہ نمائی کے لئے بساطِ شعر میں آتی ہے تو لفظ اپنا حسب نسب بھول جاتے ہیں۔
جہاں روایت کی حیثیت بےشکل پتھر سے زیادہ کی نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کی بدہئیتی ، تاج محل کے معمار کے ہاتھوں دائمی ہنروری کے تاریخ رقم کرواتی ہے۔
مثال کے طور پر اقبال نے "خودی" کے لفظ میں بجلیاں بھر دی ہیں۔ جبکہ ان سے پہلے یہ لفظ اپنی روح اور داخلی امراض کے سبب متعفن تھا۔ اور آج حسنِ ذات اور جوہرِ ذاتی کی آبرو اس لفظ کی معنوی جہت کی یافت میں پنہاں ہے۔
اس لیے ہمیں "عشق" کے موضوع پر اقبالیات کو ایک ایسے جہانِ نو کی طرح سمجھنا چاہئے جو سب سے الگ اور مکمل ہے۔ جہاں بدر و حنین ، صبرِ حسین (رضی اللہ عنہ) سب کچھ عشق ہے۔
ورنہ تو ۔۔۔۔۔

یہ "عشق" کا نعرہ مستانہ کانٹ چھانٹ کر جب پاکستان کا "جنون میوزیکل گروپ" گاتا ہے تو سننے والوں کو عشق کا وہ گداز نہیں ملتا جو اقبال کی نظم "ساقی نامہ" پڑھتے ہوئے دنیا بھر کو ملا۔
یعنی ۔۔۔۔ جنون گروپ نے یہ تو شامل کیا :
جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
میرا عشق میری نظر بخش دے
لیکن ہر اس مصرعے کو کاٹا ہے جہاں چل کر اقبال کا تصورِ عشق اس کی معنوی بےسمتی کو راہ پانے نہیں دیتا ، جیسے ۔۔۔
دلِ مرتضی (رض) سوزِ صدیق (رض) دے
وغیرہ۔

عشق کو ہوا دینے والوں میں ۔۔۔۔ اہم ترین دنیائے ادب کی جنون تاب شاعری ہے اور اس کی تصوراتی اچھل کود ، فلم اور آرٹ کے تراشے ہوئے رنگین خوابوں میں کھوئے ہوئے لوگ۔۔۔۔ اب اسی عکس و آواز کے آفریدہ گھرانوں کی ہلاکت خیزیاں لوگ دیکھ رہے ہیں۔
مشرقی تہذیب کے جیالے عشق کے نام پر پردۂ سیمیں کی طوفان بدتمیزیوں کو اپنے گھروں کی آخری چوکیاں بھی ہار کے لے آئے !

یاد رہے کہ لغت کے بکھیڑوں میں جذبات کی ہلاکت خیزیاں حدوں کا تعین نہیں کرتی۔ آج الفاظ کا وجود معنوی ارتداد کا شکار ہو چکا ہے۔
اس لیے مشکوک کو متروک ہی رہنے دو ۔۔۔ یا اس پر گہری نگاہ رکھو :

علامتیں ہیں نئے دور کی برہنہ سب
مگر مزاج غزل کا غلاف چاہتا ہے
(ظفر سنبھلی)


---
بشکریہ : نعیم جاوید صاحب کا مضمون

2009/05/21

جذبات کا آن لائن سفر

ہمارے ایک دوست نے کہا ہے :
زباں سے کہہ بھی دیا کہ دیارغیرمیں ‌ہوں مطمئن تو کیا حاصل
دل و نگاہ ، وطن میں تو دیار میں کچھ بھی نہیں

مزید لکھتے ہیں :
معیشت کے لئے ایک جم غفیر کا اپنے وطنوں سے دور ہونا۔۔۔ ضرور میشیت الٰہی کے تحت ہوا ہوگا ۔۔۔ لیکن۔۔۔ اسکے دور رس اثرات سے ہم انکار کر ہی نہیں‌ سکتے۔۔۔۔۔
ایک فیملی کا۔۔۔ واقعہ ملاحظہ ہو۔۔۔
جب وہ گھر سے نکلے۔۔۔ کچھ تو ٹمپٹیشن کا شکار تھے تو کچھ۔۔۔ضروریات۔۔۔5 سال تو۔۔۔۔ایسے ہی نکل گئے۔۔۔پھر شادی کے بعد۔۔۔مزید 15 سال ایسے ہی نکل گئے۔۔۔پھر۔۔۔۔اسکے بعد۔۔۔تعلیم وغیرہ کے لئے جب فیملیی کو بچوں کے ہمراہ وطن بھجایا۔۔تب۔۔۔مزید 10 سال ایسے ہی نکل گئے۔۔۔لیکن عمر عزیز کے آخری وقت یعنی اپنی ضعیفی میں‌ جب۔۔۔۔۔ وہ اپنے گھر کو لوٹے۔۔۔تب۔۔۔انکے اپنے لڑکوں‌اور لڑکیوں ‌سے انکا تعلق۔۔۔ایک سوالیہ نشان بن گیا تھا۔۔۔وہ تو ایک چیک کی حیثیت بن چکے تھے۔۔۔۔یہاں تک تو ٹھیک تھا۔۔۔لیکن انکی اپنی شریک حیات بھی انہیں اب بار سمجھنے لگی تھین۔۔۔۔۔۔
اس کیفیت میں وہ ۔۔۔2 سال تک۔۔۔اپنے ہی گھر میں اجنبی بنکر۔۔۔۔پھر۔۔۔۔۔اپنے فیملی اور بچوں کے بے حد اصرار پر۔۔پھر سے۔۔۔مزید کچھ نئے عزائم لیکر ۔۔۔اپنے عمر کے آخری حصے میں۔۔۔پھر سے۔۔۔دیار غیر روانہ ہوگئے۔۔۔۔۔

جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے ضروری تو نہیں کہ ہر پردیسی کے ساتھ ایسا ہو ہاں اکثریت کے ساتھ ایسا ہوتا دیکھا اور سنا گیا ہے۔
دوسری بات یہ کہ مشرق میں ابھی وہ نظام باقی ہے جو رشتہ دار دوست احباب کو آپس میں جوڑے رکھتا ہے جبکہ مغرب میں مادیت پسندی نے اس نظام کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا ہے۔ اور بڑے دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ اب یہی تباہی آہستہ آہستہ مشرق میں بھی اپنے پنجے پھیلا رہی ہے۔ ڈش چینلوں کے موجودہ پروگرام ڈرامے کہانیاں کیا اسکی عکاسی نہیں ہیں؟
آج سے کوئی عشرہ دو عشرہ قبل جو سادہ دل اور پُرخلوص معاشرہ پایا جاتا تھا کیا بعینہ وہی معاشرہ آج موجود ہے؟ سوال بڑا تلخ ہے۔ جواب بھی شائد ہمارے لیے تلخ نکلے۔

دنیا کے گلوبل ولیج بن جانے کے سبب بھی انتشار پھیلا ہے۔ جذبات بٹ گئے ہیں ، رشتے بٹ گئے ہیں ، دوستی ملک ملک بکھر گئی ہے۔
بیوی، پنڈی کے کسی دیہات میں یا بہار کے کسی ناخواندہ علاقے میں مقیم ہے تو شوہر نیویارک جیسے چمکتے دمکتے شہر میں۔ والدین مشرق کے کسی پسماندہ علاقے میں تو اولاد ترقی یافتہ ممالک کے مختلف نامور شہروں میں ، وہ دوست جنہوں نے ایک ہی غریب شہر کے اکلوتے انجینرنگ یا میڈیکل کالج میں تعلیم پائی تھی آج وہی دنیا کے مختلف کونوں میں بغرض معاش آباد ہیں۔
اور اتنا سب ہونے کے بعد بھی گلوبل ولیج کا کونسپٹ اس قدر طاقتور ہے کہ اس نے ان تمام کو پھر بھی الکترانک ذرائع سے جوڑے رکھا ہے۔

ماحاصل یہ کہ ۔۔۔۔
جذبات ۔۔۔ دورِ حاضر میں آن لائن سفر کر رہے ہیں !!

2009/05/15

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

قریب تین دہے گزر گئے۔ لڑکپن سے اقبال کے یہ اشعار پڑھتے آ رہا ہوں۔ لڑکپن میں تک جب پڑھتا تھا تو کچھ عجیب سے احساسات پیدا ہو جاتے تھے۔ لگتا تھا بدن میں کپکپی سی دوڑ رہی ہے۔ اتنا عرصہ گزر گیا۔ آج بھی بال جبریل کے یہ اشعار پڑھتا ہوں تو نجانے کیوں حلق نمکین ہو جاتا ہے ، بدن میں رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ یک بیک سارے عالم پر سناٹا چھا گیا ہو اور اقبال کی آواز ایک گونج کی شکل میں مشرق تا مغرب افق تا افق لہرانے لگی ہو ۔۔۔۔۔۔

*****
گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر
ہوش و خرد شکار کر ، قلب و نظر شکار کر
باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں
کارِ جہاں دراز ہے ، اب مرا انتظار کر

خردمندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں ، میری انتہا کیا ہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تیری رضا کیا ہے

تُو اپنی خودی کو کھو چکا ہے
کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر
بےذوق نہیں ہے اگرچہ فطرت
جو اس سے نہ ہو سکا ، وہ تُو کر !

