2010/12/07

حدیث : اونٹ کا پیشاب پینا

صحیح بخاری میں ایک حدیث کچھ یوں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو (ایک بیماری کے علاج کے طور پر) اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا۔
اس حدیث پر اکثر و بیشتر اعتراض کیا جاتا ہے کہ پیشاب جیسی نجس چیز کو پینے کا حکم نبئ خیر الامۃ (صلی اللہ علیہ وسلم) کیسے دے سکتے ہیں؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ پیشاب پینے کا یہ حکم "عمومی" نہیں بلکہ کسی بیماری کے علاج کے سلسلے کا "مخصوص" حکم ہے اور اسی سبب امام بخاری علیہ الرحمۃ نے اس حدیث کو "کتاب الطب" میں درج کیا ہے۔
اور دوسری بات یہ کہ ۔۔۔۔۔۔ خود قرآن سے بھی ایسی "تخصیص" ثابت ہے!
ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے خنزیر کے گوشت اور مردہ جانور کو حرام قرار دینے کے ساتھ ساتھ یہ تخصیص بھی واضح کر دی کہ اگر آدمی "مجبور" ہو جائے تو یہ حرمت ختم ہو جائے گی۔
ملاحظہ فرمائیں : سورہ البقرہ (2) ، آیت : 173
تم پر مردہ اور (بہا ہوا) خون اور سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام پکارا گیا ہو حرام ہے پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو، اس پر ان کے کھانے میں کوئی پابندی نہیں، اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے۔

اسی طرح دیگر تین آیات سے بھی اسی بات کا ثبوت دیکھئے :
سورہ المائدہ (5) ، آیت:3
سورہ الانعام (6) ، آیت:145
سورہ النحل (16) ، آیت:115

ائمہ محدثین اور علمائے عظام کی تحقیق کے مطابق اونٹ کا پیشاب پینے والی حدیث بالکل صحیح ہے اور اس کے ضعیف یا موضوع ہونے کی جانب کسی ایک معتبر محدث نے اشارہ تک نہیں کیا ہے۔ اگر کسی کے علم میں کسی محدث کی ایسی تحقیق ہو کہ جس کے سہارے اس حدیث کو ضعیف یا موضوع ثابت کیا گیا ہو تو معترض کو چاہئے کہ پورے حوالے کے ساتھ سامنے آئے۔

درحققیت حدیث پر اعتراض مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ یہود و نصاریٰ کی جانب سے ہے اور بدقسمتی سے کئی سادہ لوح مسلمان تحقیق کئے بغیر اس بےبنیاد پروپگنڈے کا شکار ہو جاتے ہیں جس کا مقصد ہی یہی ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کی اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اقوال ، افعال اور تقاریر سے جذباتی وابستگی کو ختم کیا جائے۔ یقین نہ آئے تو گوگل پر اونٹ کے پیشاب کے حوالے سے عیسائیوں/یہودیوں کے سوالات (اعتراضات) سرچ کر کے دیکھ لیں۔
غیرمسلموں کے ان تمام اعتراضات کا جواب ، دورِ جدید کی سائینس کے حوالے سے کافی کچھ باشعور مسلمانوں نے دے رکھے ہیں ، درج ذیل چند حوالے مطالعہ کیلیے کافی ہوں گے :

آخری ربط کی تحقیق کے آخر میں محقق نے وہ وجوہات بھی بیان کر دی ہیں کہ کن اسباب کے تحت اس حدیث پر اعتراض کیا جاتا ہے؟

متذکرہ بیان کردہ انہی اسباب میں سے شائد ایک سبب ہوگا جو کہ خاور صاحب کے بلاگ کے ایک تبصرے سے مبصر کی "غلط فہمی" کا یوں اظہار ہوتا ہے :
بخاری شریف کی دو کاپیاں میرے سامنے ہی اس وقت پڑی ہیں۔ جس میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جنہیں رسول اللہ نے آنکھوں کے امراض کے لئے اونٹ کا پیشاب پینے کا مشورہ دیا۔ وہ لوگ اونٹ کا دودھ اور پیشاب پینے کے بجائے اونٹ لے بھاگے جسکی بناء پہ رسول اللہ نے انکے قتل کا حکم دیا۔
بحوالہ : ایک تبصرہ برائے تحریر: "مغالطے"

مبصر نے واضح طور سے لکھا ہے کہ : وہ لوگ اونٹ کا دودھ اور پیشاب پینے کے بجائے اونٹ لے بھاگے

حالانکہ حدیث کے عربی متن میں صاف صاف لکھا ہے :
فَلَحِقُوا بِرَاعِيهِ فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى صَلَحَتْ أَبْدَانُهُمْ
اور انگریزی میں اس کا ترجمہ CRCC سائیٹ پر کچھ یوں ہے :
So they followed the shepherd that is the camels and drank their milk and urine till their bodies became healthy.
Volume 7, Book 71, Number 590
اور اردو ترجمہ میں علامہ داؤد راز (علیہ الرحمۃ) لکھتے ہیں :
۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ آپ کے چرواہے کے یہاں چلے جائیں یعنی اونٹوں میں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں ۔ چنانچہ وہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے پاس چلے گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کوہانک کرلے گئے ۔۔۔۔
صحیح بخاری ، کتاب الطب ، باب : اونٹ کے پیشاب سے علاج جائز ہے

حدیث کے عربی متن اور اردو انگریزی تراجم میں تک صاف لکھا ہے کہ ۔۔۔
۔۔۔ ان لوگوں نے پیشاب پیا اور تندرست بھی ہو گئے ۔۔۔۔۔
جبکہ ادھر مبصر کا اصرار کچھ اور ہے۔

