2009/11/09

فاسٹ فوڈ لائف اور ہمارا کردار

دورِ حاضر کی زندگی بڑی برق رفتار ہو گئی ہے !

اور اس مادّی مسابقت کی گہما گہمی میں ہمارے رویے بھی "فاسٹ فوڈ" کی طرح تیز رفتار ہو گئے ہیں۔ مگر یہ بڑا عجیب معاملہ ہے کہ تیز رفتاری میں اگر کوئی حادثہ ہو جائے یا کسی قسم کی کوئی چوٹ لگ جائے تو اپنی جسمانی تکالیف کے علاج کے لیے ہم دوڑے دوڑے ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے ہیں۔ لیکن روحانی امراض کے علاج کی خاطر اپنا احتساب کرنے ہمارے پاس شاید وقت کی کمی نکل آتی ہے !

درحقیقت ہمارے اخلاقی کردار کا براہ راست اثر ہمارے گھر ، ہمارے معاشرے پر پڑتا ہے۔ خود سے منسلک مختلف و متنوع کردار دراصل وہ خوبصورت اور متاثر کن کردار ہیں جنہیں رب کائینات نے ہمیں عطا کیے ہیں۔ اگر ہر کردار سے متعلق جوابدہی کا اعلیٰ و ارفع تصور ہم اپنے دل و دماغ میں پیوست کر لیں اور یوں ہر کردار کو ایک امتحان سمجھ کر ادا کرنا شروع کر دیں تو ہمارا یہ عمل ہی ہمیں ایسی روحانی قوت عطا کرے گا جس کے باعث ہر رشتے کے ساتھ بہترین اور معتدل اخلاقی رویہ اختیار کرنا ہمارے لئے آسان ہو جائے گا۔

مثبت طرز فکر یقیناً کسی نعمت سے کم نہیں۔ اس سے نہ صرف ہمیں توانائی حاصل ہوتی ہے بلکہ اس کے بہتر اثرات ہمارے گھر ، ہماری صلاحیتوں اور ہمارے زیر انتظام پرورش پانے والی نئی نسل پر بھی پڑتے ہیں۔ افراد سے اگر معاشرہ بنتا ہے تو ہر فرد کی انفرادی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ معاشرے کی اخلاقی فلاح و بہبود کی طرف وہ بذات خود توجہ دے۔

** ذاتی مفاد کو اہمیت دینے کے بجائے اجتماعی مفاد کو ترجیح دیا جائے
** ہر رشتے کے ساتھ عدل و انصاف کو خصوصی توجہ دی جائے
** اچھے اخلاق کے حامل انسانوں سے ربط و ضبط بڑھایا جائے
** سنی سنائی باتوں پر دھیان دینے سے گریز کیا جائے
** بدگمانی کو بتدریج کم کیا جائے
** معاف کرنے اور درگزر کرنے کے جذبات کو بڑھاوا دیا جائے
** رویوں میں دو رنگی کو آہستہ آہستہ کم کیا جائے
** حکمت عملی سے کام لیا جائے کہ یہ وہ خزانہ ہے جس کی بدولت کامیابی قدم چومتی ہے۔

دورِ حاضر کے موثر ذرائع ابلاغ کے ذریعے مختلف تہذیبوں کے لٹریچر ، ڈراموں ، فلموں اور دیگر فنون تک اگر ہماری رسائی سہل و آسان ہو گئی ہے تو ایک ذمہ داری یہ بھی ہم پر لاگو ہو گئی ہے کہ اپنے رویوں اور اپنی تحریروں کے ذریعے نئی نسل تک اپنی تہذیب و تمدن کے اعلیٰ و معیاری اخلاق و روایات کو منتقل کیا جائے۔
کاش کہ اس جانب بھی ہم مستقل مزاجی سے کام کر سکیں۔

2009/11/07

اللہ کو بزنس پارٹنر بنائیں ۔۔۔۔ !

قارون ۔۔۔ دنیا کا امیر ترین شخص تھا !!
قارون کے پاس ان گنت دولت تھی مگر ۔۔۔۔
مگر وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے گریزاں تھا جس کے باعث اس کی دولت بھی اس کے ساتھ غرق ہو گئی اور اس کی کمائی گئی دولت اس کے کسی کام نہیں آئی !

