2010/05/30

سب کچھ پاکستان میں ہے

لفظوں کی یہ باوزن بندش ضرب المثل بنتی جا رہی ہے کہ ۔۔۔۔
"سب کچھ پاکستان میں ہے"۔
تمام موسم ، تمام قدرتی نعمتیں ، معدنیات ، پھل ، پھول ، فطین ذہن ، ارفع خیال ، صاحبانِ حسن ، صاحبانِ جمال ، اصحابِ کمال ، صاحبانِ ثروت و مال اور غربت کے غم سے نڈھال ، لوٹنے والے ، لٹانے والے ، ظلم کرنے والے ، ظلم سہنے والے ، قانون بنانے والے اور اسے توڑنے والے ، ووٹ دینے والے اور ووٹ لینے والے ۔۔۔۔۔۔
جی ہاں ، سب کچھ پاکستان میں ہے !!

ہمارے ہاں قومی زبان اردو بولنے والے بھی ہیں جن کی 99 فیصد تعداد عوام میں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح قومی زبان "اردو" سے کھلواڑ کرنے والے بھی ہیں جن کی 99 فیصد تعداد ذرائع ابلاغ کے مختلف شعبوں میں اپنا کام دکھا رہی ہے۔ وطن عزیز میں نجی چینل کسی "وبا" کی طرح پھیلے ہوئے ہیں۔ ان پر ناشتے ، ظہرانے اور عشائیے کے علاوہ شام کی چائے کے اوقات کے زیرعنوان پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے نوجوانوں میں انتہائی مقبول ہیں کیونکہ ایسے زیادہ تر پروگرام صرف دیکھنے کے لائق ہوتے ہیں ، سننے کے نہیں !
ان چینلز نے بھانپ لیا ہے کہ نوجوانوں میں وہی پروگرام مقبول ہوتے ہیں جن میں "اینکرز" نہیں بلکہ "اینکرنیاں" ہوں۔
یہ وہ نت نئے ملبوسات پہنے ، دوپٹے کو درخور اعتناء نہ جانے ، کرسی پر بیٹھی ، شانے اچکاتی ، اور ریختہ کے بخیے ادھیڑتی نظر آتی ہیں کیونکہ وہ نہ صرف تن زیبی کے حوالے سے "متاثرینِ مغرب" میں شامل ہوتی ہیں بلکہ قومی زبان بولتے ہوئے بھی انہیں کچھ "کمتری" کا سا احساس ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ اردو میں کچھ کچھ انگلش شامل کرنے کے بجائے انگلش میں کچھ کچھ اردو بول جاتی ہیں ۔۔۔۔ مثلاً ، ان کا مہمان اگر کوئی فنکار ہو تو اس سے سوال کچھ یوں کرتی ہیں کہ :
"آپ اس فیلڈ میں کیسے آئے ؟ آئی مین ! واز اِٹ یور اون ایمبیشن اور اے نیچرلی بیسٹوڈ گفٹ؟ ناظرین جاننا چاہیں گے"۔
حالانکہ ناظرین کی کم از کم 60 فیصد تعداد کو تو یہی پتا نہیں ہوتا کہ ان کی نمائیندگی کرتی ہوئی اس اینکرنی نے کیا سوال کیا ہے؟ اس دوران "کالر کی کال" بھی لی جاتی ہے اور وہ نہایت سفاکی سے "حقیقت" کا اظہار یوں کرتا ہے کہ :
"آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں"۔
ایسے میں ہر نوجوان یہی سوچتا ہے کہ کاش یہ "کالر" میں ہی ہوتا۔

جیسا کہ ہم نے کہا نا کہ "سب کچھ پاکستان میں ہے"
چنانچہ ایک جانب اگر ایسی "اینکرنیاں" اردو کا تیاپانچہ کر رہی ہیں تو دوسری جانب وطن سے بےحد محبت کرنے والی نستعلیق شخصیات بھی کم نہیں۔ ان میں وطنیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ لوگ انہیں "اردو میڈیم" کا "طعنہ" دیتے ہیں جسے وہ اعزاز سمجھتے ہیں۔ جب تک ایسے لوگ پاکستان میں موجود ہیں ، اردو پروان چڑھتی رہے گی ۔۔۔۔۔۔