علاوہ ازیں ۔۔۔۔۔ ہمارے بعض احباب کو پتا نہیں کیوں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور بخاری شریف سے چڑ ہے کہ جب تک امام صاحب کی کتاب کی کسی حدیث پر اعتراض جڑ نہ لیں انہیں چین نہیں پڑتا۔
انہی روشن خیال اور اپنے اذہان کو ائمہ محدثین کے فہم پر ترجیح دینے والے افراد سے ادباً اور مخلصاً عرض ہے کہ یہ حدیث اکیلے امام بخاری نے اپنی "صحیح بخاری" میں درج نہیں کی ہے بلکہ بیسوں کتبِ حدیث میں دیگر محدثین نے بھی یہی حدیث اپنی سند سے بیان کی ہے۔
ذیل میں کچھ آن لائن حوالے بطور ریکارڈ یہاں درج کئے جا رہے ہیں تاکہ آئیندہ کسی بدخواہ یا کم علم کو شکایت کا موقع نہ ملے۔
***
  1. صحیح مسلم ، کتاب المحاربین : online-link
  2. صحیح مسلم ، کتاب المحاربین : online-link
  3. مسند احمد ، مسند العشرہ المبشرین بالجنۃ : online-link
  4. ابوداؤد ، کتاب الحدود : online-link
  5. جامع ترمذی ، کتاب الاطعمۃ : online-link
  6. جامع ترمذی ، کتاب الطہارۃ : online-link
  7. سنن کبریٰ للنسائی (19 احادیث) ، کتاب الطہارۃ : online-link
  8. سنن ابن ماجہ ، کتاب الحدود : online-link
  9. سنن ابن ماجہ ، کتاب الطب : online-link
  10. صحیح ابن خزیمہ ، کتاب الوضو : online-link
  11. مصنف ابن ابی شیبۃ ، کتاب السیر : online-link
  12. صحیح ابن حبان ، کتاب الطہارۃ : online-link
  13. سنن دارقطنی ، کتاب الطہارۃ : online-link
  14. طبرانی صغیر ، باب الالف : online-link
  15. طبرانی اوسط ، باب الالف : online-link
  16. مصنف عبدالرزاق ، کتاب الاشربۃ : online-link
  17. بیھقی کبیر ، کتاب النفقات : online-link
  18. بیھقی صغیر ، کتاب الحدود : online-link
  19. البحر الزخار بمسند البزار 10-13 : online-link
  20. مسند ابی یعلیٰ : online-link
  21. مستخرج ابی عوانہ ، کتاب الحدود : online-link
  22. تاریخ دمشق لابن عساکر ، حرف العین : online-link
  23. تفسیر طبری ، تفسیر سورہ طہ : online-link

اور بخاری شریف میں ۔۔۔
  1. صحیح بخاری ، کتاب الجہاد و السیر : online-link
  2. صحیح بخاری ، کتاب المغازی : online-link
  3. صحیح بخاری ، کتاب الوضو : online-link
  4. صحیح بخاری ، کتاب الطب : online-link
  5. صحیح بخاری ، کتاب الطب : online-link
  6. صحیح بخاری ، کتاب الحدود : online-link
  7. صحیح بخاری ، کتاب المحاربین : online-link
  8. صحیح بخاری ، کتاب المحاربین : online-link

یاد رہے کہ یہاں صرف چند حوالے درج کئے گئے ہیں ورنہ یہ حدیث 300 سے زائد مقامات پر بہ تکرار 100 سے زائد کتبِ احادیث میں دہرائی گئی ہے۔
ایک امام بخاری کو ریجکٹ کرنے کی بات نہیں ۔۔۔۔ کیا ہمارے نوجوان جذباتی ساتھی (کہ جن کے دل میں ، بقول خود ان کے، "حقیقی اسلام" کا بڑا درد ہے!) ان تمام ائمہ دین کو جھٹلانے کی ہمت کریں گے؟؟
یا تو دین کے دامن میں ان ائمہ عظام کے فہم کو بصد احترام قائم رہنے دیجئے یا پھر اعلان کر دیجئے کہ : 12، 14 سو سالہ اسلام بوسیدہ ہو چکا ہے لہذا اب ہم اپنی مرضی کا اسلام قائم کریں گے !!

33 comments:

  1. ایک زمانہ وہ بھی تھا جب مسلمان مذہب پرست کوا حلال کرنے کے واعظ فرما رہے تھے۔ اور تاتاری ان کی گردنیں اڑانیں میں مصروف تھے۔ اور ایک زمانہ یہ ہے کہ مذہب پرست اونٹ کا پیشاپ حلال کرنے کی بحثیں کر رہے ہیں اور امریکی ان کی "تُن" کر رکھ رہے ہیں۔ بے شک اللہ عذاب بھی برحق لاتا ہے۔
    دلچسپ بات ہے کہ لغویات کو "برحق" ثابت کرنے کے لئے کیا کیا گھڑا گیا ہے۔ ایک حدیث کو ثابت کرنے کے لئے مزید حدیث۔ وہ بھی مزید ضیعف کتابوں سے۔ "دلیل" یہ ہے کہ یہ عام حالات میں نہیں بلکہ بیماری کا علاج کے لئے ہے۔ جاؤ پھر اپنی بیماری کا علاج اسی سے کرو۔ ایسی لغویات کا دعوی کریں گے تو کیا مسلم کیا غیر مسلم ہر ذی ہوش آپ کا صحیح ٹھٹھہ اڑائے گا۔
    جس قرآنی آیت کا حوالہ جناب بڑھے دھڑلے سے لے کر آئے ہیں اس کی عملی صورتحال ایسے آئے گی کہ اگر کسی قحط یا آفت کے موقع پر کھانے اور جان بچانے کو اور کچھ باقی نہ رہے تو آخری حربے کے طور پر حرام چیز حلال ہوجائے گی صرف اتنی مقدار میں جتنا کہ جان بچا سکے۔ اور جناب اس بات کو ثابت فرما رہے ہیں کہ مدینہ میں آئے ان مسافروں کے اونٹ کا پیشاپ پینے کے متعلق۔ جیسے وہاں کھانے پینے اور علاج کی خاطر صرف پیشاپ ہی بچا تھا۔ استغفراللہ۔
    قرآن کو توڑنے مروڑنے اور احادیث ، روایات اور اپنے من پسند فقہ کو قرآن پر فوقیت دینے کی حرکتیں بڑی پرانی ہیں۔ لوگوں کا بس نہیں چلتا کہ اسلام میں عیسائیت کی طرز پر مذہبی اجارہ داری کھینچ لائیں۔ قرآن سے فہم حاصل کرنا ممنوع قرار پائے۔ ہر چیز ان مسالک فقہ اور حدیث سے ہوکر نکلیں۔ کسی معقول بندے کے پاس تو اس بحث میں آگے جانے کو ٹائم نہیں کہ موضوع بحث سے ہی شرم آتی ہے اور امریکی اور تاتاری یاد آتے ہیں۔ آپ لوگوں کو خدا نے شائد یہی "عزت" دی ہے۔ تو جناب ان کاموں میں لگے رہیں۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. بہت اعالٰی کاش لوگ اللہ کا کلام اپنی زبان میں پڑھنا شروع کر دیں ۔ اللہ کی کتاب تو تمام زمانوں کیلئے ہے ۔لیکن ہمارے مولوی اور دین کے ٹھیکے دار اسکو 1400 سو سال پرانا بنائے رکھنے پر تلے بیٹھے ہیں۔اللہ ان کو ہدایت عطا فرمائے

      Delete
    2. جزاک اللہ بھائی کیا خوب جواب دیا ہے آپ نے اللہ آپ کو اس کا اجر خیر و کثیر دے