ایک نوجوان نے نوکری کی مسلسل تلاش میں ناکامی کے بعد ایک بزرگ محترم سے مشورہ کیا تو آپ جناب نے فرمایا :
میرا مشورہ مانیں تو اللہ کا نام لے کر کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کر لیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کو بزنس پارٹنر بنا لیں۔
"بزنس پارٹنر" کی اصطلاح پر جب نوجوان نے بھویں اچکائیں تو جواباً آپ نے فرمایا :
اگر کاروبار کے خالص منافع میں سے 5 فیصد بزنس پارٹنر کا حصہ سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو دے دیا کریں اور کبھی بھی اس میں ہیرا پھیری یا ڈنڈی نہ ماریں تو ان شاءاللہ کاروبار دن دگنی رات چگنی ترقی کرتا رہے گا۔

بزرگ کے مشورے کی افادیت پر مشکوک ہونے کے باوجود نوجوان نے عمل کیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شراکتی کاروبار میں کبھی بھی بےایمانی کو قریب نہیں پھٹکنے دیا۔ کوئی دس سال بعد آج وہی نوجوان کہتا ہے کہ :
بزنس پارٹنر کے لئے روزانہ ایک ہزار روپیہ نکل آتا ہے جو الحمدللہ اللہ ہی کی مخلوق پر بلاتفریق خرچ کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں ہوتی۔

ایسی ہی ایک دوسری مثال لاہور کے رہائشی درویش صفت ، عام سے غریب شخص منشی محمد کی بھی ہے۔ ان کی گزر بسر مشکل سے ہوتی تھی۔ انہوں نے ایک دن فیصلہ کیا ہے اپنی آمدنی کا 4 فیصد اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔
کچھ ہی عرصہ بعد آپ نے ایک عام سا کاروبار شروع کیا اور وہ ترقی کرتے ہوئے تھوڑے ہی عرصہ میں ایک فیکٹری کے مالک بن گئے۔ آپ نے اپنی آمدنی کا 4 فیصد مستحق مریضوں کی صحت پر خرچ کرنا شروع کر دیا اور ایک دن ایسا آیا کہ منشی محمد نے 4 کروڑ روپے کی مالیت سے لاہور میں "منشی ہسپتال" قائم کر دیا۔

دنیا کے کچھ امیر ترین افراد کا جائزہ لیجئے۔
51 سالہ ٹی وی میزبان اوپرا ونفرے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی مالکہ ہیں۔ وہ سالانہ ایک لاکھ ڈالر بےسہارا بچوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتی ہیں۔
کمپیوٹر کے بادشاہ بل گیٹس کی دولت کا اندازہ قریب 100 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ وہ ہر سال اپنے فلاحی ادارے کی جانب سے 27 ارب ڈالر انسانی فلاحی کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔
اٹلی کے سابق وزیراعظم سلویا برلسکونی اپنے ملک کے سب سے امیر اور دنیا کے 10 امیرترین افراد میں شامل ہیں۔ وہ سالانہ تقریباً 5 کروڑ ڈالر غریب ملکوں کو بھیجتے ہیں۔
یہودی قوم کی ایک خاصیت ہزاروں سال سے مشہور ہے۔ ہر یہودی اپنی اصل آمدنی کا 20 فیصد لازمی طور پر انسانی خدمت کی مد میں خرچ کرتا ہے۔ آج کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ دنیاوی دولت کا 60 فیصد حصہ یہودی قوم کی ملکیت ہے !

پسِ تحریر :
حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :
انفق یا ابن ادم انفق علیک
تو میرے ضرورت مند بندوں پر خرچ کر ، میں تجھے خزانۂ غیب سے دیتا رہوں گا۔
صحیح البخاری , کتاب النفقات , باب فضل النفقة على الاہل


(ندیم ذکاء آغا کے مضمون سے شکریے کے ساتھ استفادہ)