- معروف انشائیہ نگار شہزاد اعظم کے انشائیہ "جناب و بیگم ریختہ" سے ایک اقتباس

2010/05/26

فیس بک تنازعہ -- (ڈپلیکیٹ)

انتہائی معذرت کے ساتھ ۔۔۔۔۔
فیس بک تنازعہ سے متعلق اپنا پچھلا مراسلہ (جو کہ ابھی کچھ دیر قبل پوسٹ کیا تھا) ، میں دوبارہ یہاں ارسال کر رہا ہوں۔
مجھے شکایت ملی ہے کہ اس پوسٹ کے ربط (url) میں فیس بک کا لفظ ہونے کے سبب ، پاکستان میں یہ مراسلہ PTA کی جانب سے بلاک کر دیا گیا ہے۔
چونکہ بلاگ اسپاٹ کے کسی بھی مراسلے کا یو-آر-ایل تبدیل نہیں کیا جا سکتا ، اسی لیے ایک علیحدہ مراسلے کی شکل میں دوبارہ ارسال کر رہا ہوں۔

فیس بک کو 31-مارچ-2010ء تک کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے بین کر دیا گیا ہے۔
سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے فیس بک کے صرف اُس خاص صفحہ کو بین کیا ہے جس سے تنازعہ پھیلا ہے۔ یہ متنازعہ صفحہ آج بھی فیس بک پر موجود ہے اور لگتا تو یہی ہے کہ فیس بک کی جانب سے اسے حذف نہیں کیا جائے گا۔

دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو ، ایک مسلمان اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخی یقیناً برداشت نہیں کر سکتا۔ کیا یہ چیز بھی دنیا کے کسی انسان کو ، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ، سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے مذہب کی اعلیٰ اور مقتدر ہستی پر کی جانے والی تضحیک و استہزاء کو صرف اس لیے برداشت کرے کہ "آزادئ اظہارِ رائے" فرد کا بنیادی حق ہے؟
آج کے گلوبل ولیج میں کس کا بنیادی حق کیا ہے اور کس قدر ہے اور کتنی حد میں ہے ۔۔۔۔ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟
کیا اس کا فیصلہ انکل سام کریں گے؟ یا فیس بک انتظامیہ ؟ یا وہ صیہونی لابی جو دنیا کے تمام مالی معاملات پر غاصبانہ قبضہ رکھتی ہے؟

بےشک ! مانا کہ آج مسلمان اس حالت میں نہیں ہیں کہ اپنا فیصلہ یا اپنے اصول و ضوابط دنیا سے قبول کرا سکیں یا کم سے کم انہیں قائل ہی کر سکیں۔ مگر کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ "بنیادی انسانی حقوق" پر صرف کسی ایک طبقہ کی اجارہ داری قائم ہو جائے؟
نسلِ انسانی کا ایک بنیادی حق جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے ، وہ ہے : جیو اور جینے دو !
خود جینے اور دوسروں کو جینے دینے کے لیے ایک دوسرے کے تئیں عزت و احترام لازمی امر ہے۔

اڈولف ہٹلر ۔۔۔۔ تاریخ کی وہ شخصیت ہے جس کے کردار کے کسی ایک "اچھے" پہلو کی بھی سادہ انداز میں تعریف کی جائے تو ایک "خاص طبقہ" کو گویا آگ لگ جاتی ہے اور تعریف کرنے والے فرد یا گروہ کو الزام دیا جاتا ہے کہ "جیو اور جینے دو" کے اصول کے برخلاف اس طرح کی تعریف کے ذریعے "ایک قوم" کے جذبات کو مشتعل کیا جا رہا ہے۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ ایسا الزام لگاتے وقت "اس قوم" کو اپنے ہی ایک زریں اصول "آزادئ اظہارِ رائے" کی بالکل بھی یاد نہیں آتی ! اور یوں جنگ چھیڑ دی جاتی ہے کہ قومِ یہود کو پریشان کیا جا رہا ہے ، ان کی توہین و ملامت کی جا رہی ہے۔