      Delete
  2. با ذوق صاحب، چونکہ وہ مبصر میں ہوں اس لئے میں اس چیز کی وضاحت ضروری سمجھتی ہوں کہ میں نے یہ حدیث پوری تفصیل سے نہیں لکھی اور میں نے اپنے تبصرے میں یہ بات واضح بھی کر دی تھ۔ در حقیقت آپ نے بھی اسے پوری صراحت سے نہیں لکھا۔
    اس پوری حدیث میں ان لوگوں کے ساتھ ایسی کوئ مجبوری نہیں پتہ چلتی کہ ان پہ اس طرح کا حکم جاری ہوجائے۔ آپ جانتے ہونگے کہ شراب بھی بطور دوا جائذ ہو جاتی ہے لیکن اسکے باوجود مسلمان بادشاہ سے یہ روایت منسوب ہے کہ اسکے عزیز ترین گھوڑے کا اسکی غیر موجودگی میں شراب سے علاج کیا گیا اور جب اسکے علم میں یہ بات آئ تو اس نے اس گھوڑے کا استعمال ترک کر دیا۔ یہ وہی نور الدین زنگی ہے جسے خواب میں رسول اللہ نے بشارت دی کہ کچھ لوگ میری قبر کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اسکا یہ خواب درست ثابت ہوا۔
    اچھا تو شراب ، بیماری میں جائز ہو جاتی ہے، کیا ایسی کوئ حدیث ہے جس میں رسول اللہ نے کسی کو شراب پینے کا مشورہ دیا ہو۔
    خیر، آپ اسے صحیح تسلیم کرتے ہیں تو پھر ہندءووں کے گائے کا پیشاب پینے پہ اور خود انسان کا اپنا پیشاب پینے پہ کیوں کراہت ظاہر کی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ گائے کا پیشاب پینے سے بھی تندرست ہو جاتے ہیں اور انسان اگر اپنا پیشاب پیئے تو پینے والے کے مطابق اسکی عمر بڑھتی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم مرار جی ڈیسائ اپنا پیشاب پیا کرتے تھے۔
    دین میں آئمہ کا مقام اور بارہ چودہ سو سالہ اسلام کو بوسیدہ قرار دینا۔ ایسا ہی بیان ہے جیسا کہ ضیاء الحق صاحب نے فرمایا تھا کہ اگر آپ اسلام چاہتے ہیں تو ریفرینڈم کے کاغذ پہ میرے نام کے آگے انگوٹھا لگائیے۔ یعنی اس وقت اسلام اور ضیاءالحق برابر تھے اور آپکے نزدیک آئمہ اکرام اور اسلام ایک دوسرے کے برابر ہیں۔
    حالانکہ خدا نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ کسی آئمہ اکرام کو نہیں دیا بلکہ اسکی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔
    یہ ایک بالکل سادہ سی بات ہے اور وہ یہ کہ آپ ایک ماخذ کو قرآن پہ ترجیح دیتے ہیں اور دوسرے قبیل کے لوگ ایسا نہیں کرتے۔ لیکن آپ اس اختلافی نکتے کو دین جھٹلانے کی بات کے برابر لا کر اپنی انتہا پسندی کو ظاہر کرتے ہیں اسکے علاوہ کچھ نہیں۔

    ReplyDelete
  3. مسلمان کے لیے اہل قرآن ہونا ہی کافی نہیں۔ حامل قرآن مبین کے ساتھ نسبت کا مضبوط ہونا بہت ہی ضروری ہے۔ قرآن کا اصول حضور کی زندگی ہے۔ یا یہ کہ حضور کی زندگی اور قرآن کے اصول زندگی میں فرق نہیں۔یہاں تک کہ نزول قرآن سے پہلے بھی حضور اکرم کی زندگی اصول قرآن کے مطابق تھی۔
    واصف علی واصف

    ReplyDelete
  4. ابرارحسین12/07/2010 9:47 PM

    باذوق بھائی ذرا یہ بتائیں گے کہ یہ حدیث جسے 100 سے زیادہ کتابوں میں 300 سے زیادہ دفعہ روایت کیا گیا ہے یہ کتنے صحابہ سے مروی ہے؟

    ReplyDelete
  5. دین میں آئمہ کا مقام اور بارہ چودہ سو سالہ اسلام کو بوسیدہ قرار دینا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب کچھ پچھلے تبصرے اور تحریریں نکالیں جی۔
    جناب باذوق صاحب۔
    کسی کو کوئی بات ماننی ہی نہیں یا ہم نے کوئی بات ماننی ہی نہیں تو بحث فضول ھے۔
    مخالف اپنے بیانات کےتضاد کو بھی نہ سمجھے تو مجنون ہوتا ھے۔اور مجنون سے بحث مسلسل وبال جان ہوتا ھے۔

    ReplyDelete
  6. چونکہ قرآن و حدیث کے بارے میں اکثریت کا علم عام طور پہ واجبی سا ہوتا ہے۔ اسلئیے جو چیزیں قرآن کریم سے ثابت ہیں انہیں بہتر طور پہ سمجھنے کے لئیے تو احادیث نبوی اور اسوۃ حسنہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور رجوع کرنا چاہئیے۔ لیکن علم الاحادیث کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ جو روایت قرآن کے واضح احکامات کے منافی ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہیغمبری کے خلاف ہو ان احادیث کی روایات سے اجتناب برتنا چاہئے۔ ان پہ مسلمانوں کی آپس کی بحث برائے بحث کسی طور فائدہ مند نہیں ہو سکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح احکامات پہ عمل ضروری ہے ۔ جس سے دنیا میں عزت اور آخرت میں سرخروئی ہوگی۔

    میرے خیال میں، میری ذاتی رائے میں مباحثہ اس حد تک ہونا چاہئے جہاں تک ذہنوں کو ممکنہ رہنمائی ملے جہاں یہ مقصد فوت ہونے لگے وہاں بحث کو ختم ہوجانا چاہئے اس لئیے اس بحث کو اب نمٹا دینا چاہئے کیونکہ پچھلے بلاگز پہ اس پہ کافی بحث ہوچکی ہے۔ اور اگر یہ بحث مزید جاری رہتی ہے تو دلوں میں رنجشیں اور کدورتیں بڑھیں گی اور اردو پڑھنے والے کسی کو شباش نہیں دیں گے

    ایک ہزار ایک موضوع ہیں جس پہ پاکستانی اور اردو پڑھنے والوں کی بہتر طور پہ خدمت ہوسکتی ہے۔

    وما علینا الابلاغ

    ReplyDelete
  7. با ذوق صاحب، آپ نے اچھی خاصی ریسرچ کر ڈالی ہے۔ اتنا مواد یونہی نہیں اکٹھا ہو جاتا ۔

    باقی جاوید صاحب کی بات بھی نظر انداز نہ کیے جانے کے لائق ہے کہ مباحثہ اس حد تک ہونا چاہئے جہاں تک ذہنوں کو ممکنہ رہنمائی ملے جہاں یہ مقصد فوت ہونے لگے وہاں بحث کو ختم ہوجانا چاہئے۔۔۔ورنہ۔۔۔دلوں میں رنجشیں اور کدورتیں بڑھیں گی اور اردو پڑھنے والے کسی کو شاباش نہیں دیں گے۔