تُو شاہیں ہے ، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
یا وسعتِ افلاک میں تکبیرِ مسلسل
یا خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات

ترے سینے میں دم ہے ، دل نہیں ہے
ترا دم گرمی محفل نہیں ہے
گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے ، منزل نہیں ہے

محبت کا جنوں باقی نہیں ہے
مسلمانوں میں خوں باقی نہیں ہے
صفیں کج ، دل پریشاں ، سجدہ بےذوق
کہ جذبِ اندروں باقی نہیں ہے

جوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا! آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل ، وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں ، تُو باقی نہیں ہے

اس کی امیدیں قلیل ، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دل فریب ، اس کی نگہ دل نواز
نرم دمِ گفتگو ، گرم دمِ جستجو
رزم ہو یا بزم ہو ، پاک دل و پاک باز

یہ غازی ، یہ تیرے پراسرار بندے
جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی

ترے صوفے ہیں افرنگی ، ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہ ہو نومید ، نومیدی زوال علم و عرفاں ہے
امید مرد مومن ہے خدا کے رازدانوں میں
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے ، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

2009/05/13

اِس کتاب کو مت پڑھئے ۔۔۔ ہرگز مت پڑھئے ‫!

یہ کتاب
یہ کتاب نہ فلسفہ بگھارتی ہے
نہ علمیت چھانٹتی ہے
نہ دانشوریاں پیش کرتی ہے۔
اگر آپ سنجیدہ اور مدلل مطالعہ کے خواہش مند ہیں تو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ آپ یہ کتاب نہ پڑھیں۔ خواہ مخواہ وقت ضائع ہوگا۔
سچی بات یہ ہے کہ یہ کتاب ، کتاب ہی نہیں۔ میں نے بڑی کوشش کی ہے کہ یہ کتاب نہ بن جائے "بکش" نہ ہو جائے۔ بوجھل نہ ہو جائے۔ اونچی باتیں نہ کرے ، جو سر کے اوپر سے گزر جائیں۔

یہ کتاب آپ سے باتیں کرے گی۔ ہلکی پھلکی باتیں ، چھوٹے چھوٹے موضوعات پر باتیں ، ممکن ہے آپ کو اس کی کچھ باتوں سے اتفاق نہ ہو۔ ایسا ہو تو ازراہ کرم اس کی بات کو پلے نہ باندھیں۔ جھگڑا نہ کریں۔ صاحبو ! دلیل سے کبھی کوئی قائل نہیں ہوا۔ اختلاف رائے تو ہوتا ہی ہے۔ اسی سے زندگی رنگ بھری ہے۔

اس کتاب کا نام غلط ہے۔ غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے۔ قاری کہے گا اگر "تلاش" ہے تو "منزل" بھی ہوگی۔ لیکن یہ ایسی تلاش ہے جس کی کوئی منزل نہیں۔ صرف تلاش ہی تلاش ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کس چیز کی تلاش ہے؟
کبھی شک پڑتا ہے کہ "مسلمان" کی تلاش ہے۔ کبھی خیال آتا ہے کہ شاید دورِ حاضرہ کی حقیقت کی تلاش ہے۔ کبھی ایسے لگتا ہے کہ یہ تو سچ کی تلاش ہے۔ حتمی سچ کی نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی سچائیوں کی۔ سوچوں کی سچائیاں ، ایمان کی سچائیاں ، برتاؤوں کی سچائیاں ، رسمی سچائیاں ، پرانی سچائیاں ، نئی سچائیاں۔

کسی نے بوٹے سے پوچھا :
بوٹے ، بوٹے یہ بتا تُو اگنے میں اتنی دیر کیوں لگاتا ہے؟
بوٹا بولا : اس لیے کہ زمین کی کشش مجھے اگنے نہیں دیتی۔
ہائیں ایسا ہے؟ بری بات۔
بوٹا بولا : نہ نہ زمین کو برا نہ کہو۔
کیوں نہ کہیں ؟
اس لیے کہ اگر زمین مجھے اگنے سے نہ روکے تو میں کبھی نہ اُگ سکوں۔
وہ کیا بات ہوئی؟

رکاوٹ نہ ہو تو حرکت ممکن ہی نہیں !
یہ قانون فطرت ہے صاحبو۔
رکاوٹیں دراصل رحمتیں ہیں۔ رکاوٹیں حرکت پیدا کرتی ہیں۔ جن کے پہنچ جانے کا خطرہ ہو ان کے راستے میں رکاوٹیں آتی ہیں۔
بڑے رکاوٹیں نہ کھڑی کریں تو چھوٹوں میں احتجاج پیدا نہ ہو۔ Revolt نہ ہو۔ حرکت پیدا نہ ہو۔
اور حرکت نہ ہو تو زندگی نہ ہو۔ کچھ بھی نہ ہو۔
یہ دنیا تصویر کی طرح فریم میں ٹنگی رہے۔
یہ زندگی کیا ہے؟
قیام اور حرکت کا اک کھیل ہی تو ہے۔
کبھی قیام آ جاتا ہے اور آتے ہی حرکت پر دفعہ 144 لگا دیتا ہے۔
خبردار ! حرکت نہ کرنا ۔۔۔ حرکت گناہ ہے ۔۔۔ حرکت شیطانیت کا کھیل ہے !

پھر حرکت کا ریلا آتا ہے ، سب کچھ توڑ پھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔

مزید پڑھنا چاہیں تو ۔۔۔۔
یہاں پڑھئے !!


اقتباس : "تلاش" از ممتاز مفتی