اس کی مثال دیکھنی ہو تو اس صفحہ کو وزٹ کیجئے :
One Facebook, Two Faces [One is Real Ugly ]

فیس بک انتظامیہ کے تضاد یا دہرے معیار کی یہ اعلیٰ مثال بلکہ ثبوت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔
فیس بک کو Adolf Hitler Fan Page اس لیے برداشت نہیں کہ اس سے کسی قوم / مذہب کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
مگر۔۔۔۔
فیس بک کو Draw Muhammad Day Page اس لیے قبول ہے کہ یہ "آزادئ اظہارِ رائے" کے زمرے میں آتا ہے (چاہے اس صفحہ کے ذریعے کسی قوم یا مذہب کے ماننے والوں کو کتنی ہی دلی تکلیف کیوں نہ پہنچتی ہو )۔

صاف بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔
گلوبل ولیج پر اپنا من چاہا فیصلہ مسلط کرنے والوں کو "بنیادی انسانی حقوق" کی پاسداری سے کوئی سروکار نہیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا صرف ان ہی کے تخلیق کردہ خودساختہ اور متضاد اصول و ضوابط کو قبول کرے اور اس پر عمل پیرا ہو ۔۔۔ اب چاہے ان اصولوں سے کسی نسل ، قوم ، قبیلہ ، مذہب ، زبان ، ثقافت ، جنس ، جسمانی معذوری وغیرہ کی کتنی ہی خلاف ورزی کیوں نہ ہوتی ہو۔

یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ ان حالات میں فیس بک کا استعمال کیا جانا چاہئے یا نہیں؟
کیا تمام مسلمانوں کو فیس بک پر سے اپنا اکاؤنٹ مستقلاً ختم کر لینا چاہئے؟

اسلام نے سائینس اور جدید تکنالوجی کے ذرائع سے استفادہ اور ان کے ذریعے تبلیغِ دین کو شائد کہیں بھی منع نہیں کیا بلکہ اس کی ترغیب ہی دلائی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا مخصوص ذریعہ بھی استعمال کیا جانا درست ہے جس کے کسی حصہ سے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل اہانت کی جاتی ہو؟ کیا "امر بالمعروف نھی عن المنکر" کی خاطر حمیتِ دین یا غیرتِ ملی سے دامن چھڑا لینا چاہئے؟

وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ اسلامی ممالک کے سربراہان اور معتبر و مقتدر علمائے کرام حفظہم اللہ اس موضوع پر اپنی مشترکہ رائے اور اپنے عملی اقدام سے دنیا کو آگاہ کریں۔

اس کا فیصلہ عوام کے جذبات پر چھوڑا جانا بہرحال درست عمل نہیں ہوگا !!

فیس بک [Facebook] ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟!

فیس بک کو 31-مارچ-2010ء تک کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے بین کر دیا گیا ہے۔
سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے فیس بک کے صرف اُس خاص صفحہ کو بین کیا ہے جس سے تنازعہ پھیلا ہے۔ یہ متنازعہ صفحہ آج بھی فیس بک پر موجود ہے اور لگتا تو یہی ہے کہ فیس بک کی جانب سے اسے حذف نہیں کیا جائے گا۔

دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو ، ایک مسلمان اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخی یقیناً برداشت نہیں کر سکتا۔ کیا یہ چیز بھی دنیا کے کسی انسان کو ، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ، سمجھانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے مذہب کی اعلیٰ اور مقتدر ہستی پر کی جانے والی تضحیک و استہزاء کو صرف اس لیے برداشت کرے کہ "آزادئ اظہارِ رائے" فرد کا بنیادی حق ہے؟
آج کے گلوبل ولیج میں کس کا بنیادی حق کیا ہے اور کس قدر ہے اور کتنی حد میں ہے ۔۔۔۔ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟
کیا اس کا فیصلہ انکل سام کریں گے؟ یا فیس بک انتظامیہ ؟ یا وہ صیہونی لابی جو دنیا کے تمام مالی معاملات پر غاصبانہ قبضہ رکھتی ہے؟