    ReplyDelete
  8. آپ نے خاصی محنت اور وقت لگا کر ايک حديث کے متعلق کافی معلومات يکجا کر دی ہيں ۔ اللہ آپ کو جزائے خير دے
    آپ نے اتمامِ حُجت کر ديا ہے ۔ کوئی سمجھے يا نہ سمجھے يہ آپ کی ذمہ داری نہيں ہے
    اس کا فائدہ ان قارئين کو ہو گا جو ان کے متلاشی تھے يا جو لکير پر کھڑے مخمسے کا شکار تھے کہ آگے جائيں يا پيچھے جائيں
    يہ بات آج کی نہيں کہ احاديث پر بلاوجہ مباحثہ کيا جائے ۔ رسول اکرم صلی اللہ عليہ و سلم کں زندگی ميں کچھ لوگ قرآنی آيات کے ساتھ بھی يہی سلوک کرتے تھے

    ReplyDelete
  9. برائے : جاوید گوندل
    بات دراصل صرف اتنی ہے کہ ہم نے اپنی عقل کو عظیم تر سمجھ لیا ہے اور سلف الصالحین کو غالباً جاہل اور ناعاقبت اندیش باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی محبت کرتے ہوتے (کہ جتنی "عظیم محبت" ہم کرتے ہیں) تو کبھی ایسی روایات اپنی کتب میں درج نہ کرتے جن سے ایک نبی کی شان ہیغمبری پر حرف آتا ہو۔
    اگر کوئی سلف الصالحین کا احترام بھی کرتا ہو اور یہ سمجھتا ہو کہ ان کی کتب میں ان کی لاعلمی میں ایسی روایات داخل کر دی گئی ہیں تو پھر دعویٰ کرنے والے کو کوئی مضبوط ثبوت بھی دینا چاہئے۔

    جاوید صاحب، آپ کہتے ہیں کہ : جو روایت قرآن کے واضح احکامات کے منافی ہو ایسی روایات سے اجتناب برتنا چاہئے۔
    واضح احکامات اللہ نے نبی کے ہی توسط سے دئے ہیں۔ اگر نبی نے پیشاب کو نجس قرار دیا ہے تو اسی نبی نے استثنائی واقعے میں اس کے استعمال کا بھی ذکر کیا ہے۔
    بالکل اسی طرح جس طرح قرآن بار بار جھوٹ کو ایک عظیم لعنت بتاتا ہے مگر پھر اسی قرآن میں یہ بھی ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے 2 مرتبہ جھوٹ بولا۔
    اگر ہم قرآنی آیت کی تاویل کرتے ہیں تو محدثین اور ائمہ عظام نے بھی اسی طرح حدیث کی تاویل کی ہے۔ مگر افسوس تو یہی ہے کہ یہ تاویل مستشرقین کے مطالعے سے متاثر اذہان کو قبول نہیں ہو پاتی۔

    برائے : احمد عرفان شفقت
    شکریہ جناب۔ آپ کا مشورہ اچھا ہے اور عمل کے قابل بھی۔ مگر ہماری گذارش ہے کہ جن لوگوں کو کوئی صحیح حدیث سمجھ میں نہیں آتی تو وہ خواہ مخواہ اپنے ذہن کے چراغ نہ جلائیں ، یہ کام محدثین اور ائمہ دین نے بخوبی انجام دے دیا ہے۔ مولانا حالی مرحوم نے اسی لیے تو محدثین کی مدح سرائی کرتے ہوئے فرمایا تھا :

    گروہ ایک جویا تھا علم نبی کا
    لگایا پتا اس نے ہر مفتری کا

    نہ چھوڑا کوئی رخنہ کذب خفی کا
    کیا قافیہ تنگ ہر مدعی کا

    کیے جرح و تعدیل کے وضع قانون
    نہ چلنے دیا کوئی باطل کا افسوں

    اسی دھن میں آساں کیا ہر سفر کو
    اسی شوق میں طے کیا سجر و بر کو

    سنا خازن علم و دیں جس بشر کو
    لیا اس سے جا کر خبر اور اثر کو

    پھر آپ اس کو پرکھا کسوٹی پہ رکھ کر
    دیا اور کو خود مزا اس کا چکھ کر

    کیا فاش راوی میں جو عیب پایا
    مناقب کو چھانا مثالب کو تایا

    مشائخ میں جو قبح نکلا جتایا
    آئمہ میں جو داغ دیکھا بتایا

    طلسم ورع ہر مقدس کا توڑا
    نہ ملا کو چھوڑا نہ صوفی کو چھوڑا

    ReplyDelete
  10. برائے : عثمان
    محترم عثمان صاحب۔ اس قدر تاؤ کھانے کی کیا ضرورت؟
    کسی ایک معروف محدث کی تحقیق ہی سامنے لا دیتے کہ جس نے اس حدیث کو ضعیف یا موضوع روایت قرار دیا ہو تو پھر بات ہی ختم ہو کر رہ جاتی۔
    آپ قرآنی آیت کی تشریح کرتے ہوئے عملی تاویل اگر نکال رہے ہیں تو علماءِ محدثین نے ایسی کیا غلطی کی ہے کہ انہیں یہی "تاویل" والا حق آپ دینا نہیں چاہتے؟
    جس کسی محدث نے بھی اس روایت کو جس ذیل میں بیان کیا ہے ، اس نے باب کا عنوان ہی "طب" کے حوالے سے رکھا ہے۔ جیسا کہ امام بخاری علیہ الرحمۃ نے اس حدیث کو جس باب کے تحت بیان کیا ہے ، اس باب کا عنوان ہے :
    باب الدَّوَاءِ بِأَبْوَالِ الْإِبِلِ
    باب : اونٹ کے پیشاب سے علاج جائز ہے

    برائے : عنیقہ ناز
    سب سے پہلے تو یہ عرض خدمت ہے کہ کسی حدیث کو "صحیح" تسلیم کرنے کا پیمانہ ہماری آپ کی یا کسی دانشور کی "عقل" نہیں ہے۔
    انفارمیشن ٹکنالوجی کے آج کے دور میں یہ معلوم کرنا چنداں مشکل نہیں ہے کہ "علم اصولِ حدیث اور جرح و تعدیل" کے پیمانے پر کون سی حدیث صحیح قرار پاتی ہے اور کون سی نہیں؟ عربی میں یہ کام نہایت شاندار اور اعلیٰ پیمانے پر تکمیل پا چکا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ آنے والے چند برسوں میں انگریزی اور اردو میں بھی یہ معلومات منتقل ہو جائیں۔

    آپ کی دوسری "غلط فہمی" کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ : اللہ تعالیٰ نے صرف قرآن کے "الفاظ" کی ذمہ داری نہیں اٹھائی ہے بلکہ پوری شریعت کی ذمہ داری اس نے لی ہوئی ہے۔ اور شریعت صرف تنہا قرآن سے نہیں بنتی ۔۔۔ بلکہ قرآن اور حدیث دونوں سے مل کر بنتی ہے ، جیسا کہ الف نظامی صاحب نے بھی لکھا ہے۔
    حدیث ماخذ نہیں ہے بلکہ اس کا بیشتر حصہ "وحی الٰہی" ہے اور اسی سبب قرآن کو "وحی جلی" اور حدیث کو "وحی خفی" کہا گیا ہے۔ اگر کچھ فرصت ہو تو جسٹس تقی عثمانی کی کتاب اردو/انگریزی کا مطالعہ ضرور کریں۔