2009/11/04

دین و دنیا / کامیابی اور ناکامی

کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ہمارے دفتر کے ایک ساتھی بڑے پریشان ہو رہے تھے۔ ان کے بڑے لڑکے نے بارہویں جماعت کا امتحان دے دیا تھا اور وہ اسے کسی بہترین کالج میں کمپیوٹر انجینرنگ کے کورس میں داخلہ دلانے کی فکر کر رہے تھے۔ کہنے لگے :
ویسے تو میں نے بذات خود اسے اس کے فائینل ایگزام کی تیاریاں کروائی تھیں پھر بعض اہم سبجکٹس کے ٹیوشنز بھی دلائے۔ لیکن پھر بھی کچھ دل یوں یوں سا ہو رہا ہے بھائی۔
میں نے پوچھا کہ : کس سبب آپ یوں فکر مند ہیں؟
جواباً بولے : دراصل آج کل کے نوجوانوں کو تو آپ جانتے ہی ہیں۔ کچھ لاپرواہ قسم کے ہوتے ہیں۔ تو اس کو دوست بھی کچھ ایسے ہیں ملے ہیں۔ میں نے لاکھ کوشش کر لی کہ ایسے دوستوں سے پیچھا چھڑا لے اور تعلیم کی سمت بھرپور توجہ دے ، مگر ۔۔۔۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ۔۔۔

ہمارے دوست بڑے فکرمند تھے۔ اپنے بچے کے نتیجے کا بڑا انتظار تھا۔ یہ تشویش بھی تھی کہ اگر نمبرات کم آئیں تو ؟؟
یہ فکر بھی تھی کہ اگر خدا نہ کرے فیل ہو جائے تو ؟؟

کچھ سال پہلے نیٹ پر کسی دانشور کا ایک مقولہ پڑھنے کو ملا تھا :
آپ کو اس کی بڑی فکر ہے کہ آپ کے مرنے کے بعد آپ کے بچوں کا کیا ہوگا؟ لیکن اس کی فکر نہیں ہے کہ آپ کے بچوں کے مرنے کے بعد ان کا کیا ہوگا؟؟

اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو یہ ایک نہایت تلخ حقیقت ہے !!
ہمیں دنیا کے حوالے سے اپنی اور اپنے اعزاء و اقرباء کی بڑی فکر ہے۔ لیکن آخرت کی جو امتحان گاہ ہے ، اس کے متعلق ۔۔۔۔۔۔
کیا واقعی ہم نے کچھ سوچ رکھا ہے؟
کیا واقعی ہم نے دن بھر میں اس کے لئے کچھ تیاری کی ہے؟
کیا واقعی ہم اس دن کے لیے کچھ فکر مند ہیں؟؟

یہ سب باتیں مجھے اس وقت دوبارہ یاد آئی ہیں جب میں ایک حوالے سے مولانا مودودی (رحمة اللہ علیہ) کی تفہیم القرآن میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔
مولانا نے ذیل میں یہ جو کچھ لکھا ہے ۔۔۔۔۔ کاش کہ ہم اس پر سنجیدگی سے غور کر سکیں ۔۔۔۔۔

دنیا میں انسان کی حیثیت درختوں اور جانوروں کی طرح نہیں کہ اس کا مقصدِ تخلیق یہیں پورا ہو جائے اور قانونِ فطرت کے مطابق ایک مدت تک اپنے حصے کا کام کر کے وہ یہیں مر کر فنا ہو جائے۔
ونیز یہ دنیا اس کے لیے نہ دارالعذاب ہے جیسا کہ راہب سمجھتے ہیں
نہ دارالجزا ہے جیسا کہ تناسخ کے قائلین سمجھتے ہیں
نہ چراگاہ اور تفریح گاہ ہے جیسا کہ مادہ پرست سمجھتے ہیں
بلکہ دراصل یہ اس کے لیے ایک امتحان گاہ ہے۔
وہ جس چیز کو عمر سمجھتا ہے ، حقیقت میں وہ امتحان کا وقت ہے جس اسے یہاں دیا گیا ہے۔ دنیا میں جو قوتیں اور صلاحیتیں بھی اس کو دی گئی ہیں ، جن چیزوں پر بھی اس کو تصرف کے مواقع دئے گئے ہیں ، جن حیثیتوں میں بھی وہ یہاں کام کر رہا ہے اور جو تعلقات بھی اس کے اور دوسرے انسانوں کے درمیان ہیں ۔۔۔ وہ سب اصل میں امتحان کے بےشمار پرچے ہیں اور زندگی کی آخری سانس تک اس امتحان کا سلسلہ جاری ہے۔ نتیجہ اس کا دنیا میں نہیں نکلنا بلکہ آخرت میں اس کے تمام پرچوں کو جانچ کر یہ فیصلہ ہونا ہے کہ وہ کامیاب ہوا ہے یا ناکام ؟