بےشک ! مانا کہ آج مسلمان اس حالت میں نہیں ہیں کہ اپنا فیصلہ یا اپنے اصول و ضوابط دنیا سے قبول کرا سکیں یا کم سے کم انہیں قائل ہی کر سکیں۔ مگر کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ "بنیادی انسانی حقوق" پر صرف کسی ایک طبقہ کی اجارہ داری قائم ہو جائے؟
نسلِ انسانی کا ایک بنیادی حق جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے ، وہ ہے : جیو اور جینے دو !
خود جینے اور دوسروں کو جینے دینے کے لیے ایک دوسرے کے تئیں عزت و احترام لازمی امر ہے۔

اڈولف ہٹلر ۔۔۔۔ تاریخ کی وہ شخصیت ہے جس کے کردار کے کسی ایک "اچھے" پہلو کی بھی سادہ انداز میں تعریف کی جائے تو ایک "خاص طبقہ" کو گویا آگ لگ جاتی ہے اور تعریف کرنے والے فرد یا گروہ کو الزام دیا جاتا ہے کہ "جیو اور جینے دو" کے اصول کے برخلاف اس طرح کی تعریف کے ذریعے "ایک قوم" کے جذبات کو مشتعل کیا جا رہا ہے۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ ایسا الزام لگاتے وقت "اس قوم" کو اپنے ہی ایک زریں اصول "آزادئ اظہارِ رائے" کی بالکل بھی یاد نہیں آتی ! اور یوں جنگ چھیڑ دی جاتی ہے کہ قومِ یہود کو پریشان کیا جا رہا ہے ، ان کی توہین و ملامت کی جا رہی ہے۔

اس کی مثال دیکھنی ہو تو اس صفحہ کو وزٹ کیجئے :
One Facebook, Two Faces [One is Real Ugly‪]

فیس بک انتظامیہ کے تضاد یا دہرے معیار کی یہ اعلیٰ مثال بلکہ ثبوت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔
فیس بک کو Adolf Hitler Fan Page اس لیے برداشت نہیں کہ اس سے کسی قوم / مذہب کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
مگر۔۔۔۔
فیس بک کو Draw Muhammad Day Page اس لیے قبول ہے کہ یہ "آزادئ اظہارِ رائے" کے زمرے میں آتا ہے (چاہے اس صفحہ کے ذریعے کسی قوم یا مذہب کے ماننے والوں کو کتنی ہی دلی تکلیف کیوں نہ پہنچتی ہو )۔

صاف بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔
گلوبل ولیج پر اپنا من چاہا فیصلہ مسلط کرنے والوں کو "بنیادی انسانی حقوق" کی پاسداری سے کوئی سروکار نہیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا صرف ان ہی کے تخلیق کردہ خودساختہ اور متضاد اصول و ضوابط کو قبول کرے اور اس پر عمل پیرا ہو ۔۔۔ اب چاہے ان اصولوں سے کسی نسل ، قوم ، قبیلہ ، مذہب ، زبان ، ثقافت ، جنس ، جسمانی معذوری وغیرہ کی کتنی ہی خلاف ورزی کیوں نہ ہوتی ہو۔

یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ ان حالات میں فیس بک کا استعمال کیا جانا چاہئے یا نہیں؟
کیا تمام مسلمانوں کو فیس بک پر سے اپنا اکاؤنٹ مستقلاً ختم کر لینا چاہئے؟

اسلام نے سائینس اور جدید تکنالوجی کے ذرائع سے استفادہ اور ان کے ذریعے تبلیغِ دین کو شائد کہیں بھی منع نہیں کیا بلکہ اس کی ترغیب ہی دلائی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا مخصوص ذریعہ بھی استعمال کیا جانا درست ہے جس کے کسی حصہ سے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل اہانت کی جاتی ہو؟ کیا "امر بالمعروف نھی عن المنکر" کی خاطر حمیتِ دین یا غیرتِ ملی سے دامن چھڑا لینا چاہئے؟

وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ اسلامی ممالک کے سربراہان اور معتبر و مقتدر علمائے کرام حفظہم اللہ اس موضوع پر اپنی مشترکہ رائے اور اپنے عملی اقدام سے دنیا کو آگاہ کریں۔

اس کا فیصلہ عوام کے جذبات پر چھوڑا جانا بہرحال درست عمل نہیں ہوگا !!