    حجیت حدیث - تقی عثمانی
    The Authority of Sunnah - by:Taqi Usmani

    ReplyDelete
  11. باذوق:
    بہت اچھے جناب۔
    ما شا اللہ نپایت ہی تحقیقی اور مدلل گفتگو سے منکرین حدیث کو جواب دیا۔
    فتنہ انکار حدیث پر ایک کتاب یہ بھی مطالعہ کے لائق ہے
    سنت خیر الانام از جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری
    جس کے چند موضوعات میرے بلاگ پر دیکھ سکتے ہیں
    http://auraq.urdutech.com/tag/%D8%B3%D9%86%D8%AA-%D8%AE%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%85/

    ReplyDelete
  12. محترم!۔
    آپ نے عمدہ طریقے سے حوالہ جات اکھٹے کئیے اور اور جامع طریقے سے تحریر لکھی ۔ اس سے انکار نہیں اور نہ ہی کسی مسلمان کوصحاح ستہ سے انکار ہے اور نہ ہی مذکورہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے انکار ہے۔ صحیح بخاری کو صحاح ستہ میں اول مقام حاصل ہے اور یہ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مستند ترین کتاب ہے اور امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بخاری شریف کو نہائت احتیاط سے سولہ سال کے عرصے میں مرتب کیا اور امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کا طریقہ تھا کہ کسی بھی حدیث کو محفوظ کرنے سے پہلے غسل فرماتے پھر نوافل ادا کرتے اور پھر حدیث رسول ﷺ فرماتے۔
    جسم میں ایک خاص قسم کے پروٹین کی جسم سے کمی کی وجہ سے یوروپ میں ایک خاص قسم کی چنبل کی طرح کی سوزش جسم پہ ہوتی ہے۔باوجود کوشش کے جسکا موثر علاج نہیں دریافت ہوسکا ۔ اور یہ مخصوص پروٹین انسانی یورین کے ذریعے خارج ہوتا ہے اور یوروپی دہقانی لوگ جنہیں یہ مسئلہ ہے وہ ہاتھ یا پاؤں پہ اپناپیشاب کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ۔ جنہیں یہ بات علم ہے وہ ڈاکٹرز بھی یہ بات حضرات بھی اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ نیز اسی طرح ہند و پاک میں چارہ کاٹنے کے دواران درانتی سے ہاتھ کٹ جانے پہ اکثر لوگ زخم پہ یورین کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔کیونکہ وہ یہسمجھتے ہیں کہ جنگل بیابان میں یہ ایک موثر جراثیم کُش ہے۔ اسلئیے مذکورہ حدیثﷺ سے انکار نہیں۔ اسمیں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ کوئی ایسی خاص بیماری ہوئی ہو جسکا علاج کیا گیا ہو۔ اور بے شک دوسروں کو ایسا کرنے کا حکم نہیں۔ جس طرح نبی ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں جو کچھ کیا اس عمل کا بہت سا حصہ عام مسلمان پہ فرض نہیں کہ وہ بھی انہی حالات سے گزرے ، یعنی ایسا کرنے کا کوئی حکم نہیں۔اسلئیے حدیث ﷺ مزکورہ ایک خاص واقعے اور وقت پہ عمل ہوئی ۔ اس سے عام مسلمان کی زندگی متاثر نہیں ہوتی ۔ مگر کچھ لوگ اس حدیث اور دیگر کو بطور خاص لیکر مسلمانوں کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں ۔ اگر ایسا کوئی غیر مسلم کرے تو اسکی ایسی حرکت کا کرنا سمجھ میں آتا ہے مگر افسوس اس وقت ہوتا ہے جب اچھے خاصے ذی شعور لوگ غیر مسلم پروپگنڈے سے متاثر ہو کر ایسی حرکات کرتے ہوئے اپنے دین سے سوقیانہ رویہ اپناتے ہیں۔

    جو لوگ اس سارے پس منظر کو نہیں جانتے تھے ان کی بھی رہنمائی ہوئی ھوگی۔جنہیں خدا نے نصیب کیا اورتوفیق دی انہوں نے اپنی غلط فہمی دور کر لی ہوگی ۔اس طرز عمل پہ میرے ، آپ سمیت سبھی مسلمانوں کو دکھ ہوتا ہے اورخواہ کسی کو اچھا لگے یا برا آپ نے اس موضوع کو واضح اور واشگاف لکھنے کی اسلامی تعلیمات کی شرط پوری کی ہے۔

    مگر میری یہ استدعا تھی کہ حدیثﷺ کے منکر ابھی اس پہ مذید تاویلات پیش کریں گے اور جو ایمان رکھتے ہیں وہ بغیر پس منظر جانے بھی ایمان رکھتے ہیں ۔ لہٰذاہ اب اس بحث سے قطع نظر کر لیا جائے ۔ جو بہر حال ایک تجویز تھی۔

    اللہ آپ پو جزائے خیر دے ۔آمین

    ReplyDelete
  13. امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کا طریقہ تھا کہ کسی بھی حدیث کو محفوظ کرنے سے پہلے غسل فرماتے پھر نوافل ادا کرتے اور پھر حدیث رسول ﷺ فرماتے۔ ....................کو....................۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،۔۔۔۔۔۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کا طریقہ تھا کہ کسی بھی حدیث کو محفوظ کرنے سے پہلے غسل فرماتے پھر نوافل ادا کرتے اور پھر حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ فرماتے۔

    اخری جملے میں لفظ "محفوظ" کا اضافہ کر لیا جائے۔

    ReplyDelete
  14. برائے : جاوید گوندل
    آپ کے خیالات کے کسی لفظ سے مجھے انکار نہیں۔ میں آپ کا شکرگزار ہوں۔ اس موضوع پر میرے لکھنے کا صرف یہ مقصد تھا کہ اردو میں گوگل سرچنگ پر مجھے کچھ مواد نہیں ملا تھا ، لہذا میں نے یہ قدم اٹھایا کہ بعد میں کبھی دوسروں کے کام آ جائے۔

    برائے : الف نظامی
    بھائی ، "سنت خیر الانام" کیلئے میں کئی جگہ یاددہانی کروا چکا ہوں کہ کسی طرح اس کی پی۔ڈی۔ایف کہیں اپلوڈ کی جائے۔ حجیت حدیث پر یہ بھی ایک نہایت اہم دستاویز ہے۔

    برائے : افتخار اجمل بھوپال
    محترم اجمل صاحب ، آپ کا بھی شکریہ۔ ایک موضوع اور باقی ہے (عورت کی سربراہی) ، جس کے حوالے سے ایک صحابی ابوبکرہ (رضی اللہ عنہ) پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ دعا فرمائیں کہ یہ موضوع بھی جلد تکمیل کو پہنچے۔

    ReplyDelete
  15. فتنہ انکار حدیث از مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ
    http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?12242-%D9%81%D8%AA%D9%86%DB%81-%D8%A7%D9%86%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB-%D8%A7%D8%B2-%D9%85%D9%81%D8%AA%DB%8C-%D8%B1%D8%B4%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8-%D8%B1%D8%AD%D9%85%DB%81-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81

    ReplyDelete
  16. مقام رسالت اور حجیت حدیث و سنت
    حصہ اول
    http://www.deenislam.com/islam/flvID/2991/Fitna-Inkar-e-Hadith-Episode-1-Maqam-e-Risalat-awr-Hujiyyat-e-Hadith-o-Sunnat-by-Shaykh-ul-Islam-Dr-M-Tahir-ul-Qadri.html

    مقام رسالت اور حجیت حدیث و سنت
    حصہ دوم
    http://www.deenislam.com/islam/flvID/2992/Fitna-Inkar-e-Hadith-Episode-2-Maqam-e-Risalat-awr-Hujiyyat-e-Hadith-o-Sunnat-by-Shaykh-ul-Islam-Dr-M-Tahir-ul-Qadri.html
    مقام رسالت اور حجیت حدیث و سنت
    حصہ سوم
    http://www.deenislam.com/islam/flvID/2993/Fitna-Inkar-e-Hadith-Episode-3-Maqam-e-Risalat-awr-Hujiyyat-e-Hadith-o-Sunnat--by-Shaykh-ul-Islam-Dr-M-Tahir-ul-Qadri.html

    ReplyDelete
  17. تدوین حدیث از کوثر نیازی
    http://auraq.urdutech.com/2010/09/tadveen-e-hadith-kausar-niazi/

    ReplyDelete
  18. آپ کی اتنی مدلل بات کے بعد میرا نہیں خیال کہ کچھ کہنے سے رہ گیا ہے۔ ہاں! البتہ جن لوگوں کو آپ گھر تک چھوڑ کر آئے ہیں ان کا تاؤ کھانا واجب ہے کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ بھی نہیں۔ جو احباب حدیث سے متعلق بات کرنے پر محض صعیف ہے صعیف ہے کے نعرے بلند کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ خود کوئی "جوان" حدیث ہی پیش کردیں۔ تاکہ پتا چل سکے کہ وہ اپنے علاوہ بھی کسی کی بات سنتے اور مانتے ہیں۔

    ReplyDelete
  19. دوستو میرے خیال میں باذوق کا پلہ یہاں بھاری ہے۔ کیونکہ وہ ثبوت اور دلیل کے ساتھ بات کر رہا ہے۔ عنیقہ اچھا لکھتی ہے، اعلٰی تعلیمیافتہ بھی ہے۔ لیکن اس بحث میں مجھے باذوق کی بات بہتر لگی۔
    عثمان صاحب نے تو واقعی اپنا غصہ نکالا ہے۔
    جاوید بھائی، بحث ہونے دیں، خیر ہے، علمی موضوع پر ہی بحث ہو رہی ہے نا۔ اور میرے خیال سے اتنا کچھ جاننے سمجھنے والے لوگوں میں اتنا ظرف بھی ہو گا کہ وہ جب غلط ہوں تو اپنی غلطی تسلیم کر لیں۔

    ReplyDelete
  20. برائے : الف نظامی
    حجیت حدیث کے موضوع والی کتب کے روابط کی فراہمی کا بہت شکریہ بھائی۔ حجیت حدیث کے موضوع پر میں نے علیحدہ سے ایک بلاگ بنایا ہوا ہے۔ ذرا کچھ فرصت نصیب ہو تو ان شاءاللہ مختلف فورمز کے مباحث (جو کہ فاورق سرور خان صاحب اور دیگر صاحبان کے ساتھ ہوئے ہیں) والی تمام تحریریں ایک جگہ جمع ہو جائیں گی۔ اور اس موضوع والی تمام کتب کے روابط بھی اسی جگہ اکٹھا کرنے کا ارادہ ہے۔

    برائے محمداسد :
    امید پر دنیا قائم ہے۔ اچھائی اور بھلائی کی امید رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ علم و اصولِ حدیث سے متعلق ہمارے ذہین ساتھیوں کی معلومات میں اگر "مدلل" اضافہ ہوتا جائے تو بہت ممکن ہے کہ کبھی اپنے خیالات پر انہیں نظر ثانی کا موقع بھی مل جائے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت کے راستے پر قائم رکھے۔

    برائے Naeem Akram Malik :
    بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ جناب۔ محترم ، سادہ سی بات ایک یہ ہے کہ میں دین و دنیا دونوں کے علوم کی اہمیت کا قائل ہوں۔ اگر میں جدید دنیاوی علوم کا انکار کروں یا کسی قسم کا کوئی تحفظ برتوں تو مجھے پتا ہے کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کبھی بھی غیروں اور اپنوں تک پہنچ نہیں پائیں گی۔ اسی طرح اگر میں علومِ دین کا انکار کروں اور علمائے متقدمین اور متاخرین کی لازوال خدمات سے نظریں پھیر لوں تو پھر مجھ میں اور کسی غیر مسلم میں کوئی فرق برقرار نہیں رہ جائے گا۔

    ReplyDelete
  21. ہم تو آپ کے مد لل اور بمعہ ثبوت کے جوابات کے نہایت مشکور ہیں۔اور آپ کا پلہ بھاری رہا۔
    مستقبل کیلئے آپ کی یہ پوسٹ اور اس پر کئے گئے تبصرے ضرور کام آئیں گے۔اور اللہ تبارک تعالی آپ کو اس کا اجر دے۔

    ReplyDelete
  22. برائے : ابرارحسین
    آپ نے پوچھا تھا کہ : ذرا یہ بتائیں گے کہ یہ حدیث جسے 100 سے زیادہ کتابوں میں 300 سے زیادہ دفعہ روایت کیا گیا ہے یہ کتنے صحابہ سے مروی ہے؟
    اپنے سوال کے جواب میں اگر آپ یہ تحریر ملاحظہ فرمائیں تو بہتر رہے گا :

    خبر واحد : کیا صرف ایک صحابی والی روایت قابل ردّ ہوگی؟

    برائے یاسر خوامخواہ جاپانی :
    بہت بہت شکریہ جناب۔

    ReplyDelete
  23. حدیث و منکرین حدیث

    حدیث

    ذہن تخریب زدہ کے لئے تعمیر حدیث
    قلبِ آلودہ اوہام کی تطہیر حدیث

    دل مایوس کے حق میں‌ہے شعاع امید
    جس سے ہے معرکہ شرک کی تسخٰیر حدیث

    کہیں‌توجیہہ مطالب ، کہیں‌تشریح‌مثال
    کہیں‌ تفصیلِ معانی ، کہیں‌تفسیرِ حدیث

    ترجمانی کہیں ، تفہیم کہیں ، شرحِ بیاں
    دعوتِ فکر کہیں ہے کہیں تقریر حدیث

    حکم قرآں‌ پہ عمل کرکے دکھانا سنت
    اور اس حکم کی الفاظ میں‌تصویر حدیث

    منکرینِ حدیث

    کس قدر مضحکہ انگیز ہے ان کی حالت
    ادھر اقرار نبوت ، اُدھر انکارِ‌ حدیث

    ان کے لفظوں‌امیں حادیث‌ عجم کی سازش
    ان کی نظروں‌میں‌ بیاباں‌ ہے چمن زارِ حدیث

    ان کی منزل تو حقیقت میں‌ ہے انکارِ رسول
    ایک پردہ ہے یہ ہنگامہ انکارَ‌حدیث

    دین کو نفس کی خواہش کے مطابق ڈھالو
    ان کا مقصد ہے یہی ، فہم و فراست والو

    از عارف سیمابی

    ReplyDelete
  24. محترم باذوق صاحب ۔۔آپ کی اس عرق ریزی پر اللہ کریم آپ کو جزائے خیر دے۔
    یہاں اپنے تبصرے میں عنیقہ صاحبہ نے ایک بار پھر ایک تاریخی حوالہ دینے میں غلطی کی ہے۔ ایسی تاریخی غلطیاں وہ پہلے بھی بڑے دھڑلے سے کرتی چلی آئی ہیں۔ ابھی حال ہیں میں انھوں نے قائدِ اعظم کو کافرِ اعظم قرار دینے کا بہتان مولانا مودودی صاحب مرحوم کے سر مڑھا۔ تحریک پاکستان کے قائدین کو ترقی پسند قرار دیا۔ میرے اور بعض دیگر اصحاب بشمول محترم جاوید گوندل صاحب کے بار بار استفسار کے باوجود اس کا کوئی تاریخی حوالہ آج تک نہ دے پائیں۔ لے دے کے مودودی صاحب کی کتب میں مبینہ تحریف پر تان توڑی۔ خیر اس پر پھر کبھی مدلل بات ہو گی۔
    یہاں تبصرہ کرتے ہوئے موصوفہ نے فرمایا ’’ آپ جانتے ہونگے کہ شراب بھی بطور دوا جائذ ہو جاتی ہے لیکن اسکے باوجود مسلمان بادشاہ سے یہ روایت منسوب ہے کہ اسکے عزیز ترین گھوڑے کا اسکی غیر موجودگی میں شراب سے علاج کیا گیا اور جب اسکے علم میں یہ بات آئ تو اس نے اس گھوڑے کا استعمال ترک کر دیا۔ یہ وہی نور الدین زنگی ہے جسے خواب میں رسول اللہ نے بشارت دی کہ کچھ لوگ میری قبر کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اسکا یہ خواب درست ثابت ہوا۔‘‘
    سلطان نورالدین زنگی رحمتہ اللہ علیہ کو بلاشبہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور انھوں نے مدینہ منورہ حاضر ہو کر دونوں ملعونوں کو جہنم واصل ضرور کیا۔ لیکن شراب آمیز دوا پی کر تندرست ہونے والے گھوڑے کو ترک کرنے کا واقعہ ان سے منسوب کرنا تاریخی اعتبار سے غلط ہے۔ یہ واقعہ نورالدین زنگی علیہ رحمہ نہیں بلکہ برصغیر ہی کے ایک مسلمان بادشاہ کاہے۔ غالبا گھوڑے والے اس کا ذکر حکیم الامت ؑعلامہ محمد اقبال نے بھی ایک جگہ اپنے کلام میں کیا ہے۔
    مجھے حیرت ہے کہ جو لوگ ستر اسی سال قبل کے واقعات پر بھی بغیر کسی تیاری اور ٹھوس دلیل اور ثبوت کے ساتھ بات کرنے کے اہل نہیں وہ احادیث کی صحت جیسے نازک مسئلے پر اس قدر تیقن کے ساتھ کیونکر حکم لگا سکتے ہیں

    ReplyDelete
  25. محترم باذوق صاحب ۔۔آپ کی اس عرق ریزی پر اللہ کریم آپ کو جزائے خیر دے۔
    یہاں اپنے تبصرے میں عنیقہ صاحبہ نے ایک بار پھر ایک تاریخی حوالہ دینے میں غلطی کی ہے۔ ایسی تاریخی غلطیاں وہ پہلے بھی بڑے دھڑلے سے کرتی چلی آئی ہیں۔ ابھی حال ہیں میں انھوں نے قائدِ اعظم کو کافرِ اعظم قرار دینے کا بہتان مولانا مودودی صاحب مرحوم کے سر مڑھا۔ تحریک پاکستان کے قائدین کو ترقی پسند قرار دیا۔ میرے اور بعض دیگر اصحاب بشمول محترم جاوید گوندل صاحب کے بار بار استفسار کے باوجود اس کا کوئی تاریخی حوالہ آج تک نہ دے پائیں۔ لے دے کے مودودی صاحب کی کتب میں مبینہ تحریف پر تان توڑی۔ خیر اس پر پھر کبھی مدلل بات ہو گی۔
    یہاں تبصرہ کرتے ہوئے موصوفہ نے فرمایا ’’ آپ جانتے ہونگے کہ شراب بھی بطور دوا جائذ ہو جاتی ہے لیکن اسکے باوجود مسلمان بادشاہ سے یہ روایت منسوب ہے کہ اسکے عزیز ترین گھوڑے کا اسکی غیر موجودگی میں شراب سے علاج کیا گیا اور جب اسکے علم میں یہ بات آئ تو اس نے اس گھوڑے کا استعمال ترک کر دیا۔ یہ وہی نور الدین زنگی ہے جسے خواب میں رسول اللہ نے بشارت دی کہ کچھ لوگ میری قبر کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اسکا یہ خواب درست ثابت ہوا۔‘‘
    سلطان نورالدین زنگی رحمتہ اللہ علیہ کو بلاشبہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور انھوں نے مدینہ منورہ حاضر ہو کر دونوں ملعونوں کو جہنم واصل ضرور کیا۔ لیکن شراب آمیز دوا پی کر تندرست ہونے والے گھوڑے کو ترک کرنے کا واقعہ ان سے منسوب کرنا تاریخی اعتبار سے غلط ہے۔ یہ واقعہ نورالدین زنگی علیہ رحمہ نہیں بلکہ برصغیر ہی کے ایک مسلمان بادشاہ کاہے۔ غالبا گھوڑے والے اس کا ذکر حکیم الامت ؑعلامہ محمد اقبال نے بھی ایک جگہ اپنے کلام میں کیا ہے۔
    مجھے حیرت ہے کہ جو لوگ ستر اسی سال قبل کے واقعات پر بھی بغیر کسی تیاری اور ٹھوس دلیل اور ثبوت کے ساتھ بات کرنے کے اہل نہیں وہ احادیث کی صحت جیسے نازک مسئلے پر اس قدر تیقن کے ساتھ کیونکر حکم لگا سکتے ہیں

    ReplyDelete
  26. salam sir
    I am a medical student and I do NOT see any problem in this Hadith because camel urine (as I remember) contains some antibodies but the problem is that this commandment was given 1400 yrs ago when no filtration techniques were available. Actually this Hadith is the source of knowledge for Muslims that we can separate such active ingredients from camel urine and make new medicines. Keep in mind that urine is haram and haram things can only be used when you do NOT HAVE ANY OTHER OPTION.
    Now a days we can easily separate these antibodies and other chemicals from urine so urine will not be allowed. Plus there may be many medications available that can cure such conditions. The most imp thing is that Hadith does NOT mention the name of disease so NO Muslim can prescribe urine but we can do research on it.
    see this like also plz
    http://www.answering-christianity.com/urine.htm

    ReplyDelete
  27. نہایت عمدہ کاوش ہے الله تعالیٰ آپکو جزائے خیر دے.

    ReplyDelete
  28. اونٹ کا پیشاب
    by : Muhammad Mubashir Nazir
    http://www.mubashirnazir.org/QA/000300/Q0236-Urine.htm

    ReplyDelete
  29. اس بحث کو کچھ نئے دلائل سے شروع کیا جائے؟

    ReplyDelete
  30. اسلامُ علیکم و رحمۃ اللہِ وبراکاۃ
    سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء اکرام کو بھیجا کس مقصد لے لئے؟ ظاہرہے ایک اللہ ایک حاکم کے حکم کی تعبداری ، فرمان برداری کے لئے اور لوگوں تک اللہ کی مرضی پہنچانے کے لئے قرآن مجید میں جگہ جگہ مسلمانوں کو ایک حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ اس کا مفہوم عام طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اللہ کی اطاعت سے مراد قرآن کریم ہے اور رسول کی اطاعت سے مراد سنت کی پیروی ہے ۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن و سنت ہی دین کے ماخذ ہیں جہاں سے دین سمجھا اور بیان کیا جاتا ہے، تاہم ہمارے نزدیک یہ آیت اس امر کا بیان نہیں کرتی۔ قرآن ہو یا سنت دونوں کا سرچشمہ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و الا صفات ہے ۔ اللہ کو کسی نے نہیں دیکھا۔ اس کا پیغام کسی عام انسان پر نہیں اترا۔ یہ دراصل انبیا علیھم السلام ہی کی ہستیاں ہوتی ہیں جن کو مخاطبہ الٰہی کے شرف سے نوازا جاتا ہے اور وہی اللہ کی طرف سے مخلوق سے کلام کرتے ہیں ۔

    چنانچہ یہی وہ بات ہے جسے قرآن مجید میں کئی مقامات پر اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور نبی لوگوں کے درمیان بھیجتے ہیں اور پھر یہی مقدس شخصیات اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچاتے ہیں ۔ وہ جس کو قرآن کہہ دیں وہ قرآن بن جاتا ہے ۔ جس کو دین کہہ دیں وہ دین بن جاتا ہے۔ جس کو سنت بنا دیں وہ سنت بن جاتی ہے۔ جس کو حلال کہہ دیں وہ حلال اور جس کو حرام کہہ دیں وہ حرام قرار پاتا ہے۔ چنانچہ اس دنیا میں انسان اصل میں انبیاء علیھم السلام ہی کی پیروی کے پابند ہیں۔ ایسے میں رسول کی اطاعت کے ساتھ اللہ کی اطاعت کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔

    اگر یہ بات درست ہے تو سوال پھر یہ ہے کہ رسول سے قبل اللہ کی اطاعت کے ذکر کی کیا ضرورت ہے۔ ہمارے نزدیک دراصل اس طرح کی آیات جس بنیادی اور باریک چیز کو نمایاں کرتی ہیں وہ یہ ہے کہ حضرات انبیا علیھم السلام نبی ہونے کے ساتھ ساتھ انسان ہوتے ہیں۔ وہ اپنے معاشرے کے ایک بزرگ بھی ہوتے ہیں۔ اپنے ماننے والوں میں ان کی حیثیت ایک سردار کی ہوتی ہے اور بارہا وہ اقتدار پر بھی فائز رہے۔

    نبی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ان سب حیثیتوں میں کلام بھی کرتے ہیں ۔ حکم بھی دیتے ہیں ۔ لوگوں کو بعض امور سے منع بھی کرتے ہیں ۔ بہت سے فیصلے بھی کرتے ہیں۔ رسول کی اطاعت سے قبل اللہ کی اطاعت کا ذکر دراصل یہ بتاتا ہے کہ ان تمام حیثیتوں میں وہ حجت نہیں۔ بلکہ ان کی اطاعت اسی صورت میں لازمی ہے جب وہ کسی حکم کو اللہ کے حکم کے طور پر بیان کریں۔ گویا کہ کسی بات کو وہ جب دین بنا کر پیش کریں تو اس کی اطاعت لازمی ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس دنیا میں اللہ کی ہستی ہی وہ ذات ہے جواصلاً ہر اطاعت کا مرجع اور ماخذ ہے ۔ اس کے سوا کسی کو مستقل بالذات ایسا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہوتو پھر یہ شرک ہے ۔

    اس بات کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعبیر نخل کے مشہور واقعے میں خود سمجھایا ہے۔ ہجرت کے بعد آپ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے وہاں کے لوگوں کوکھجوروں کی پیوندکاری کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ تم یہ نہ کرتے تو بہتر تھا۔ لوگوں نے آ پ کی بات پر عمل کیا تو فصل کم آئی۔ لوگ یہ مسئلہ آپ کے پاس لے گئے تو آپ نے فرمایا کہ میں تو ایک بشر ہوں۔ جب دین کے بارے میں تمھیں کسی بات کاحکم دوں تو اسے قبول کر لو اور اگر میں اپنی رائے سے کسی بات کا حکم دوں تو میں بشر ہوں۔ اسی واقعے سے متعلق ایک دوسری روایت کے مطابق آپ نے فرمایا کہ جب میں اللہ کی طرف منسوب کر کے کوئی بات کروں تو اسے لازماً پکڑ لو، (مسلم رقم : 2362 – 2361)۔

    چنانچہ ہمارے نزدیک رسول کی اطاعت کے ساتھ اللہ کی اطاعت کا ذکر بڑے لطیف طریقے سے یہ واضح کرتا ہے کہ حضور کی اطاعت دین کے معاملات ہی میں لازم ہے ۔ آپ کا لباس، غذا، رہن سہن، تمدنی معاملات وغیرہ میں آپ کی پیروی کسی شخص کا اظہار محبت اور ذوق تو ہو سکتا ہے، مگر ایسی کوئی چیز دین نہیں ہوتی ، نہ بطور دین اس کی اطاعت کی دعوت دینا درست ہے ۔

    ReplyDelete